اعلیٰ تعلیم: ملک کا زوال پذیر شعبہ


پاکستان میں ایسا کوئی فائدہ مند قابل فخر شعبہ نہیں ہے جس کو بنیاد بنا کر ہم کہہ سکیں کہ ملک نے اس شعبہ میں خاطر خواہ ترقی کی ہے۔ البتہ ہم نے کرپشن، اقرباء پروری، دہشت گردی، بدانتظامی، بداخلاقی، جعل سازی، بھیک مانگنے، قبضہ گیری، لسانی، مذہبی اور علاقائی فسطائیت میں کمال کی ترقی کی ہے۔ ملک پر حکمرانی کرنے والے افراد بیسیوں مالی اور بدعنوانی کے سیکنڈل کا شکار ہوچکے ہیں۔ یہاں جو جتنا بڑا جرم کرتا ہے اور ہاتھ مارتا ہے وہ اس کے لیے آئندہ حکومت میں آنے کا سرٹیفکیٹ بن جاتا ہے۔

اشرافیہ کا ایک ایسا طبقہ یہاں بن چکا ہے جس کے لیے سب کچھ جائز و حلال ہے۔ جو بھی سیاست میں آتا ہے یا سیاست میں سرمایہ کاری کرتا ہے وہ راتوں رات ارب پتی بن جاتا ہے۔ پاکستان میں توانائی کا شعبہ مال بنانے کا سب سے بڑا اور آسان ذریعہ ہے۔ اس معاشرے میں کسی بھی ایک شعبے کو نہیں بخشا گیا۔ اعلیٰ تعلیم کا شعبہ ایسا ہے جس کا ملک کی بہتری اور ترقی میں کلیدی کردار ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں اس شعبہ میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ تاکہ ملک چلانے اور ترقی کرنے کے لیے ایسی نسل تیار کی جا سکے جو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ بھی کرسکے اور ملک کو معاشی اور انتظامی طور پر زندہ رکھ سکے۔ لیکن اس ملک میں سب سے برا حال اعلیٰ تعلیم کی شعبہ کا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبہ کے مسائل مختلف نوعیت کے ہیں۔ اس وقت جو سب سے بڑا بحران اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں ہے وہ مالی بحران ہے۔ اس بحران کے علاوہ بھی اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں مسائل ہیں۔ اس شعبہ میں منصوبہ بندی کا فقدان ہے، جدید اعلیٰ تعلیم کی طرف پیش رفت کا کوئی فریم ورک نہیں ہے۔

ملک میں کوئی یکساں معیار مقرر نہیں کیا گیا۔ کاروباری اور سیاسی بنیاد پر بنائے گئے تعلیمی اداروں کی وجہ سے بھی یہ شعبہ انحطاط کا شکار ہے۔ پھر سیاسی مداخلت اور غیر ضروری بھرتیوں کی وجہ سے یہ ادارے اب ایک سفید ہاتھی بن چکے ہیں۔ پھر اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاق اور صوبوں کے بیچ اختیارات کے جھگڑوں نے اس شعبہ کی رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے۔ سب سے بڑا بحران مالی ہے۔ ملک میں اس وقت دو سو کے قریب سرکاری یونیورسٹیاں اور ڈگری دینے والے ادارے ہیں جن کو وفاقی حکومت کی طرف سے ملنے والی گرانٹ گزشتہ دس پندرہ برسوں میں مسلسل کم ہوئی ہے جبکہ اس عرصہ میں سیاسی نمبر بڑھانے کے چکر میں یونیورسٹیوں کی تعداد تین گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔

اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں نے بھی کسی سکول میپنگ اور منصوبہ بندی کے بغیر یونیورسٹیاں بنائی ہیں۔ جن کے لیے سالانہ مالی معاونت کا کوئی عملی انتظام نہیں کیا گیا۔ پرانی یونیورسٹیوں میں جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ نہیں دیا گیا اور یہ یونیورسٹیاں بد ترین سیاسی مداخلت اور اندرونی دھڑا بندیوں کی وجہ سے دنیا کی یونیورسٹیوں سے بہت پیچھے رہ گئی ہیں۔ ان یونیورسٹیوں میں سیاسی مداخلت اور رشوت لے کر اور ان یونیورسٹیوں میں موجود با اثر افراد نے ہزاروں کی تعداد میں غیر ضروری اور نا اہل لوگوں کو بھرتی کر کے ان یونیورسٹیوں کے اخراجات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

یونیورسٹیوں میں ایسی ایسی پوسٹیں بنائی گئیں کہ دنیا میں اس کی کہیں نظیر نہیں ملتی۔ خیبر پختونخوا کی ایک مشہور یونیورسٹی میں جو جنرل یونیورسٹی ہے ایک پوسٹ کریئٹ کی گئی جس کا نام ڈیمانسٹریٹر ہے۔ اور پوسٹ پر چار سو سے زیادہ بندوں کو پہلے گریڈ سولہ میں بھرتی کیا گیا اور راتوں رات بیک جنبش قلم ان کو گریڈ سترہ دے دیا گیا۔ اب جنرل یونیورسٹی میں ڈیمانسٹریٹر کا کوئی رول ہی نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ کلاس میں پڑھانے کے لیے لیکچرر، اسسٹنٹ پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر یا پروفیسر جاتا ہے۔

وہ جو سبجیکٹ پڑھاتا ہے اس میں ڈیمانسٹریٹر کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یہ پوسٹ میڈیکل کالجز میں ایک یا دو ہوتے ہیں جو انسانی ڈھانچہ اور دیگر ماڈلز کی عملی تشریح کرنے کے لیے پروفیسر کی کلاس یا لیب میں مدد کرتے ہیں۔ اب آپ اندازہ لگائیں کہ ان سینکڑوں افراد کا بوجھ یونیورسٹی اٹھائے گی اور ان کی یونیورسٹی میں عملی مصروف کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ ٹیچنگ اس لیے نہیں کر سکتے کہ ان میں وہ صلاحیت نہیں ہوتی یا پھر ان کے پاس وہ مطلوبہ تعلیمی قابلیت نہیں ہوتی۔

اس طرح یونیورسٹیوں میں جاکر دیکھیں تو لوگوں نے اپنے خاندان اور علاقے کے سینکڑوں لوگوں کو بھرتی کیا ہوا ہے۔ زیادہ تر کلاس فور کے نام پر ۔ یونیورسٹیوں میں جو انتظامی عہدوں پر رہے یا باڈیز کے ممبر رہے انہوں نے اپنے بیویوں، بچوں، بھابیوں، اور رشتہ داروں کو چن چن کر یونیورسٹیوں میں بھرتی کروایا ہے۔ بہت ساری یونیورسٹیوں میں سکولز اور کالجز بھی اس مقصد کے لیے بنائے گئے۔ تاکہ اس میں اپنے لوگوں کو بھرتی کیا جا سکے۔

سکول اور کالجز چلانا یونیورسٹیوں کا مینڈیٹ ہی نہیں ہے۔ اس سے ان کے اخراجات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں اور چونکہ اس میں اقرباء پروری سے لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے اس لیے ان کا معیار بھی اتنا خراب ہے کہ یونیورسٹی کے اپنے ٹیچرز اور افسران بھی اپنے بچوں کو ان میں نہیں پڑھاتے۔ یونیورسٹیوں میں موجود کاروباری مراکز اور ٹھیلوں کے ٹھیکے بھی ان لوگوں نے آپس میں بانٹ رکھے ہیں۔ یوں یونیورسٹیوں میں تعلیمی ماحول کو عملاً خراب کیا گیا۔

بعض یونیورسٹیوں میں وائس چانسلروں کی تعیناتی خالصتاً قابلیت اور اہلیت کی جگہ سیاسی آشیر باد اور رشوتیں دے کر ہوتی رہیں جس کے نتیجے میں وہ لوگ ان عہدوں پر رہے جن کے پاس نہ تو صلاحیت تھی اور نہ ان کی کوشش رہی ہے کہ یہ ادارے ترقی کرسکیں۔ سیاسی مداخلت یونیورسٹیوں میں اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی پارلیمنٹ کا کیفی ٹیریا ہے۔ یونیورسٹیوں کے ایکٹ میں تو واضح لکھا ہوا ہے کہ یہ کلیتاً خود مختار ادارے ہیں مگر صوبائی بیوروکریسی ان یونیورسٹیوں میں اتنی مداخلت کرتی ہے کہ یہ عملاً ان کے ذیلی ادارے بن چکے ہیں۔

یونیورسٹیوں کے ایکٹ کے ساتھ سیاسی طور پر اتنی چھیڑ خانی ہو چکی ہے کہ اس کی شکل ہی بدل گئی ہے۔ اس ایکٹ میں عملی طور تضادات ہیں جن کی وجہ سے یونیورسٹیوں کے معاملات چلانا ممکن ہی نہیں ہے۔ گزشتہ سات برسوں سے کسی بھی یونیورسٹی میں مستقل رجسٹرار، ٹریژرر، اور کنٹرولر امتحانات تعینات ہی نہیں ہوسکا اور ساری یونیورسٹیوں ان کلیدی عہدوں کو ایڈہاک ازم پر چلا رہی ہیں۔ انتظامیہ کے چھ سے زیادہ لوگ یونیورسٹیوں کے سینڈیکٹ میں ممبر بنا دیے گئے ہیں۔ جو مل کر اپنے مفادات اور دوسروں کی ‏مخالفت کرتے ہیں اور یونیورسٹیاں انتظامی طور پر غیر مستحکم ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ یونیورسٹیوں کے آمدن کے تمام ذرائع ختم کر دیے گئے۔ بی ایس پروگرام جو یونیورسٹیوں میں شروع کیا گیا اسے کالجوں میں بھی ساتھ ہی شروع کر دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں یونیورسٹیوں میں داخلہ لینا کا رجحان ختم ہو گیا اس لیے کہ کالج میں تین ہزار روپے دے کر طالب علم وہی ڈگری حاصل کرتے ہیں جو یونیورسٹیاں لاکھوں میں دیتی ہیں۔

یہاں حکومت کے فیصلہ سازوں نے نہیں سوچا کہ یہ کام کالجوں کا نہیں ہے۔ کالجوں میں نہ اس طرح کی تعلیم کی سہولت موجود ہے اور نہ ہی ان کے اساتذہ اس مقصد کے لیے تربیت یافتہ ہیں۔ یوں ہر برس پاکستان میں لاکھوں نوجوان ڈگریاں لے کر فارغ ہو رہے ہیں مگر ان کی تعلیمی قابلیت اتنی خراب ہے کہ ساٹھ اور ستر کی دہائی کے میٹرک پاس ان سے زیادہ جانتے تھے۔ یہ ڈگری ہولڈر اپنے شعبہ میں کوئی مہارت اور تربیت نہیں رکھتے۔ امتحان کا نظام اتنا سہل کر دیا گیا ہے کہ کوئی فیل نہیں ہوتا۔

کالجز جو لاکھوں کی تعداد میں انٹر کے طالب علموں کو پڑھاتے ہیں۔ ان پر ان لاکھوں طالب علموں کا اضافی بوجھ بھی ڈال دیا گیا ہے۔ دنیا میں کالجز میں ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام ہوتے ہیں یعنی دو سالہ بنیادی نوعیت کی تعلیم کا سلسلہ جس کے بعد طالب علم یونیورسٹیوں کا رخ کرتے ہیں تاکہ وہ اس بنیادی تعلیم کو اعلیٰ اور مربوط تعلیم میں تبدیل کرسکیں۔ مگر یہاں سب الٹا ہو رہا ہے۔ یونیورسٹیوں نے گزشتہ دس برسوں میں تحقیق کے لیے کوئی بجٹ ہی نہیں رکھا اور نہ اس مقصد پر کچھ خرچ کیا۔

اس لیے کہ ان کو ملنے والی گرانٹ ملازمین کی تنخواہوں کے لیے بھی ناکافی ہے۔ بلوچستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی کے ملازمین کو گزشتہ تین ماہ سے تنخواہ ہی نہیں ملی اور یہ صورتحال تقریباً تمام یونیورسٹیوں کی ہے جہاں ہر مہینے تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ملازمین احتجاج پر مجبور ہوتے ہیں۔ پرانی یونیورسٹیوں سے ہزاروں کی تعداد میں ملازمین ریٹائرڈ ہوئے مگر پنشن کی مدد میں کسی بھی یونیورسٹی نے کوئی سرمایہ کاری نہیں کی اور ان یونیورسٹیوں کو سالانہ کروڑوں روپے اس مد میں خرچ کرنا ہوتے ہیں جو دستیاب بجٹ سے دیے جاتے ہیں۔

پاکستان بھر کی سرکاری یونیورسٹیوں کے پاس کوئی انڈومنٹ فنڈ کا سلسلہ نہیں ہے جبکہ دنیا کی سب یونیورسٹیوں کے پاس انڈومنٹ فنڈز ہوتے ہیں۔ دنیا کی مشہور یونیورسٹیوں کے پاس تو سو ارب ڈالرز سے زیادہ کے انڈومنٹ فنڈ ہوتے ہیں۔ بیجنگ یونیورسٹی، ٹوکیو یونیورسٹی، یونیورسٹی آف سنگاپور، ہارورڈ یونیورسٹی، سڈنی یونیورسٹی، ایم آئی ٹی غرض ہر ایک کے پاس اربوں ڈالرز کے انڈومنٹ فنڈز ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور یہ یونیورسٹیاں اس فنڈ کو اپنی فلاح و بہبود پر خرچ کرتی ہیں مگر پاکستان میں کسی نے بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔

کمال دیکھیں کہ حکومت یونیورسٹیوں کو اتنا فنڈ بھی نہیں دیتی جتنا وہ سارا سال بسکٹ کھانے پر خرچ کرتی ہے۔ اشرافیہ کے مراعات پر خرچ ہونے والی رقم کا اگر پانچ فیصد بھی یونیورسٹیوں کو دیا جائے تو اس ملک میں مزید دو سو یونیورسٹیاں بن سکتی ہیں اور ملکی یونیورسٹیوں کا سارا بحران ختم ہو سکتا ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش میں صرف ڈھاکہ یونیورسٹی کا بجٹ پاکستان کے کل تعلیمی بجٹ سے زیادہ ہے۔ سنگار پور کی یونیورسٹی کا ایک برس کا بجٹ پاکستان کے گزشتہ پچاس برس کے کل تعلیمی بجٹ سے زیادہ ہے۔

گزشتہ دنوں نیویارک کے ایک چھوٹے سے میڈیکل سکول کو ملنے والی امداد ایک ارب ڈالر تھی۔ جس میں کل طالب علموں کی تعداد آٹھ سو ہے۔ جبکہ پاکستان کا کل بجٹ جو اعلیٰ تعلیم کے لیے ہے وہ 232 ملین ڈالر ہے۔ یعنی وہ رقم جو اس میڈیکل سکول کو ملی ہے اس سے چھ برس تک پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کا خرچہ چلایا جاسکتا ہے۔ یا پھر آسان کرلیتے ہیں پاکستان میں آئی پی پیز جو تیل سے بجلی بنا کر حکومت کو بیچتی ہیں ان کے کپیسٹی چارجز کا صرف دو فیصد بھی ہم اعلیٰ تعلیم پر خرچ نہیں کر رہے۔

