مسلم امہ اور فلسطین
ویسے تو فلسطین میں مسلمانوں کا قبلہ اول موجود ہے جس پر گزشتہ سات دہائیوں سے اسرائیل کا قبضہ ہے لیکن نام نہاد امت مسلمہ کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کے قبلہ اول پر گولہ باری ہوتی ہے اور توہین جاری ہے اور مسلمان بھائی وہاں نماز تک نہیں پڑھ سکتے۔ گولہ باری کے ساتھ ساتھ وہاں پر ان کے مسلمان بھائیوں کی سات دہائیوں سے نسل کشی جاری ہے۔ کہنے کو تو او آئی سی بھی موجود ہے اور اس میں ستاون اسلامی ممالک بھی، لیکن نہ جانے کیوں یہ ستاون ممالک مل کر بھی اپنے ایک بھائی فلسطین کی حفاظت نہیں کر پا رہے؟
حماس کے حملے کے بعد فلسطین میں قیامت صغری بپا ہے۔ تیس ہزار سے زائد بے گناہ لوگوں کو اسرائیل قتل کر چکا ہے جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔ اس سفاکانہ عمل کے بعد بھی امت مسلمہ کا ضمیر بیدار نہیں ہو سکا۔ پندرہ ہزار سے زائد عورتوں اور بچوں کا خون بھی امت مسلمہ کے ضمیر کو جگانے کے لیے ناکافی ہے۔ آخر یہ ضمیر بیدار کب تک ہو گا؟ کب تک مظلوم فلسطینیوں کو اپنے بچوں کے جنازے اٹھانے پڑیں گے؟ کیا آج کے دور میں کوئی امت مسلمہ کا تصور ہے بھی یا یہ صرف ایک خواب ہے؟
مڈل ایسٹ کے تمام ممالک سے لے کر افریقی مسلم ممالک تک، سب نے اسرائیل کی اس سفاکیت پر چپ سادھی ہوئی ہے۔ ہر ملک اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر فیصلے کر رہا ہے۔ ہاں لیکن اس قومیت پسندی اور ملکی مفادات کے دور میں بھی ایران وہ واحد اسلامی ملک ہے جو اسرائیل کے لیے سردرد بنا ہوا ہے اور حزب اللہ اور حماس جیسی مزاحمتی تنظیموں کی ہر حد تک مدد جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کی بھاری قیمت بھی چکا رہا ہے لیکن اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔
معاشی فوائد کی خاطر اسلامی ممالک نے اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ اسلام میں تو پوری امت ایک جسم کی مانند گردانی جاتی ہے اور اگر جسم کے کسی بھی حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم اس کی تکلیف محسوس کرتا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان اپنے ہی اصول بھلا چکے ہیں۔ اسرائیل کو قتل عام کی کھلی آزادی حاصل ہے اور فلسطینی بیچارے مرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر پا رہے۔ نام نہاد اصول پسند اور انسانی حقوق کی علمبردار مغربی دنیا بھی اسرائیل کی اس بربریت پر خاموشی سادھے ہوئے ہے بلکہ کچھ ممالک تو اسرائیل کو عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کے لیے ہتھیار بھی باہم پہنچا رہے ہیں۔
افراتفری اور قومیت/خود پسندی کے اس دور میں جنوبی افریقہ ہی وہ واحد ملک ہے کہ جس نے اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا مقدمہ کیا۔ بحیثیت مسلمان میں جنوبی افریقہ کو اس اقدام پر سلام پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے انسانیت کا ثبوت دیتے ہوئے مظلوموں کی داد رسی کی۔ مسلمان ممالک کو تو شرم سے ڈوب مر جانا چاہیے کہ ان کے ستاون مسلم ممالک ہونے کے باوجود ایک غیر مسلم ملک نے اسرائیل کے مظالم کے خلاف علم جہاد بلند کیا۔
ستاون ممالک ہونے کے باوجود مسلمان آپسی اختلافات کی وجہ سے آج تک امت نہیں بن سکے اور مستقبل قریب میں بھی کوئی امید اتحاد نظر نہیں آتی۔ آپس میں پراکسی وار ضرور لڑیں گے لیکن اپنے مسلمان بھائی فلسطین کو بچانے کے لیے کبھی اتحاد نہیں کریں گے۔ مغرب کی حمایت اور ان کی خاطر اپنے خزانے بھی وقف کر دیں گے لیکن اپنے مسلمان بھائی فلسطین کے لیے نا تو کبھی آواز اٹھائیں گے اور نہ ہی کبھی فلسطینیوں کے حقوق کے بارے میں کبھی بات کریں گے۔
آخر اس بے حسی کی وجہ کیا ہے؟ آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ ستاون ممالک ہونے کے باوجود مسلمان مغربی ممالک کی پالیسیوں پر لبیک کہتے ہیں؟ آخر ایسی کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ جس نے ان ستاون مسلم ممالک کو مغرب کا غلام بننے پر مجبور کر دیا ہے؟ کیا ان ستاون مسلم ممالک کے اتحاد سے مسلم امہ کے تمام مسائل حل نہیں ہو سکتے؟ اس قومیت پسندی اور ملکی مفاد سے آگے بڑھ کر نہ سوچنے والی سوچ نے مسلم ممالک کو اتحاد سے دور رکھا ہوا ہے۔ موجودہ دور کی تبدیلیاں بھی یہ پیغام دے رہی ہیں کہ مسلم ممالک کا اتحاد ایک خواب بن چکا ہے۔ اب صرف اور صرف ملکی مفاد کو ترجیح دی جائے گی۔ مسلم امہ اب حقیقت میں ایک اصطلاح بن کر رہ گئی ہے۔ علامہ محمد اقبال سے معذرت کے ساتھ:
ایک ہو سکتے ہی نہیں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر


