عاصم بٹ منفرد ناول نگار
یہ کیسی عجیب بات ہے کہ کشمیریوں کی گوت بٹ سے تعلق رکھنے والا عاصم ان بہت ساری خصوصیات میں منفرد سا ہے جن کے لیے اس برادری سے تعلق رکھنے والے نوجوان خصوصی شہرت رکھتے ہیں۔ لا ابالی، بے فکرے پن اور قہقہہ بار سی صفات سے عاصم بٹ کی ذرا کم کم ہی شناسائی ہے۔ اس کی آنکھوں میں ٹھہری ذہانت آمیز سنجیدگی اور ہونٹوں پر جمی خاموشی پل بھر کے لیے دیکھنے والوں کو کئی سوالوں کی سان پر ضرور چڑھا دیا کرتی ہے۔
پہلی ملاقات کا ذاتی تجربہ کچھ ایسے ہی ملے جلے جذبات کا عکاس تھا۔ اکیڈمی آف لیٹرز کے لاہور آفس کے انچارج کی حیثیت سے اس کے بلاوے پر دفتر جانا ہوتا۔ ہر ملاقات میں کچھ نئی چیزیں سامنے آتیں۔ جی چاہنے لگا اس کی شخصیت پر دلچسپ سا خاکہ لکھوں۔ ابھی اسی گومگو میں تھی کہ ”دوسرا آدمی“ پڑھنے کو ملی۔
”دوسرا آدمی“ میرے لیے عاصم سے مکمل تعارف کروانے والی وہ پہلی کتاب تھی جو مجھے عام ڈگر سے مختلف محسوس ہوئی۔ بظاہر یہ چند بڑی شخصیات کے انٹرویوز تھے جنہیں اس نے بہت خوبصورت اور معنی خیز عنوانات سے سجا کر پیش کیا تھا۔ یہ احمد ندیم قاسمی، اشفاق احمد، امجد اسلام امجد، ڈاکٹر انور سجاد، بانو قدسیہ، جیلانی کامران، ڈاکٹر سلیم اختر، شہرت بخاری، شہزاد احمد، صفدر میر، طفیل ہوشیار پوری، ظہیر کاشمیری، عطا الحق قاسمی، قتیل شفائی، کشور ناہید، منو بھائی، منیر نیازی، مرزا ادیب اور ممتاز مفتی تھے۔
مگر حقیقتاً یہ ان کے بھیتر کی داستانیں تھیں۔ دراصل اس کے اندر کی حساس اور متجسس روح ہر انسان کے اندر رہنے والے دوسرے آدمی کے رازوں سے واقف ہونے کی کی آرزو مند تھی۔ جس کو جاننے، بوجھنے اور کھوجنے کی چاہ اسے اڑائے پھر رہی تھی۔ سچی بات ہے وہ ان نامی گرامی بڑے لوگوں کے ساتھ گفتگو اور مکالمے سے ان کے اندر کو باہر لانے میں پوری طرح کامیاب ہوا تھا۔ کیری ایچر آرٹ سے سجی، توجہ کھینچتے بڑے دیدہ زیب اور خوبصورت صفحات پر بکھری تحریروں میں ہر شخصیت کے اندر کی پرتیں کھولتی عاصم کے اسلوب کی موہ لینے والی تحریری بے ساختگی ایسی متاثر کن تھی کہ اس کی ذاتی سنجیدگی کو موضوع بنانے کی بجائے میں اس کے فن کی قائل ہو گئی تھی۔
”دائرہ“ نے رائج الوقت ناول نگاری کے میدان میں ارتعاش پیدا کیا۔ وجہ اتنی سی تھی کہ چند بڑے ناول نگاروں اور ناولوں کو چھوڑ کر لکھاریوں کی ایک اکثریت تخیلاتی و رومانوی اور داستان گوئی کے سے انداز میں ناولوں کی تخلیق میں الجھی ہوئی تھی۔ جس میں ایک نوجوان قلم کار ایک نئے رنگ و ڈھنگ جو حقیقت نگاری کے ہالے میں لپٹا ہوا ریلیزم تیکنیک کے ساتھ میدان میں اترا تھا۔ اس نے قارئین کو چونکاتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ اس نے نیا چراغ دائرہ کی صورت جلایا ہے۔ لو دیکھ لو اس کی لو، اس کی روشنی، اس کی استقامت جیسے خوشگوار ہوا کا جھونکا سریر کو تازہ دم کردے۔
