نعرہ


ہم پاکستانی بہت معصوم اور بھولے لوگ ہیں، ہر دور میں ہمیں سبز باغ دکھا کر بیوقوف بنایا گیا ہے۔ ہم عوام ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے بغیر کچھ سوچے اس چراغ کے پیچھے لگ جاتے ہیں جو ہمیں لگتا ہے کہ یہ ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرے گا۔ اس چراغ کو آپ نعرہ بھی کہہ سکتے ہیں جو تقریباً پچھتر سالوں سے لگتا آ رہا ہے اور اس میں ترمیم کر کے عوام کو بیوقوف بنایا جاتا رہا ہے اور بنایا جا رہا ہے۔

معصوم عوام انگریزوں سے آزادی حاصل کر کے پاکستان آئے تو خوش تھے کہ اب غموں کی شام ختم ہوئی اور مسرت کا سورج طلوع ہو گا، لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ جس طرح پچھلے دیس میں ہم پر ظلم و ستم تھا نئے دیس میں بھی کوئی کمی نہیں آئی۔ کبھی معصوم عوام کو اس بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے کہ ملک میں اسلامی نظام نافذ ہو گا تو عوام اس کا خیر مقدم کرتے ہیں تو کبھی یہ نعرہ لگا دیا جاتا ہے کہ ”ادھر ہم ادھر تم“ تو عوام اس بات کو بھی سمجھ لیتی ہے کہ شاید اس میں بھی کوئی بہتری ہوگی۔ کبھی ہم عوام کو روٹی، کپڑا، مکان کے نام پر اپنی طرف کر لیا جاتا ہے کہ شاید اب عوام کی بنیادی ضروریات پوری ہوں گی مگر یہ سب بھی سبز باغ تک محدود رہتا ہے، تو کبھی عوام کو جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگا کر صوبائی حد تک محدود کر دیا جاتا ہے۔

ایک خاص بات یہ ہے کہ ہماری عوام میں سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور وہ بھی ہم سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں کہ تھوڑے ہی عرصے بعد یہ نعرے لگانے والوں کے تختے الٹ دیتے ہیں۔

دوسری جانب عوام ہیں کہ اسی تلاش میں رہتے ہیں کہ شاید اب کوئی نیا نعرہ لگے گا جو ہمارے دکھوں کا مداوا کرے گا، تو اتنے میں ایک نیا نعرہ لگ جاتا ہے کہ ہم ملک عزیز میں تبدیلی لائیں گے اور پتا نہیں کیا کیا۔ تو ہم عوام اس نعرے کے پیچھے لگ جاتے ہیں کہ شاید اب کوئی تبدیلی آئے گی جو ہمارے حالات ٹھیک کر دے گی۔ تبدیلی کے انتظار میں بیٹھی جنتا یہ سن کر بہت خوش ہوتی ہے کہ جب ملک کے ایک کونے سے آواز آتی ہے کہ ”ووٹ کو عزت دو“ ہم بھولے اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں کہ شاید اب ووٹ کو عزت دینے کے ساتھ ساتھ ووٹر کو بھی عزت مل جائے گی۔ مگر سب بے سود اور نظام ویسے ہی چلتا رہتا ہے اور پھر بھرے مجمعے میں ایک گونج سنائی دیتی ہے کہ ہم اب بھی غلام ہیں اور غلامی نامنظور یعنی جو آزادی ہم نے پچھتر سال پہلے لی تھی وہ کیا تھی کہ آپ کو اب جا کر پتا چلا کہ ہم غلام ہیں۔

اور اب ہم عوام منتظر ہیں کہ پتا نہیں ملک کے کون سے کونے سے ایک اور نیا نعرہ لگے گا اور عوام کے مسائل حل ہو جائیں گے ملک خوشحال ہو جائے گا، ہمیں ہمارے حقوق مل جائیں گے اور ملک ترقی کی راہ پر چل پڑے گا۔ ہم معصوم عوام منتظر ہیں۔

 

رانا عمر نصیر
Latest posts by رانا عمر نصیر (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments