خاندانی منصوبہ بندی، ملکی معیشت اور وسائل پر دباؤ
پاکستان آبادی کے تناسب سے دنیا کa ساتواں بڑا ملک ہے اور 2023 کی مردم شماری کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 241 ملیں سے زائد ہے۔ آبادی کو کنٹرول کرنا کے لیے فیملی پلانگ کا استعمال اب صرف شادی شدہ جوڑے اپنی مرضی سے رضاکارانہ طور پر ہی کر سکتے ہیں اور اب کوئی بھی ریاست کسی شہری کو خاندانی منصوبہ بندی کے استعمال کے لیے مجبور نہیں کر سکتی ہے۔ اب کوئی بھی مرد یا خاتون فیملی پلانگ کو رضاکارانہ طور پر استعمال کر کے اپنے خاندان کی بہتری کے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں۔
فیملی پلانگ کی منصوبہ بندی کو شہری اور دیہی خواتین تک پہنچانے کے لیے اقوام متحدہ کا ادارے یو این ایف پی آئی حکومت پاکستان کے تعاون سے ملک بھر کے سرکاری محکموں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے تعاون سے کام کر رہا ہے تاکہ فیملی پلاننگ تک ہر شہری کی رسائی کو ممکن بنایا جا سکے اور اس عمل سے ملکی معیشت اور وسائل پر بڑھتے ہوئے آبادی کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ آج بھی دیہی علاقوں میں رہتا ہے جہاں صحت کی سہولیات کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کا فقدان ہے جس کی وجہ سے دور دراز اور دیہی علاقوں کی خواتین کو منصوبہ بندی کے باری نہ صرف کم آگاہی ہے بلکہ فرسودہ رسومات کی نظر میں خاندانی منصوبہ بندی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ہے۔ بچوں کی زچگی میں وقفہ نہ کرنے کے باعث خواتین کی صحت بڑی حد تک متاثر ہوتی ہے اور کمزور بچے جنم لیتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں غربت کے باعث والدین بچوں کی تعلیم، خوراک اور صحت پر ترجیحی بنیادوں پر توجہ نہیں دے سکتے جس کے باعث ایسی خواتین گھر کے کام اور بچوں کی دیکھ بحال تک محدود ہو جاتی ہیں۔
صوبہ سندھ کی آبادی کا 46 فیصد حصہ آج بھی دیہات اور دور دراز علاقوں میں رہائش پذیر ہے جو زیادہ تر زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ فیملی پلانگ تک کم رسائی اور فرسودہ رسومات کے باعث آج بھی بچے پیدا کرنے کا رجحان موجود ہے جو ماضی کے مقابلے میں کم ہوا ہے۔ سندھ کے دو اضلاع مٹیاری اور قمر شہدادکوٹ کے سرکاری ہسپتالوں میں محمکہ صحت اور محکمہ بہبود آبادی کے تعاون سے یو این ایف پی آئی جانب سے صحت مند خاندان کے نام سے فیملی پلاننگ تک رسائی کے لیے منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے۔
نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے تعاون سے مٹیاری ضلع کے ایک ضلعی ہسپتال، دو تعلقہ ہسپتالوں اور تین رورل ہیلتھ سینٹرز میں سرکاری ڈاکٹرز، نرسز، اور عملے کی تربیت کے ساتھ یہاں فیملی پلانگ سینٹر قائم کیے گئے ہیں۔ اسی طرح سندھ ضلع قمبر شہدادکوٹ کے ایک ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال، تین تعلقہ ہسپتالوں اور تین رورل ہیلتھ سینٹر میں بھی اسی نوعیت کی فیملی پلاننگ کی سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں۔
یو این ایف پی آئی کی جانب حکومت سندھ کے محکموں کے ساتھ مل کر مٹیاری اور قمبر شہداد کوٹ میں صحت مند خاندان پروجیکٹ کے ذریعے لوگوں میں خاندانی منصوبہ بندی تک رسائی کو ممکن بنایا گیا ہے۔ ان سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کو نجی شعبے کی جانب سے نہ صرف تربیت فراہم کی جا رہی ہے بلکہ رضاکارانہ طور پر خاندانی منصوبہ بندی کے خواہشمند جوڑوں کو خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں آگاہی کے ساتھ وہ تمام جدید اور محفوظ طریقے بھی بتائے جا رہے ہیں جس سے وہ بچوں کی زچگی میں وقفہ کر کے اپنے خاندان کے روشن مستقبل کے بارے میں فیصلہ کر سکتے ہیں جو بچے اور خواتین کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
ان سینٹرز میں آنے والے خواتین کو ماہر خواتین ڈاکٹرز کی جانب سے خاندانی منصوبہ بندی کے تمام طریقوں اور طبی سائنس کی نظر میں ان کے فوائد کے بارے میں آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔ پاکستان کی مجموعی آبادی پر جب نظر دوڑائی جاتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ہماری آبادی بڑھنے کے تناسب میں 2023 میں 2017 کے مقابلے میں اضافی دیکھا گیا ہے جو نہ صرف خواتین کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ہماری معیشت اور وسائل کے لیے بھی ٹھیک نہیں سمجھا جاتا ہے۔
ایسے حالات میں جب ملک کو معاشی مسائل کا سامنا ہے جس سے بچنے کے ہمیں خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کو رضاکارانہ استعمال کے لیے معاشرے میں شعور کے ساتھ سہولت تک رسائی کے لیے کوششوں کو تیز کرنا ہو گا جو حکومت پاکستان یو این ایف پی آئی کے تعاون سے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ پاکستان میں ہر سال آج بھی زچگی کے دوران وقفہ نہ کرنے، کم آگاہی یا مناسب خوراک کی کمی کے باعث خواتین زچگی کے دوران موت کا شکار ہو جاتی ہیں اور جنم لیے والے بچے مر جاتے ہیں۔
اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے سندھ حکومت کے محمکہ صحت اور محکمہ بہبود آبادی بین الاقوامی ادارے یو این ایف پی آئی کے اشتراک سے کام رہے ہیں۔ خاندانی منصوبہ بندی کے ذریعے نہ صرف زچگی کے دوران مرنے والے بچوں اور ماؤں کی تعداد کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ مناسب وقفے سے خواتین کی صحت کو بہتر بنا یا جا سکتا۔ اگر خاندانی منصوبہ بندی کی سہولت تک رسائی ہر شادی شدہ جوڑے کے لیے آسان ہو تو نئے شادی شدہ جوڑے اس عمل کی مدد سے اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں اور اس عمل سے نئے جنم لینے والے بچوں اور ماؤں کے علاج پر سرکاری ہسپتالوں میں ہونے والے اخراجات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
معاشرے کی معاشی بہتری کے لیے خواتین کا صحت مند ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ صحت مند خواتین اپنے گھر کے کام اور بچوں کی دیکھ بحال کے ساتھ ملازمت یا کاروبار بھی کر سکیں گی جس سے ایسے خاندانوں میں خوشحالی آئے گی، غربت میں کمی آئے گی اور ملک کے وسائل اور معیشت پر بڑھتا ہوا دباؤ بھی کم ہو سکے گا جو ملک کی معاشی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

