مرتبان (مکمل کالم)


میں راستوں کا بہت کچا ہوں، اکثر راستہ بھول جاتا ہوں، مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو ایک مرتبہ کوئی نیا راستہ دیکھ لیں تو دوسری مرتبہ انہیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ اس راستے کے شارٹ کٹ نکال لیتے ہیں اور پھر بے حد آسانی کے ساتھ وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ میری مصیبت یہ ہے کہ میں جن راستوں پر برسوں سے چل رہا ہوں وہ بھی مجھے یاد نہیں رہتے، اپنی اس نا اہلی کی وجہ سے مجھے اکثر خواہ مخواہ طویل فاصلہ طے کرنا پڑ جاتا ہے۔ مگر اس روز تو حد ہی ہو گئی، میں اپنے دھیان میں گھر کی جانب جا رہا تھا، یہ واحد راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے مجھے زیادہ سوچنا نہیں پڑتا اور میں دماغ پر زور دیے بغیر گلیوں میں مڑتا چلا جاتا ہوں۔ راستے میں ایک نہر آتی ہے، نہر کے اس پار جو آبادی ہے وہاں میرا گھر ہے، سو ایک لگا بندھا سا راستہ ہے جس پر میرے قدم خود بخود اٹھتے چلے جاتے ہیں۔ مگر کچھ دیر چلنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں کسی انجان علاقے میں آ گیا ہوں۔ نہر کہیں پیچھے رہ گئی تھی حالانکہ میرا گھر جہاں واقع ہے وہاں سے نہر نظر آتی ہے، آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتی۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا، میرے علاوہ وہاں کوئی نہیں تھا، پراسرار سی خاموشی چاروں طرف چھائی ہوئی تھی، سامنے البتہ کچھ فاصلے پر مکانات دکھائی دے رہے تھے مگر ان کا طرز تعمیر کچھ عجیب سا تھا، میں نے کبھی اس قسم کے ڈیزائن کے گھر نہیں دیکھے تھے۔ میں نے سوچا کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا، مگر پھر جلد ہی مجھے اس احمقانہ خیال کو سر سے جھٹک کر نکالنا پڑے کیونکہ اسی وقت کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے متوجہ کیا تھا۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک ادھیڑ عمر کا آدمی کھڑا تھا، اس کا حلیہ ایسا تھا کہ جسے میں بیان نہیں کر سکتا، اس کے کپڑے عجیب سے تھے اور اس کی آنکھوں میں ویرانی اور خوف کے سائے تھے۔ اس نے مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور پھر ہاتھ پکڑ کر ایک جانب چل پڑا، مجھے لگا جیسے وہ کسی ان دیکھی قوت سے خوفزدہ ہے اور جلد از جلد کسی جگہ پہنچنا چاہتا ہے۔ تھوڑی دیر چلنے کے بعد ہم ایک شکستہ حال مکان میں داخل ہو گئے اور اس کی چھت کے نیچے یوں پناہ لے لی جیسے خود کو محفوظ کرنا مقصد ہو۔ میرے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو رہا تھا، مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کہاں ہوں، یہ شخص کون ہے اور اس علاقے میں کس قسم کے لوگ رہتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا، اس شخص نے پہلی مرتبہ زبان کھولی۔

”تم یہاں نئے آئے ہو اس لیے احتیاط سے رہنا، ایسا نہ ہو کسی حادثے کا شکار ہو جاؤ۔“

”کیسا حادثہ، یہ کیا جگہ ہے۔ اور تم سے کس نے کہا کہ میں یہاں قیام کرنے کی غرض سے آیا ہوں، میں تو فقط اپنے گھر کا راستہ بھولا ہوں۔“

”خاموش رہو، تم جیسے نووارد پہلے پہل ایسے ہی باتیں کرتے ہیں، تمہیں کچھ علم نہیں کہ یہاں۔“

”کیا ہے یہاں؟“ میں نے جھنجھلا کر پوچھا۔ مگر اس پراسرار اجنبی نے جواب دینے کی بجائے دوبارہ میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے مکان سے باہر نکال لے گیا۔ ”ذرا غور سے چاروں طرف دیکھو، تمہیں کیا نظر آ رہا ہے؟“ میں نے ادھر ادھر دیکھا مگر مجھے کچھ بھی نظر نہیں آیا، عجیب طرز کے مکانات کے باہر ویسی ہی ویرانی تھی۔ میں نے استفہامیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا، پہلی مرتبہ اس پراسرار شخص کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی، اس نے اپنے کپڑوں کو ٹٹولا اور پھر نجانے کہاں سے ایک کنٹوپ برآمد کر کے میرے سر پر چڑھا دیا۔ ”اب دیکھو۔“ میں نے اوپر کی جانب نظر دوڑائی اور پھر اچانک مجھے یوں لگا جیسے ہم کسی جہازی سائز کے مرتبان میں ہیں، ابھی میں ٹھیک سے دیکھ بھی نہیں پایا تھا کہ اس شخص نے میرے سر سے کنٹوپ اتار دیا۔ ”اسے زیادہ دیر تک استعمال نہیں کر سکتے، انہیں شک پڑ جاتا ہے۔“ میں چکرا کر رہ گیا، اس شخص کی باتیں میری سمجھ سے باہر تھیں مگر اس کے لہجے کا تیقن ایسا تھا کہ جیسے وہ کوئی اٹل حقیقت بیان کر رہا ہو۔ میں نے اسے غور سے دیکھا، وہ عجیب ضرور تھا مگر کہیں سے بھی فاتر العقل نہیں لگتا تھا۔ ”تم لوگ کون ہو؟“ میں نے پوچھا۔ ”ہم بھی تمہاری طرح کے لوگ ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ ہم یہ جان چکے ہیں کہ ہم پر کوئی تجربہ کیا جا رہا ہے جبکہ تم لوگ اس خوش فہمی میں مبتلا ہو کہ۔“ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ ”کیسی خوش فہمی، بات مکمل کرو۔“

