سارکوپینیا – پٹھوں کی کمزوری کا مرض
سارکوپینیا ایک ایسا موضوع ہے جس پہ بہت کم بات کی گئی ہے اور بہت کم لکھا گیا ہے میں آپ لوگوں کو اس بیماری کا مختصر تعارف کراؤں گی نیز یہ بھی کہ یہ کس عمر کے لوگوں کو متاثر کرتی ہے اس کی اقسام اس کے بچاؤ کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں اور اس کا علاج کیا ہے
سارکوپینیا دراصل ایک ایسی بیماری ہے جس میں مسلز (پٹھوں ) کا وزن ہے وہ کم ہونے لگتا ہے اور ان کی طاقت کم ہو جاتی ہے۔
مریض کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ شدید نقاہت محسوس کرتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کو لگتا ہے کہ اس کے اعضاء عموماً یہ کندھوں کو بازوؤں کو سب سے پہلے متاثر کرتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ بازو ٹھیک سے حرکت نہیں کر سکتا کمزوری ہو گئی ہے یہ ایک سائیڈ کے بازو کو بھی شروع میں متاثر کر سکتی ہے اور عین ممکن ہے دونوں کندھوں اور بازوؤں کو متاثر کرے
وجوہات:
۔ بڑھتی ہوئی عمر
۔ کوئی جوڑوں ہڈیوں کو کھا جانے والی بیماری جیسا کہ روماٹائیڈ آرتھرائٹس کا لاحق ہونا
۔ عموماً یہ 60 سال سے اوپر کے لوگوں کو متاثر کرتی ہے مگر کچھ بیماریوں کی وجہ سے یہ اس عمر سے پہلے بھی متاثر کر سکتی ہے
۔ ہارمونز کا بگاڑ
اب ہم اس کی اقسام پہ بات کریں تو اس کی ایک قسم جو بہت مشہور ہے وہ ہے
سارکوپینیک موٹاپا: یہ سارکوپینیا کی ایک قسم ہے جس میں عموماً چربی کے ساتھ ہمارا جو گوشت ہے وہ ایک تہہ سی بنا لیتا ہے ہوتا یوں ہے کہ چربی زیادہ ہو جاتی ہے جسم میں اور گوشت کا جو حصہ ہے وہ کم ہونے لگتا ہے جس سے پورا جسم متاثر ہوتے ہے
علاج:
سارکوپینیا کا ایک علاج تو ہے کہ
خوراک میں پروٹین کو شامل کیا جائے جیسا کہ گوشت، مچھلی اور اس طرح کی غذائیں استعمال کی جائیں جن سے ہمارے پٹھوں کو طاقت ملے اور گوشت بڑھے کیونکہ یہ بیماری ہمارے پٹھوں سے گوشت ختم کرنا شروع کر دیتی ہے اس دوران یہ خیال بھی رکھا جائے کہ جو کھانا مریض کھا رہا ہے وہ ٹھیک سے اسے ہضم ہونا چاہیے
اور
ورزش، ورزش میں ہمارے پاس ویٹ لفٹنگ کی ورش بہت اہم ہے جس سے یہ سب کسی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے
ویٹ ٹریننگ میں ہم مریض کی ہمت کے مطابق دیکھتے ہیں کہ وہ کتنا وزن اٹھا سکتا ہے پھر اس کو آہستہ آہستہ بڑھایا جاتا ہے اور اس حد تک لے کر آیا جاتا ہے کہ مریض نارمل ہو جائے اور آسانی ہے روزمرہ کے کام کر سکے
جبکہ ایک خاص قسم کی ورزش جسے ہم رزیسٹنٹ ٹریننگ کہتے ہیں اس دوران مریض کو کرائی جاتی ہے
رزیسٹنگ ٹریننگ فزیوتھراپیسٹ کراتے ہیں نیز وہ مریض کے گھر کے کسی فرد کو رہنمائی فراہم کر سکتے ہیں کہ کتنے دن تک مریض کو گھر یہ یہ ورزش کرائی جا سکتی ہے اور کتنے دن کے بعد دوبارہ معائنہ کرانا چاہیے
یاد رہے کہ اس کو صرف کنٹرول کیا جاسکتا ہے اگر ورزش وقت پر کی جائے تو یہ ریورس ہو سکتی ہے اور مریض بہتری کی طرف آ سکتا ہے ایک خوشحال زندگی بسر کر سکتا ہے


