سید عامر محمود کی سوغات پہ حرف نیاز


”محبت کے بغیر ہر موسیقی شور ہے اور ہر رقص محض پاگل پن ہے!
درویش رومی کے مندرجہ بالا قول کی

ہر دل گواہی دیتا ہے یہ سچ ہے کہ ہر بڑے کام حتی کہ عبادت کا وقوع پذیر ہونا جذبے کی شدت کے بغیر ناممکن ہے ”

نفاست، بلاغت، سلاست اور سیاحت،
سید عامر محمود کا ”ہنگام سفر“ انہی عناصر اربع کا مجموعہ ہے جو جمہوری پبلیکیشنز نے اسی برس شائع کیا
تاریخ کا ادراک اور غیر معمولی دلچسپی،

غیر مسلم دنیا میں ایستادہ شاندار مسلم ثقافت اور اس کا لازوال حسن۔ قدیم شاہراہ ریشم پہ واقع ازبکستان کے بخارا و سمرقند کی لائبریریاں، عمارات، مدرسے، شاہرائیں اور موجودہ راستے، ذرائع مواصلات، معلومات، حقیقی تصویریں حتی کہ مقامی کرنسی میں ٹکٹوں کی قیمتیں۔

یہ ہے 147 صفحے کا سفرنامہ جو سید عامر محمود کی قلب کتاب ( Heart Book) یعنی ہنگام سفر میں درج ہے۔
”ہر شہر کا اپنا ایک رنگ، خوشبو اور ذائقہ ہوتا ہے“

سمر قند، انقرہ، کپاڈوسیہ اور ایتھنز ان سب شہروں کی خوشبو، ذائقہ اور رنگ سید عامر ہنگام سفر کے باوجود اپنی کف یادداشت میں چرا لائے اور نومبر کی ایک کم سرد شام اسلام آباد کے ایک سبز گوشے میں موجود زیادہ تر کشتگان حسرت سیاحت کی واھتھیلیوں پہ ڈالتے رہے!

میرے ذہن کی اینٹیک شاپ میں ریگستان سمرقند میں موجود بیبی خانم کی مسجد کے علاوہ ایتھنز کا نوادرات کا بازار Flea market بھی آن شامل ہوا

حجم میں کم وزنی یہ تصنیف تجاویز کے اعتبار سے کافی وزنی ہے جس میں پاکستان ہائی کمیشن اور عالمی منڈی میں پردیسی ساؤتھ ایشینز کے معاشی کردار تک جزئیات کی بحث اکیسویں صدی کے ایک ”جوان روشن دماغ و ضمیر“ کی مکمل عکاس ہے

اگرچہ پاکستان کی وسیع تر ورکنگ کلاس کے ایک فرد کی استطاعت رکھنے کے باوجود مصنف کا شوق سیاحت ان کی ’معقول جیب اور ایلیٹ شوق‘ کو ایک کھلے راز کی طرح عیاں کرتا ہے ( کچھ حد تک قابل رشک بھی)

مگر نیت شوق اور ولولۂ مسافرت تربیت درون خانہ کی پیہم دلیل ہیں، جس کے لئے دعا واجب ہے۔
ابھی نصف کتاب پڑھنا باقی ہے جن سے سال کے کم بچے دنوں میں حظ اٹھایا جائے گا۔
آپ بھی پڑھ لیجیے۔ سال کی آخری یا دنیا کے خوبصورت شہروں پہ لکھی 2024 کی پہلی کتاب کی مانند!

Facebook Comments HS