”چھوڑ، تم نہیں سمجھو گے، ہمیں بھی یہ بات سمجھنے میں کئی صدیاں لگیں، پھر کہیں جا کر ہمارے لوگ اس قابل ہوئے کہ یہ چھوٹا سا کنٹوپ بنا سکیں جس کی مدد سے ہمیں پتا چلا کہ ہم اس مرتبان میں محض کیڑے مکوڑے ہیں۔“ اب مجھے اس شخص کی دماغی حالت پر شک ہونے لگا تھا، اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا وہ خود ہی بول پڑا۔ ”تم مجھے پاگل سمجھ رہے ہو، پہلے ہم بھی ہر اس شخص کو پاگل ہی سمجھتے تھے جو ہمیں بتاتا تھا کہ ہم پر تجربہ کیا جا رہا ہے۔“

”کون تجربہ کر رہا ہے تم لوگوں پر؟“ میں نے تمسخرانہ انداز میں پوچھا۔
”یہ ہم نہیں جانتے۔“ اس نے سنجیدگی سے کہا۔ ”فی الحال جتنا ہمارے علم میں آیا میں نے بتا دیا۔“
”اور تمہیں اس بات کا کیسے یقین ہے کہ تم لوگ کسی۔“

”حادثات۔“ اس نے میری بات کاٹتے ہوئے جواب دیا۔ ”بے تکی اموات، جیسے تم لوگوں کے پاؤں کے نیچے ہزاروں کیڑے مکوڑے آ کر مر جاتے ہیں اور انہیں پتا ہی نہیں چلتا، بالکل ویسے ہی ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔“

”ان تمام باتوں کا کیا ثبوت ہے، جو کنٹوپ تم نے میرے سر پر چڑھایا وہ تو الٹا نظر کا دھوکا ہے؟“ میں نے جھنجھلا کر کہا۔ جواب میں اس شخص نے ایک مرتبہ پھر ہاتھ پکڑا اور مجھے لے کر ایک طرف کو چل پڑا۔ ہمارا رخ ایک پہاڑی کی جانب تھا، بدقت تمام میں پہاڑی کی چوٹی پر پہنچنے میں کامیاب ہوا مگر وہ شخص یوں ظاہر کر رہا تھا جیسے یہ اس کا معمول ہو۔ میں نے چوٹی سے جھک کر دیکھا نیچے دریا بہہ رہا تھا، ابھی میں نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ اس شخص کی آواز آئی۔ ”اب تم ہمارے والے تجربے کا حصہ ہو۔“ اور پھر اچانک اس نے مجھے دھکا دے دیا۔ خدا کا شکر ہے کہ نیچے دریا تھا ورنہ میری ہڈیاں ٹوٹ جاتیں۔ بہت مشکل سے میں ہاتھ پیر مار کر دریا کے کنارے پہنچا، میرا سانس تیزی سے چل رہا تھا، مجھے یہ سب کچھ کسی ڈراؤنے خواب کی مانند لگ رہا تھا، مگر یہ خواب نہیں تھا، میں نے غور کیا تو پتا چلا کہ یہ دریا نہیں بلکہ وہی نہر ہے جو میری بستی کے پاس سے گزرتی ہے۔ مجھے اس حالت میں پا کر کچھ لوگ وہاں اکٹھے ہو گئے اور عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگے، شاید میرے چہرے پر موجود خوف نے انہیں حیران کر دیا تھا۔ کچھ لوگوں نے میری خیریت پوچھنے کی کوشش کی مگر میرے منہ سے کوئی آواز نہیں نکل پائی۔ میں انہیں بتانا چاہتا تھا کہ جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں وہ حقیقت نہیں ہے اور شاید ہم کسی مرتبان میں ہیں، مگر میرے منہ سے با معنی الفاظ کی بجائے عجیب و غریب آوازیں نکل رہی تھیں، جیسے کوئی انجانی بولی، وہ لوگ میری شکل اور بولی دیکھ کر ڈر گئے۔ اس وقت ان کے چہرے پر بھی ویسا ہی خوف طاری ہو چکا تھا جیسا میں اس بستی میں پر اسرار شخص کے چہرے پر دیکھ کے آیا تھا۔

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada