کیجیے چائے چائے کیوں


اس وقت ہمارے ہاتھ میں چائے کی پیالی ہے اور ہم اس میں طوفان اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ گویا غالب کے الفاظ میں : بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفاں کیے ہوئے! ہم سخن فہم بھی ہیں اور غالب کے طرف دار بھی لیکن ہماری سخن فہمی کو کوئی تسلیم نہیں کرتا، ہماری تشریحات سن کر لوگ الٹا غالب کی بھی مخالفت کرنے لگتے ہیں، اس لیے ہم نے سر بزم، شعر فہمی کا دعویٰ کرنا ترک کر دیا ہے۔ اندھیرے اجالے کی بات اور ہے۔ حلقۂ یاراں ہو، چائے کا دور چل رہا ہو تو پھر دیکھیے ہماری گل افشانی گفتار۔ غالب کے مشکل سے مشکل شعر کو بھی ہم پانی کر دیتے ہیں بلکہ اکثر تو غالب کو بھی پانی پانی کر دیتے ہیں۔

ہم غالب کے پرلے درجے کے طرف دار ہیں اور بعض معاملات میں ان کے مقلد بھی ہیں، مثلاً ہم بھی کسی قدر حیوان ظریف ہیں، آم شوق سے کھاتے ہیں، خوباں سے چھیڑ چھاڑ بھی کر لیتے ہیں، خلد میں پری زادوں سے انتقام لینے کا مصمم ارادہ بھی ہے، قرض کی ہم بھی پیتے ہیں، گو ”مئے“ نہیں ”چئے“ پیتے ہیں لیکن غالب کی طرح ہماری فاقہ مستی بھی آج تک رنگ نہیں لا سکی۔ ہماری چائے نوشی کو وہ شہرت حاصل نہ ہو سکی جو ابوالکلام آزاد کو نصیب ہوئی حال آں کہ مولانا جیسمین چائے نوش کرتے تھے جو ہماری نظر میں مشروب نسواں ہے۔

یہ بہت لطیف سی چائے ہے اور اس میں مردانہ وجاہت کا فقدان ہے۔ ہم ذرا کڑک چائے پیتے ہیں، ایسی چائے کہ ڈرائیوروں کے دل جس سے دہل جائیں اور پہلوان جس کی ہیبت سے سمٹ کر چوہے بن جائیں۔ اس باب میں ایم ایف حسین ہمارے ’ہم ذوق‘ ٹھہرتے ہیں۔ وہ بھی کڑک چائے پینے کے خوگر تھے۔ ہوٹل میں داخل ہوتے تو انہیں دیکھتے ہی بیرا پکار اٹھتا:

”حسین صاحب کی چائے گلاس میں، آدھا دودھ، آدھا پانی، چائے کی پتی تیز“

ایم ایف حسین، حیدرآباد کی ’پردے والی چائے‘ بھی شوق سے نوش کرتے تھے۔ ہم پہلے یہ سمجھے تھے کہ کوئی ایسی چائے ہو گی جسے خلوت میں کوئی پردہ نشیں پیش کرتا ہو گا لیکن کھلا کہ یہ محض ہماری خام خیالی ہے۔ حقیقت میں یہ وہ چائے ہے جس کے اوپر بالائی کی تہہ ہوتی ہے۔ جب سے یہ پردہ چاک ہوا ہے اس چائے میں ہماری دل چسپی ذرا کم ہو گئی ہے۔

اچھی چائے بنانا ایک فن ہے، آرٹ ہے، ایک سربستہ راز ہے اور یہ راز کسی کو معلوم نہیں کہ چائے بنانے میں کون سے اجزا، کس تناسب سے بروئے کار آتے ہیں۔ مشاہیر میں یہ راز ہمارے علاوہ جارج آر ویل جانتے تھے۔ ان کا قول ہے کہ اچھی چائے کی ایک پیالی، بری چائے کی بیس پیالیوں سے بہتر ہوتی ہے۔ آرویل نے خوش ذائقہ چائے تیار کرنے کے گیارہ زریں اصول بیان کیے ہیں۔ ان گیارہ نکات کا خلاصہ یہ ہے کہ چینی یا چاندی کے برتن میں، ایک لیٹر پانی میں ہندوستانی چائے کی پتی کے چھے چمچے شامل کیجیے اور جب پانی ابلنے لگے تو اس میں دودھ ڈال دیں مگر خیال رہے کہ دودھ بالائی سے پاک ہو۔ نیز یہ کہ چائے میں چینی ہرگز نہ ڈالیں۔ لیجیے، خوش ذائقہ چائے تیار ہے۔

