شمالی ایریزونا کا عجائب خانہ


دو سال قبل میری گرینڈ کینین نیشنل پارک (ایری زونا، امریکہ) دیکھنے کی دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔ جس کا شمار دنیا کے سات عجائبات میں ہے۔ گہرے اور ہلکے مختلف رنگوں کی چٹانوں، کھائیوں وادیوں اور اس کے بیچ بہتے دریاؤں کو دیکھنا اور ان کے مسحور کن حسن کی ہیبت کو اپنے میں محسوس کرنا اپنے تئیں ایک عجب روح پرور تجربہ ہے۔ جہاں بارہ ہزار قبل رہنے والی انسانی تہذیب کا پتہ چلتا ہے۔ ان تراشیدہ چٹانوں کو دیکھنے اب تک بائیس کروڑ سے زیادہ افراد آ چکے ہیں۔

اور بہت سے لوگوں کی طرح مجھے بھی انسانی تاریخ کا مشاہدہ اور مطالعہ متحیر کرتا ہے۔ کیونکہ اس میں قوموں کی جدوجہد اور نشیب و فراز کی داستانیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ جو سیکھنے والوں کے لیے سبق ہیں۔ تاریخی مقامات کی عجائب گھر اس جگہ کے متعلق باقاعدہ ایک چھوٹی موٹی درسگاہ کا درجہ رکھتے ہیں۔ یقیناً میوزیم جائے بغیر کسی شہر کے تاریخی مقام جانے کا مزا ادھورا ہے۔

لہذا آج ہم میوزیم آف نارتھن ایریزونا کی بات کریں گے جو گرینڈ کینین سے پچھتر میل کے فاصلہ پہ واقع ایک شہر فلیگا سٹاف میں ہے۔ میوزیم کی بنیاد دراصل 1928؁ء میں پینسلوانیا یونیوورسٹی کے زولوجی کے پروفیسر ڈاکٹر ہیریلڈ فیرل کو لٹن کے سر ہے جو اپنے خاندان سمیت اپنے شعبہ کی جانب سے اس علاقے میں تحقیق کی غرض سے آئے تھے۔

ان خوبصورت قدرتی مناظر سے بھرپور علاقوں میں نیٹیو یعنی مقامی لوگ بستے ہیں جو اپنی ثقافت اور روایات کو منوانے اور انہیں منانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جب پروفیسر کو لٹن کو ان کے شعبہ نے شمالی ایریزونا کے اس علاقے میں تحقیق کے کیے بھیجا تو ان کے ساتھ ان کی مصور بیوی میری رسل فیریل کو لٹن بھی علاقے کی وجاہت سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ گھنٹوں اپنا وقت یہاں کے قدرتی حسن کے نظاروں کو اپنے فن مصوری سے قید کرنے میں صرف کرنے لگیں۔

1926؁ ء سے ان دونوں نے یہیں بسنے کا فیصلہ کر لیا۔ اور ساتھ ہی مقامی عجائب گھر کے قیام کی تیاری میں لگ گئے تاکہ قدرت اور انسانی قدرت کے متحیرات کی نمائش کا سلسلے جاری رکھ سکیں۔ انہوں نے فلیگ اسٹاف اور Tucson کے مقامی لوگوں کی مدد سے 1928 ؁ء میں یہ میوزیم قائم کیا جو سائنس اور آرٹ کا خوبصورت امتزاج ہے۔ جس کا مقصد شمالی ایری زونا کے قدرتی تاریخ اور مقامی ثقافتی ورثے کو تحفظات دینا تھا۔

یہ میوزیم ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے، جس کی مالی اعانت ممبران اور ساتھ ہی کچھ دوسرے اداروں کے عطیات کرتے ہیں۔ ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر کو لٹن تھے۔ انہوں نے سائنسی جبکہ ان کی اہلیہ نے بحیثیت کیوریٹر آرٹ اور نسلی ثقافت سے متعلق کام کیا۔

میوزیم کی ابتدا دو کمروں سے شروع ہوئی اور اب یہ 700، 24 اسکوائر فٹ پہ مشتمل عمارت پہ محیط ہے۔ جہاں سالانہ ہزاروں افراد اسے دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ اس علاقہ کے رہنے والوں کا تعلق مقامی قبائل مثلاً ہوپی، زونی، پائی، نیواہو، ہیولاپی وغیرہ سے ہے۔ اور میوزیم میں ان کی تہذیبی ثقافت کو آرٹ کی مختلف شکلوں کی مدد سے ان کے رہنے سہنے کے طریقے اور ان کا روحانی پس منظر کو پیش کیا گیا ہے ۔

اس میوزیم کے کئی شعبہ ہیں۔ جس میں سے سب سے اہم شعبہ وہ ایتھولوجی آرٹ گیلری ہے جسے Journey to balance (migration and healing in three Hopi murals) کہتے ہیں۔ جہاں پہ قد آدم میورلز ہیں۔ جن کی تصاویر نیٹیو امریکی قبیلہ ہوپی کی انسانی زندگی کے سفر میں حائل صعوبتوں، افراتفری سے شروع ہو کر مکمل انسانی جامعیت اور توازن قائم ہونے کی کہانی پیش کرتی ہیں۔ جسے ہوپی آرٹسٹ مائیکل کبوٹی اور ڈل برج نے اپنے ہزاروں سال سے بسنے والے آبا و اجداد کی سینہ بہ سینہ کہانیوں کو فن مصوری کی مدد سے بیان کیا ہے۔

یہ 5 ضرب 48 فٹ قد آدم میورلز دیوار کی تین حصوں پہ ہیں۔ فطرت سے پیار کرنے والے ہوپی قبیلہ کا دیو مالائی نکتہ نظر یہ ہے کہ انسانوں نے دھرتی ماں کی کوکھ سے جنم لیا ہے اور پھر مختلف حالات میں ہجرتوں سے گزرے، جہاں پہلے ہسپانیوں نے اور پھر یورپ کے اینگلوز نے حملہ کیا اور ان کے گھروں سے بے دخل کیا۔ اور پھر وقت کے دھارے میں بہتے ہوئے اس دھرتی کے لوگوں میں جدید زمانہ میں منشیات اور فاسٹ فوڈ کلچر کی آمیزش نے اس روحانی تہذیب کو بدلا مگر ہم جن کا وجود زمین کے اندر سے اٹھا ہمارا سایہ آج بھی ہمارے ساتھ ہے۔ ان فن پاروں کا پیغام ہے کہ باوجود ثقافتی اختلافات کے اور غیر معتدل حالات کے ہم متوازن اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی کا راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔ جو سوچ کا امید افزا اور رجائی پہلو ہے۔

واضح رہے کہ مقامی امریکنز کی ایری زونا میں تاریخ ہزاروں سال قبل مسیح کی ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جن کی ثقافت نے ایری زونا میں زراعت کو متعارف کرایا سبزیاں بشمول بھٹا بویا۔ اور پیچیدہ عمارتوں کی تعمیر سازی کی۔ لیکن تہذیبی ارتقا کے اس سفر کے باوجود شروع سے آج تک انہیں صعوبتوں کا سامنا ہے۔ یورپ سے آ کر امریکہ میں اپنی بستیاں آباد کرنے والوں نے ان مقامی امریکنوں کے ساتھ وہی نا انصافی اور خون کی ہولی کھیلی جو نسلی برتری کے تفاخر کے سبب بلاواسطہ یا بالواسطہ آج بھی جاری و ساری ہے۔ کبھی یہ ظلم دوسرے خطوں سے لائے سیاہ فام غلام کے ساتھ روا رکھا تو کبھی دوسرے ممالک میں جنگوں کی تباہ کاری برپا کر کے۔

جن نیٹو امریکن یا مقامی لوگوں نے اپنی میزبانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آنے والے یورپین کے لیے اپنے دل کھولے ان آنے والوں نے ان میزبان قبائلی لوگوں کو لوٹا، ان کی بستیوں کو اجاڑا اور انہیں گھروں سے بے دخل کر دیا۔ کہ ان کی نظر میں وہ غیر مہذب اور ان کی ثقافت شرمناک تھی۔ اس سلسلے میں میرا ایک مضمون ”آنسوؤں کی پگڈنڈی“ کے عنوان سے ”ہم سب“ میں شائع ہو چکا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔

یہ میوزیم اسی نیٹو امریکی قوم کی زندگیوں کی ایک بازگشت ہے آثار قدیمہ سے متعلق نوادرات آرٹ کے وہ نمونے ہیں جن کی عمر یں قبل از تاریخ یعنی بارہ ہزار سال سے قبل مٹی کے برتن مثلاً پیالے، چمڑے کے جوتے، ٹوکریاں، بچوں کے کھلونے ان کے بستر، اور چمڑے سے سامان بنانے والے نوکیلے اوزار رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح زیورات کے 170شاہکار ہیں جو رنگین پتھروں اور چاندی سے بنائے گئے ہیں۔ عورتوں ہی کے نہیں مردوں کے ہاتھ میں پہننے والے زیورات اور بیلٹ جن پہ پتھر جڑے ہوئے ہیں۔ ان تمام نوادرات کی شکل، بناوٹ اور صناعی کی تکنیک کے نمونوں سے ہم نہ صرف مختلف قبیلہ میں تفریق کر سکتے ہیں۔ بلکہ یہ بھی جان سکتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ان میں کیا تبدیلیاں آئیں۔

اس علاقے کی ارضیات کے متعلق معلومات ہمیں ایک لاکھ پچاس ہزار فوسلز ہڈیوں، پودوں اور پتھروں سے ملتی ہے۔ یہاں کی بیالوجی یا حیاتیات کا بھی پتہ چلتا ہے۔ گہری کھائیوں سے لے کر پتھریلے صحرا اور برفیلی چوٹیوں کے موسم کی وجہ سے کو لوراڈو پلوٹو پہ انواع و اقسام کی زندگیاں بستی ہیں۔ پودوں سے لے کر جانوروں تک۔ میوزیم کے کمرے میں ایک بڑے سائز کے ڈائنو سار کا ڈھانچہ ہے جو سب سے پہلے آپ کی توجہ کھنچتا ہے۔ اس کے علاوہ 240 ملین سال پرانی مخلوقات کے مٹی میں چلتے ہوئے قدموں کے نشانات جو مناسب حالت میں محفوظ ہو گئے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ میوزیم کے محض ایک میل کے فاصلے پہ کچھ چلتے ہوئے قدموں کے نشانات ملے ہیں جو بہت پرانے ہیں۔

میوزیم میں آرٹ کے سب سے پرانے نمونے وہ میورل ہیں جو سن تیرہ اور سترہ سو کے دوران آواٹاوی اور کا ویکیٹیٹ کے گاؤں میں بنائے گئے۔ آج یہ میوزیم مختلف مقامی اور مشہور علاقائی فنکاروں کے تعاون سے دو ہزار دو سو آرٹ کے نمونوں کا بہترین مجموعہ ہے۔ جو نیٹو امریکن ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اگر موقعہ ملے تو اس میوزیم کو ضرور دیکھیں۔

Facebook Comments HS