فارس (ایران) کی مختصر تاریخ (میدیا سلطنت سے 1979 کے اسلامی انقلاب تک )

موجودہ ایران ساڑھے سولہ لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل ملک ہے جس کے مشرق میں افغانستان اور پاکستان، مغرب میں عراق اور ترکی، شمال مغرب میں آذربائیجان آرمینیا شمال میں بحیرہ کیسپین اور ترکمانستان جبکہ جنوب میں خلیج اومان اور خلیج فارس واقع ہیں
مگر قدیم ایران یا فارس کی تاریخ کافی وسیع خطے سے متعلق ہے جو مغرب میں اناطولیہ (ایشیا کوچک) سے لے کر مشرق میں دریا سندھ اور سر دریا، شمال میں کاکیشیا (آذربائیجان، آرمینیا اور جارجیا) اور یوریشیا کے ڈھلوانوں اور جنوب میں خلیج فارس اور خلیج اومان تک علاقے پر مشتمل گردانا جاتا تھا۔ جس کا مرکز موجودہ ایران کی سرزمین تھا۔ ایران میں یوں تو انسانی آبادکاری بہت قدیم زمانے سے رہی ہے مگر مورخین اس کی باضابطہ تاریخ آریوں کی یہاں نقل مکانی کرنے سے گردانتے ہیں۔ آثار قدیمہ کے مطابق آریوں کی آمد سے بہت پہلے مختلف باشندے یہاں تمدن اور بادشاہتیں قائم کر گئے تھے جن کی بین الاقوامی تجارت مغرب اور چین تک پھیلی تھی۔ آریاؤں کی آمد سے ایران کی تاریخ مختلف ادوار پر مشتمل ہے۔ جن کا یہاں مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے
1) میدی ریاست میدی قبائل ایرانی سطح مرتفع کے مغربی حصے میں 11 ویں صدی ق م سے آباد آریا نسل باشندے تھے۔ اسی مناسبت سے مغربی اور شمالی ایران کے درمیان والا خطہ میدیا کہلاتا تھا۔ میدیا ریاست کا کوئی تحریری ریکارڈ موجود نہیں ان کے متعلق معلومات کے ذرائع اس کے ہم عصر بادشاہتوں ”(اشوری اور بیبولینیہ) کی تحریرات اور آثار قدیمہ ہیں۔ یونانی مورخ ہروڈوٹس کے مطابق میدی قبائل نے اپنے ایک لیڈر“ دیوسس ”کی قیادت میں 7 ویں صدی ق م کے آغاز میں سلطنت یا متحدہ ریاست تشکیل دی تھی جو 550 ق م تک قائم رہی یہ ایرانی تاریخ کی پہلی ریاست تھی۔ اس کا دارالحکومت دیائکو (موجودہ ہمدان) تھا۔ سیاکسز (Cyaxares) اس کا مشہور بادشاہ رہا ہے 614 ق م کے لگ بھگ میدیوں نے بیبلونیہ کے ساتھ مل کر “ نینوا ”پر قبضہ کر کے اشوری بادشاہت کا خاتمہ کر دیا۔ اسی دور میں مشرق قریب کے خطے میں چار اہم طاقتوں میں لیڈیا۔ بابل اور مصر کے علاوہ میدیا بھی شامل تھی۔
2) اخمنیڈ سلطنت ( 330 تا 550 ق م) آخری میدی حکمران ”استیاگس“ کی حکومت کا خاتمہ 550 ق م کے لگ بھگ ”سائرس“ کے ہاتھوں ہوا اور یہاں سے احمنیڈ (ہخامنشی) سلطنت کا آغاز ہوتا ہے اس کے پہلے بادشاہ کو تاریخ مختلف نام (سائرس، خورس، کیخسرو، خورش، کوروش) دیتی ہے جبکہ ایرانی اسے ”کوروش کبیر“ کے نام سے یاد کرتے ہیں (مولانا ابوالکلام آزاد کے خیال میں قرآن مجید میں جس شخص کو ذوالقرنین کا نام دیا گیا ہے وہ یہی سائرس ہے ) ۔
سائرس نے مغربی اناطولیہ کے لدانی اور میسوپوٹیمیا اور مشرقی بحیرہ روم کے علاقوں پر قابض بیبولینیہ سلطنت کو فتح کیا۔ 539 ق م میں بابل پر قبضہ کرنے کے بعد ”سائرس“ نے عبادت گاہوں کو بحال کیا۔ سیاسی قیدیوں بالخصوص ویاں قید یہودیوں کو رہا کر یروشلم جانے اور اپنی عبادت گاہ پھر سے تعمیر کرنے کی اجازت دی۔ سائرس کے بعد اس کے جانشین بڑے بیٹے کیمپاس ”نے 525 ق م میں مصر
کو فتح کیا اس کے بعد فوج کا سپہ سالار دارا ( 522 تا 488 ق م) نیا بادشاہ بنا۔ اس کے دور میں سلطنت کو استحکام ملا۔ شمال مغربی ہند کو شامل سلطنت کیا۔ شیراز سے چالیس میل شمال مشرقی جانب پر سیپولس (تخت جمشید) کو دارالسلطنت بنایا۔ اپنے دور عروج میں سلطنت موجودہ ایران کے علاوہ مشرق میں موجودہ افغانستان، پاکستان کے چند حصوں، شمال اور مغرب میں پورا اناطولیہ (موجودہ ترکی) ، بالائی جزیرہ نمابلقان (تھریس) اور بحیرہ اسود کا بیشتر ساحلی علاقے اور مغربی جانب موجودہ عراق شمالی عرب، فلسطین (اردن اسرائیل اور لبنان) اور قدیم مصر کے تمام مراکز پر مشتمل تھی۔
7.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلی تاریخ کی وسیع ترین سلطنت رہی ہے۔ دارا نے سلطنت کے مغربی مقبوضات کو بھی مستحکم کیا۔ مگر یونان خاص پر 490 ق م میں حملہ ”میراتھن“ کے مقام پر ناکام ہوا۔ دارا کے بعد اس کے بیٹے زرکیسز ( 486 تا 465 ق م) نے بھی یونان خاص پر تسلط جمانے کی کوشش کی۔ مگر 479 ق م میں ”آبنائے سلامیس“ کی بحری لڑائی میں یونانیوں نے شکست دی۔ یونانیوں نے اس کی بقیہ فوج کو پلاٹیا plataea کی لڑائی میں بھی شکست دے کر ایرانیوں کی یونانی مہم ناکام بنا دی۔ دارا سوم 336 تا 330 ق م) سلطنت کا آخری حکمران ثابت ہوا۔ جس کو اسکندر اعظم نے شکست دے کر احمنیڈ سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔
3) سلیوکس/یونانی سلطنت۔ 332 ق م میں سکندر کی موت کے بعد اس کے مقبوضہ علاقے اس کے تین جرنیلوں میں تقسیم ہوئے۔ بیشتر ایشیائی مقبوضات، جن کا مرکز ایران تھا، ”سلیوکس“ کے تحت آ گئے۔ 302 ق م تک اس کی حکومت ”سر دریا“ سے پنجاب تک پھیلی تھی وہ اور اس کے جانشین مغربی ایران کے بڑے حصے پر ایک عرصے تک حکمران رہے۔ مگر ان کے دور میں پارتھی سرداروں کے ساتھ جنگ و جدل اور باہمی رسہ کشیوں کی وجہ سے زیادہ تر بدامنی رہی
4) ۔ پارتھی سلطنت۔ شمال مشرقی علاقے پارتھیا کے سردار ارشک یا اشک نے 259 ق م میں یونانیوں کے خلاف بغاوت کر دی۔ اس کے کچھ علاقوں کو آزاد کر کے متوازی حکومت قائم کر دی پارتھی حکمران مہردادا اول ( 170 تا 138 ق م) نے سلیوکی حکمرانوں کی خانہ جنگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ارمینیا خوزستان، پارس اور بابل پر قبضہ کر لیا سلوکیوں کا مکمل اخراج اس خاندان کے دوسرے نامور بادشاہ ارشک ہفتم ( 138 تا 125 ق م) کے ہاتھوں ہوا۔ اپنے عروج میں پارتھی سلطنت دریا فرات کے شمالی ساحلوں (موجودہ وسطی مشرقی ترکی) سے لے کر افغانستان اور موجودہ پاکستان تک پھیلی تھی۔
5) ساسانی دور ( 224 تا 641 عیسوی) وقت کے ساتھ پارتھی بادشاہت زوال پذیر ہونے لگی تھی۔ 226 عیسوی میں ایک ایرانی پروہت ”ساسان“ کے نواسے ”ارد شیر اول کا آخری پارتھی بادشاہ کو شکست دینے سے ساسانی بادشاہت کا آغاز ہوتا ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد ساسانی اپنے مغربی جانب وقت کی دوسری بڑی طاقت رومن (بازنطینی) سلطنت کے ساتھ برسرپیکار ہو گئے۔ جبکہ مشرقی جانب“ کشان بادشاہت ”کے ساتھ نبرد آزما رہے۔ ارد شیر کے بعد شاہ پور اول ( 240 تا 272 عیسوی) کے دور میں ساسانی سلطنت شمال میں جارجیا جنوب میں عرب، مشرق میں دریا سندھ اور مغرب میں بالائی دریا دجلہ اور دریا فرات کی وادیوں تک پھیل گئی تھی۔ ساسانی دور میں ایرانی قومیت کا احیاء ہوا جبکہ ریاستی مذیب زرتشتی بنا
6) عرب دور۔ ایران کی ساسانی سلطنت کئی دہائیوں سے اپنے حریف رومی (بازنطینی) سلطنت کے ساتھ نبرد آزمائی کے باعث کمزور ہو گئی تھی۔ جبکہ اسی دوران عرب مسلمانوں نے خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ تعالی کے دور میں فتوحات کا آغاز کر دیا، تھا۔ ا 633 عیسوی میں بین النہرین (جو ساسانی سلطنت کا سیاسی اور ثقافتی گڑھ تھا) نامور مسلم سپہ سالار ”خالد بن ولید“ کی قیادت میں فتح کیا گیا۔ جبکہ ”سعد بن ابی وقاص“ کے زیر کمان 636 ع میں ”قادسیہ“ کی لڑائی میں فتحیابی سے ساسانی سلطنت کا مغربی ایران پر قبضہ ختم ہو گیا۔
651 تک طبرستان اور م اور النہر کے سوا ایران کے تمام شہری علاقے عربوں کے زیر تسلط آ گئے خلفاء راشیدین اور امویوں کے بعد ایران عباسیوں کے تحت رہا۔ عباسی خلفاء کا اقتدار کمزور پڑنے سے ایران کے مختلف حصوں میں کئی شاہی سلسلے ابھر آئے ان میں اہم خراسان کے ”طاہری“ ( 821 تا 873 ) سیستان میں ”سفاری“ ( 861 تا 1003 ) اور بخارا کے ”سامانی“ ( 819 تا 1005 ) تھے۔ سامانی حکومت وسطی ایران اور موجودہ پاکستان کے بعض علاقوں تک پھیلی تھی۔ 10 ’ویں صدی کے اوائل سے عباسی خلفاء ایران کے ”بنی بویا شاہی خاندان“ ( 934 تا 1062 ) کے زیر سرپرستی ہو گئے تھے۔ 11 ویں صدی کے وسط میں بنی بویا کی جگہ سلجوق ترکوں نے لے لی
7) سلجوق سلطنت ( 1037 تا 1194 ) سلجوق وسطی ایشیا کے ترک نسل جنگجو خانہ بدوش تھے۔ 1037 اس کے ایک کمانڈر ”طغرل ( 990 تا 1062 ) نے سلجوق سلطنت کی بنیاد رکھی۔ بحیرہ ارل“ کے قریب اپنے وطن سے سلجوق پہلے خراساں پر سے ہو کر فارس کی مرکزی زمین پر قابض ہو گئے۔ اس کے بعد بغداد اور مشرقی اناطولیہ کو فتح کیا۔ اور بغداد کے عباسی خلفاء کے سرپرست بن گئے۔ 1077 میں بازنطینوں کو شکست دے کر ان سے بقیہ اناطولیہ بھی چھین لیا۔
اپنے عروج پر سلجوق سلطنت مغرب میں مغربی اناطولیہ سے لیونت (شام اور لبنان) مشرق میں کوہ ہندوکش اور جنوب میں وسطی ایشیا سے خلیج فارس تک علاقوں پر قابض تھی۔ 1140 کے بعد سے زوال کا شکار ہونے لگی 1194 میں علاوالدین خوارزم شاہ نے سلجوق سلطان کو شکست دے کر ایران میں اس کی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ خوارزم بادشاہت کو قائم ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اسی دوران منگولوں کی یلغار شروع ہوئی
8) منگول تسلط ( 1206 تا 1368 ) 1219 میں منگول سردار چنگیز خان نے مغربی ترکستان، تاجکستان، ازبکستان کے علاوہ افغانستان اور ایران کے بعض حصوں پر مشتمل خوارزم بادشاہت کے خلاف لشکر کشی کی۔ بخارا، سمر قند، اور اس کے پایہ تخت ”اغنچ“ پر قبضہ کر لیا۔ شاہراہ ریشم پر واقع اس کے شاندار شہر ”مروی“ کو جلانے کے علاوہ ہرات، نیشاپور، غزنی، بلخ وغیرہ شہروں کو روندا۔ علا الدین خوارزم شاہ بحیرہ کیسپین کے ایک جزیرے کو فرار ہو گیا (اس کے بعد اس کے بیٹے جلال الدین کے خلاف لڑائیوں میں چنگیز خان نے 1221 میں دریا سندھ (اٹک) تک اس کا تعاقب کیا) ۔
چنگیز خان کے بعد ایران متعدد منگول کمانڈرز کے تحت رہا کچھ عرصے بعد چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے ایران میں اپنی مستقل حکومت قائم کرلی جو ”ایل خانی“ حکومت کہلاتی تھی۔ اس کا دارالحکومت تبریز تھا۔ اگلے 80 سال تک ایران ”الخانی“ حکمرانوں کے تحت رہا۔ ہلاکو خان کے پڑ ہوتے ”غزن“ کے دور ( 1295 تا 1304 ) میں اسلام کو ریاست کا مذہب بنایا۔ اس سلسلے کا آخری بادشاہ ”ابو سعید“ کا ، 1335 ء میں انتقال کے بعد ایران میں طوائف الملوکی کا دور شروع ہو گیا۔ سمر قند سے ابھرنے والے ترک منگول سلسلے کے سفاک جنگجو اور عظیم فاتح ”امیر تیمور“ کی آمد تک ایران منقسم رہا۔
9) تیموری سلطنت 1370 تا 1501 عیسوی) امیر تیمور 1380 میں ایران پر حملہ آور ہوا اور پیشتر ایران کو فتح کر کے ایل خانیوں کا خاتمہ کر کے تیموری سلطنت کی بنیاد رکھی۔ امیر تیمور لنگ ( 1370 تا 1495 ) کی سلطنت ایران کے علاوہ وسطی ایشیا، عراق، افغانستان، سمیت موجودہ روس، ہند، پاکستان، شام اور ترکی کے بعض حصوں تک پھیلی تھی۔ تیمور کے کچھ عرصے بعد اس کی سلطنت تقسیم ہونے لگی تھی۔ 1497 میں بیشتر ایران پر تیموری حکمرانوں کا تسلط ختم ہو گیا تھا۔ تیموری شہزادے وسطی ایشیا میں صرف چھوٹی چھوٹی مقامی امارتوں پر حکمران رہے۔
10 ) صفوی سلطنت 1501 تا 1722 ) تیموری سلطنت کے زوال کے بعد ایران کے سیاسی انتشار کے دوران متعدد مذہبی اور صوفیانہ نوعیت کی تحریکیں ابھریں۔ جن میں ”صفوی قزلباش“ کی تحریک سیاسی لحاظ سے زیادہ با اثر تھی جس کے قائد شاہ اسماعیل اول کا 1501 میں بطور بادشاہ تخت نشین ہونے سے صفوی دور کا آغاز ہوتا ہے۔ اگرچہ ابتدا میں اس کے قبضے میں صرف آذربائیجان کے علاقے تھے تاہم اگلے 10 سال میں اس نے بیشتر ایران کے ساتھ عراق کے ”بغداد“ اور ”موصل“ صوبوں پر بھی قبضہ کر لیا اور بتدریج اس کی وسعت بڑھ گئی۔
220 سال تک قائم رہنی والی اس سلطنت کو عموماً جدید ایرانی تاریخ کا نکتہ آغاز گردانا جاتا ہے۔ اس کے حکمرانوں نے شیعہ مسلک کو ریاستی مذہب قرار دیا۔ جو مختلف نسلی اور لسانی گروہوں کے مابین متحدہ قومی شعور ابھرنے کا بڑا عامل رہا۔ اس کا سب سے کامیاب بادشاہ ”شاہ عباس اول“ تھا۔ جو مغل بادشاہوں اکبر اور جہانگیر کا ہم عصر تھا۔ 1722 کے بعد صفوی بادشاہت انتشار کا شکار ہو گئی۔ اپنے دور عروج میں آج کا ایران آذربائیجان، بحیرین، آرمینیا۔ مشرقی جارجیا۔ شمالی کاکیشیا کے علاوہ روس، عراق، کویت اور افغانستان سمیت ترکی، شام پاکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے بعض حصے صفوی سلطنت کے زیر تسلط تھے
1722 میں قندھار کے افغان بادشاہ محمود غلزئی نے اصفہان پر قبضہ کر کے کئی سال تک افغان تسلط قائم رکھا، 1727 میں صفوی بادشاہت کی بحالی کی کوشش کی گئی مگر یہ پائدار ثابت نہ ہوئی
11 ) نادر شاہی دور۔ 1736 میں صفوی سلطنت کے ترک النسل ”افشار“ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کمانڈر ”نادر قلی بیگ“ نے کم سن صفوی بادشاہ عباس سوم کو تخت سے اتار کر نادر شاہ کے نام سے اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ نادر شاہ بڑا جنگجو فاتح تھا۔ اس کے دور میں ایران وسعت کے لحاظ سے ساسانی دور تک پہنچ گیا تھا۔ تاہم نادر شاہ کے بعد اس کی بیشتر سلطنت ”زند“ ، ”درانی“ ، ”جارجیا اور کاکیشیا“ کی ریاستوں میں تقسیم ہو گئی۔ جنوبی ایران پر 1779 تک ”زند شاہی خاندان“ کی حکومت رہی۔ جبکہ افشاری تسلط خراسان کی مقامی ریاست تک محدود رہ گیا تھا
12 ) قاچار دور 1796 تا 1925۔ انتشار کے اس دور میں قاچار خاندان ابھر آیا جس کے سربراہ محمد خان قاچار نے 1794 میں جنوبی ایران کی زند ریاست کے بادشاہ کو تخت سے اتار کر قبضہ کر لیا اور کاکیشیا کے بڑے حصے پر ایرانی تسلط بحال کیا پھر۔ 1796 میں مشہد پر قبضہ کر کے خراسان کے افشار شاہی خاندان سے تحت چھین لیا۔ طہران کو دارالحکومت بنا کر قاچار سلطنت قائم کر دی اس دور میں ایران میں بیرونی مداخلت بڑھ گئی۔ 1826 تا 1828 تک کی جنگ میں روسیوں نے ایرانیوں سے متعدد علاقے (گرجستان، داغستاں، غاذان اور شیروان) چھین لیے۔
روس کی مزید پیشرفت کو رکنے کے لیے برطانیہ کی مداخلت سے یہاں ”گریٹ گیم“ کی ابتدا ہوئی۔ ناصر الدین قاچار ( 1848 تا 1896 ) قاچار خاندان کا مشہور بادشاہ گزرا ہے۔ اس کے عہد میں ”محمدعلی باب“ نامی ایک شخص نے پیغمبری کا دعوی کیا جس کو 1850 میں ایرانی حکومت نے قتل کیا اور اس کے پیروکاروں کو ایران سے نکال دیا گیا۔ 1858 کے ایک معاہدے کے تحت ناصر الدین نے انگریزوں کو ایران میں تجارتی اور دوسری مراعات دیں۔ جس کے خلاف ایران کے ایک حلقے نے احتجاج شروع کیا جس کو مشہور مفکر اسلام اور رہنما سید جمال الدین کی سرپرستی حاصل تھی۔
1890 کے دہائی میں ایران کے جدت پسند افراد نے ملک میں دستوری حکومت کے لیے خفیہ انجمنیں قائم کرنی شروع کی۔ 1899 میں ناصر الدین شاہ کو ایک ایرانی نوجوان نے قتل کر دیا۔ 20 ویں صدی کے کے ابتدا، میں منتخب اسمبلی کا قیام عمل میں آیا جس کا مقصد آئینی بادشاہت قائم کرنا تھا۔ جنگ عظیم کے دوران ایران کا غیر جانبدار رہنے کے باوجود اس کی علاقائی یکجہتی بیرونی طاقتوں بالخصوص سلطنت عثمانیہ کا ملک کے اہم حصوں پر قبضے سے مزید کمزور پڑ گئی۔
13 ) پہلوی بادشاہت ( 1925 تا 1979 ) جنگ کے بعد 1921 میں ایک فوجی کمانڈر رضا خان نے قاچار خاندان کی حکومت کے خلاف بغاوت شروع کی اور 1925 ء میں قاچار خاندان کے آخری فرمانروا احمد شاہ قاچار کو معزول کر کے رضا شاہ پہلوی کے نام سے خود بادشاہ بن گیا۔ اس کے بعد ستمبر 1941 کو اس کا بیٹا محمد رضا شاہ بادشاہ ہوا، جو نہ صرف پہلوی خاندان کا بلکہ ایرانی تاریخ کا آخری بادشاہ ثابت ہوا۔
14 ) ایران کا اسلامی انقلاب۔ امام خمینی کی قیادت میں شروع ہونے والی سب سے بڑی عوامی تحریک کے نتیجے میں 1979 ء میں انقلاب برپا ہوا جس سے ایران میں بادشاہی حکومت کا خاتمہ اور اسلامی جمہوریہ قائم ہوئی۔