ہم نے بیسیوں بار جارج آرویل کے نسخے کے مطابق چائے تیار کرنے کی کوشش کی ہے لیکن کبھی اچھی چائے میسر نہ آ سکی۔ وجہ یہ ہے کہ ان کے بتائے ہوئے زریں اصول تعداد میں اتنے زیادہ ہیں کہ ہر بار، کوئی نہ کوئی نکتہ بھول جاتے ہیں اور چائے میں کسی نہ کسی آنچ کی کسر رہ جاتی ہے۔

خیر، اب چوں کہ ہم خود اس فن میں طاق ہو چکے ہیں، اس لیے مفاد عامہ کے لیے اچھی چائے بنانے کی ذاتی ترکیب طشت از بام کر رہے ہیں۔

سامان: چولہا، کیتلی، پانی، پتی، دودھ، چینی، مکھی

ایک کپ پانی کیتلی میں ڈالیں اور چولہا روشن کر دیں۔ جب پانی جوش مارنے لگے تو دو چمچ پتی شامل کر دیں۔ پانی سیاہ رنگ ہو جائے تو آدھا کپ دودھ اور ایک چمچ چینی بھی ڈال دیں۔ ایک منٹ بعد چولہا بند کر دیں۔ لیجیے، مزے دار چائے تیار ہے۔ ایک کپ خود پیجیے اور آدھا کپ مہمان کو پیش کیجیے۔ اس دوران میں کوئی نہ کوئی مکھی آپ کے کپ میں ضرور گرے گی اور ایک پر چائے سے باہر نکالے تیرتی نظر آئے گی۔ اسے اپنی انگلی سے چائے میں ڈبکی دیجیے تاکہ دونوں پر مساوی طور پر گیلے ہو جائیں۔ بعد ازاں مکھی کو باہر نکال لیں اور مہمان کے ساتھ آرام سے گھر بیٹھ کے ”چائے، چائے ’کیجیے۔

چائے کی افادیت صرف پینے پلانے تک محدود نہیں، یہ قسمت کا حال بتانے والا مشروب بھی ہے۔ مغرب میں ”چائے شناسی“ بھی ایک علم ہے جیسے دست شناسی، ستارہ شناسی وغیرہ۔ طریقہ اس کا یہ ہے کہ پتی چھانے بغیر چائے پی جائے اور جب چائے ختم ہو اور درد تہ جام کے طور پر صرف چائے کی پتیاں نظر آنے لگیں تو ان کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے۔ جس طرح چشم تخیل کو آسمان پر بادلوں میں نقش و نگار گماں دکھائی دیتے ہیں (یاد کیجیے، حضرت علامہ کو جھومتے ابر میں فیل بے زنجیر اڑتا نظر آیا تھا) اسی طرح پیالی کی اندرونی دیواروں پر چائے کی پتیوں میں بھی شبیہیں ابھرتی ہیں۔

منہ نظر آتے ہیں دیواروں کے بیچ۔ ان تصاویر کی علامتی معنویت ہوتی ہے مثلاً اگر کوئی طالب علم یہ جاننا چاہتا ہے کہ ریاضی کے پرچے میں کتنے نمبر آئیں گے تو اگر چائے کی پتیاں انڈے کی شکل اختیار کرتی ہیں تو اس کے معنی ہیں کہ بخیل ممتحن نے صفر نمبر عطا کیے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی دوشیزہ یہ معلوم کرنا چاہتی ہے کہ اس کے سپنوں کا شہزادہ حقیقت میں کیسا ہو گا؟ اس سوال کے جواب میں چائے کی پتیاں اگر گینڈے کی صورت اختیار کر لیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ لڑکا بیمار نہیں، صحت مند ہے اور اس کا شکم، سینے سے بھی زیادہ کشادہ ہے۔ ہمارے ایک شاعر دوست یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا انہیں شہرت عام اور بقائے دوام کے دربار میں جگہ حاصل ہو گی تو جواب میں انہیں ٹماٹروں کی زیارت ہوئی۔ جانے اس شبیہ کی کیا تعبیر ہو گی؟!

Facebook Comments HS