یعنی ہم ان کو بجلی پیدا نہ کرنے کی مد میں جو پیسے ایک برس میں دیتے ہیں وہ ہمارے آزادی کے بعد اب تک کے تمام تعلیمی اخراجات سے زیادہ ہیں۔ پاکستان میں ہر چیز مہنگی ہو گئی ہے اور نوے فیصد پاکستانیوں کی قوت خرید سے باہر ہے مگر اس عرصہ میں جتنی مہنگی تعلیم ہوئی ہے اس کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ اس ملک میں میڈیکل کی تعلیم چالیس ہزار گنا سے زیادہ مہنگی ہو چکی ہے۔ اور معیار بیس برس پہلے سے ہزار گنا کم ہو چکا ہے۔

اس ملک میں بہت سارے مسائل ہیں۔ مگر حل صرف ایک ہے وہ ہے بہتر اور مطلوبہ تعلیم و تربیت جس کو بنیاد بنا کر بنگلہ دیش، جنوبی کوریا، چین، ویتنام، سنگاپور، انڈونیشیا، جاپان، اور اب بھارت ترقی کر رہا ہے۔ اگر ہم نے اعلیٰ تعلیم پر توجہ نہیں دی تو حالات اس سے بھی خراب ہوسکتے ہیں۔ اس لیے کہ اس وقت ملک کو غیر ملکی زرمبادلہ کی ضرورت ہے اور وہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ ہی اس ملک میں بہتری لا سکتے ہیں۔

ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے والے، شوگر ملز کے مالکان، سیمنٹ کے فیکٹریوں کے مالکان اور بجلی پیدا کرنے والے لوگ اس ملک کو لوٹنے پر مامور ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی مرضی کی حکومتیں بناتے ہیں اپنے مرضی کے کرپٹ لوگوں کو اس سسٹم میں شامل کرتے ہیں اور پھر ان کی مدد سے اس کو لوٹتے ہیں۔ ان کو سب سے زیادہ ڈر پڑھے لکھے طبقے سے ہے۔ ان کی بھلائی اور بہتری اسی میں ہے کہ اعلیٰ تعلیم کا شعبہ سرکاری سطح پر خراب ہو اور وہ اس کو پرائیویٹ سطح پر کاروبار کا ایک اور فائدہ مند ذریعہ بنائیں۔

جس کی شروعات وہ کرچکے ہیں ایک ہی دن میں اسمبلی سے پچاس سے زیادہ یونیورسٹیوں کا چارٹر منظور کروا کر ۔ کسی نیب اور پاکستان کی مفاد کی حفاظت کرنے والے ادارے نے اس بارے میں کسی سے باز پرس نہیں کی کہ کیسے یہ سب کچھ ہو گیا۔ پاکستان کا دانش مند طبقہ اگر بیدار نہیں ہوتا اور ملک کے خیر خواہ اس سلسلے میں آواز نہیں اٹھاتے تو یہ دھندا کرنے والے سیٹھ ملک کے بابووں اور اپنے سیاسی گماشتوں کی مدد سے پاکستان کی ترقی کے اس ایک واحد حل کو ڈبو دیں گے۔

یہ اکٹوپس اس نظام کو جھگڑ رہا ہے۔ اس نظام کو ان کے پنجوں سے چھڑایا جائے اور اس پر سرمایہ کاری کی جائے۔ ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔ اس ملک کا نظام تعلیم اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ یہ دنیا میں کسی بھی جگہ اب قابل قبول نہیں ہے۔ دنیا ٹیکنالوجی کے نئے معراج پر پہنچ چکی ہے۔ اب اعلیٰ تعلیم مہارت کے عمدہ اور سمارٹ استعمال کا نام ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں اب بھی گزشتہ صدی کے رد شدہ چیزیں رٹی جا رہی ہیں۔ امتحان پاس کرنے کے لیے گلی گلی کوچہ کوچہ رٹا لگوانے کے سینٹر اور نقل کرنے لیے گائیڈز اور نوٹس بیچے جا رہے ہیں۔ ہمارے ملک کے کارنامے دیکھنے ہوں تو جن لوگوں کو صدارتی ایوارڈز اور ‏تمغے دیے گئے ہیں ان کی فہرست نکالیں پڑھتے جائیں اور شرماتے جائیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments