منسٹر لاج کے مکین


بیگ گلے میں لٹکائے ہوئے نوید صاحب سے گپ شپ کرتے بڑی ذہنی آسودگی اور اس اعتماد کے ساتھ ہوسٹل پہنچے کہ یہاں ہماری رہائش کاشیان ِ ِشان بندوبست کیا ہوا ہو گا۔ آخر کار ایک بڑے گزٹیڈ افسر نے صوبائی دارالحکومت کو اپنی تشریف آوری سے نوازا ہے کوئی مذاق تھوڑی ہے ہوسٹل سپریٹنڈنٹ سے ملے تو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا کہ رہائش کے لیے جگہ ندارد کیوں کہ ہم ایک دن کی تاخیر سے یہاں پہنچے ہیں۔ اس لیے یہاں پر اب رہنے کے لیے جگہ کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

جن فرض شناس اور پابندی وقت کے خوگر ہیڈ ٹیچرز کو یہاں پر رہائش کی سہولت سے مستفیض کیا گیا تھا۔ حالت اُن کی بھی قابل ِ رحم تھی ایک ایک کمرے میں چھ چھ لوگ پھنسے ہوئے تھے۔ کسی کے حصے میں گدا آ گیا تو تکیہ نہیں ملا جس کو تکیہ مل گیا اُسے چادر نہیں ملی ہم آج تک سمجھتے آئے تھے کہ بیڈ کی ٹانگیں چار ہوتی ہیں۔ یہیں پر ہمیں دو دو اور تین تین ٹانگوں والے نابغہ روز گار بیڈز کے دیدار کا بھی شرف حاصل ہوا۔ جن کے ٹوٹے ہوئے پایوں کی جگہ کچی پکی اینٹیں رکھ کر بڑی مہارت کے ساتھ متبادل انتظامات کیے ہوئے تھے۔

ان بیڈز کے اُوپر اُن کے مالکان ایسے ہی بیٹھتے جیسے کہ یٹڑے کی چھلانگ لگانے والا بازی گر۔ یٹڑے کے اوپر بڑی احتیاط اور مہارت کے ساتھ اپنے کرتب دکھاتا ہے۔ اسے اس بات کا شدید احساس ہوتا ہے کہ ذرا سی بھی لاپرواہی اور بے احتیاطی اسے یٹڑے نیچے گرانے کا سبب بن سکتی ہے۔ اُسی طرح یہ لوگ بھی مخصوص پوز سے ہی ان لنگڑے بیڈز پر لیٹ سکتے تھے۔ ان کی ذرا سی بے احتیاطی بیڈ سمیت انہیں فرش نشین کر سکتی تھی۔

مئی کی شدید گرمی میں کمرے میں لگا ہوا واحد پنکھا اپنی طویل العمری پیچیدہ جسمانی عوارض اور دیگر جفتہ و خفتہ کمزوریوں کی بدولت بمشکل ہی آہستہ روی سے اپنی حرکت کو جاری و ساری رکھنے کی سر توڑ کوشش کی بدولت نڈھال سا لگ رہا تھا۔ وہ کمرے کے باسیوں کو صرف اپنی موجودگی کا نفسیاتی سہارا ہی فراہم کر رہا تھا۔ جہاں تک بات ہوا کی تھی تو وہاں وہ ہوا کی بجائے اپنے متحرک رہنے کے لیے کی جانے والی سر توڑ کوشش کے ردعمل میں پیدا ہونے والی حرارت وافر مقدار میں خارج کر رہا تھا۔

یہاں پر عجیب و غریب، افراتفری، نفسانفسی، آپا دھاپی، مایوسی اور یبوست نے پورے ماحول کو اپنے پنجوں میں جکڑ رکھا تھا۔ اطمینان اور سکون جیسے خصائص کسی اور ہی دیس کے باسی لگتے تھے۔ ہم جیسے لوگ اس لیے پریشان تھے کہ اُن کو ہاسٹل میں ٹھہرنے کے لئے جگہ نہیں ملی۔ اور رہائش سے فیض یاب ہونے والے خوش نصیبوں کے اپنے مسائل بھی کچھ کم نہ تھے۔ اسی بھاگ دوڑ میں اسلم بھٹی صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ انہیں ہوسٹل کے مکین ہونے کا باقاعدہ سٹیٹس حاصل تھا اور وہ یہاں پر کمرہ نمبر 10 کے باسی تھے۔

انہوں نے اپنے روایتی انداز میں ہماری رہائش کا گمبھیر مسئلہ چٹکی بجاتے ہی حل کر دیا فرمایا۔ رہائش کا کیا ہے اپنا بیگ ہمارے کمرے میں کسی بیڈ کے نیچے گھسیڑ دو اور خود چل پھر کے میلہ دیکھو۔ جب رات آئے گی تو سونے کا بھی دیکھ لیں گے۔ اُن کی اسی بات سے ہی دل کو بڑی ڈھارس ملی اور حالت کی سنگینی میں یک دم کافی کمی محسوس ہوئی۔ حسب ہدایت اپنے اپنے بیگ اُن کے بیڈ کے نیچے دھکیلنے کے بعد میں اور نوید صاحب کافی ری لیکس ہو گئے۔

نوید بھی ہماری ہی طرح یہاں پر کورس کر رہا تھا۔ بیگ کا بوجھ اترنے کے بعد اوسان کچھ بحال ہوئے تو پتہ چلا کہ بھوک سے پیٹ میں چوہے اور بلیاں دونوں ہی ناچ رہے ہیں۔ صبح چار بجے سے گھر سے نکلے ہوئے تھے اور اب شام کے چار بج چکے تھے۔ اس دوران ایک کھیل تک اڑ کر بھی منہ میں نہیں گئی تھی۔ نوید سے کہا چلو بھائی کہیں سے کھانا تو کھالیں۔ تاکہ کچھ تو توانائی بحال ہو اور آگے والے کڑے وقت کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کر سکیں اور کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہو سکیں۔

جو بظاہر تو ناممکن سی بات لگتی تھی۔ یونیورسٹی سے نکل کر باہر بازار میں آئے اور یہاں پر کھانے کی جو پہلی دکان نظر آئی اس میں جا گھسے۔ یہاں ٹی وی پر ایک پنجابی فلم چل رہی تھی اور پورا ہوٹل ایک سینما ہال بنا ہوا تھا۔ ہوٹل کے سامنے بچھی ہوئی چارپائیوں پر بیٹھ کر خوب پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور خدا کا شکر ادا کیا۔ وہاں سے اٹھے تو باتیں کرتے ہوئے اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے دوبارہ ہوسٹل پہنچ گئے کیوں کہ اس کے علاوہ لاہور میں ہمارے پاس کوئی اور ٹھور ٹھکانہ موجود نہ تھا۔

ہم ایک بار پھر ہوسٹل سپریٹنڈنٹ کی خدمت اقدس میں پیش ہوئے۔ اور اُن سے مودبانہ، فدویانہ اور عاجزانہ درخواست کی کہ حضور ایک عدد کھری چارپائی ہی عنایت ہو جائے تو اُسی پر ہی گزارا کر لیں گے۔ کمال بے نیازی سے فرمایا کہ ہم خواتین کے لیے چارپائیوں کے انتظامات کر رہے ہیں۔ اور ابھی تک دو دو خواتین کے لیے ایک ایک چارپائی کا بندوبست ہو سکا ہے۔ آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتے حالاں کہ ان حالات میں وہ میرے لیے بھی یہی کچھ کر سکتے تھے۔

ایک بہت اچھی تجویز میرے پاس موجود تو تھی لیکن باعثِ اندیشہ ہائے دور دراز بابت دنگا فساد و سر پھٹول خاموشی کو ہی بہتر جانا۔ واپسی پر تنویر سے ملاقات ہو گئی۔ وہ نوید کا جاننے والا تھا اور اسی یونیورسٹی سے ایم ایس سی کر رہا تھا۔ اس کے کمرے میں بیٹھے ڈیڑھ دو گھنٹے تک لگاتار باتیں کرتے رہے اور سگریٹ پھونکتے رہے۔ رات کے دس گیارہ بج رہے تھے نوید مجھ سے بھی زیادہ نالائق تھا وہ تکلف برت رہا تھا نہ تو تنویر کی جان ہی چھوڑ رہا تھا اور نہ ہی اسے اپنا مسئلہ بتا رہا تھا آخر کار اس نے بڑی ہمت سے کام لیتے ہوئے اُسے بتایا کہ ہماری رہائش کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔

وہ اس سلسلے میں ہماری مدد کرے وہ بولا یہ کون سا مسئلہ ہے آپ میرے کمرے میں رہ لیں میں چھت پر جا کر سو لوں گا۔ وہاں پر بڑے بڑے گتے کے ٹکڑے پڑے ہوتے ہیں۔ اُن کو بچھونا اور بازو کو تکیہ بنا کر تقریباً آدھا ہوسٹل وہاں سو رہا ہوتا تھا۔ اگر آپ کو عوام الناس کے ساتھ سونے میں کوئی مسئلہ نہیں تو چھت پر بھی سویا جاسکتا ہے۔ ہوں لیکن ٹھہرو یار آپ ٹھہرے بڑے افسر آپ کے سونے کا انتظام بھی آپ کے شایانِ شان ہی ہونا چاہیے۔

ہم سمجھے کہ شاید خداوندان یونیورسٹی کی طرح وہ بھی ہماری اس مسکین سی افسری کا مذاق اڑا رہا ہے۔ لیکن وہ سنجیدہ تھا اس نے ہمیں ساتھ لیا اور ہوسٹل کے ساتھ ہی بنی ہوئی کنٹین پر چلا آیا۔ یہاں پر ایک بڑی بڑی مونچھوں والا خوفناک سا آدمی کاؤنٹر پر بیٹھا ہوا تھا۔ تنویر کچھ دیر تک اس سے محوِ گفتگو رہا اس کے بعد نامحسوس طریقے سے تنویر کی جیب سے پچاس روپے کا ایک نوٹ خوفناک شخص کی جیب میں منتقل ہو چکا تھا اور اس کی جیب سے کمرے کی چابی تنویر کے ہاتھ میں منتقل ہو چکی تھی۔

اس واردات کے بعد ہم تنویر کے ساتھ واپس ہوسٹل میں آ گئے۔ وہ ہوسٹل کے مین گیٹ کے ساتھ واقع پہلے کمرے کے دروازے کے سامنے رک کر بولا۔ لیجیے جناب آپ کا کمرہ حاضر خدمت ہے یوں سمجھیں کہ یہ کمرہ پرل کانٹی نینٹل ہوٹل سے اُٹھا کر یہاں محض آپ لوگوں کی سہولت کی خاطر لایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ہمیں کچھ کہنے سننے کا موقع دیے بغیر تالا کھول کر کمرے میں داخل ہو گیا۔ جونہی ہم کمرے میں داخل ہوئے تو ایک دم ایک جھٹکا سا ہوا اور یوں لگا کہ جیسے ہم کسی اور ہی دنیا میں آ گئے ہیں۔

اس کمرے کا خوابناک اور عروسی ماحول کسی بھی طور پر باہر کے یبوست زدہ اور منحوس ماحول سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ سب سے پہلے تو یہاں لگے ہوئے ائر کنڈیشنر کی گرل نے تالیاں بجا کر ہمارا استقبال کیا جہازی سائز کا موٹے موٹے گدوں والا سنہری پلنگ دیدہ و دل فرش راہ کیے ہمیں دعوت خواب و خیال سے فراز کر رہا تھا۔ پورا کمرہ اس طرح سجایا گیا تھا جس طرح کسی دلہن کے لیے سجایا جاتا ہے۔ ہر چیز آرائشی اور نمائشی معلوم ہو رہی تھی۔

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا (اے سی کی ) کے جھونکے ہمیں اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ یہ کمرہ یہاں پر کیسے آ گیا یہ کس کا ہو سکتا ہے ہم ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ تنویر بولا یہ کمرہ وزیر ِ تعلیم پنجاب کے قبضے میں ہے۔ کبھی کبھار اس کے مہمان وغیرہ یہاں آ کر ٹھہر جاتے ہیں لیکن آپ بے فکر ہو کر سو جائیں اِس کی چابیاں ہمیشہ اس مونچھوں والے کے پاس ہی ہوتی ہیں۔ اول تو ادھر آتا کوئی نہیں اور اگر کوئی بھولا بھٹکا آ بھی نکلا تو نہ ہی اسے مونچھوں والا ملے گا اور نہ ہی چابیاں ملیں گی اس لیے آپ بے فکر ہو کر سو جائیں۔ سارے دن کے تھکے ماندے اس آرام دہ اور لچک دار بیڈ پر گرتے ہی ہم نیند کی گہری وادیوں میں اتر گئے۔ لیکن نیند کی ان گہری وادیوں میں بھی ہمیں پولیس، ہتھ کڑیاں، حوالات، عدالت اور ایسی ہی دیگر چیزیں بھی دکھائی دیتی رہیں۔

Facebook Comments HS