گلگت بلتستان کا سیاسی و آئینی بحران اور اس کا حل


گلگت بلتستان اگر پچھتر برس کے بعد بھی آئینی و سیاسی حقوق سے محروم ہے تو اس میں جہاں وفاق کی کمزوریاں ہیں وہاں گلگت بلتستان کی سیاسی و مذہبی قیادت کی ناقابل معافی غلطیاں ہیں، ایک خالص سیاسی قانونی و آئینی مسلے کو جہاں مذہبی رنگ دے کر ایک ایسا جال بنا گیا کہ پچھتر برس گزرنے کے بعد بھی ہے جال کھل نہ سکا وہاں چند سیاسی بو نے صرف اپنے مفادات کے لئے قوم کی سمتیں اپنی منشا کے مطابق تبدیل کرتے رہے۔

روز اول سے ایک سیاسی و آئینی مسلے کو سیاسی و آئینی طریقوں سے حل کرنے کے بجائے مذہبی و مسلکی قیادت کے ہاتھ میں دے دیا گیا، مذہبی قیادت کی طرف سے دو مطالبے سامنے آئے ایک فریق نے اس علاقے کو صرف مذہبی مفادات کی عینک سے دیکھتے ہوئے کہا کہ پانچواں صوبہ بننا چاہیے جبکہ دوسرے فریق نے اس کے رد عمل میں کہا کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے لہذا کشمیر کے ساتھ الحاق کیا جائے، دیکھا جائے تو دونوں مطالبات کا پس منظر صرف مذہبی و مسلکی ہے، ان دونوں مطالبات کا پس منظر اگر سیاسی و آئینی ہوتا تو شاید حل نکل آتا اور آج ہماری نوجوان نسل مایوسی کی دلدلوں میں نہ دھنستی۔

پانچ اگست دو ہزار انیس کو جب بھارت نے جموں کشمیر کی مخصوص حیثیت ختم کر کے اپنا حصہ بنایا تو گلگت بلتستان سے آوازیں آنی شروع ہوئیں کہ اگر بھارت ایسا کر سکتا ہے تو پاکستان ایسا کیوں نہیں کر سکتا ہے، بظاہر یہ آسان سا سوال ہے لیکن حقائق کی عینک لگا کر اس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے تو ایک ایسی گنجلک گتھی سامنے آتی ہے جسے پاکستان کھول بھی نہیں سکتا ہے اور مکمل بند بھی نہیں کر سکتا ہے۔

جب بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر کا آغاز ہوا تو اس وقت کی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں شاید یہ فیصلہ درست تھا کہ ڈوگروں سے بنا کسی کی مدد کے آزادی حاصل کرنے والے بتیس ہزار مربع میل والے گلگت بلتستان کو صرف اس لالچ میں مسئلہ کشمیر کے ساتھ جوڑا گیا کہ کل کلاں جب اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں رائے شماری ہوگی تو گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کے حق میں ووٹ دیں گے بظاہر اس وقت رائے اچھی تھی لیکن شاید اس وقت کی قیادت کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اقوام متحدہ عالمی عالمی تنازعات کو ختم کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ استعمار اور طاقت ور ملکوں کے مظالم کو تحفظ دینے والا ایک کلب ہے۔ آج کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ایک نہ صرف احمقانہ فیصلہ تھا بلکہ ایک ظالمانہ فیصلہ تھا کہ ایک ایسی قوم جس نے اپنی جد و جہد سے آزادی حاصل کی تھی کو ایک ایسے خواب کی تعبیر کے انتظار میں لگا دیا گیا جس کی تعبیر پچھتر برس گزرنے کے بعد بھی

ہنوز دلی دور است کے مصداق کہیں نظر نہیں آ رہی ہے۔

ستم در ستم یہ کہ پاکستان کی کل سیاسی قیادت اور گلگت بلتستان کی اکثریتی قیادت کو گلگت بلتستان اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت اور پاکستان کے بنیادی موقف کا بھی ادراک نہیں، سیاسی قیادت تو کجا ہماری اعلی عدالتی قیادت بھی اس مسلے کی باریکیوں سے نابلد ہے، گزشتہ دنوں چیف جسٹس آف پاکستان نے ایک کیس کے دوران ریمارکس دیے کہ پاکستان یک طرفہ گلگت بلتستان مین رائے شماری کرائے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پاکستان یک طرفہ رائے شماری نہیں کر سکتا ہے، رائے شماری کے لئے پاکستان نے پہلے اپنی فوجیں نکالنی ہیں اور اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری ہوگی۔

