نوشین و نکتہ چین


naseer ahmad

نوشین:اچھا یہ بتاؤ، کہ تم کسی گھسی پٹی، گئی گزری، گری پڑی، مہمل اور لغو چیز کی تعریف کر سکتے ہو اگر کرنی پڑ جائے؟

نکتہ چین:یہ بھی کوئی مسئلہ ہے۔ ایسے کتنے ہیں جن کی تعریفیں کرتے رہتے ہیں۔

نوشین:ارے یہ تم کس طرف پلٹ پڑے۔ میں تو دیکھ رہی تھی کہ تمھارے ہاں خوش اخلاقی کے کچھ امکانات ہیں بھی کہ نہیں۔

نکتہ چین:نیٹشا کا کہنا تھا کہ خوش خلقی میں اگر شدید بیزاری نہیں تو شدید حقارت ضرور پائی جاتی ہے۔ تمھیں تو پتا ہی ہے۔ خیر تمھیں کیا پتا ہو گا۔ ہم نیٹشا کے مخالف ہیں۔ اس لیے بد اخلاقی کے ذریعے انسانی مساوات بحال کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

نوشین:چلو چھوڑو یہ نیٹشا ویٹشا۔ میں تمھیں ایک مشہور عام مہمل شعر بتاتی ہوں، تم میں اس میں شعری اوصاف ڈھونڈ کر دکھاؤ۔

نکتہ چین:ٹھیک ہے۔
نوشین:روغن مرغ کو بھینس کے انڈوں میں ڈال
روغن مرغ کو بھینس کے انڈوں سے نکال

نکتہ چین:اچھا تو اے طالبہ سخن، اس شعر میں کائناتی صداقتیں اور برہمانڈ کے بھید خفتہ ہیں جن کو کوئی فطین ہی عیاں کر سکتا ہے۔

نوشین:پھر اپنی تعریف کی ناجائز کوشش
نکتہ چین:ارے تو کچرا معتبر تب ہی ہوتا ہے جب اس کے ساتھ فطانت کے دعوے منسلک کیے جائیں۔
نوشین:سوری سوری۔ تم جاری رکھو۔
نکتہ چین:اس شعر میں جو روغن مرغ ہے، وہ جوہر ملکوتی ہے۔
نوشین: مگر جوہر ملکوتی کا مرغ سے کیا تعلق؟
نکتہ چین: یہ تم نے مرغ سخن، مرغ خوش خوان، عندلیب گلشن نا آفریدہ وغیرہ نہیں سنا کبھی؟
نوشین: مگر کب کسی مرغ سخن نے انڈے دیے ہیں؟
نکتہ چین: تو بھینس دیتی ہے کیا؟ سنو، نکتہ چین یہاں ہم ہیں کہ تم؟
نوشین: سوری اگین۔ تم بس جاری رکھو، میں بس مہر بلب۔

نکتہ چین: تو اس شعر میں روغن مرغ ہے وہ جو ہر ملکوتی ہے۔ اور دانائے راز اپنے چیلے کو یہ نصیحت کر رہے ہیں کہ روغن مرغ دیگر نالائقوں جن کو بھینس کے انڈوں سے تشبیہ دی گئی ہے ان کو عطا کر دیے جائے تا کہ وہ تجلیات سے آشنا ہوں لیکن بس ذرا جو ہر ملکوتی کو وہاں زیادہ دیر رہنا نہ دیا جائے کہ اگر قیام میں طوالت ہو گئی تو بھینس کے انڈے ٹرمینیٹر بن جائیں گے۔ مارکس کا تصور بھی کچھ ایسا ہی ہے کہ ہر کسی کو اس کی ضرورت کے مطابق دیا جائے لیکن لینن وغیرہ نالائق چیلے تھے انھوں نے تشدد ضرورت سے بہت زیادہ دیا اور مال پانی ضرورت سے بہت زیادہ کم دیا جس کے نتیجے میں بھینس کے انڈے ٹرمینیٹر بن گئے اور بہت تباہی ہوئی۔

