پنگوں کی کتھا: نیکی کر دریا میں ڈال


”سر جی! ذرا اسے بھی ’اٹیسٹ‘ (تصدیق) attest کر دیں“ ۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو ایک شخص پیلے دانت نکالے مسکرا رہا تھا۔ میرا برا منہ بنتا دیکھ کر اس نے مزید اضافہ کیا، ”میرا کزن ہے“ ۔

دل میں پہلا جملہ آیا، ”جان نہ پہچان میں تیرا مہمان۔ اور کیا زبردستی ہے“ ۔

یہ 1997 ء کی کسی عید کے آس پاس کا واقعہ ہے۔ میں یعنی فلائٹ لیفٹیننٹ رضی چک لالہ (اب نور خان) ائر بیس کی ائر موومنٹ پر علی الصبح بیٹھا، ڈائریکٹر ائر ٹرانسپورٹ (یعنی ڈی اے ٹی) DAT گروپ کیپٹن منور عالم صدیقی کی جان کو رو رہا تھا۔ مگر کیوں؟

بعض اوقات زیادہ خود اعتمادی انسان کو بہ آسانی خواری کی بلندی پر پہنچا دیتی ہے اور میرے ساتھ ایسا آج تک ہوتا رہتا ہے۔ ائر فورس میں سی ون تھرٹی C 130 پر اگر سفر کرنا ہو تو اسی محکمے (یعنی ڈی اے ٹی) کے لوگوں سے جان پہچان کام آتی تھی۔

ایک دن جب میں پی اے ایف ہاسپٹل اسلام آباد کی زیریں منزل میں واقع اپنے پراجیکٹ میں موجود تھا۔ گروپ کیپٹن منور اپنے دو پیارے سے بیٹوں منوچہر اور شہریار کے ہمراہ کمپیوٹر اٹھائے، وہاں آن وارد ہوئے۔ میرے باس، ونگ کمانڈر شاہد طفیل سے ذاتی درخواست کی گئی کہ ”پی سی“ خراب ہے۔ پہلے اسے ٹھیک کرنا ہے۔ پھر بچوں کے کام کے اچھے اچھے پروگرام اس میں ڈالنے ہیں اور مزید یہ کہ بچوں کو ان کے استعمال میں طاق بھی کرنا ہے۔ ظاہر ہے یہ تمام مصیبتیں میرے سر ہی آنی تھیں۔ میرے نخرے اور آنا کانی دیکھ، باس نے مجھے ایک طرف لے جاکر کہا کہ کم بخت، تو نے آئے دن کراچی آنا جانا ہوتا ہے۔ ساتھ ہم سب کو بھی آئے دن کسی نہ کسی ائر بیس پر جانے کے لئے چھوٹا جہاز چاہیے ہوتا ہے۔ یہ سب انہوں نے ہی کرنا ہوتا ہے۔ ”گھر آئی لکشمی کی عزت کر !“

تو یوں کچھ دن بعد سر شام میں، آستانہ منور پر پہنچا ہوتا تھا۔ جان پہچان جب عروج پر تھی تو میں نے ایک دوپہر فون کر کے، اگلے دن کراچی کے لئے اپنی سیٹ کی فرمائش کردی۔ یہ کون سا کام تھا۔ سو شام کو جوابی پیغام مل گیا کہ کل صبح سات بجے چک لالہ سے فیصل بیس (ڈرگ روڈ کراچی) جانے کے لئے نام مسافروں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ ڈرائیور نے صبح ساڑھے چھ بجے اسلام آباد سے راول پنڈی لاکر چھوڑ دیا۔ میں اس زعم میں تھا کہ آج وہاں میرا خصوصی استقبال ہو گا۔ مگر خوابوں پر گھڑوں اوس پڑ گئی، جب پتہ چلا کہ نام فہرست میں ضرور ہے، مگر چانس پر! (یعنی کوئی کنفرم مسافر نہ آیا تو سیٹ ملے گی) ۔

ائر موومنٹ کا انچارج نیا افسر تھا۔ سو اس نے کسی بھی قسم کی مدد سے صاف انکار دیا۔ عید پر کراچی جانے کے لئے جہاز مسافروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور چانس کے مسافروں کی بھی ایک طویل فہرست تھی۔ جن کی باری ظاہر ہے صرف اس صورت میں آ سکتی تھی اگر کوئی مفت کے اس سفر کے لئے وہاں وقت پر نہ پہنچ پاتا۔

سر منور عالم کو اس وقت ڈھونڈنا، جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ کیونکہ اس وقت وہ ناشتے اور شیو کے بعد، اسلام آباد سے اپنے دفتر ائر ہیڈکوارٹرز چک لالہ آنے کے لئے کہیں راستے میں ہوتے (موبائل کی غیر موجودگی میں)۔ یوں میں ائر موومنٹ (فضائیہ کے جہازوں پر سفر کرنے کے لئے ٹرمینل) پر فارغ بیٹھا، ان کی جان کو رو رہا تھا۔

ائر موومنٹ پر ایک دل چسپ صورتحال ہوتی ہے۔ فضائیہ کے باوردی ملازمین کے علاوہ ان کی فیملی کے جتنے لوگ سفر کر رہے ہوتے ہیں انہیں ایک چھپے ہوئے فارم پر سب اہل خانہ کے نام، پتہ، شناختی کارڈ نمبر وغیرہ تحریر کرنا ہوتا ہے۔ اور بعد میں اس فارم کی معلومات کو کسی ”یونیفارم والے یعنی باوردی افسر“ سے ”تصدیق“ کروانی ہوتی ہے۔

تو جناب فلائٹ لیفٹیننٹ رضی صاحب اس وقت چونکہ فارغ نظر آرہے تھے اس لئے تصدیق کروانے والا ہر دوسرا، زید ہو یا بکر، ان کے سامنے قطار بنائے کھڑا تھا۔ جب دو تین لوگوں کے یہ فارم طوعاً و کرہاً دستخط کر دیے تو ضرورت مند حضرات نے میرے گرد پکا گھیرا ڈال لیا۔

پیلے دانت والے کا کزن، وزارت دفاع میں ملازم (یا تعینات) تھا اور عید پر اپنی فیملی سمیت مفت کراچی جانے کے لئے عازم سفر تھا۔ چھ لوگوں کے نام کاغذ پر لکھنے کا منشیوں والا کام بھی مجھے ہی کرنا تھا، کیوں کہ وہ منحوس اور اس کا کزن یہ کام کرنے سے قاصر تھے (یعنی ان پڑھ تھے)۔ دل میں گالیاں دیتا، تصدیق کے لئے ان سے ہر طرح کے کارڈ اور کاغذ مانگتا رہا اور کوستا رہا کہ کم بختوں اگر تم لوگ نہ جاتے تو میرا جانے کا چانس اور پکا ہوجاتا۔

لیکن یہ آوازیں دل میں ہی رہیں کیوں کہ میں تو ”اس وقت ایک افسر“ تھا۔ وردی پہننے کے بعد جس پر تہذیب اور دوسروں کی مدد کی دوہری ذمہ داریاں عائد ہوجاتی ہیں۔ ہر طرح کی مین میخ نکالنے کے بعد جب میں وکٹر مسیح اور اس کے اہل خانہ کے فارم کی تصدیق کرچکا تھا، اور پیلے دانت والا وہاں سے دفع ہونے والا تھا کہ قریب سے ایک آواز آئی۔

”اوئے رضی! تو یہاں کیا کر رہا ہے“ ۔

جب تک میں اس آواز کا منبع تلاش کرتا۔ پیلے دانت والے ان پڑھ شخص کو جیسے جھٹکا لگا۔ سامنے آیا اور میری طرف انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے مجھ سے ہی پوچھنے لگا۔ ”آپ کا پورا نام سید رضی الدین“ ہے۔

میں نے منہ بنا کر کہا، ہاں۔ تم نے کیا نیم پلیٹ نہیں پڑھی (ظاہر ہے ان پڑھ تھا) ۔
آپ کا دفتر اسلام آباد کے اسپتال میں ہوتا ہے۔ ”ہاں“ ۔
ساتھ دل میں گالیاں دینے لگا کہ یہ تو خوامخواہ رشتے داریاں نکال رہا ہے۔
یکایک وہ آگے بڑھا اور عقیدت سے میرے گھٹنے چھو کر بولا۔
”شاہ صاحب، میں یونس ہوں۔ گلزار کا بھائی“ ۔ ”کون گلزار؟“ ۔

اتنے میں مجھے آواز دینے والا وہ سینیئر کسی اور راہ پر چل دیا۔ اور میں یونس کے جسم سے اٹھتے بھبھکوں کو بمشکل برداشت کرنے لگا۔ اس پریشانی کے عالم میں جب کہ میں اکیلا رہنا چاہتا تھا وہ کسی گلزار کا بھائی، زبردستی میرے گلے پڑ رہا تھا۔

کہنے لگا، میں آپ کے پچھلے ڈرائیور گلزار مسیح کا بھائی یونس مسیح ہوں۔
”اچھا“ کہ کر میں چپ ہو گیا۔
اب یونس نے کہا، سر آپ یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہیں۔ آگے آفیسرز لاؤنج میں کیوں نہیں جاتے۔
منہ بنا کر میں نے اسے بتایا کہ میری چانس کی سیٹ ہے۔
یونس مسیح کو جیسے ایک جھٹکا لگا۔
اس نے اپنے رشتہ دار وکٹر کو مع اہل و عیال وہیں رکنے کا کہا اور غائب ہو گیا۔
دوسری طرف میں کسی ایسے جاننے والے کو ڈھونڈنے لگا جو میرا مسئلہ حل کروا سکے۔

لمحوں بعد ، کسی جن کی طرح یونس مسیح دوبارہ نمودار ہوا اور میرا بیگ اٹھا کر بولا۔ چلیں سر جی! ”کہاں“ ۔

”اندر آفیسرز کے کمرہ انتظار یعنی لاؤنج میں“ ۔

میں نے ایک بار پھر منہ بنا کر کہا، ”یونس ابھی میں نے آپ کو بتایا ہے کہ میری سیٹ کنفرم نہیں ہے“ ۔ یونس نے سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنی بغل میں ہاتھ ڈالا اور کسی جادوگر کی طرح، ایک بورڈنگ کارڈ میرے سامنے کر دیا۔ کنفرم میرے نام سے جاری شدہ۔

بغیر کسی سفارش اور کچھ کہے بغیر۔ ایک بے غرض بدلہ۔

یونس مسیح کے پیلے دانتوں سے لے کر اس کے کپڑوں سے اٹھتی ”باس“ ، جو چند لمحوں پہلے تک، مجھے اس سے متنفر کر رہی تھی۔ اب یہ سب یاد کر کے مجھے خود پر کراہت اور اپنی گھٹیا سوچ پر افسوس ہو رہا تھا۔ درحقیقت یونس مسیح میرے لئے کسی مسیحا سے کم ثابت نہیں ہوا تھا۔ میں نے بمشکل تمام، حلق کو تر کرتے، صرف اتنا پوچھا، ”یونس آپ نے یہ کیسے کیا“ ۔ سچ یہ ہے کہ میں اسے ”تم“ بھی نہ کہہ سکا۔

اپنی باریک مونچھوں پر انگلیاں پھیرتے، یونس نے صرف اتنا کہا۔ ”سر جی! میں کوئی عام بندہ نہیں، یہاں ائر موومنٹ پر سینیٹری ورکر ہوں۔ اور آپ کے بغیر یہ جہاز یہاں سے چلا جاتا۔ کم از کم یونس کے جیتے جی تو یہ ممکن نہیں“ ۔

مگر میں ہی کیوں؟
میرا دماغ، بن کہے، جو کچھ میرے ساتھ ہو رہا تھا، اس کو قبول کرنے سے قاصر تھا۔
ایک طرف میرا معتقد گروپ کیپٹن تھا اور دوسری طرف محض ایک نامعلوم خاکروب؟

یا الہی یہ کیا ماجرا ہے؟ دفتر کے اکلوتے ڈرائیور گلزار مسیح کے ساتھ ماضی میں اچھا وقت گزرا تھا، لیکن کہیں سے بھی میرا اس کے ساتھ ایسا کوئی تعلق نہیں تھا کہ گلزار تو ایک طرف اس کا بھائی مجھے اس طرح پورے نام سے پہچانتا۔

میرا محسن، خاکروب یونس لاؤنج میں صفائی تو کر سکتا تھا مگر میرے ساتھ وہاں بیٹھ کر اس راز سے پردہ نہیں اٹھا سکتا تھا۔ سو میں لاؤنج میں اپنا بیگ رکھ کر اس کے ساتھ ٹہلنے چل پڑا۔ یونس میری پریشانی سے لاعلم تھا اور الٹا افسوس کر رہا تھا کہ وہ میرے لئے اتنے کم وقت میں کچھ خاص نہیں کر پایا۔ دور موجود کیفے ٹیریا پر نظر پڑتے ہی میں نے اس سے کہا آؤ میری طرف سے ایک کپ چائے ہو جائے۔ کہنے لگا، ”شاہ صاحب کیا غضب کر رہے ہیں۔ میں بھلا وہاں آپ کے ساتھ بیٹھنا تو دور کی بات، ساتھ چائے بھی کیسے پی سکتا ہوں“ ۔

بات صحیح تھی کہ یونس کے دانت میرے لئے چمکتے چاندی ہوچکے تھے مگر باقی دنیا کے لئے ابھی بھی پیلے تھے۔ ایک جگہ وہ مجھے دو منٹ کا کہہ کر پھر غائب ہوا۔ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں چائے کے دو ڈسپوزیبل کپ تھے۔

جانے وہ میری پریشانی بھانپ گیا تھا یا میرے ذہن میں اٹھتے سوالات وہ میرے چہرے پر پڑھ چکا تھا، کہنے لگا، ”آپ نے میرے بھتیجے (یعنی گلزار کے بیٹے) کو ائر فورس میں بھرتی کرا کر ہم سب خاندان والوں پر بڑا احسان کیا تھا!“ ۔

میں نے حیرت سے کہا، میں نے تو آج تک کسی کو ائر فورس میں بھرتی نہیں کروایا۔ تم کس کی بات کر رہے ہو۔
کہنے لگا، گلزار کے بیٹے ندیم کی۔

میں نے کہا، یونس، کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ لیکن میرے انکار کو وہ ماننے سے انکاری تھا۔ جہاز کی روانگی کے لئے اعلان ہو چکا تھا۔ اور چائے کا کپ تھامے میری نظروں کے سامنے چند مہینے پرانی کی ایک فلم چلنی شروع ہو گئی۔

ایک دوپہر جب ڈرائیور گلزار مسیح، مجھے گھر چھوڑنے آیا۔ تو گلے پڑ گیا۔

گلزار کئی سالوں سے وی آئی پی افسران کے ساتھ ڈیوٹی دے رہا تھا۔ اپنے تن و توش کی بنا پر گلزار موٹا تو کہلاتا ہی تھا۔ سگریٹ کی وجہ سے اس کے پاس سے ہر وقت نکوٹین کی لہریں بھی اٹھ رہی ہوتی تھیں۔ شاید دونوں وجوہات کے سبب، یا خود اپنی مرضی سے وہ ان لمبی وی آئی پی ڈیوٹیوں سے تائب ہو کر ہمارے دفتر میں ٹھنڈی ٹھار نوکری کر رہا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ بظاہر محض ایک ڈرائیور، گلزار ایک انتہائی با اثر شخصیت تھا۔ بڑے صاحبان کے ساتھ کام کر کر کے، ہر سرکاری کام اس کے لئے بائیں ہاتھ کا کام بن چکا تھا (کم از کم اس ہنر مند کو اس کی باتوں سے تو ایسا ہی لگتا تھا) ۔ کون سا ائر مارشل تھا جس کے گھر اس کا آنا جانا نہیں تھا۔ بالخصوص ائر مارشل رحیم یوسف زئی جو ان دنوں پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس کے سربراہ بن کر اسلام آباد سے جا چکے تھے۔

اندازہ کریں، چلتے پرزے گلزار کا مجھ پر دباؤ تھا کہ میں دفتر میں ڈائریکٹر شاہد طفیل سے بات کروں (کیونکہ اس کی دانست میں، ہنرمند ان کا چہیتا تھا اور وہ میری بات نہیں ٹالیں گے)۔ اور بات کیا ہوگی کہ وہ پنڈی میں ائرفورس کے سلیکشن سینٹر کے انچارج کو فون کریں کہ گلزار کے بیٹے کو ائر فورس میں بھرتی کر لیا جائے۔ اور گلزار صاحب اتنے پکے تھے کہ انہیں یہ بھی علم تھا کہ وہ انچارج شاہد طفیل کا کورس میٹ ہے۔ اور گلزار کی دانست میں دو کورس میٹ ایک دوسری کی بات کا مان رکھتے ہیں۔

میں نے کہا، ”گلزار اتنے لمبے کھڑاک کی کیا ضرورت ہے۔ رحیم یوسف زئی یا ان کی بیگم سے ایک فون کروا لو۔ منہ بنا کر کہنے لگا، سر جی، دو سال سے کروا رہا ہوں۔ مگر بات نہیں بن رہی اور موجودہ انچارج نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ کچھ بھی ہو جائے، کسی بچے کو سلیکشن سینٹر کا امتحان پاس کیے بغیر آگے نہیں جانے دوں گا۔ البتہ اس کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا صرف امتحان پاس کر لے۔ میرٹ پر آئے یا نہ آئے، وہ اس کو کسی نہ کسی کوٹے پر بھرتی کروا دے گا۔ لیکن امتحان پاس کیے بغیر، دوسرے امیدواروں کے ساتھ نا انصافی نہیں ہونے دے گا“ ۔

میں نے پوچھا، ”تو پھر“ ۔

کہنے لگا، سر جی، بچہ پڑھنے لکھنے والا ہوتا تو اتنا مسئلہ ہی نہیں تھا۔ اور اتنے ائر مارشلوں کی سفارش کو ”ناں“ ہو چکی ہے کہ انچارج کا کہنا ہے کہ یا تو مجھے یہاں سے ٹرانسفر کروا دو یا بچے کو امتحان پاس کرنا ہو گا۔

”اور اب گلزار مسیح، کورس میٹوں کی لڑائی کروانا چاہتا تھا، وہ بھی براستہ میرے“ ۔

میں نے کچھ سوچ کر پوچھا کہ گلزار تم نے بچے کو ائر فورس میں بھرتی کروانا ہے یا شاہد طفیل سے فون کروانا ہے۔ اس کو چند لمحے تو کچھ سمجھ نہیں آیا پھر موٹا دماغ بولا۔ ”بھرتی کروانا ہے“ ۔

میں نے کہا، اتنی تکلیفیں یا سفارشیں کروانے سے بہتر ہے کہ اپنے لڑکے کو تیاری کر واؤ۔
کہنے لگا۔ ”سر ممکن نہیں“ ۔

میں نے اسے پیسے دیے اور کہا جاکر صدر سے ”بھٹی اور ڈوگر“ کی پی اے ایف میں بھرتی کے امتحان سے متعلق کتابیں لے آؤ۔

کہنے لگا، وہ سب تو میرے گھر پر بھی ہیں۔
پوچھا۔ ”اگلا امتحان کب ہے؟“ ۔
کہنے لگا، ”امتحان تو چل رہے ہیں، لیکن میں ایک ہفتے بعد کی تاریخ لے سکتا ہوں۔ مگر کیوں! “

میں نے آفر کی کہ اگر تم چاہو تو بیٹے کو روزانہ ایک گھنٹے صبح اور ایک گھنٹے شام کو میرے پاس بھیج دو ۔ میں تیاری کروا دوں گا۔ لیکن خبردار جو میرے بارے میں کسی کو بتایا (وجہ اس لیے کہ اگر فیل ہوا تو میری بدنامی نہ ہو اور اگر پاس ہو جائے تو میرے گھر کے باہر ایدھی ٹیوشن سینٹر نہ کھل جائے)۔

گلزار کا منہ کھلا رہ گیا۔ کہنے لگا، آپ کیا تیاری کروائیں گے آپ کو تو کمپیوٹر کے علاوہ کچھ آتا نہیں۔
کہا ٹرائی کرلو۔ (اسے کیا پتہ تھا کہ میں سپیروں کے بچے کو میٹرک پاس کروا چکا تھا) ۔
طوعاً و کرہاً اگلی صبح ندیم مسیح میرے گھر کی گھنٹی بجا رہا تھا۔

شروع میں باپ کی طرح بیٹا بھی شارٹ کٹ مارنے کے چکر میں رہا۔ مگر جب اس نے میرے طریقہ واردات (یا تعلیم ) کو سمجھ لیا تو جاتے وقت اس کا ذہن تبدیل ہو چکا تھا۔

یوں چھ سات دن تک دو تین گھنٹے روزانہ کی بیگار کی گئی۔ جس دن ندیم کا ٹیسٹ تھا اس سے ایک دن پہلے میں سرگودھا جا چکا تھا۔ چند دن بعد واپس آیا تو پتہ چلا کہ ندیم گلزار اپنی محنت کے بل پر نہ صرف پاس ہو گیا تھا (بلکہ ہائی میرٹ کی وجہ سے اس کو بعد میں بہتر ٹریڈ بھی مل گیا تھا) ۔

سلیکشن سینٹر کے اسی دشمن انچارج نے گلزار کو بلا کر محنت کرانے اور سفارش سے اجتناب کرنے پر شاباش دی۔ جو اس نے بخوشی قبول کرلی۔

بہرحال گلزار صاحب، ایک دن کیک اور مٹھائی لئے میرے گھر تو آئے ہی ساتھ عرصے تک اس بات پر مصر رہے کہ میں کسی اتوار اس کے گھر آ کر سب خاندان والوں سے ملوں۔

جس سے میں کسی نہ کسی طرح بچتا رہا۔

اس محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب گلزار سب کو قسمیں کھا کھا کر محنت کرنے کی تاکید کرتا تھا اور اس بات کا اعادہ کہ سفارش سے بھرتی ہونے کی بجائے محنت کی جائے تو زیادہ فائدہ مند ہے۔

یہ بات چائے کا آخری گھونٹ لیتے مجھے یونس نے بتائی کہ گلزار نے سارے خاندان میں یہی مشہور کیا تھا کہ اس کے جاننے والے سارے ائر مارشل اور وی آئی پی بھی جو کام نہ کر سکے تھے۔ وہ ایک فلائٹ لیفٹیننٹ نے کر کے اس کی اور اس کے خاندان کی عزت رکھ لی تھی۔ بقول یونس بے شک ہمارے خاندان میں کوئی بھی آپ سے نہیں ملا لیکن ہم سب اور ہمارے گھر والوں کو آپ کا نام ازبر ہے۔ اس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ گلزار نے ایک اتوار، چرچ میں ہونے والی (سروس) عبادت میں، میرا نام لے کر دعا بھی کروائی تھی۔

مذاق مذاق میں دریا میں ڈالی ہوئی نیکی کی مچھلی کس طرح زندگی میں پلٹ کر واپس آتی ہے۔ کراچی پہنچنے سے پہلے مجھے سمجھ آ چکا تھا اور یہ بھی کہ عالی ظرف لوگ جو اپنے محسنوں کے معمولی احسانات کو بھی یاد رکھیں۔ وہ ذات پات، مذہب اور رنگ و نسل سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ کیوں کہ وہ خود دل کے بڑے ہوتے ہیں۔

گلزار مسیح کے بیٹے نے کچھ سال فضائیہ میں کام کیا، بچہ تیز تھا مجھ سے کمپیوٹر اور الیکٹرانکس بھی سیکھتا رہتا تھا۔ جلدی نوکری چھوڑ کر ائر فورس کے سابقہ تجربے کی بنیاد پر امارات میں درہم چھاپنے لگا۔ منور عالم صدیقی، ائر وائس مارشل بن جاتے مگر مصحف علی میر کا جہاز ہی نہیں گرا، ان کا کیریئر بھی زمین پر آ گیا۔ ائر کموڈور ریٹائر ہونے کے بعد ایک عرصے تک اپنے بھائی جہانگیر صدیقی کی جے ایس ائر کے روح رواں رہے۔

پیارا سا منوچہر ایک حادثہ میں اللہ کو پیارا ہو گیا جب کہ شہر یار کو انکل رضی یاد بھی نہیں ہوں گے کیوں کہ وہ آج ایک بہت مشہور ٹی وی آرٹسٹ اور ماڈل ہے۔ شاہد طفیل ہیلی کاپٹر اڑاتے تھے، مگر میرے ساتھ رہ کر کمپیوٹر کے ایسے گرو بن گئے کہ آج ” اوراٹیک پاکستان ORATECH“ کے مالکان میں سے ایک ہیں۔ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

Facebook Comments HS