دوسرا جو سوال پانچ اگست دو ہزار انیس کے بعد گلگت بلتستان کے لوگوں بالخصوص نوجوانوں میں پیدا ہوا وہ یہ ہے کہ اگر بھارت نے جموں کشمیر کو اپنی اکائی بنایا ہے تو پاکستان گلگت بلتستان کو اپنی اکائی کیوں نہیں بنا سکتا ہے، اس کا سادہ سا جواب ہے کہ پاکستان اور بھارت کا روز اول سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بنیادی موقف یکسر مختلف ہے بھارت روز اول سے جموں کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ جموں کشمیر اور گلگت بلتستان متنازعہ علاقے ہیں اور ان علاقوں کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کے قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق رائے شماری سے ہونا ہے، اب اگر پاکستان گلگت بلتستان کو اپنی مستقل اکائی بنائے تو مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف نہ صرف سرے سے ختم ہوتا ہے بلکہ کشمیریوں کی پچھتر برسوں سے دی گئیں قربانیاں بھی دفن ہوں گی یہ ہے وہ مجبوری جس کی بنا پر پاکستان وہ قدم نہیں اٹھا سکتا ہے جو بھارت نے اٹھایا ہے۔

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک گلگت بلتستان کے لوگ سیاسی، آئینی اور بنیادی حقوق سے محروم رہیں گے؟ یہ ہے وہ سوال جس کا جواب تلاش کرنے کے لئے گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی حکومت میں ان کی کاوشوں کی بدولت سرتاج عزیز کمیٹی کی شکل میں ایک سنجیدہ کوشش کا آغاز کیا گیا اور ایک ایسی دستاویز ترتیب دی گئی جس پر گلگت بلتستان کے تمام سٹیک ہولڈر نے اتفاق کیا۔

اگست 2015 ء کو گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی کہ ”گلگت بلتستان کو پاکستان کے صوبے کا درجہ دیا جائے۔“ اکتوبر 2015 ء میں وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت بلتستان کی آئینی اور انتظامی حیثیت جانچنے کے لیے سرتاج عزیز کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی جو کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آئینی اور انتظامی اصلاحات کے لئے تجاویز دے۔ گلگت بلتستان کمیٹی میں اس وقت کے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف، خواجہ ظہیر احمد ایس اے پی ایم، حافظ حفیظ الرحمن وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد، عابد سعید (سیکرٹری اے کے، جی بی) طاہر حسین (سی ایس جی بی) اور میجر جنرل شمشاد شامل تھے جبکہ ڈاکٹر ایم فیصل (ڈی جی ساؤتھ ایشیاء) نے کمیٹی کے سیکرٹری کی حیثیت سے کام کیا۔

تاریخی دستاویزات کے بنظر غائر مطالعہ کے بعد کمیٹی نے 17 مارچ 2017 ء کو 93 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کی جس میں درج ذیل سفارشات کی گئی تھیں۔ (i) عوامی امنگوں کے عین سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو عارضی طور پر صوبے کا خصوصی درجہ دیا جائے۔ (ii) آرٹیکل 1 میں ترمیم کی بجائے بالترتیب آرٹیکل 51 اور 59 میں آئینی ترامیم کے ذریعہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں گلگت بلتستان کو نمائندگی دے کر اس انتظام کو باضابطہ بنایا جاسکتا ہے۔

(iii) چونکہ قومی اسمبلی میں نمائندگی آخری سرکاری مردم شماری پر مبنی ہوگی، لہذا گلگت بلتستان تین خصوصی نشستوں کا حقدار ہو گا، تینوں ڈویژنز میں سے ایک یعنی گلگت، بلتستان اور دیامر۔ ایک اضافی خواتین نشست بھی شامل کی جا سکتی ہے، جس کا انتخاب گلگت بلتستان اسمبلی کے ذریعہ کیا جائے گا۔ یہ آرڈر صدر آرٹیکل 258 کے تحت جاری کر سکتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 51 ( 4 ) میں مندرجہ ذیل ترمیم کو شامل کر کے ان نشستوں کی فراہمی کی جا سکتی ہے۔

