افغانستان کو اینٹ کا جواب پتھر سے


کیا افغانستان اور پاکستان میں طبل جنگ بج چکا؟ کیا پاکستانی فوج اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان جاری غیر علانیہ جنگ ایک مکمل جنگ میں بدل چکی ہے؟ یہ دونوں سوال آج پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ کچھ دشمن ممالک تو اس پیش رفت پر جشن مناتے نظر آتے ہیں۔ اور دوسری طرف چائنہ جیسے دوست ممالک جو پاکستان اور افغانستان میں بڑی سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں اس موقع پر کافی افسردہ ہیں۔ حالانکہ حال ہی کی بات ہے جب طالبان کے قابل فتح کرنے پر اعلٰی سویلین اور عسکری قیادت سمیت پوری پاکستانی قوم جشن منا رہی تھی۔

آخر ایسا کیا ہوا کہ آج دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ یقیناً، ہمیں اس سوال کے جواب کے لئے پاک افغان تعلقات کی نوعیت اور ماضی کی تاریخ سے آگاہی حاصل کرنا ہوگی۔ حقیقت تو یہ ہے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا آغاز کافی تلخ تھا۔ افغانستان تو وہ ملک تھا جس نے پاکستان کے وجود کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے نہ صرف پاکستان کی یونائیٹڈ نیشن میں ممبر شپ کی مخالفت کی۔ بلکہ دعوی کر دیا کہ برٹش امپائر کی طرف سے وراثت میں چھوڑی گئی پاک افغان سرحد ڈیورنڈ لائن کی کوئی حیثیت نہیں۔ اور کہا کہ برٹش نے پاکستان میں موجود پشتون علاقوں کو افغانستان سے زبردستی چھینا تھا اس لئے پاکستان ان کو واپس کرے۔ یا پھر پشتون علاقوں میں پشتونستان کے نام سے ایک آزاد مملکت تشکیل دی جائے۔

یوں تو 1947 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد پاکستان بے شمار مسائل سے گھرا ہوا تھا۔ مگر ایک طرف پشتونستان اور گریٹر بلوچستان کے نعرے اور دوسری طرف انڈیا کے ریاست کشمیر، جونا گڑھ اور حیدر آباد پر زبردستی قبضہ کے بعد ایک ایسی خوف کی فضا پیدا ہوئی کہ جس کے اثرات آج تک ریاست پاکستان پر موجود ہیں۔

اسی خوف اور غیر یقینی کی وجہ سے پاکستان میں مستقبل کی تمام پالیسیاں سیکورٹی مقاصد کی غرض سے تشکیل پانے لگی۔ جس سے پاکستان کے عسکری اداروں کا فیصلہ سازی میں کردار اس قدر بڑھ گیا کہ پاکستان کے مستقبل کی سمت کے تعین تک کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں آ گیا۔ اور پاکستانی عسکری قیادت کا خیال تھا کہ پاکستان کے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے افغانستان میں ایک دوستانہ حکومت کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ ایسی حکومت جو نہ صرف پاک افغان سرحدی لائن کو تسلیم کرے۔ بلکہ پشتونستان کا نعرہ لگانے والوں کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے نہ دے۔ اور اسی سوچ کے پس منظر میں پاکستان کے عسکری سرکل میں اسٹریٹجک ڈیپتھ کے نام سے ایک پالیسی پروان چڑھی۔ جس کا مقصد افغانستان میں ایک ایسی حکومت کو لانا تھا جس میں انڈیا کا کوئی کردار نہ ہو۔ دراصل، بیک وقت مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر مخالفانہ فورسز کا بیٹھا ہونا پاکستانی ملٹری کے لئے ایک ڈراؤنا خواب تھا۔

ان کا خیال تھا انڈیا افغانستان سے گٹھ جوڑ کر کے پاکستان کو محاصرہ میں لے سکتا ہے۔ اسی ڈراؤنے خواب سے بچنے کے لئے پاکستان نے افغانستان میں کبھی انقلابی جنگجوؤں کو سپورٹ کیا اور کبھی افغان مجاہدین کے لئے اپنے دروازے کھول دیے۔ اور بلکہ 1996 میں بننے والی طالبان کی حکومت مکمل طور پر پاکستان کے مرہون منت تھی۔ پاکستان، سعودی عرب اور یو اے ای وہ واحد حکومتیں تھیں جنہوں نے طالبان کی اس دور کی حکومت کو تسلیم کر رکھا تھا۔

مگر 9 / 11 کے بعد امریکہ کے پریشر میں آ کر پاکستان کو وقتی طور پر طالبان کی حمایت سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ مگر پاکستان میں موجود فیصلہ سازوں کو افغان سرزمین کے زمینی حقائق کا بخوبی ٰعلم تھا۔ ان کو ادراک تھا کہ آخر ایک نہ ایک دن تو امریکہ کو افغانستان سے نکلنا ہی نکلنا ہے۔ ویسے بھی امریکہ کی ایما پر چلنے والی حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتوں میں انڈیا کا اثر و رسوخ اس قدر بڑھ گیا تھا کہ وہ پاکستان کے سرحدی علاقوں پر آ کر بیٹھ چکا تھا۔

اس لیے پاکستان نے طالبان کی خاموش حمایت جاری رکھی۔ اور بالآخر 2021، اگست 14 کا دن آ پہنچا جب کابل پر طالبان کی فتح کا پرچم لہرا رہا تھا۔ اور امریکہ کو بری طرح شکست کھا کر راتوں رات افغانستان سے بھاگنا پڑا۔ یقیناً، اس موقع پر پاکستان کے سرکاری اور غیر سرکاری محفلوں میں جشن کا سماں تھا۔ پاکستان نے نہ صرف طالبان کی حکومت کو کھلے دل سے تسلیم کیا بلکہ اس کی بھر پور سفارتی اور مالی مدد بھی کی۔ دوحہ معاہدہ سے لے کر امریکی فوجیوں کے انخلا تک پاکستان طالبان کے ساتھ کھڑا رہا۔

دراصل، پاکستان طالبان سے توقعات لگائے بیٹھا تھا کہ ان کے افغانستان میں اقتدار میں آنے کے بعد افغان سرز مین پاکستان میں دہشتگردی کے لئے استعمال ہونا بند ہو جائے گی۔ مگر افسوس اس کے برعکس، آج پاکستان میں دہشتگردی پہلے سے کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردوں کے ہاتھوں پاکستان کے معصوم شہریوں اور سیکورٹی فورسز کے نوجوانوں کی شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اور ٹی ٹی پی تو امریکہ کے چھوڑے گئے جدید اسلحہ اور امریکی جیلوں سے رہائی پانے والے دہشتگرد قیدیوں کی وجہ سے پہلے سے کافی مضبوط اور مستحکم ہو چکی ہے۔

آج متعدد دہشتگرد گروپ مثلاً ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار، حافظ گل بہادر اور بہت سے بلوچ عسکریت پسند گروپ مکمل آزادی سے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ اور پاکستانی فضائیہ کا افغان سرزمین پر براہ راست جا کر حملہ اس بات کی نوید سناتا ہے کہ اب پاکستان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ پاکستان کے مذہبی، عسکری اور سویلین رہنما بار بار کابل کا چکر لگا تھک چکے ہیں۔ اب پاکستانی فیصلہ سازوں کے رویہ سے لگتا ہے کہ وہ فیصلہ کر چکے ہیں افغانستان سے ہر آنے والی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا

 

Facebook Comments HS