یہاں یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ بپھرا ہوا جوہر ملکوتی اور بگڑی ہوئی دہریت تیرا ہی عکس رخ ہے جو تیرے سامنے آ جاتا ہے۔ یہ تو شعر کی خوبی ہوتی ہے کہ شعر فردا میں جھانک لے۔ شبلی نعمانی اس معاملے میں خواجہ شیراز کی تعریف کرتے ہیں کہ پتا نہیں کتنے زمانوں سے اپنی حیات مختصر میں آ گہی حاصل کر لی تھی۔ اور اس شعر کی دوربینی تو خواجہ شیراز کو بھی پیچھے چھوڑ جاتی ہے۔ اور بطور دانائی اس میں تناسب اور توازن کا ایک ابدی فارمولا بھی طے کر دیا گیا ہے۔ یہ ہیں اس شعر کے سب سے اہم حقیقی پہلو۔ اب میں اس کے مجازی معانی کا احاطہ کرتا ہوں۔

نوشین: ہاھا ہاھا، نہیں نہیں۔
نکتہ چین۔ ارے ہم نے تہذیب کا دامن کبھی چھوڑا ہے۔
نوشین: کیا کہوں۔ میں نے تو کبھی پکڑے ہوئے بھی نہیں دیکھا۔ خیر جاری رکھو۔

نکتہ چین: حقیقت اور مجاز میں کوئی خاص فرق ہوتا نہیں۔ مولانا روم کے ہاں تو ایسے مٹتا ہے کہ پوچھو مت۔ وہی مشورہ ہے کہ جوہر عشق کی سخاوت کے معاملے میں اے میرے تجربہ نا شناس، احتیاط کہ فراوانی عشق کے بعد معشوق ارنے بھینسوں کی مانند ہو جاتے ہیں اور معاشرے میں بہت فتنہ و فساد ہوتا ہے۔ اور جب وہ فتنہ و فساد پر کمر بستہ ہو جائیں تو ان سے جوہر عشق واپس لے لیا جائے۔ شاعر بہت بڑا فلسفی ہے اور قول سے آگاہ معلوم ہوتا ہے کہ محبت میں ایک ہی وقت میں سب کچھ نہ دیا جائے بلکہ ہر وقت کچھ نہ کچھ دیتے رہنا چاہیے۔ معشوق کو بھینس کے انڈے کہنے سے برہمانڈ کے ایک رہس (راز) کی بھی عقدہ کشائی کی گئی ہے۔ بھینس کے انڈے تو ظاہر ہے ہوتے نہیں۔ اور معشوق بھی نہیں ہوتے۔ بس ازلی قوت نہ و نفی و نیستی اپنے آپ کو ہی پوجتی رہتی ہے۔

نوشین: واہ جی واہ، کیا ژرف نگاہی ہے، کیا درون بینی ہے؟
نکتہ چین: ویسے یہ ژرف ہوتا کیا ہے؟
نوشین: مجھے کیا پتا؟

نکتہ چین: شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں مجھے بھی نہیں پتا۔ اس کی سیاسی تعبیر بھی شاعر نے ذہن میں رکھی ہے۔

نوشین: اور وہ کیا ہے؟

نکتہ چین: اس میں روغن مرغ سیاسی طاقت ہے جو گاہے بگاہے اسٹیبلشمنٹ رنگ برنگے نالائقوں کو دیتی رہتی ہے اور جب اسے محسوس ہوتا ہے کہ طاقت توازن اور تناسب سے بڑھنے لگی ہے تو واپس لے لیتی ہے۔ اس شعر کو ڈرکھائیم کے سماجی نظریے اور عالمی تعلقات میں توازن کے حصول کی کوششوں کے حوالے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ زندگی کے ہر معاملے میں سٹیٹس کو کی برقراری میں اس شعر کی تفسیر عیاں ہے۔

نوشین: واہ، مان گئے جناب

نکتہ چین: ہاں ناں، چیزوں کے ساتھ معیار گر جائیں تو گھسا پٹا تازہ ترین، گرا پڑا شان دار، مہمل گنجینہ گوہر اور لغو معنی انگیز ہو جاتا ہے۔ اور معاشرہ ان گرے ہوئے معیاروں کی مزید گراوٹ کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔ ہاں یاد آیا۔

نوشین: کیا؟

نکتہ چین: تم اپنی دماغی صحت کے لیے بھی اس عظیم پارہ سخن کے توازنی فارمولے کو استعمال کر سکتی ہو۔ جب بھی کوئی بہتر بات تمھارے دماغ میں گھسیڑنے کی کوشش کرے، تم اسے نکال باہر پھینکو۔

نوشین: پھر وہی بدتمیزی اور بے ہودگی۔ خوش خلقی؟ تابکے؟

Facebook Comments HS