تقسیم کرو اور حکومت کرو


یہ بات عام سننے کو ملتی ہے کہ انگریز نے بر عظیم پاک و ہند میں ”Divide and Rule“ یعنی تقسیم کرو اور حکومت کرو ”کی بنیاد پر پورے پاک و ہند پر حکومت کی۔ لیکن جب ہم اپنے موجودہ دور میں پاکستان کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہم نے انگریز سامراج سے بظاہر تو آزادی حاصل کر لی ہے لیکن کیا ہم نے اس کی پالیسیوں سے بھی آزادی حاصل کی کہ نہیں جس کی بنیاد پر اس نے پاک و ہند پر حکومت کی۔ کیا یہ سسٹم جس میں ہم اپنی زندگی گزار رہے ہیں کسی حکمت عملی پر چل رہا ہے۔ ہم اپنے ماضی کے بارے میں تو بہت علم رکھتے ہیں کہ قوم کو کیسے غلام بنایا گیا اور کیسے حکومت کی گئی۔ کیا ہم آج کے اس ظالمانہ ‏سسٹم کی حکمت عملی سے بھی واقف ہیں کہ نہیں۔ آج سسٹم نے ہمیں انتشار میں مبتلا کر رکھا ہے۔ کبھی اس قوم کو سیاست کے نام پر لڑایا جاتا ہے کہ ایک ہی سسٹم کے آلہ کار مختلف حصوں میں تقسیم ہو کر پوری قوم کو اس بات پر لڑواتے ہیں کہ میرا گروہ زیادہ ٹھیک ہے۔ حالانکہ تمام سیاسی گروپ اسی سسٹم کے لانچ کردہ اور آزمائے ہوئے ہیں۔ لیکن پھر بھی شعور سے عاری قوم سیاسی انتشار میں مبتلا ہے۔ اور اپنے سیاسی رہنما کی خاطر مرنے مارنے تک پہنچ جاتے ہیں۔

اس سسٹم کی دوسری حکمت عملی مذہبی فرقہ واریت پھیلانا ہے۔ ہر گروپ نے اپنے اپنے مفاد کی خاطر مذہب کو اپنے طریقے سے بیان کیا ہوا ہے۔ اور لوگوں کو آپس میں مذہب کے نام پر اس طرح لڑا دیا گیا کہ لوگ اپنے مذہبی گروپ کے علاوہ باقی تمام لوگوں پر کفر کے، دوزخ کے فتوے لگاتے نظر آتے ہیں۔ اور خدا کے گھر کو اس قدر تقسیم کر دیا کہ کوئی دوسرا ان کی عبادت گاہ میں داخل بھی نہیں ہو سکتا۔ یہ مذہبی انتشار کی حکمت عملی ہے۔

اس سسٹم کی تیسری حکمت عملی زبان کی بنیاد پر انتشار ہے۔ ہر صوبے کے لوگ اپنی مادری زبان کو دوسرے صوبوں کی مادری زبان پر فوقیت دیتے نظر آتے ہیں۔ جس کی بنیاد پر آئے روز ہم اپنے تعلیمی اداروں میں زبان کی بنیاد پر طلباء کو لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ ہر زبان کی اپنی اہمیت ہے۔ لیکن سسٹم نہیں چاہتا کہ لوگ ان چیزوں سے نکل کر اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہوں۔

کیونکہ جب قوم آپس میں مختلف بنیادوں پر انتشار میں مبتلا ہو گی تو سسٹم کو ان پر حکومت کرنے میں اتنی ہی آسانی ہو گی۔

معزز قارئین میرا اگلا کالم اس موضوع پر ہو گا کہ آخر ”سسٹم“ کیا ہے۔

Facebook Comments HS