چمونا رائٹر یا چمونی رائٹر؟


ارے انہیں کیسے پتہ چلا؟ کہتے ہوئے ہنس ہنس کے جب ہم بے حال ہو چکے تب ارد گرد بیٹھی سہیلیوں نے پوچھا کہ کیا پڑھ لیا آپ نے جو ہنسی نہیں رک رہی۔

چمونا۔ کہتے ہوئے ہم پھر ہنس پڑے۔
چمونا؟ وہ کیا ہوتا ہے؟
کراچی کی رہنے والی سہیلی نے حیرت سے پوچھا۔
تمہیں چمونے کا نہیں پتہ۔ ہم نے اچھل کر کہا۔
نہیں۔ وہ معصومیت سے بولی۔
کیا تمہیں کبھی چمونوں سے پالا نہیں پڑا۔ ہم مزید حیرت سے بولے۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔
ہم نے سوچا شاید چمونا لفظ پنجابی کا ہے سو چمونوں کے لئے ان کی اردو کے پاس کوئی اور لفظ ہو گا۔
سنو تم لوگ پیٹ کے کیڑوں کو کیا کہتے ہو؟
کیڑے۔

بھئی ایک خاص قسم کے کیڑے ہوتے ہیں سفید رنگ کے چھوٹے چھوٹے جو پاخانے والی جگہ پہ خوب زور زور سے کاٹتے ہیں، ان کو کیا کہہ کر پکارتے ہو؟

وہی۔ پیٹ کے کیڑے۔
نہیں بھئی وہ خاص کیڑے ہیں۔ انگریزی میں پن ورم یا تھریڈ ورم کہلاتے ہیں۔
اچھا وہ پن ورم۔ وہ ہنسی۔
ہاں، وہ۔ وہ پن ورم۔ کیا تمہیں کبھی نہیں ہوئے بچپن میں؟
نہیں۔ وہ شرما گئی۔
اچھا ویسے بچوں کی اکثریت میں ہوتے ہیں وہ۔ پیٹ کے کیڑے عرف چمونے۔

اس ساری بحث کے بعد ہم نے سوچا کہ دیکھیں تو سہی چمونا کس زبان کا لفظ ہے؟ گوگل چاچا نے مدد کی اور ہم پہ انکشاف ہوا کہ جس لفظ کو ہم پنجابی کی دین سمجھے تھے وہ تو سنسکرت زبان میں پاؤں پسارے بیٹھا ہے۔

چمونوں سے ہماری جان پہچان بہت بچپن میں ہوئی اور بقول ہماری امی۔ ہر چیز چاہے وہ اچھی ہو یا بری، ہماری اس بیٹی کے حصے میں ضرور آتی ہے۔

امی۔ امی۔ جلدی آئیں۔ جلدی۔ مر گئی۔ ہائے مر گئی۔

رات کا وقت ہوتا۔ سب لوگ سونے کی تیاری میں ہوتے۔ چھوٹی بچی کی چیخ و پکار سن کر ماں گھر کے جس کونے میں بھی ہوتی، بھاگ پڑتی لیکن باقی افراد خانہ کے کانوں پہ جوں تک نہ رینگتی۔

امی۔ امی۔ بہت خارش ہو رہی ہے۔ بہت زیادہ کاٹ رہے ہیں آج۔ بچی منہ بسورتی۔
بہن بھائیوں کے قہقہوں کی آوازیں گونجنے لگتیں۔
بچی روہانسی ہو کر کہتی۔ امی۔ دیکھیں ان کو۔
ماں پلٹ کر سب کو گھرکتی۔ کیوں ہنس رہے ہو تم سب؟ مذاق اڑاتے۔ اس کا کیا قصور ہے؟
دیکھیں تو بس اسی کو گھر میں ہوتا ہے یہ۔ محبت ہے چمونوں کو اس سے۔ کوئی ایک کہتا۔
امی۔ بچی ٹھنک کر بولنے والی کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے کہتی۔

تم نہ سنو ان کی باتیں۔ تم چلو میرے ساتھ باتھ روم۔ ماں ہاتھ تھام لیتی۔ باتھ روم لے جا کر اچھی طرح دھلواتیں پھر پٹرولیم جیلی لگاتیں۔

چلو اب سو جاؤ۔ اب نہیں کاٹیں گے۔

بچی بستر میں دبک کر سوچتی رہتی۔ آخر مجھے ہی کیوں کاٹتے ہیں یہ چمونے اور کسی بہن بھائی کو کچھ نہیں ہوتا؟

