افغان کتھا قسط 01

کتاب نکلے تیری تلاش میں مصنف مستنصر حسین تارڑ لکھتے ہیں کی ایک دفعہ دوران سفر میرے والدین نے مجھ سے پوچھا کہ بیٹا تم ایک جگہ پر کیوں نہیں ٹکتے؟ کیا یوں ہی عمر بھر سفر میں گزارو گے؟ یہ سوال سن کر میں نے اپنے والدین کی طرف دیکھا اور ان کو معصومانہ لہجے میں گزارش کی کہ سفر آوارگی ہی میری زندگی ہے اور یہ اب میرے خمیر میں سما چکا ہے۔ سفر انسان کو بہت کچھ سکھلاتا اور دکھلاتا ہے جس میں کثیر التہاذیب لوگوں سے ملنا، نئے تہذیب و تمدن سے اگاہی اور جہاں نئے تجربات و مشاہدات سیکھتا ہے وہی پرانے خیالات کو خیرباد کہنا بھی سیکھتا ہے۔
سفر آوارگی اور نئے تجربات و مشاہدات کی خاطر ہم بھی گزرے برس ایک ایسے ملک کے سفر پر نکل پڑے جہاں پر جانے سے ہمارے بزرگ ہم جیسے کمزور دل افراد کو منع کرتے ہیں کیونکہ اس ریاست کی سرزمین ہمیشہ دوسروں کے مفادات کے لیے اپنوں کے لیے میدان جنگ بنتی رہی ہے۔ ہماری مراد ریاست دولت اسلامیہ افغانستان سے ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ سرزمین ہمیشہ دوسروں کے مفادات کے لیے میدان جنگ اور اپنوں کے لیے قبرستان کے طور پر استعمال ہوئی ہے۔ چونکہ یہ تاریخ کی باتیں تھیں اسی لیے ہم نے اس پہ زیادہ توجہ نہ دی اور اپنا رخت سفر باندھ کر اپنی منزل کی طرف کوچ کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔
ہمارا سفر اسلام آباد میں دسمبر کی ٹھنڈی ہواؤں کے ساتھ لگ بھگ صبح کے ساڑھے چار بجے شروع ہوا۔ یہ وقت کے تعین کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ترخم پر انسانوں کا سمندر لگنے سے پہلے ہم وہاں پہنچ جائیں اور کاغذی کارروائی کے بعد اپنے منزل کی طرف گامزن ہوں۔ منصوبے کے مطابق ہمارے ڈرائیور نے ہمیں ہمارے مقررہ وقت پر اٹھا لیا اور ہم اپنے باقی سفری دوستوں کے لیے فیصل ٹاؤن کی طرف نکل پڑے۔ غالباً فیصل ٹاؤن پہنچتے پہنچتے پانچ بج چکے تھے یہاں سے ہم نے اپنے باقی سفری دوستوں کو اٹھایا اور اپنی منزل کی جانب نکلنے کے لیے سواری پہ بیٹھ گئے۔
یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ اسی برس نومبر دسمبر کے مہینے میں حکومت پاکستان کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری ہوا تھا جس میں پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کو ریاست پاکستان سے نکلنے کا حکم دیا گیا تھا اس حکم کی تعمیل میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں سرگرم عمل تھیں۔ ایک انسان دوست کے لیے یہ کربناک لمحہ تھا کیونکہ سرحدوں کی حدود بندی نے انسانوں کے احساسات کو مکمل طور پر نیست و نابود کر دیا ہے اور جس شخص کو ہم نہیں جانتے اور کبھی ملے بھی نہ ہوں اس سے صرف اس بابت نفرت کرتے ہیں کہ وہ فلاں ملک کا باشندہ ہے۔ اس حکم نامے کی بدولت ہزاروں ایسے لوگ جنہوں نے ریاست پاکستان میں جنم لیا تھا اور اسی کو اپنا وطن مان بیٹھے تھے انہیں ایک دم یہاں سے نکلنے کا حکم دیا گیا جس کی بدولت اسلام آباد سمیت ملک بھر سے افغان مہاجرین کا کی ہجرت کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔
انسانوں کے اس سمندر اور باڈر پر انتظار کے وقت کو کم کرنے کے لیے ہم نے جلد از جلد اپنی پہلی منزل تورخم پر پہنچنے کا ارادہ کر لیا تھا اور ڈرائیور بھائی کو بھی اسی مناسبت سے ہدایات دے دی گئی تھیں۔ فیصل ٹاؤن سے نکل کر ابھی چند ہی فاصلے پر گئے تھے کہ ہمیں پولیس نے روک لیا اور جس طرح فلموں میں دکھایا جاتا ہے گاڑی کا شیشہ نیچے کرایا اور ڈرائیور سمیت باقی سواریوں کو بھی باہر آنے کا حکم دیا۔ ہم سب نے حکم کی تعمیل کی اور باہر نکل آئے۔
ٹھنڈی ہواؤں کا راج تھا اور انہی ٹھنڈی ہواؤں میں سگریٹ سلگائے ہوئے اہلکار نے ہمیں دیکھا اور اپنے دوسرے ساتھی کی طرف دیکھا اور اسے بھی بلا لیا۔ قریب پہنچ کر اس دوسرے اہلکار نے میری طرف دیکھا اور میرا نام منشیات فروشوں کی فہرست میں شامل کر دیا اور باقی افغانیوں کو غیر قانونی رہائش پذیر ہونے کی سزا سنا دی اور تھانے لے جانے کی بات کر گیا۔ چونکہ ایسے اہلکاروں سے نمٹنے کا ہنر سیکھا ہوا تھا تو وہ حربہ آزمانے پہ ہمیں باعزت بری کر دیا گیا جبکہ ہمارے سفری دوستوں جو کہ افغان تھے انہیں اپنے ہمراہ لے جانے پہ زور دیتا رہا کیونکہ بقول ان صاحب کے وہ غیر قانونی طور پر مقیم تھے۔
یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ افغانوں کے پاس قانونی طور پر افغانستان سے پاکستان آنے اور واپسی کے تمام تر کاغذات موجود تھے جن میں پاسپورٹ، ویزا جس کی میعاد باقی تھی، اور اسلام آباد پولیس کی جانب سے سیکورٹی کلیئرنس کا سرٹیفکیٹ بھی موجود تھا مگر ان تمام کے باوجود انہیں امیتابھ بچن کی فلم سرکار کی طرح خود ہی فیصلہ کر کے مجرم قرار دینے کا شوق تھا اور انھوں نے اسے پورا کر دیا۔ ہمارے ڈرائیور بھائی کے لیے یہ روز مرہ کا ایک معمول تھا اور وہ بڑے ہی پائے کے کاروباری بھی تھے۔
جس طرح ماں اپنی بگڑی اولاد کی تمام عادتوں سے واقف ہوتی ہے بالکل اسی طرح ہمارے ڈرائیور صاحب بھی ان اہلکاروں کی عادتوں سے واقف تھے لہذا انہوں نے سفر میں کی تاخیر کو دیکھتے ہوئے اہلکاروں سے بارگیننک کر لی جس کے مطابق فی کس افغانی پانچ سو روپے کا سودا طے ہوا اور یوں ان تینوں افغانوں کے عوض ہمارے ڈرائیور نے دونوں اہلکاروں کا ایمان پندرہ سو روپے میں خرید لیا۔ اس کاروباری لین دین کے بعد ڈرائیور نے سود مند کاروبار کی عوض دونوں اہلکاروں کا شکریہ ادا کیا اور ہم پھر سے اپنی سواری پہ براجمان ہوئے اور صبح چھ بجے ایک مرتبہ پھر اپنے سفر کی جانب نکل پڑے۔
کچھ دیر بعد لنڈی کوتل پہنچ گئے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں انسانوں سے زیادہ مشینری پائی جاتی ہے۔ اگر آپ نے کبھی ٹھاٹھیں مارتے ہوئے ٹرکوں کا سمندر دیکھنا ہو تو لنڈی کوتل کا سفر ضرور کیجئے گا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ٹرک باڈر کے دونوں طرف آنے جانے لیے اپنی اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں اور بقول ڈرائیور بھائی کے کبھی کبھار انتظار کی گھڑی مہینے سے اوپر نکل جاتی ہے اور لوگوں کا بسیرا انہی پہاڑوں پر ہوتا ہے۔ ٹرکوں کے اس سمندر اور پہاڑی سلسلوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے دوپہر گیارہ بجے کے قریب ہم تورخم باڈر پر پہنچ گئے یعنی وہ مقام جہاں سے ہم نے نئے تجربات و مشاہدات کی تلاش کے لیے اپنے سفر کا آغاز کرنا تھا۔ بقایا قسط نمبر 2 میں۔

