کچھ اقبال کے بارے میں


خدائے رب العزت نے برصغیر میں جو دیو قامت ہستیاں پیدا کی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگانے میں اہم کردار ادا کیا ان میں اقبال بیک وقت بہت نمایاں اور پوشیدہ ہیں۔ ہم اقبال کے کلام کو بہت سرسری سا سمجھتے ہیں۔ ہم اقبال کو آفاقی شاعر مانتے تو ہیں مگر جانتے نہیں۔ اقبال کے نظریات اور سوچ تو ہماری قوم کی امانت ہیں۔ مگر عام لوگ اس بارے میں بہت واجبی معلومات رکھتے ہیں۔ اردو ادب اور فلسفہ کے آسمان پر اقبال درخشاں ستاروں میں نظر آتے ہیں۔ ہم جیسوں کو اقبال کے کلام کی گہرائی میں جانے کے لیے کئی نوری سال درکار ہیں۔ ہم تو جو کچھ لکھتے ہیں شام کو لوگ اس میں پکوڑے لے کر جاتے ہیں۔ خیر رمضان کا مہینہ ہے۔ لوگوں کے لئے موجب برکت ہے۔ ہم تو عقیدت مند لوگ ہیں جو اقبال کی نظمیں پڑھ کر سر دھنتے ہیں۔

ہم تو اقبال کی نظم ایک آرزو پڑھ کر پہاڑ کے دامن میں جانا چاہتے ہیں۔ تاکہ خدا کی قدرت میں پھیلی نشانیوں کا مشاہدہ کر سکیں اور فطرت کے حسین کینوس میں پھولوں اور چہچہاتی بلبلوں کے ساتھ دریا کے کنارے طلوع آفتاب کا نظارہ دیکھیں اور سورج کی کرنوں سے اٹھکیلیاں کریں۔ اور غروب آفتاب تک خدا کی نشانیوں پر ایمان لائیں۔ پھر ہم بھی دل کے اندر جھانکیں اور عشق کے سوز میں مبتلا ہوں۔ اور اپنے دامن صد چاک سے حقیقت کا سراغ لگائیں۔ ہمیں بھی علم کا نور عطا ہو۔ دل میں بہار کے رنگ کھلیں۔ ہمیں بھی وہ آنسو نصیب ہوں جن سے وضو کا سامان میسر آئے۔ ہمارا رونا ہماری دعا بن سکے۔ خدا کی جو آیات کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں ہم خدا کی ان آیات کو دیکھ بھی سکیں اور ان کی تلاوت بھی کر سکیں۔

اقبال کے آفاقی نظریات میں فلسفہ خودی کو عالمگیر پذیرائی ملی ہے۔ اس حوالے سے تھوڑا سا پس منظر سید نذیر نیازی سے سنیے۔ جو اقبال شناس سمجھے جاتے ہیں۔ سید نذیر نیازی نے ایک دفعہ اقبال سے دریافت کیا کہ آپ کے فلسفہ خودی کی سوچ اور بنیاد کا ماخذ کیا ہے؟ ان کے استفسار پر اقبال نے انہیں اگلے روز اپنے گھر آنے کے دعوت دی۔ نذیر نیازی اس بات پر بڑے خوش ہوئے کہ ملاقات کے بعد انہیں فلسفہ خودی کی بنیاد کی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ ملاقات میں اقبال نے انہیں قرآن کریم کا نسخہ کھولنے کے لئے کہا۔ اور سورۃ حشر کی آیت نمبر 19 کا حوالہ دے کر کہا کہ اس کی تلاوت کرو کیونکہ میں نے فلسفہ خودی اس آیت سے اخذ کیا ہے۔

اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا۔ تو اللہ نے انہیں اپنے نفس سے غافل کر دیا پس یہی لوگ فاسق ہیں (سورۃ حشر۔ آیت 19)

قرآن کریم میں نفس کو بہت اہم موضوع کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ 300 مرتبہ نفس کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہم تو زمین کا بوجھ ہیں جو نفسانی خواہشات کے مارے ہوئے ہیں ہمیں ہر فیصلہ کن گھڑی میں خدا بھول جاتا ہے اور نفس شادیانے بجاتا ہوا اگلی منزل کی راہ لیتا ہے۔ ہم اپنے نفس کا تزکیہ کرنے میں ناکام ہیں مگر دوسروں کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ہمارا علم عمل میں ڈھل کر حال نہیں بن پا رہا۔

اقبال مولانا روم کو مرشد مانتے ہیں۔ مولانا روم تو عشق کا وہ عالیشان نقش مسلسل ہیں جن کے کلام کی خوشبو ہمہ وقت مضطرب کیے رکھتی ہے۔ اور رازی کو عقل کا مینار جانتے ہیں۔ اقبال اس عشق اور عقل کی کشمکش میں عشق کو فوقیت دیتے ہیں۔ شاید اسی لئے شمس تبریز کہتے ہیں کہ ’عقل لوگوں کو گرہ لگا دیتی ہے اور کچھ بھی داؤ پر نہیں لگاتی۔ لیکن عشق تمام گرہیں کھول دیتی ہے اور سب کچھ داؤ پر لگا دیتی ہے‘ ۔ عشق کی اک جست نے طے کر دیا قصہ تمام۔

اقبال اور مولانا روم کے اس قلبی تعلق کی وجہ سے اقبال کی تعظیمی قبر مولانا روم کے مزار کے احاطے میں تعمیر کی گئی ہے۔ کہتے ہیں کہ اقبال کی قبر سے خاک لا کر قونیہ میں ان کی قبر کا آغاز ہوا اور ان کی اس فرضی قبر پر باقاعدہ فاتحہ خوانی کی جاتی ہے۔ جاوید اقبال نے اپنی کتاب میں اقبال اور مولانا روم کی غائبانہ ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ کہ اقبال علی بخش کو بلا کر پوچھتے ہیں کہ جلدی سے ان (مولانا روم) کو بلا کر لاؤ کہ میں نے ان سے ابھی کچھ اور بھی پوچھنا ہے۔

اقبال اور مولانا روم کی ملاقات تو ہمارے لئے خدا کی یاد کا سامان کرتی ہے۔ جنگل کی تاریکی میں روشنی کے نقوش چھوڑتی چلی جاتی ہے۔ اور ہماری فکر اور تناظر کو فلک کی سیر کا سامان کرتی ہے۔ جہاں پیڑ، بوٹے، چرند پرند اور پہاڑ خدا کی شان بیان کرتے ہیں۔ داؤد علیہ اسلام یاد آتے ہیں اور دل میں راحت بسیرا کرتی ہے۔ پھر کتاب روشن مسکراتی ہے اور آواز آتی ہے۔

اور ذکر کرو ہمارے بندے داؤد کا جو قوت والا تھا بیشک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔ بیشک ہم نے مسخر کیا پہاڑوں کو اس کے ساتھ۔ وہ صبح شام اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ اور پرندے اکٹھے ہو کر اس کے لئے رجوع کرنے والے تھے۔ ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کر دی اور ہم نے اسے حکمت اور فیصلہ کن گفتگو عطا کی (سورت ص آیت نمبر 18۔ 20)

Facebook Comments HS