(iv) سینیٹ میں جی بی کے لئے تین خصوصی نشستیں تشکیل دی جا سکتی ہیں، ہر ایک ڈویژن کے لئے ایک ’آرٹیکل 59 میں مناسب ترمیم کے ذریعے۔

(v) جی بی اسمبلی کو دیگر صوبائی اسمبلیوں کے برابر لانے کے لئے، آئین کے آرٹیکل 142 میں درج اور اس کے چوتھے شیڈول کے علاوہ، تمام قانون سازی مقاصد مقررہ انداز میں، گلگت بلتستان اسمبلی اور کونسل کو تفویض کیا جاسکتا ہے۔ (vii) اسی ایگزیکٹو اختیارات کے ساتھ گلگت بلتستان حکومت کو تمام بلدیاتی اداروں جیسے این ای سی، این ایف سی اور آئی آر ایس اے میں خصوصی دعوت نامے دے کر نمائندگی دی جا سکتی ہے۔

vii) ) اس کے ساتھ ہی نچلی سطح پر تمام خدمات کی فراہمی کے لئے جلد از جلد گلگت بلتستان میں ایک مضبوط بلدیاتی نظام قائم کیا جائے۔

وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ، اگست 2017 میں، شاہد خاقان عباسی نے ان سفارشات پر غور کرنے کے لئے متعدد اجلاس کیے۔ اس عمل کا اختتام ایک نئے ”گورنمنٹ گلگت بلتستان آرڈر 2018“ میں ہوا، جسے مئی 2018 میں نافذ کیا گیا تھا۔ اس آرڈر کے تحت تیسرے شیڈول میں اسمبلی کے اختیارات دوسرے صوبوں کے ساتھ یکساں طور پر لائے گئے تھے، این ای سی، این ایف سی اور آئی آر ایس اے جیسے تمام قانونی اداروں میں جی بی کو نمائندگی دی گئی۔

سول سروس اصلاحات میں جی بی کے لئے ترقیاتی فنڈز کی مختص رقم میں نمایاں اضافے کے علاوہ دیگر صوبوں کو دستیاب ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے اختیارات کے علاوہ، تمام متعلقہ وفاقی اداروں میں جی بی کو نمائندگی دینے کی بھی منظوری دی گئی۔ چونکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی میعاد 31 مئی 2018 کو ختم ہونے والی تھی، اس لیے پاکستان کی پارلیمنٹ میں جی بی کے لوگوں کو نمائندگی دینے کے لیے آئین کے آرٹیکل 51 اور 59 میں ترمیم شدہ آخری ضرورت پر عمل درآمد ممکن نہیں تھا۔

اس طرح، جی بی کو عارضی طور پر ایک صوبے کا خصوصی درجہ فراہم کرنا۔ جی بی کمیٹی کی دیگر تمام سفارشات کو جی بی آرڈر 2018 کے ذریعے لاگو کیا گیا تھا۔ سفارشات پیش کرتے ہوئے، جی بی کمیٹی، جس نے اپنے ٹی او آر نمبر (iii) میں ضرورت کے مطابق، کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مضمرات پر خصوصی توجہ دی تھی۔ اسی لئے اس نے آرٹیکل 51 اور 59 میں ترمیم کی سفارش کی تھی کہ وہ پاکستان پارلیمنٹ میں جی بی کو خصوصی نشستیں

دیں لیکن آرٹیکل 1 میں نہیں جس میں وفاق کی تشکیل کو بیان کیا گیا ہے۔

بدقسمتی سے، اگلے دو سالوں میں اس اہم مسلے کو وہ توجہ نہیں ملی جس کا وہ مستحق تھا۔ جولائی 2018 میں، جی بی اپیلٹ کورٹ نے جی بی آرڈر 2018 کو ایک طرف رکھ دیا اور جی بی سیلف گورننس آرڈر 2009 کو بحال کر دیا۔ لیکن اس فیصلے کو سپریم کورٹ نے 3 دسمبر 2018 کو معطل کر دیا تھا۔ ایپیکس عدالت نے وفاقی حکومت کو بھی تجویز پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارش کی بنیاد پر جی بی کی حکمرانی کے لئے تازہ مسودہ آرڈر۔

اس کے مطابق ایک نیا مسودہ ”جی بی گورننس ریفارم آرڈر 2019“ سپریم کورٹ میں پیش کیا گیا تھا جس نے اس کی منظوری 17 جنوری کو دی تھی اور وفاقی حکومت سے فوری کارروائی کے لئے مزید کہا گیا تھا۔ 16 فروری 2019 کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے بعد کے اجلاس میں، اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جی بی ریفارم آرڈر 2019 کو پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے نافذ کرنا ہو گا۔ اس مقصد کے لئے اے کے اور جی بی کے وزیر کے ماتحت ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔

تاہم، وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کی سربراہی میں بنی اس کمیٹی نے سوائے اجلاس اجلاس کھیلنے کے کوئی عملی کام نہیں کیا مزید ستم کہ، 2019۔ 20 میں جی بی کے لئے ترقیاتی مختص فنڈ میں ایک تہائی کمی کی گئی تھی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے وفاقی قانونی اداروں میں جی بی کو نمائندگی دینے کے لئے شروع کردہ عمل کو بھی معطل کر دیا گیا تھا۔

2020 میں، جی بی کے انتخابات کا وقت قریب آتے ہی، تحریک انصاف کی حکومت کو احساس ہوا کہ جی بی کو صوبے کا عارضی درجہ دینے کا باضابطہ اعلان ان انتخابات میں حکمران جماعت کو کافی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے آرمی چیف سے تمام پارٹی رہنماؤں کا اجلاس بلانے اور انہیں اس کام میں تعاون کرنے پر راضی کرنے کی درخواست کی۔ آرمی چیف کے ساتھ اس ملاقات میں، دونوں اہم اپوزیشن جماعتوں نے جی بی کو صوبے کا عارضی درجہ دینے کے لئے حمایت کا اظہار کیا لیکن اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جی بی انتخابات کے بعد مطلوبہ قانون سازی اور دیگر اقدامات کیے جائیں۔

لیکن جیسے ہی گلگت بلتستان میں انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو، مقتدر اداروں نے اس امید میں بھان متی کا ایک کنبہ جوڑ کر حکومت بنا کر دی اور عمران خان سے کہا گیا کہ گلگت بلتستان کو سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں تا تصفیہ کشمیر عبوری آئینی صوبے کا درجہ دینے کے لئے پارلیمنٹ میں بل لائیں تو عمران خان نے مقتدر اداروں سے نیا مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر میں بھی تحریک انصاف کی حکومت بنا کر دی جائے تاکہ آزاد کشمیر سے گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کے لئے حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے، مقتدر اداروں نے عمران خان کی یہ خواہش بھی پوری کر دی اور پھر اداروں کی طرف سے کہا گیا کہ اب تو آپ کے تمام مطالبات پورے ہو چکے ہیں اب پارلیمنٹ میں بل لائیں عمران خان کا جواب آیا کہ میں اپنے نام کے ساتھ کشمیر فروش کا ٹیگ لگانا نہیں چاہتا، ایسے میں گلگت بلتستان کا سیاسی و آئینی مستقبل ایک دفعہ پھر عمران خان کی انا اور خواہشات کی بھینٹ چڑھ گیا۔

اب پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے میں حل کیا ہے تو اس کا جواب ہے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ متفقہ دستاویز سرتاج عزیز کمیٹی کی شکل میں موجود ہے اس پر عمل کرنے کے لئے گلگت بلتستان کی سیاسی قیادت بھانت بھانت کی بولیاں بولنے کی بجائے متفقہ طور پر وفاق کے سامنے مطالبہ رکھے کہ اول تو گلگت بلتستان کو تا تصفیہ کشمیر عبوری آئینی صوبہ بنایا جائے اگر یہ ممکن نہیں تو کم از کم آرڈر دو ہزار اٹھارہ کو ایکٹ آف پارلیمنٹ بنایا جائے تاکہ آئے روز وفاق کی طرف سے آنے والے آرڈروں سے خلاصی ہو، اگر یہ بھی ممکن نہیں کہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں اس پر بحث نہیں کی جا سکتی ہے تو وزیر اعظم پاکستان گلگت بلتستان اسمبلی اور گلگت بلتستان کونسل کا مشترکہ اجلاس طلب کریں اور اس مشترکہ اجلاس میں اگر آرڈر دو ہزار اٹھارہ میں مزید کار آمد اصلاحات کرنی ہیں تو وہ بھی کر کے منظوری دی جائے، اس طرح گلگت بلتستان میں بھی آزاد کشمیر کی طرح ایک ایکٹ نافذ ہو گا تو یہاں کے لوگوں کا احساس محرومی دور ہو گا


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).