ویل ڈن آرمی چیف عاصم منیر!


پاکستان کے موجودہ آرمی چیف جنرل حافظ عاصم منیر کی شخصیت اس لحاظ سے منفرد ہے کہ انھیں کمان سنبھالتے وقت نہ صرف بیرونی بلکہ بہت سے اندرونی چیلنجز کا سامنا بھی تھا۔ ملک میں شدید سیاسی تناؤ اور انتہائی ناسازگار حالات میں انھوں نے فوج کی کمان کو سنبھالا دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ایک بڑی سیاسی جماعت عملی طور پر بغاوت کی راہ پر گامزن تھی اور فوج بیرونی اور اندرونی محاذوں پر بظاہر دباؤ میں نظر آ رہی تھی۔ لیکن نئے تعینات ہونے والے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے انتہائی لیاقت، بصیرت اور شاندار راہنمائی کرتے ہوئے ملک کی درست سمت راہنمائی کی۔

انتہائی ناموافق ملکی سیاسی، ادارہ جاتی اور عالمی حالات کے باوجود ان دونوں شخصیات نے دباؤ کے باوجود تمام چیلنجز اور معاملات کو خوش اسلوبی اور انتہائی مہارت سے ہینڈل کیا۔ اب پاکستان میں نئی حکومت بن چکی ہے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان پر اعتماد کیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دوست ممالک پاکستان کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لئے پر عزم ہیں۔ پاکستان کی ایکسپورٹس بھی بتدریج بڑھ رہی ہیں اور انویسٹمنٹ کے لئے خصوصی کونسل کے قیام سے بھی ہم نے درست سمت میں سفر کا آغاز کر دیا ہے۔

اس وقت پوری دنیا میں معاشی بحران ہے۔ روس یوکرائن جنگ، مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی جارحیت اور دیگر عالمی تنازعات کے باعث مہنگائی اور مواقعوں میں کمی آئی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک بھی بری طرح کساد بازاری کا شکار نظر آ رہے ہیں۔ ان حالات میں یقینی طور پر پاکستان پر بھی متاثر ہو سکتا ہے لیکن پھر بھی ملک میں اتنے برے حالات نہیں اور امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل قریب میں موجودہ فوجی اور سیاسی قیادت کے تحت پاکستان بحرانوں سے نکل کر ایک عظیم اقتصادی قوت کے طور پر دنیا میں اپنا لوہا منوائے گا۔

بہت سے نقاد اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ جنرل عاصم منیر ایک پروفیشنل سولجر ہیں جو اقتدار کی محلاتی سازشوں میں شریک ہونے کی بجائے فوج کے پیشہ ورانہ امور پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ پچھلے سال ایک سیاسی پارٹی کی طرف سے انتشار اور ملک گیر افراتفری کے دوران جبکہ فوج کے لئے اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے فضا سازگار تھی اور معقول جواز موجود تھا، جنرل عاصم منیر اور ان کے ساتھی جرنیلوں نے بہت ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور جمہوریت کو پٹڑی سے نیچے نہیں اترنے دیا۔

میں ذاتی طور پر جمہوریت کے دعویداروں اور علمبرداوں سے اختلاف کرتا ہوں جو جمہوریت کے نام پر جمہور کو کچلنے کے درپے رہتے ہیں لیکن دنیا میں اس نظام کے علاوہ کوئی نظام حکومت کامیاب نہیں ہے اور اگر جمہوریت کے کو مسلسل چلنے دیا جائے اور عوامی مینڈیٹ کی توہین نہ کی جائے تو اس کی خامیاں آہستہ آہستہ خوبیوں میں بدلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اگر عوام کے ووٹ کے تقدس کو پامال نہ کیا جائے، الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کو پوری قوت سے نافذ کیا جائے تو ہمارے ملک کے عوام اتنے باشعور تو ہیں کہ وہ بدمعاش، کرپٹ اور موقع پرست سیاستدانوں کو اپنے ووٹ کی طاقت سے مسترد کر دیں۔

یوں دو چار مسلسل الیکشنوں کے بعد جمہوری نظام مضبوط ہو جاتا ہے لیکن جوں ہی اس نظام میں بریک آتی ہے یہ پھر صفر سے اپنا سفر شروع کرتا ہے اور یوں منزل کبھی نہیں آتی۔ اس لئے جمہوری نظام کی خامیوں کو درست کرنے کے لئے کوشش ہونی چاہیے نہ کہ جمہوریت کا بستر لپیٹنے کے لئے۔ یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ حالات و واقعات سے ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ اس بار فوج جمہوریت کا بستر لپیٹنے کی بجائے غیر فطری جمہوری عمل سے پیدا ہونے والا گند صاف کرنے کے لئے تگ و دو کر رہی ہے اور باری باری نام نہاد اور کرپٹ سیاسی اور افسر شاہی عناصر کی اصل اوقات عوام کے سامنے لا رہی ہے جنھوں نے اس ملک اور اس کی عوام کو عرصہ دراز سے بندر بنا رکھا ہے اور عوام ان کی ڈگڈگی کے آگے بندروں کی طرح ناچنے پر مجبور ہے لیکن اب بہت سے مداری خود بندروں کی طرح ناچ رہے ہیں اور کئی ایک کی باری ابھی آنی ہے۔

اس سارے عمل میں مکمل عوامی تائید اور حمایت کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا کیونکہ ہمارا کرپٹ اور خود غرض سیاسی مافیا بہت طاقتور ہے۔ ان لوگوں نے قانون، میڈیا اور قومی اداروں کو اپنی جعلی سیاسی طاقت کے ہاتھوں یرغمال بنا رکھا ہے۔ لیکن اس سارے عمل کو شفاف ہونا چاہیے کیونکہ اس میں کسی طرح کی بد نیتی پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کر سکتی ہے اور موجودہ صورتحال میں جبکہ ہم معاشی بحالی کی راہ پر گامزن ہیں اور چین سمیت دیگر بہت سے ممالک پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری لا رہے ہیں، کسی بھی طرح کا سیاسی خلفشار قومی وحدت کو پارہ پارہ کر سکتا ہے جس سے پاکستان کے دشمنوں کو فائدہ پہنچے گا۔

