لاہور کی فضا میں ایک بہادر ہندوستانی پائلٹ کی ہلاکت – پہلا حصہ

کہانی کے ہیرو سید نذیر احمد جیلانی (ائر کموڈور ریٹائرڈ) سے میرا غائبانہ تعلق 24 ستمبر 1988 کو اس وقت ہو گیا تھا، جب میں نے انجینئرنگ کرنے کے بعد ، پی اے ایف کیمپ بڈھ بیر میں بطور فلائنگ آفیسر رپورٹ کی اور جیلانی صاحب کے بیٹے سید مختار جیلانی میرے سینیئر بنے۔ یہ اور بات کہ میں اور پوری پاکستانی قوم بالخصوص تمام لاہوری، بزرگ جیلانی صاحب کے 1965 کی اُس سہ پہر سے مقروض ہیں، جس کا

Read more

سعودیہ میں کوئی رئیس، کسی غریب کو ٹریفک حادثے میں مار دے تو

یہ تحریر دو حصوں پر مشتمل ہے۔ اصل تحریر بعد میں ہے۔ جو تحریر کے عنوان یعنی ہیڈنگ سے مطابقت رکھتی ہے اور 1999 سے 2002 تک پیش آنے والے واقعات اور معلومات کا نچوڑ ہے۔ لیکن اُس تحریر سے پہلے پڑھیں۔ ”پس تحریر“ ۔ ٭پس تحریر٭ ہم پاکستانی مسلمان انتہائی جذباتی لوگ ہیں۔ سڑک پر حادثہ ہو جائے تو ”پیدل۔ سائیکل“ میں سائیکل سوار کی غلطی ہوگی۔ ”موٹر سائیکل۔ سائیکل“ میں بائیک والے کی، ”چار پہیئے والے کی ٹو

Read more

جب جب انجینئر رضی ٹریپ نہیں ہوا

یہ جولائی 2007 کے آخر کی بات ہے۔ رات کے ایک دو بجے ہوں گے۔ میرے سرکاری گھر کے ٹیلیفون کی گھنٹی پاگلوں کی طرح بجنے لگی۔ بیل ڈبل تھی جس کا مطلب تھا کہ کال کسی مقامی نمبر سے نہیں بلکہ ائرفورس کے سیٹ اپ سے کہیں باہر سے کی جا رہی ہے۔ نمبر کالر آئی ڈی پر نہیں آ رہا تھا۔ جس کا کچھ بھی مطلب ہو سکتا تھا۔ فون ریسیو کیا تو ایک کرخت سی نامانوس مردانہ

Read more

جب میں اور ڈاکٹر عمر عادل ہنی ٹریپ ہوئے

”جانو! سارے انتظام مکمل تھے۔ میں رات بھر انتظار کرتی رہی۔ اب میں ناراض ہوں“ ۔ ”سویٹی! آئی ایم سوری“ ۔ ”تم کب تک ناراض رہو گے“ ۔ ”آج رات تم نہ آئے تو میری موت کے ذمہ دار تم ہو گے“ ۔ ممکن ہے ایسا کوئی ایس ایم ایس آپ کو بھی کبھی کسی نامعلوم نمبر سے آیا ہو۔ یا فون کال پر کسی انجان لڑکی نے روتے ہوئے یا کھل کھلاتے اسی طرح کی کوئی بات کر کے

Read more

خاتون کھلاڑیوں کو ہلکا مت لیں

اسکواڈرن لیڈر عامر پی اے ایف بوائے تھا یعنی ایک ایسا آفیسر جس کے والد ایئر فورس آفیسر تھے اور یوں اس کی پرورش ایئر فورس کی سہولیات کو استعمال کرتے ہوئی تھی۔ فضائیہ کے لگ بھگ ہر اڈے پر کھیلوں کی کچھ سہولیات ہمیشہ موجود ہوتی ہیں جن میں اچھے اسکواش کورٹ، سوئمنگ پول ، بلیئرڈ و اسنوکر اور ٹینس کورٹ قابل ذکر ہیں۔ عامر بھی ایک اچھا پیراک ہونے کے ساتھ بچپن سے کھیلنے کی وجہ سے ایک

Read more

پاکستان نمبر 53 اور انڈیا نمبر 63: شکریہ ارشد ندیم

پاکستانی قوم کے چند لوگ چند دن پہلے تک جو خواب دیکھ رہے تھے۔ ارشد ندیم نے اکیلے ان خوابوں کو عملی جامہ پہنا دیا۔ ہزاروں لاکھوں پاکستانیوں نے، رنگ و نسل، مذہب اور سیاسی نفرتوں سے بالاتر ہو کر اس کامیابی پر جشن منایا۔ جس میں وفاقی حکومت کا تھوڑا سا اور شاید پنجاب حکومت کا ذرا زیادہ حصہ ہو لیکن جو کچھ چار آٹھ آنے اس پر خرچ ہوئے تھے حقیقت یہ ہے کہ وہ سب اس نوجوان