”دائرہ“ نے لوگوں کو متوجہ کیا۔ اس میں نیا پن تھا، کہانی تھی اور اندرون لاہور جیتی جاگتی صورت میں اپنے گلی کوچوں، اپنے کرداروں اور اپنی معاش کے دلفریب رنگوں کے ساتھ موجود تھا۔ مگر ”بھید“ نے ثابت کیا کہ وہ ایک بڑا تخلیق کار ہے۔ بھید میں عاصم بٹ کا جداگانہ انداز زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ یہ ناول چار حصوں میں منقسم ہے۔ ناول آغاز سے ہی ایک تجسس بھرے بھید کا دروازہ کھول کر قاری کو اس میں داخل کرتا ہے۔ اندرون لاہور جیسے علاقے کا کلاسیک پس منظر میں سانس لیتے بے شمار بڑے اور عام سے لوگوں کے خاص کرداروں کی چلت پھرت، بودوباش، سوچیں اور محسوسات کے بے شمار رنگ جو پڑھنے والے کو الف لیلیٰ کی کہانیوں جیسے ذائقوں کا سواد دے۔
عاصم بٹ بہت پر اعتماد و تخلیق کار ہے۔ ناول کا بیانیہ حد درجہ متاثر کن ہے۔ کہیں فضول قسم کی علمیت بگھارنے کی ادنیٰ سی کوشش بھی نظر نہیں آتی۔ سادہ مگر انتہائی جچا تلا انداز، مکالموں میں اختصار، برجستگی کے ساتھ ساتھ عوامی رنگ کا چسکہ جو منہ سے واہ واہ نکلوائے۔
ڈاؤن ٹاؤن سے محبت عاصم اور میری طرح بہت سارے لوگوں کا عشق ہے۔ کسی بھی ملک میں میرے لیے سب سے زیادہ وارفتگی اور شوق وہاں کے ڈاؤن ٹاؤن کو دیکھنے سے ہوتی تھی۔ اندرون لاہور بھی میرا سدا کا محبوب ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے ”بھید“ کو جس شوق و دلچسپی سے پڑھا اس میں ایک بڑی وجہ عاصم کا لاہور سے عشق نامہ ہے۔ سچی بات ہے اس نے اس عشق کا حق ادا کیا ہے کہ اس کے ہر گلی کوچے کو چھیڑا ہے۔ اس کے کرداروں کی ہر ہر پرت کو کھولنے کی کوشش کی ہے۔ مجید للاری، مشتاق چھرا، مٹھو ایلین جیسے کردار اس کے گلی کوچوں میں پھرتے، اس ماحول کے پروردہ لوگ، منجھے ہوئے، خبطی وا اللہ لوک، جیالے اور نابغہ روزگار لوگوں کے تفصیلی حال احوال کی تصویر کشی جس حسین انداز میں پینٹ ہوئی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔
بہت شکریہ عاصم بٹ۔
ناول نگار کا انتساب ذرا پڑھیے۔
بھید ایک میٹھا پھل ہے۔ یہ خواہش کے باغ میں اگتا ہے اور اس کی کونپل محبت کے بیچ سے پھوٹتی ہے۔ عاصم بٹ دعائیں تمہارے شاندار ادبی مستقبل کے لیے، اردو ادب کا دامن ایسے ہی نایاب تحفوں سے بھرتے رہو۔




excellent piece of writing on a refined author