مدنی منے کی جہنمی عورتوں پر وائرل وڈیو


ویسے تو ہمارے ہاں آئے روز کوئی نہ کوئی دلسوز واقعہ پیش آتا ہی رہتا ہے۔ مگر اس وڈیو کو دیکھ کر اس پر قلم اٹھانا یوں بھی ناگزیر ہوا کہ سوال ایک معصوم کی زندگی کا ہے، اس کی سوچ، شخصیت اور مستقبل کا ہے۔ آپ اس کو جہنمی عورتوں کی نشانیاں طوطے کی طرح رٹوا کر آخر کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

جدید طریقہ تعلیم کا تھوڑا سا مطالعہ بھی کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں نو سے دس سال کی عمر تک کسی خاص مضمون کی تعلیم نہیں دی جاتی بلکہ اس کو ایک ماحول مہیا کیا جاتا ہے جس میں اس کی خدا داد صلاحیتوں کو مزید جلا ملے۔ وہ اپنی مرضی سے سوچے، تفکر کرے اور تخلیق کرے۔
میں سمجھتی ہوں یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں میں آئے دن نئی سے نئی حیرت انگیز چیزیں رونما ہوتی ہیں۔ یہ لوگ زمین و آسمان سے ہوتے ہوئے کائنات کے رازوں تک پہنچ چکے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کا ڈیٹا ان کے پاس موجود ہے اور جب چاہیں اسے استعمال کر سکتے ہیں۔
باقی سب چھوڑ دیں، ادھر آپ کوئی بات کرنے کے بعد فون اٹھاتے، ادھر آپ کی ٹھیک اس لمحاتی کیفیت سے عین ملتی جلتی چیز آپ کی سکرین پہ آجاتی ہے۔ یہ ہوتی ہے ترقی۔
اور آپ چھوٹے چھوٹے بچوں کو جنت جہنم کے باسیوں سے متعارف کرا رہے ہیں۔ ان کو ذہنی مفلوج بنا رہے ہیں۔ پھر کہتے دنیا آپ کو برا بھی نہ سمجھے۔
مذہب پر جتنا ظلم آپ اس طرح کی پریکٹسز سے کر رہے ہیں اتنا تو اسلام دشمنوں نے بھی نہیں کیا ہو گا۔

Facebook Comments HS