مزاحمتی سیاست یا شور شرابا


کیا پی ٹی آئی حقیقت میں مزاحمتی سیاست کر رہی ہے یا پھر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تمامتر جیل مکانی اور 9 مئی کے واقعات میں ملوث اور ملزمان کو پے در پے جنرل اور سینٹ الیکشن میں ٹکٹس دے کر اپنے آپ کو فوج مخالف جماعت کے طور پر سامنے لا رہی ہے۔

پہلے اگر الیکشن میں ٹکٹس دینے کی بات کی جائے تو جنرل الیکشن میں تو یہ ثابت ہو ہی گیا کے نیازی صاحب نے جان بوجھ کر ایسے عناصر کو قومی و صوبائی اسمبلیوں کی ٹکٹس دین جو کے پر تشدد کارروائیوں میں ملوث تھے اور کئی کئی ماہ سے روپوش تھے، اور سب سے بڑا فیصلہ ایک ایسے شخص کو کے پی کے کے وزیر اعلی کے طور پر سامنے لانے کا کیا گیا جس کی پر تشدد کارروائیاں نا صرف کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہیں وہیں پر ان کی آڈیوز بھی سوشل میڈیا پر اپنا رنگ جما چکی ہیں، اور گنڈا پور نے اپنے انتخاب کو بالکل درست ثابت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے خلاف جس طرح کا رویہ رکھا وہ یقیناً نیازی صاحب کے لئے تو باعث اطمینان ہو گا لیکن اس طرز حکومت سے صوبہ کی عوام کے ساتھ کیا ہو گا وہ تو عوام ہی جانیں۔

دوسری جانب صدر پاکستان کے الیکشن میں پی ٹی آئی کو جب یقین کامل ہو گیا کے وہ کسی طرح بھی الیکشن نہیں جیت سکتے تو انہوں نے اپنی جماعت کے کسی بھی ممبر کو اس الیکشن کے لئے سامنے لانے کے بجائے اچکزئی صاحب کو اپنا صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے لانے کا اعلان کیا اور پھر الیکشن کے دن سب نے وہ منظر بھی دیکھا کے اچکزئی صاحب جس صوبہ سے تعلق رکھتے ہیں وہاں سے ایک بھی ووٹ حاصل نا کر سکے۔ جبکہ الیکشن سے پہلے ہی احقر نے لکھا تھا کے آصف زرداری 415 کے قریب ووٹ لے کر صدر بن جائیں گے۔

الیکشن ہارنے کے بعد اچکزئی صاحب نے ایک پرانے تجربہ کار سیاست دان کی طرح اپنی شکست کو کھلے دل سے قبول کیا اور ساتھ یہ بھی کہا کے الیکشن بہت شفاف ہوئے اور پہلی بار ایسا ہوا کے نا تو کوئی ووٹ خریدا گیا اور نا ہی کسی نے ہارس ٹریڈنگ کی لیکن دوسری جانب الیکشن کا رزلٹ دیکھ کر پی ٹی آئی کے لیڈران نے ایک بار پھر دھاندلی اور ووٹ خریدنے کا الزام لگانا شروع کر دیا، بھیا اگر ایسا ہی کرنا تو سب سے پہلے اچکزئی کو منع کرتے کے وہ صاف ستھرے الیکشن کا بیان نا دیتا اور اگر اس نے ایسا بیان دے ہی دیا تھا تو آپ کو یہ بھی بتا دینا چاہیے تھا کے ان کو کیا پتہ الیکشن تو ہم لڑ رہے تھے۔

خیر ایک دفعہ پھر سے سینٹ الیکشن کا شور ہے اور اپریل کو سینٹ الیکشن ہو رہے ہیں شیڈول آ چکا ہے، تمام پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع ہو چکے ہیں، پنجاب میں ٹوٹل 12 نشستوں پر ووٹنگ ہو گی، جس میں ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی 2 مخصوص نشستیں بھی شامل ہیں،

اب اگر دوبارہ کچھ پیشن گوئی کی جائے تو پنجاب اسمبلی میں نون لیگ کہ پاس 246 نشستیں موجود ہیں جبکہ پی ٹی آئی یا سنی اتحاد والوں کہ پاس 102 نشستیں ہیں، سینٹ کی ایک سیٹ کے لئے 51 ووٹ درکار ہوتے ہیں اس حساب سے نون لیگ تقریباً 7 جنرل سیٹیں نکال لے گی جبکہ تحریک انصاف کے حصے 2 سیٹیں آئیں گی، اور اگر ان کے 3 سے 4 ارکان دائیں بائیں ہو گے تو پھر ایک ہی سیٹ ملے گی، جبکہ بقول شیر افضل مروت ان کے چالیس کے قریب بندے بھاگنے کی تیاریوں میں ہیں، اب پی ٹی آئی نے ترجیحی بنیادوں پر جو 2 سیٹیں رکھی ہیں ان میں پہلے نمبر پر حامد خان ہے اور دوسرے نمبر پر زلفی بخاری، باقی سب بقول نیازی صاحب ریلو کٹے اور خانہ پوری کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گے ہیں، یاسمین راشد کو ٹیکنوکریٹ والی سیٹ پر کھڑا کیا گیا ہے جبکہ اس سیٹ کے لئے ایک ارکان کو 123 ووٹ درکار ہوتے ہیں اور اتنے تو پی ٹی آئی کے ٹوٹل ووٹ نہیں ہیں، اور خواتین کی مخصوص نشست پر مشہور ٹک ٹاکر صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گے ہیں، اب مخصوص نشستوں کے لئے بھی ایک امیدوار کو 123 ووٹ درکار ہوتے ہیں جو کہ پی ٹی آئی کے پاس موجود نہیں ہیں۔

اگر ان نمبروں کو دیکھیں تو ہمیں اندازہ ہو گا کے پی ٹی آئی بس سوشل و الیکٹرانک میڈیا پر شو شاہ کے لئے ایسے بیانات دینے میں ید طولا رکھتی ہے اور جب ان کے امیدوار ہار جائیں گے تو فوراً سوشل و الیکٹرانک میڈیا پر رونے دھونے اور دھاندلی کا شور مچا کر اچھا خاصہ سکرین ٹائم حاصل کر لیں گے، اگر دیکھا جائے تو یاسمین راشد اور صنم جاوید کا نام تو بس ووٹرز و سپورٹرز کا خون گرمانے واسطے ہی ہے اور اس کا حقیقت میں الیکشن لڑانے اور ان کو سینٹ پہنچانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

Facebook Comments HS