Read more

سردار کمال، فضائیہ کا افسر اور تین رنگیلے (آخری حصہ)

رینکر اسکواڈرن لیڈر جن کا پورا نام ”چوہدری نزاکت“ تھا۔ عام زندگی میں انتہائی شریف النفس اور بے ضرر شخص تھے بس کسی ماتحت کے سلیوٹ نا کرنے یا بے دھیانی میں اس سے سَر سَر کی گردان نہ سننے پر اُن کا میٹر گھوم جاتا تھا۔ ویسے سب رینکر افسر اتنے گئے گزرے بھی نہیں ہوتے۔ یہ ایک نیچے سے ترقی کر کے اوپر آنے والا ائر فورس کا رینکر افسر ہی تھا جس نے کامرہ میں دہشت گردوں

Read more

سردار کمال، ایک افسر اور تین رنگیلے (پہلا حصہ)

مزاحیہ فن کار سردار کمال دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ یہ پڑھ کر میں ایک شاک میں چلا گیا۔ اور پھر تیس سال پرانے خوش گوار واقعات ایک فلم کی طرح میری آنکھوں کے سامنے چلنے لگے۔ یہ سن 1993 کے آخری دنوں کی بات ہے جب میں فیصل آباد میں واقع پاک فضائیہ کے بیس رسالے والا پر جنگی مشق ہائی مارک کے لئے تعینات تھا۔ اسی ائر بیس کا رن وے فیصل آباد ائر پورٹ

Read more

جب خط لکھنے کا واقعی فائدہ ہوتا تھا

سن انیس سو ستر کی بات ہے کیڈٹ کالج حسن ابدال میں ہر ہفتے ایک پیریڈ گھر والوں کو خط لکھنے کا ہوتا تھا۔ کالج کی طرف سے ہر بچے کو ایک کاغذ اور لفافہ دیا جاتا تھا۔ ٹکٹ کالج کی طرف سے لگتا تھا۔ اگر بچہ گھر والوں کو خط نہ لکھنا چاہے تو بھی اسے کسی نہ کسی رشتے دار، دوست احباب، کسی نہ کسی کو خط ضرور لکھنا پڑتا تھا، جسے پھر اس لفافے میں بند کر

Read more

مکہ مدینہ جانے والوں سے فرمائشیں اور بات کچھ زیارات کی

پاکستان میں مقیم ان لوگوں کے نام جو بظاہر بڑی چھوٹی اور معصوم سی فرمائش سعودیہ جانے یا وہاں رہنے والوں سے کرتے ہیں، مگر پھر ان بے چاروں پر کیا گزرتی ہے۔ کوئی نہیں بتاتا! یہ تحریر سن 1998 سے 2002 کے تجربات کا نتیجہ ہے اور کتاب کیف الحال سے ماخوذ ہے۔ بائیس سال بعد سعودیہ میں بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے اور ضیوف الرحمن یعنی رحمان کے مہمانوں کے لئے بے انتہا سہولیات اور آسانیاں موجود

Read more

جب قائد اعظم نے عدت میں نکاح کے مقدمے کا فیصلہ الٹ دیا

یہ ستمبر 1931 کی بات ہے حنیفہ بیگم کا شوہر پولیس کی فائرنگ سے مارا جاتا ہے۔ حنیفہ عبدل کبیر سے شادی کر لیتی ہے۔ دونوں میں ناچاقی کے سبب علیحدگی ہوجاتی ہے اور پھر وہی مسئلہ کے طلاق کے وقت گواہان تھے یا نہیں۔ اب حنیفہ بیگم، سب انسپکٹر مرزا مہر علی سے تیسری شادی کر لیتی ہے۔ عبدل کبیر کشمیر پینل کوڈ مجریہ 494 کے تحت حنیفہ اور مہر علی دونوں پر مقدمہ دائر کر دیتا ہے (شادی

Read more

کیا ایوب، جنرل افتخار کو مار کر آرمی چیف بنے تھے؟ (2)

آج بھی بہت سے پاکستانی وقت ملے تو اس بات پر ماتم کناں ہوتے ہیں کہ اگر لیاقت علی خان کے دور میں نامزد ہونے والے پہلے پاکستانی آرمی چیف کا طیارہ پراسرار طور پر نہ گرا ہوتا تو پاکستان کی سیاسی تاریخ ویسی نہ ہوتی جیسی آج ہے۔ بہت سارے بزرجمہر 75 سال بعد اس حادثے کو لے کر ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے ایوب خان کا اس حادثے سے کوئی تعلق تھا۔ یہ یاد رکھے بغیر کہ اس

Read more

کیا ایوب، جنرل افتخار کو مروا کر آرمی چیف بنے تھے؟ (1)

بہت سارے لوگ آج بھی وقت ملے تو اس بات پر ماتم کناں ہوتے ہیں کہ اگر لیاقت علی خان کے دور میں نامزد ہونے والے پہلے پاکستانی آرمی چیف کا طیارہ پراسرار طور پر نہ گرا ہوتا تو پاکستان کی سیاسی تاریخ ویسی نہ ہوتی جیسی آج ہے۔ اس مضمون کا موضوع سخن اسی دکھڑے کی جراحی ہے۔ ہم سب پر ایک مضمون شائع ہوا جس میں صاحب تحریر نے اپنی طرف سے انکشاف اور سنسنی پھیلاتے لکھا کہ

Read more

کس قیامت کے یہ نامے مرے نام آتے ہیں (۱)

پاکستان میں مقیم ان لوگوں کے نام جو بظاہر بڑی چھوٹی اور معصوم سی فرمائش سعودیہ جانے یا وہاں رہنے والوں سے کرتے ہیں، مگر! یہ تحریر 1998 سے 2002 کے تجربات کا نتیجہ تھی اور 2002 میں لکھی گئی کتاب کیف الحال کا حصہ ہے۔ بائیس سال بعد سعودیہ میں بہت کچھ تبدیل ہو چکا ہے اور ضیوف الرحمن یعنی رحمان کے مہمانوں کے لئے بے انتہا سہولیات اور آسانیاں موجود ہیں۔ مگر ہم برصغیر کے لوگ، ہماری کیا

Read more

سب کچھ حرام جو تم کرنا چاہو : کیف الحال سےگاڑی نہ چلانا بے بے

سعودی خواتین کی ڈرائیونگ اور سفر سے وابستہ مسائل پر بیس بائیس سال پرانی طنزیہ اور معلوماتی تحریر۔ آج کا سعودی عرب بہت بدل چکا اور عورتوں کے لئے اتنی مشکلات نہیں رکھتا جو اُس وقت موجود تھیں اور لکھنے والے نے لگی لپٹی رکھے بغیر تحریر کی تھیں۔ یہ اور بات کہ کوئی اخبار اس وقت سعودی حکومت کی ناراضگی کے سبب اسے چھاپنے پر تیار نہ تھا۔ اور نہ کوئی سرکاری ادارہ ایسی تحریر کو اپنے کسی ملازم

Read more

سب کچھ حرام جو تم کرو : ٹی وی حرام مگر ہمارا چینل دیکھنا کار ثواب

آج دل چاہتا ہے ایک انتہائی حساس مسئلہ پر دل کے پھپھولے پھوڑے جائیں۔ اور وہ ہے ہماری زندگیوں میں مقامی مفتیان کے فتاوی کی رو سے کیا حرام ہے اور کیا حلال۔ الحمدللہ کسی بھی پڑھے لکھے مفتی سے پاکستان میں کسی نئے معاملے پر بات کریں۔ وہ ’نہیں‘ سے بات شروع کرے گا یعنی حرام ہے۔ بمشکل کوئی ایسا ہو گا جو کہہ دے کہ ناکافی معلومات کی روشنی میں فی الوقت مکروہ ہے یا جتنا ممکن ہو

Read more

سٹے سے کمائی کے 101 طریقے

اگر آپ واقعی اسی نیت سے یہاں پہنچے ہیں، جو عنوان کی سرخی ہے تو معذرت۔ یہ صرف ”ڈیجیٹل دانہ“ ڈالا ہے۔ اصل موضوع مختلف نوعیت کی ٹریڈنگ (بالخصوص پاکستان اسٹاک ایکسچینج) اور وہاں سٹے بازی ہونے یا نہ ہونے پر بحث ہے۔ جس سے کسی کا متفق ہونا یا نہ ہونا اس کی اپنی مرضی ہے۔ گوناگوں مصروفیات سے وقت نکال کر نئی تحریر بھیجنے کے لئے پچھلی تحریروں کا پٹارا کھولا تو کتاب ”کیف الحال“ سے ایک پچیس

Read more

ایران کے اسرائیل پر حملے میں اب تک جیت ایران کی؟

جنگ اور سیاست کو دفاعی ماہرین صدیوں سے شطرنج کے کھیل سے تشبیہ دیتے آئے ہیں۔ شطرنج کی بساط پر ہر شاطر کے پاس بادشاہ کو بچانے کے لئے سپہ سالار وزیر کی قیادت میں آٹھ پیدل سپاہی، دو رخ، دو گھوڑے اور دو ہاتھی ہوتے ہیں۔ اس کھیل میں بڑے کھلاڑیوں کے لئے وہ وقت لڈیاں ڈالنے کا ہوتا ہے اگر کسی چال کی صورت میں اپنے سپاہی کو شہید کروا کر دوسرے کا ہاتھی، گھوڑا یا رخ گرا

Read more

نام میں کیا رکھا ہے : کیف الحال سے چوتھا انتخاب

پچیس سال پرانی یہ تحریر اردو ادب کی مزاحیہ صنف میں موجود قحط کو کم کرنے کے لئے لکھی گئی تھی۔ اس کا مقصد نہ تو اہل عرب کی تذلیل ہے اور نہ ان کا مذاق اڑانا بلکہ یہ بتانا ہے کہ وہ بھی ہماری طرح گوشت پوست سے بنے انسان ہیں، جن کے زندگی گزارنے کے اپنے قاعدے قانون ہیں اب ان سے ہماری نا واقفیت کیا کیا گل کھلاتی ہے یہ ہمارا قصور ہے۔ تحریر کہ بعض حصوں

Read more

راجو بن گیا فلپس : کیف الحال سے تیسرا نمک پارہ

ابتدائیہ : یہ لگ بھگ پچیس سال پرانی تحریر ہے جو اس وقت لکھی گئی جب لکھاری حکومت پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کے ایک نیم فوجی ادارے دفاع المدنی (شہری دفاع) کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ تحریر کیے گئے ہر مضمون کا ایک خاص موضوع تھا۔ جس میں مزاح کے ساتھ معلومات تحریر کی گئی تھیں۔ راجو بن گیا فلپس کا بنیادی مقصد سعودی عرب میں رہنے والے غیر مسلم لوگوں کے مسائل اور ان سے تعلق

Read more

بیگم سے جوال تک : کیف الحال سے دوسرا نمک پارہ

تحریر جو لکھاری کی خود نوشت سوانح و سفرنامہ سعودیہ کے لئے سن 1999 ء میں لکھی گئی۔ چوبیس پچیس سال میں پل کے نیچے سے محض پانی نہیں بلکہ تبدیلیوں کا پورا سمندر گزر چکا ہے۔ عربی کے مخصوص الفاظ کی وضاحت جملوں کے آخر میں کی گئی ہے۔ یاد رہے یہ پچیس سال پرانی تحریر ہے۔ *** پاکستان میں رہتے ہوئے ہم اکثر اس بات کا رونا سنتے تھے کہ پاکستانیوں کو اپنے اوپر ہنسنا نہیں آتا، لیکن

Read more

سعودی اور پٹھان : کیف الحال سے پہلا نمک پارہ

سن 2001 ء میں سر زمین سعودیہ سے کسی کو لکھا گیا ایک خط۔ سنہ 2004 ء میں یوسفی صاحب کے حکم پر اسے 20 سال کے لئے پالنے میں رکھ دیا تھا۔ اور اب یہ ”یوسفی سائفر“ ، انتہائی خفیہ سے عام ہونے کو ہے۔ مضمون میرے غیر مطبوعہ سفرنامہ سعودیہ، ”کیف الحال“ کا حصہ ہے۔ ٭٭٭ پہلی بار صحرا میں جا کر اصلی سعودیوں سے ملا تو ان گندمی رنگت والے جفاکش، محنتی اور محبت کرنے والے لوگوں

Read more

پنگوں کی کتھا: نیکی کر دریا میں ڈال

”سر جی! ذرا اسے بھی ’اٹیسٹ‘ (تصدیق) attest کر دیں“ ۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو ایک شخص پیلے دانت نکالے مسکرا رہا تھا۔ میرا برا منہ بنتا دیکھ کر اس نے مزید اضافہ کیا، ”میرا کزن ہے“ ۔ دل میں پہلا جملہ آیا، ”جان نہ پہچان میں تیرا مہمان۔ اور کیا زبردستی ہے“ ۔ یہ 1997 ء کی کسی عید کے آس پاس کا واقعہ ہے۔ میں یعنی فلائٹ لیفٹیننٹ رضی چک لالہ (اب نور خان) ائر بیس

Read more

پاکستانی پنجاب، ایک عیسائی کے ووٹ کی بھیک ہے: قرارداد مقاصد کے پنگے کا دوسرا دکھڑا

 میں نے مضمون شروع کیا تھا، ”جب کراچی کے ایک ان پڑھ مچھیرے نے ہندوستانی فوج کی عزت خاک میں ملا دی“ ۔ اس دوران ایک صاحب کی پوسٹ ملی اور مجھے یہ جان کر جھٹکا لگا کہ ائرمارشل شربت علی چنگیزی (ریٹائرڈ) ستارہ جرات ہیں۔ بتانے والے نے بطور ثبوت ایک اخبار کا تراشہ بھی دکھایا اور کچھ دنوں بعد انٹرنیٹ کی ایک ویب سائٹ پر ان کے نام کے ساتھ ستارہ جرات بھی لکھا دکھا دیا۔ پوچھا انہیں

