مانگ بچہ کیا مانگتا ہے


رمضان کا بابرکت مہینہ جاری ہے، دین دار لوگ اس مہینے کی برکتوں کو لوٹنے میں لگے ہوئے ہیں جب کہ بے دین لوگ دین داروں کو۔ پھل فروش، سبزی فروش، دودھ فروش اور دین فروشوں کی طرح رمضان کے فیوض و برکات سے بہرہ مند ہونے کے لیے بھکاریوں کا ایک ریلا آیا ہوا ہے، جو دین داروں کے جیبوں میں بچا کھچا مال کو بھاگتے چور کی لنگوٹی سمجھ کر کھنگالنے میں مصروف ہیں۔ اس وقت شہر میں صرف تین طرح کی ‏مخلوقات نظر آتی ہیں، ایک ہیروئنچی جو کاندھوں پر ایک بڑا تھیلا لٹکائے شہر کا کچرا (مکانوں اور دکانوں میں لگے گیس میٹر اور گٹر کے ڈھکن) سمیٹنے میں لگے ہیں، دوسری مخلوق آوارہ کتوں کی ہے جو شہر کس سڑکوں پر دھن دندناتے پھر رہے ہیں اور تیسری مخلوق بھکاریوں کی جو مسجدوں کے سامنے، بازاروں کے بیچ اور گلی محلوں میں گھروں کے سامنے صدائیں دیتے نظر آتے ہیں۔ بھکاریوں کی اس بہار کو دیکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ کیوں نہ رمضان کے اس بابرکت موقع پر اپنے قارئین کو ایک بھکاری بابا کی کہانی سنا کر ان کے روزے کی شدت اور اس کے نتیجے میں ثواب میں دو نا دوں اضافہ کیا جائے۔ تو لیجیے کہانی پڑھیے اور ثواب دارین حاصل کیجیئے :

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں دفتر بس سے جایا کرتا تھا (معاشی حالات اتنے اچھے نہیں تھے کہ موٹر سائیکل خرید لیتا) ، دفتر جانے کے لیے مجھے دو بسیں بدلنی پڑتی تھیں۔ پہلی بس سے صدر پہنچتا اور وہاں سے این۔ آئی۔ سی۔ بلڈنگ جو گورا قبرستان کے قریب واقع ہے، جانے کے لیے ایک اور بس میں بے بسی کی تصویر بنتے ہوئے جاتا۔ ایک دن جب صدر میں بس سے اترا تو ایک ملنگ بابا نے میرا راستہ روک کر مجھے سے کہا: ”بچہ! دے اللہ کے نام پر، کامیاب ہو جاؤ گے۔“ میرے پاس کرائے کے پیسے نکال کر دس روپے بچتے تھے، جو میں نے جان چھڑانے کے لیے ملنگ بابا کو دے دیے اور آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ بابا نے پیچھے سے میرا کندھا پکڑ کر کہا: ”مانگ بچہ! کیا مانگتا ہے؟“

ملنگ بابا کے اس آفر کے بعد ہمارے درمیان ایک طویل مکالمہ ہوا، جس کا احوال ذیل میں بیان کیا جاتا ہے :
میں : ”باب جی! اگر دینا ہی ہے تو میرا دس روپیہ ہی واپس دے دو۔“
ملنگ بابا: ”نہ بچہ نہ! یہ پیسے تو بحق بابا جمع ہو گئے ہیں، آپ کچھ اور مانگو“ ۔

میں : ”تو بابا، آپ میری شادی فلم اسٹار ماہرہ خان، مہوش حیات یا سجل علی میں سے کسی ایک سے کروا دیں، یہ سب مجھے بہت پسند ہیں۔“

ملنگ بابا: ”بچہ! پہلے جا، آئینے میں اپنی شکل دیکھ، پھر اس کے بعد اپنے سوال پر نظر ثانی کر۔ ویسے بھی ماہرہ خان شادی شدہ ہے، باقیوں کی بھی کہیں نہ کہیں منگنیاں ہو چکی ہوں گی اور اس طرح کے معاملات خان صاحب کے ڈومین میں آتے ہیں“ ۔

میں : (سامنے کھڑی ایک نئی ٹویوٹا کرولا کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) ”اچھا بابا! تو ایسا کر کہ وہ سامنے جو گاڑی کھڑی ہے، مجھے دلوا دے“ ۔

ملنگ بابا: ”نہ بچہ! وہ گاڑی کسی اور کی ملکیت ہے، کسی اور کی گاڑی میں آپ کو کیسے دلوا دوں“ ۔

میں : ”اچھا بابا! اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو کینیڈا کا ویزہ ہی لگوا دیں، مجھے مولانا طاہر القادری سے ملنے کا شوق ہے“ ۔

ملنگ بابا: ”نہ بچہ! کینیڈا میں بہت زیادہ سردی پڑتی ہے، منفی چالیس ڈگری سیلسیس میں آپ نہیں رہ سکتے، جب مولانا طاہر القادری صاحب پاکستان آئیں تو مل لینا“ ۔

میں : ”اگر یہ بات ہے، تو بابا کم سے کم دبئی کا ہی ویزہ دلوا دو، برج الخلیفہ ہی دیکھ لوں“ ۔

ملنگ بابا: ”نہ بچہ! دبئی میں سخت گرمی پڑتی ہے، چالیس ڈگری سیلسیس میں آپ یہاں بھی ٹھہر نہیں سکتے، کچھ اور مانگو بچہ“ ۔

میں : ”بابا مجھے تو لگتا ہے کہ آپ نے کچھ نہیں کرنا، صرف بونگیاں مار رہے ہو“ ۔

ملنگ بابا: ”بچہ! تم نے بھی تو حد کردی، دس روپیہ دے کر اتنی بڑی بڑی فرمائشیں کر رہے ہو، جن کو پورا کرنا تو الہٰ دین کے چراغ کے جن کے بس میں بھی نہیں۔ دس روپے میں تو میں آپ کو دعائیں ہی دے سکتا ہوں“ ۔

میں : ”اچھا بابا! چلیں دعائیں ہی دے دو“ ۔

ملنگ بابا (دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے ) : ”یا اللہ! اس کم عقل بچے کو عقل سلیم عطا کر“ ۔ یہ کہہ کر ملنگ بابا دوسرے کسٹمر کی طرف متوجہ ہو گئے اور میں بھی اپنا سا منہ لے کر وہاں سے دفتر کی طرف روانہ ہو گیا۔

Facebook Comments HS