لہٰذا احتیاط لازم ہے اور اگر کسی گروہ یا فرد کو بے نقاب کرنا ہے تو معتبر اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہی ایسا کیا جانا چاہیے کہ شفافیت پر کوئی آنچ نہ آئے اور یہ تاثر پیدا نہ ہو کہ کسی کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ آثار و قرائن سے یہ بات واضح ہے کہ ملک کی موجودہ صورتحال کو معمول پر لانے کے لئے ہمارے اداروں نے بہت دلیرانہ اقدامات اٹھائے ہیں اور نو مئی کے واقعہ کے بعد کی کارروائیاں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کی گئی ہیں جس کو سراہا جانا چاہیے۔

اگر دیکھا جائے تو کرپٹ اور انتشار پسند عناصر کے خلاف کارروائیاں صرف سیاسی افراد اور افسر شاہی کے خلاف ہی محدود نہیں رہیں بلکہ حال ہی میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ بدعنوان اور انتشار میں ملوث فوجی افسران کے خلاف بھی کافی اقدامات اٹھائے گئے ہیں لہٰذا کسی کو اب یہ شک باقی نہیں رہنا چاہیے کہ اس سے صرف کسی مخصوص گروہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ خوش آئند بات تو یہ ہے کہ کرپٹ اور شر پسند عناصر کا ملک گیر اتحٓاد اب بکھرتا نظر آ رہا ہے۔

حافظ عاصم منیر اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم احمد انجم کو اس بات کا بھی کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر سابق فاٹا کے علاقوں سمیت ہر جگہ بیرونی معاونت سے جاری دہشت گردی کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا جس کے دور رس نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال قدرے بہتر ہوئی ہے۔ انھوں نے ہمیشہ اندرونی اور بیرونی محاذ پر پاکستان کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اپنے آہنی عزم کا اظہار کیا ہے۔

حال ہی میں افغانستان اور ایران میں کی جانے والی کارروائیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان دشمن عناصر کو کوئی موقع نہیں دیا جائے گا اور ان کے بیرونی سرپرستوں کے ساتھ بھی آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف لگاتار آپریشنز اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گرد پسپا ہو چکے ہیں اور ان کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ایک تعطل کے بعد اس سال 23 مارچ کی دفاعی تقریبات کا شاندار طریقے سے انعقاد ممکن ہو سکا۔

اپنے پیش رو فوجی سربراہوں کی طرح جنرل عاصم منیر بھی ٹی ٹی پی کے خلاف سخت اقدامات کر رہے ہیں اور انھیں ملک کو درپیش سب سے بڑا اندرونی خطرہ سمجھتے ہیں اور اس خطرے سے نمٹنے کے لئے انھوں نے امریکہ اور ہمسایہ ممالک سے بھی تعاون کی درخواست کی ہے۔ اندرونی سطح پر فاٹا کے علاوہ کراچی اور بلوچستان میں بھی سیکیورٹی اداروں کو کامیابیاں حاصل ہور ہی ہیں جس کا کریڈٹ عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی اور متعلقہ کور کمانڈرز کو جاتا ہے۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت تمام سول اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کریں بلکہ ان کا بھرپور ساتھ دیں تاکہ ملک دشمن عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔ پاکستان میں امن کی صورتحال بہتر ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ پچھلی دو دہائیوں سے ہماری معیشت بہت متاثر ہو رہی ہے اور بیرونی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے جس سے

پاکستان کے عوام کو بے روزگاری، مہنگائی سمیت بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ جنرل عاصم منیر کو احتیاط سے اپنی اننگ کھیلنی ہو گی کیونکہ پاکستان کا سیاسی اور افسر شاہی سیٹ اپ ہمیشہ ایک عالمی ایجنڈے کے

تحت تشکیل پاتا ہے اور اب میڈیا کے چند کرپٹ عناصر بھی اس سیٹ اپ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہمارے ماضی کے بہت سے آرمی چیف صاحبان کے برخلاف جنرل عاصم منیر کی کوئی کمزوری ان نام نہاد سیاسی بونوں اور کرپٹ مافیا کے ہاتھ نہیں آ رہی کیونکہ وہ پروفیشنل سولجر ہیں، نہ انھیں پیسے کمانے کا شوق ہے نہ اقتدار سے چمٹنے کا ۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ بحیثیت آرمی چیف اپنا وقت ختم ہونے سے پہلے کچھ دلیرانہ فیصلے کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان کی پسی ہوئی عوام کے لئے حب الوطنی کے جذبے کے تحت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کے پیچیدہ سیاسی اور سماجی نظام میں ایسا کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف ہے اور یہ وہی کر سکتا ہے جو انصاف پسند ہو، مضبوط ایمان والا ہو، صاحب کردار ہو اور بہادر ہو۔ اور جنرل عاصم منیر میں یہ سارے اوصاف بدرجہ اتم موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کے کروڑوں عوام کی نظروں میں وہ مسیحا بن کے ابھر رہے ہیں اور پاکستان کے مظلوم اور پسے ہوئے عوام کی دعائیں اور نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں کیونکہ عوام پہلی بار طاقتور لوگوں، پراپیگنڈا اور جھوٹ کے خلاف عملی اقدامات ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ اب تک کے لئے آرمی چیف حافظ عاصم منیر کے لئے بہت زیادہ ویلڈن!

Facebook Comments HS