Read more

قرارداد مقاصد : ایک اور پنگا (پہلا دکھڑا)

محترم وجاہت مسعود کا ”گدلا تالاب“ دیکھتے ہی کھجلی میرے قلم میں بھی ہوئی، لیکن میں نے اسے سیاہی کی شکل دینے سے گریز کیا۔ پھر مجیب الرحمن شامی کا ”رد گدلا پن“ پڑھ کر اور اس کے جواب میں محترم وجاہت کا ”جواب شکوہ“ پڑھ کر یقین جانیں عرصے بعد خوشی ہوئی، وجہ صرف یہی کہ یہ دو پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان سیاست سے بالاتر ہو کر ایک تاریخی واقعہ پر علمی بحث تھی، جس میں ایک دوسرے

Read more

پنگوں کی کتھا : اسلام آباد ایئرپورٹ

سن 1993 کی ایک سرد رات، کسی دوست نے مجھے اسلام آباد کے ( چک لالہ والے پرانے ) ائر پورٹ پر چھوڑا۔ نائٹ کوچ کے سستے ٹکٹ پر کراچی جانے کے لئے میرے پاس چانس کی سیٹ تھی اور حسب توقع پاکستان انٹر نیشنل کی فلائٹ ایک گھنٹہ لیٹ تھی۔ اس لئے عارضی ٹکٹ کے مسافر کو بورڈنگ کارڈ ملنے یا نہ ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد بارش نے بھی زور پکڑ لیا

Read more

پنگوں کی کتھا : حاصل کرنا پاک فوج کیلئے، چال چلن کا تصدیق نامہ

دسمبر 87 یا جنوری 88 کی کوئی تاریخ تھی اور میں ایم اے جناح روڈ (سابقہ بندر روڈ) پر کیپری سنیما کے پاس واقع آرمی سلیکشن سینٹر کے احاطے کے باہر کھڑا اپنی جان کو رو رہا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کدھر جاؤں۔ دائیں طرف جنگ کے دفتر یا بائیں طرف لیاقت نیشنل لائبریری یا کراچی ٹی وی کی طرف۔ وجہ یہ تھی کہ میں این ای ڈی سے انجینئرنگ لگ بھگ کرچکا تھا اور

Read more

آخری پنگا : ہیما مالنی سے جاں نثار اختر اور پھر ہپی کا شافی علاج بدست سنیاسی باوا

میں نے کہا۔ میں ایک ٹیکنیکل اسکول کا پرنسپل ہوں اور پانچ بجے میری پہلی کلاس ہے۔ لیکن گورے کی سلاجیت، آپ کی اسٹوری، قاسم جٹ اور محمد علی کے لئے میرے بہت سے کام باقی ہیں۔ کیونکہ شاید میں پھر پکڑ میں نہ آ سکوں۔ محی الدین نواب نے میری آنکھوں میں جھانک کر پوچھا، ”کیا میرے لئے بھی“ ۔ میں نے کہا۔ سر، ہم دونوں میں سے کوئی، شاید سال بھر بعد یہاں نہ ہو۔ آپ مجھ سے

Read more

پنگوں کی کتھا۔ چھٹا پنگا : کرنا پیدا میرا، سلاجیت خالص، شہر کراچی میں

پچھلا خلاصہ :راوی، انجینئرنگ کے سال آخر کا طالب علم، اگست 1987 کی ایک دوپہر گھر جانا چاہتا ہے۔ گھر واپسی کا سب سے سستا ممکنہ کرایہ تیس پیسے پاس نہیں تھے۔ سڑک کنارے تماشا لگائے ایک مداری کی مدد سے اس کا سرمہ سلیمانی، منجن اور سانڈے کا تیل بیچنے کی کوشش کی اور اس دوران جب سر پر پڑی تو مجھے صادقین کی شاگردی سے لے کر یاد آیا کہ مجھے مختلف علوم مخفی پر چھوٹی موٹی دسترس

Read more

پراسرار میزبان اور مجھے، آپ کی یاد آتی رہی، رات بھر

پچھلا خلاصہ :راوی، انجینئرنگ کے سال آخر کا طالب علم، اگست 1987 کی ایک دوپہر گھر جانا چاہتا ہے۔ گھر واپسی کا سب سے سستا ممکنہ کرایہ تیس پیسے پاس نہیں تھے۔ سڑک کنارے تماشا لگائے ایک مداری کی مدد سے اس کا سرمہ سلیمانی، منجن اور سانڈے کا تیل بیچنے کی کوشش کی اور اس دوران جب سر پر پڑی تو مجھے صادقین کی شاگردی سے لے کر یاد آیا کہ مجھے مختلف علوم مخفی پر چھوٹی موٹی دسترس

Read more

چوتھا پنگا : پہلی کمائی اور فرہاد علی تیمور نے لگایا ہمارا سلیمانی سرمہ

پچھلا خلاصہ :راوی، انجینئرنگ کے سال آخر کا طالب علم، اگست 1987 کی ایک دوپہر ریڈیو پاکستان کراچی سے واپس گھر جاتا ہے، ایمپریس مارکیٹ صدر میں جیب کٹنے کا احساس ہوا۔ گھر واپسی کا سب سے سستا ممکنہ کرایہ تیس پیسے بھی پاس نہیں تھا۔ وہیں سڑک کنارے تماشا لگائے ایک مداری کی مدد سے اس کا سرمہ سلیمانی، منجن اور سانڈے کا تیل بیچنے کی کوشش کی اور اس دوران جب سر پر پڑی تو مجھے صادقین کی

Read more

پنگوں کی کتھا۔ تیسرا پنگا : من کہ بقلم خود کیرو ثانی سے گیدڑ سنگھی کو پالنا

پچھلا خلاصہ : میں این ای ڈی کراچی میں الیکٹریکل انجینئرنگ کے سال آخر میں تھا۔ اگست 1987 کی ایک دوپہر ریڈیو پاکستان سے واپس گھر آتے ایمپریس مارکیٹ صدر میں جیب کٹنے کا احساس ہوا۔ میرے پاس گھر واپسی کا سب سے سستا ممکنہ کرایہ تیس پیسے بھی نہیں تھے۔ اس حصول کے لئے میں نے وہیں سڑک کنارے تماشا لگائے ایک مداری کی مدد سے اس کا سرمہ سلیمانی، روغن سانڈ اور سلاجیت بیچنے کی کوشش کی اور

Read more

بننا صادقین کا شاگرد اور کام کرنا میرا سری دیوی کے مقابل

جہاں تک میرے علوم مخفی پر دسترس کا حال تھا وہ ایک طرف میں زندگی بھر ڈرائنگ میں نکما رہا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسکول میں ٹیچرز کے لئے مشکل ہوتی تھی کہ ہر مضمون میں سو 100 لانے والا کلاس مانیٹر اور ان کا چہیتا طالب علم ڈرائنگ میں فیل ہوتا تھا۔ لیکن وہ چپ چاپ مجھے تیس چالیس دے کر مجبوراً پاس کر دیتے۔ چند سال پہلے، میں ٹی وی اسٹیشن

Read more

پنگوں کی کتھا۔ پہلا پنگا : جب میں نے بھرے بازار سانڈے کا تیل بیچا

زندگی میں ہم متعدد مرتبہ ایسی صورتحال سے نبرد آزما ہوتے ہیں، جب بظاہر ہر بات ہمارے خلاف جا رہی ہوتی ہے یا ہم ایسی مشکل میں پھنس جاتے ہیں جس سے نکلنے کے لئے حاضر دماغی کے ساتھ ساتھ کچھ فنکارانہ کام، سچ جھوٹ کی آمیزش سمیت، کرنا پڑ جاتے ہیں۔ وہی وکیلوں والی کہانی کہ اپنے موکل کا الو سیدھا کرنے کے لئے مخالف کو انصاف ملے یا نہ ملے انہوں نے اپنا جادو دکھانا ہوتا ہے۔ تحریر

Read more

یوسفی، میں اور سیلفی

٭ یہ تحریر، جون 2021 میں لکھی گئی تھی۔ وجہ کسی دل جلے کی مشتاق احمد یوسفی کی آخری نام نہاد مطبوعہ کتاب ”شام شعر یاراں“ کی مخالفت میں سوشل میڈیا پر گھومتی ایک پوسٹ تھی۔ مشتاق احمد یوسفی میرے لئے بزرگوں کی طرح تھے اور جنت مکانی بزرگوں کو یاد کرنے کے لئے کسی سال، مہینے یا موقع کی ضرورت نہیں ہوتی۔ 6 فروری 2006 البتہ وہ تاریخ ہے جب میں نے پہلی بار بابا یوسفی کی قدم بوسی

Read more

بل فائٹنگ میں کپڑا لال کیوں ہوتا ہے؟

ہمارے زمانے میں سیانے کہتے تھے پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب۔ کھیلو گے کو دو گے تو ہو گے خراب۔ اسی چکر میں الیکٹریکل، الیکٹرانکس، سول انجینئرنگ کے ساتھ کمپیوٹر انجینئرنگ کی تعلیم اس دور میں حاصل کرلی۔ جب کمپیوٹر کی اسپیلنگ لکھنے والے لوگوں کو بھی کمپیوٹر کی نوکری مل جاتی تھی۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ سعودی عرب کے دفاع المدنی (شہری دفاع) کے ساتھ کمپیوٹر ایڈوائزر کی نوکری کر کے پاکستان واپس آیا

Read more

انوکھے شہید: اسلم اور شبیر کی یاد میں

(عالمی ریکارڈ رکھنے والا پاکستانی پائلٹ جس کی قبر پر کوئی فاتحہ بھی نہیں پڑھتا) امریکہ میں 2005 کی ایک یخ بستہ رات تھی۔ شانی ایک چیخ مارکر اٹھ بیٹھی۔ ساتھ سوئی بیٹی نے گھبرا کر دیکھا تو ماں پسینے میں شرابور تھی۔ جیسے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ لیا ہو۔ پوچھنے پر اس کے منہ سے ایک ہی لفظ نکلا، ”ویر زارا“ ۔ ماں بیٹی نے سرشام ہی انڈین فلم ”ویر زارا“ دیکھی تھی۔ لیکن اس کا خواب سے کیا

Read more

انوکھے شہید: کلرک اور کمانڈو۔ آخری حصہ

” دوست بھاگو، تمہارا فرار ہونا ضروری ہے۔ میری جان اتنی اہم نہیں۔ “ ۔ الہ آباد میں قائم جنگی قیدیوں کے کیمپ 36 میں قید پاکستان ائر فورس سے تعلق رکھنے والے کمانڈو، کارپورل ٹیکنیشن نواب دین چوہدری نے ریڈیو فٹر، کارپورل ٹیکنیشن شوکت کو بتایا کہ کس طرح جنگ بندی کے بعد ، اس نے ہتھیار نہیں ڈالے بلکہ وہ ڈھاکہ میں گرفتاری سے بچتا رہا مگر بالآخر 28 دسمبر 71 کو اسے گرفتار کر کے ”نرائن گنج“

Read more

انوکھے شہید : کلرک اور کمانڈو۔ 1

” دوست بھاگو، تمہارا فرار ہونا ضروری ہے۔ میری جان اتنی اہم نہیں۔ میں اس گارڈ سے نبٹ لوں گا“ ۔ آج سے اکیاون سال پہلے، یہ سید زادے شوکت ہاشمی کے آخری الفاظ تھے۔ جو اس نے اپنے کمانڈو دوست نواب دین کو بچاتے وقت کہے تھے۔ یہ شہادت کی ایک ایسی داستان ہے۔ میں جب جب دوستوں اور بچوں کو سناتا ہوں وہ ایسے سنتے ہیں جیسے میں کسی فلم کی کہانی سنا رہا ہوں۔ شاید آپ پڑھیں

Read more

انوکھے شہید: راشدین (دو راشد) اور راشد آباد

ٹنڈو الہ یار، سندھ میں راشد آباد نام کا ایک ایسا نخلستان موجود ہے۔ جو راتوں رات اُمید کے صحرا میں خود بخود پیدا نہیں ہوتا۔ راشد آباد ٹرسٹ کے تحت ایک ایسا علاقہ جہاں وہ سب سہولتیں غریب کے لئے مفت موجود ہیں، جو پاکستان کے کئی شہروں کے امراء کو مہنگے داموں بھی میسر نہیں۔ راشد آباد کی کہانی پاک فضائیہ سے تعلق رکھنے والے دو غازیوں اور دو شہیدوں سے جڑی ہے۔ غازی بھی وہ جو گئے

Read more

عدت میں نکاح : کھیل ختم پیسہ ہضم

صاحبان اگر آپ نے شطرنج کھیلی ہو تو علم ہو گا کہ مخالف کی اگلی تمام ممکنہ چالوں اور اس کے بعد آپ کے جواب کے بدلے میں نئی چالوں کا حساب کتاب رکھنا پڑتا ہے۔ الجبرا اور ریاضی کے پاکستانی طالب علم سوال اگر حل نہ کر سکتے ہوں تو کسی دوست سے پہلے جواب پوچھتے ہیں اور پھر پرچہ امتحان پر بیس لائن بعد جواب لکھ کر واپس اوپر کی طرف جانا شروع کر دیتے ہیں تاوقتیکہ سوال

Read more

خوارِ مونیکا سے خاور مانیکا کا سفر

عرض مصنف: آگے بڑھنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ نہ میرا تعلق مسئلہ مذکورہ سے تعلق رکھنے والے جوڑے سے ہے اور نہ ان کے مخالفین سے۔ اس لئے جو کچھ پڑھیں وہ محض تصویر کا ایسا رخ ہے جو لکھنے والے کی نگاہ اور واجبی علمی بصیرت کا شاخسانہ ہے۔ موضوع تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔ امریکی صدر تھے بِل کلنٹن۔ وہی بقول منجھلے شریف جنہوں نے مئی 1998 ء میں اُن کو ایٹمی دھماکہ

Read more

عدت میں نکاح : غلطی تو مولوی کی تھی!

عرض مصنف: آگے بڑھنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ نہ میرا تعلق مسئلہ مذکورہ سے تعلق رکھنے والے جوڑے سے ہے اور نہ ان کے مخالفین سے۔ اس لئے جو کچھ پڑھیں وہ محض تصویر کا ایسا رخ ہے جو لکھنے والی کی نگاہ اور واجبی علمی بصیرت کا شاخسانہ ہے بحیثیت پاکستانی مسلمان مجھے قوانین کی دو فہرستوں میں موجود کاموں سے دور رہنا ہوتا ہے۔ ایک وہ کام جن سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ

Read more

افنان جیسے بگڑوں کے والدین کے نام!

حکایت ہے، ایک بڑے آدمی کا بیٹا بہت بدتمیز تھا اور سربازار ہر شخص کی پگڑی اچھالتا تھا۔ علاقے کے ایک دانا شخص کے ساتھ جب اس نے یہی کیا تو اس نے بچے کو ڈانٹنے کی بجائے پاس بلایا۔ ماتھے پر پیار کر کے شاباش دی اور ساتھ کچھ رقم بھی دے کر کہا، بیٹا شاباش زبردست کام کیا ہے۔ دل خوش کر دیا! دیکھو جتنے بڑے آدمی کے ساتھ یہ حرکت کرو گے وہ تمہیں اتنی ہی زیادہ

Read more

سڑک پر متحرک عزرائیلی

پچیس سال پہلے، لکھاری کو چار سال سعودی عرب میں بحیثیت ایڈوائزر کام کرنے کا موقع ملا۔ ہم خوامخواہ کے احساس برتری میں مبتلا پاکستانی جس طرح ”بھوکے بنگالی“ کی اصطلاح مشرقی پاکستان کے لوگوں کے لئے استعمال کرتے تھے۔ کچھ اسی طرح ایک اصطلاح اہالیان عرب کے لئے بھی استعمال کی جاتی تھی وہ تھی ”بدو“ کی۔ یعنی صحرا (جنگل سمجھ لیں ) میں رہنے والے بیوقوف یا احمق لوگ جنہیں شاید دنیا کا علم نہیں ہوتا۔ سچ تو

Read more

لمز (ہمارے ) بچوں کی غلطیاں؟

لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز المعروف لمز میں نگراں وزیراعظم سے طلبا کے سوالات پر لکھنے بولنے والوں نے اللہ دے اور بندہ لے اپنی اپنی دیہاڑی لگائی۔ لیکن چند باتیں ایسی ہیں جن کی طرف میں تمام طالب علموں اور ان کے اساتذہ کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔ عدنان کاکا خیل جو اب مفتی بھی ہیں۔ پندرہ بیس سال پہلے مدرسہ بنوری ٹاؤن میں زیرتعلیم، ان کی وجہ شہرت ٹی وی پر اسی طرح ان کے کھلے ڈلے

Read more

افغان جلیبی: معصوم فریبی

ایک جگہ ایک کالم نظر سے گزرا جہاں یورپ میں مقیم ایک صاحب نے اردو میں لکھا: اگر کسی ایک ملک کے شہری ہی انتہاپسندی میں ملوث ہوتے ہیں تو حکومت کے پاس اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جو افغان شہری قانونی طور سے ملک میں آباد ہیں، وہ ایسی گھناؤنی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں گے؟ اس کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ قصور وار کا سراغ لگا کر اسے اس کے کیے کی سزا

Read more

طالبانی سفیر ملا ضعیف کی پاکستان میں گرفتاری کا قانونی پہلو

قانونی کاغذات کے بغیر پاکستان میں مقیم غیرملکیوں کے نکالے جانے کی آج کل دھوم ہے۔ اسی میں ایک جگہ بحث ہو گئی کہ 911 کے بعد مشرف دور میں افغان سفیر ملا ضعیف کو گرفتار کر کے افغان حکومت یا یوں کہہ لیں امریکی حکومت کے حوالے کرنا ایک گناہ یا ناقابل معافی سفارتی خلاف ورزی تھی۔ بیس بائیس سال بعد اس واقعہ کو دہراتے ہیں اور فیصلہ قاری پر چھوڑتے ہیں۔ کیوں کہ افغانی بالخصوص طالبان کبھی اپنی

Read more