یہی سوچتے سوچتے وہ سو جاتی اور ایک نئی دنیا اس کی منتظر ہوتی۔

یہ بات اکثر ماں بھی سوچتی۔ کھانا پینا ویسا ہی، صفائی ستھرائی ایک جیسی، عادات سب کی یکساں پھر یہ چمونے کسی اور بچے کو کیوں نہیں ہوتے؟

ماں باپ نے علاج بھی بہت کروایا۔ کڑوے سیرپ، حکیموں کی کڑوی کسیلی جڑی بوٹیاں، ہومیو پیتھک پڑیاں۔ ٹوٹکے۔ سب کچھ آزمایا جا چکا تھا لیکن چمونے رخصت ہونے کا نام نہیں لیتے تھے۔ رات ہوتی اور بچی خارش سے بے تاب ہو کر چیخنے لگتی۔ ماں نے کچھ تو کرنا تھا سو اور کچھ سمجھ میں نہ آتا تو خارش سے بے چین بچی کو دھلانے کے بعد کوئی سی کریم یا پٹرولیم جیلی لگا دیتیں اور حیرت انگیز طور پہ بچی بہتر محسوس کرنا شروع کر دیتی۔ یہ ماں کا ذاتی ٹوٹکا تھا جو کام کرتا تھا۔

بچپن گزرا۔ چمونے رخصت ہوئے مگر یادیں تو تھیں کنکھجوروں کی طرح پنجے گاڑے ہوئے۔ سو بڑے ہو کر تحقیق کی کہ چمونے دواؤں سے ختم کیوں نہیں ہوتے؟

انکشافات ہوش ربا تھے۔

پن ورم یا عرف عام میں چمونے دنیا بھر میں عام ہیں۔ مادہ چمونی اور نر چمونا بڑی آنت میں پائے جاتے ہیں۔ جب مادہ چمونی حاملہ ہو تب وہ سفر کرتی ہوئی مقعد یا anus تک پہنچتی ہے اور باہر نکل کر انڈے دیتی ہے۔ انڈے دینے کے بعد مادہ چمونی مر جاتی ہے۔ مادہ چمونی کی آخری نشانی انڈے کسی نہ کسی طرح بڑی آنت تک پہنچتے ہیں ان سے بچے نکلتے ہیں جو چمونی اور چمونا بنتے ہیں اور اس طرح سے ان کی زندگی کا ایک نیا دائرہ شروع ہوتا ہے۔

پن ورمز کے لئے جو دوائیں استعمال کروائی جاتی ہیں وہ پیٹ میں پائے جانے والے پن ورمز کا تو مار دیتی ہیں لیکن انڈے ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔ اس لئے دواؤں کے ساتھ بہت ضروری ہے کہ مقعد کو بار بار دھو کر وہاں کوئی کریم لگائی جائے تاکہ انڈوں کا خاتمہ ہو سکے۔ کچھ لوگ سرسوں کا تیل بھی تجویز کرتے ہیں اور کچھ مٹی کا تیل یعنی کیروسین آئل۔

بچوں کو ہدایت دینی چاہیے کہ مقعد کو کبھی نہ کھجائیں تاکہ انڈے انگلیوں پر نہ لگ سکیں۔

لیجیے جناب، ہم تو انسانوں کی زندگی میں عورت پہ لدے بوجھ کی بات کر رہے تھے، یہاں تو کیڑوں میں بھی وہی تفریق پائی جاتی ہے۔ مادہ چمونی حمل کا بوجھ اٹھا کر نہ صرف سفر کرتی ہے بلکہ زچگی کے بعد زندگی سے بھی ہار جاتی ہے۔ نر چمونا کیا کرتا ہے، کچھ علم نہیں۔

لیکن ایک بات اور بھی ہے کہ زندگی اور نسل کا تسلسل مادہ سے ہے، نہ صرف انسان میں بلکہ کیڑوں میں بھی۔ اس سے مادہ کے سخت جان ہونے کا اندازہ ہوتا ہے۔

ہم لفظ چمونا رائٹر پڑھ کر ہنسے تھے جو کسی نے اپنی بڑائی کے زعم میں استہزائیہ انداز میں ہماری طرف اچھالا تھا لیکن جانے انجانے میں یہ اقرار تھا کہ چمونے کافی سخت جان ہوتے ہیں آسانی سے جان نہیں چھوڑتے۔

نہ صرف چمونے بلکہ چمونے رائٹر۔ نہیں، چمونے رائٹر کہنا تو غلط ہو گا۔ چمونی رائٹر۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments