مسکرایا کریں صدقہ جاریہ سمجھ کر
آج بازار جاتے ہوئے ایک عجب خیال آیا کہ رستے پہ آتے جاتے، ٹھیلوں دکانوں پہ کھڑے چہروں پہ اک نظر ڈالی جائے اور گنتی کی جائے کہ کتنے چہروں پہ مسکراہٹ یا خوشی کے تاثرات ہیں۔ ( یہ کوئی افطار سے دو گھنٹے قبل کا وقت تھا۔ میں اس وقت عموماً پانچ کلو میٹر تک واک کرتی ہوں۔ صبح آرڈر بناتے ہوئے معلوم ہوا کہ کچھ ضروری سامان آؤٹ آف سٹاک ہے۔ جو دو ہفتے پہلے آن لائن آرڈر کیا تھا مگر تاحال موصول نہیں ہوا۔ سوچا شام میں بازار جا کے ایک دو چیزیں سامان آنے تک خرید لاؤں۔ واک بھی ہو جائے گی اور کام بھی چل جائے گا)
تو بات ہو رہی تھی مسکراتے اور پر طمانیت چہروں کی گنتی کی۔ تقریباً ہر نوع و اقسام کے لوگ رستے پہ موجود تھے۔ بوڑھے، جوان، بچے، امیر، غریب، مرد، عورت، مخنث، سینکڑوں چہرے ٹٹولے۔ اور سارا رستہ اسی تلاش میں کٹ گیا کہ کوئی ہنستا مسکراتا چہرہ دکھ جائے۔ مگر ان سینکڑوں چہروں میں کوئی اک ایسا نہ دکھا جس پہ خوشی تک کا شائبہ جائے۔ ہر چہرہ تنا ہوا، افسردہ اور مضمحل۔ حتی کہ بچے بھی سپاٹ چہرے لیے ہوئے۔ (ظاہر ہے اس کے پیچھے بہت سے معاشی و معاشرتی عوامل کار فرما ہوں گے ) تب میں نے اپنے چہرے کے مسلز کو محسوس کرنے کی کوشش کی۔ آہ وہ بھی تو تنے ہوئے تھے۔
اس مشاہدے کا خیال غالباً مجھے ورلڈ ہیپیئسٹ سٹیٹس (خوش ترین ممالک) کی لسٹ دیکھ کے آیا۔ جو کچھ روز قبل فیسبک پہ سکرولنگ کرتے ہوئے نظروں سے گزرا تھا جس میں فن لینڈ دنیا کا ہیپیئسٹ ملک قرار دیا گیا۔ یہاں بہت سارے عوامل ہیں جو فن لینڈ کو ہیپیئسٹ سٹیٹ بناتے ہیں۔ وہ عوامل جو فرد کے اپنے بس میں ہیں اگر انہیں دیکھا جائے تو ان میں سے ایک بڑی وجہ مثبت رویہ ہے۔ فنش لوگ جو ہے جیسا ہے جہاں ہے کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوئے اپنے حصول پہ مسلسل توجہ رکھتے ہیں۔ اور معاشرتی طرزعمل میں اپنے ساتھیوں کے لیے معاون و مددگار ہوتے ہیں۔ فن لینڈ کی کہاوت ہے کہ خوشی بہت زیادہ اور بہت کم کے درمیان کی جگہ ہے یعنی اعتدال پسندی خوشی کا نام ہے۔
یہ ایسے اصول ہیں جنہیں اپنانے کے لیے اپنی ذات پہ قابو رکھنا پڑتا ہے۔ اور روزمرہ کے معمولات میں مثبت رویہ اپنانا پڑتا ہے۔ اور یہ مثبت رویہ ہماری اپنی ذات سے ہوتا ہوا ہم سے جڑے سبھی رشتوں کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ مگر یہاں حقیقی زندگی سے لے کر سوشل میڈیا تک، اک عام بندے سے نام نہاد سکالرز تک، دانشور، لبرل، فیمینسٹ، شاونسٹ، مولانا و واعظ ہر بندہ شتر بے مہار کی طرح ہے۔ کوئی کسی کے لکھے حروف کو اپنی سوچ کے معانی پہنانے پہ مصر ہے تو کوئی کسی کے خال و خد لے کے پریشان۔ کہیں کسی کی حرکات و سکنات پہ پھبتی کس رہا تو کہیں اشیاء خیرات و صدقات پہ بحث چل رہی۔ ہر طرف شدت پسندی کا راج ہے چاہے یہ مذہبی رویے ہوں یا سماجی۔ ہمارے ہر عمل میں شدت جھلکتی ہے۔ جبھی ہر چہرہ ایک الجھن کا شکار ہے اور خوبصورت احساس سے عاری ہے۔
مسکراہٹ و خوشی اک چہرے سے دوسرے چہرے تک سفر کرتی ہیں۔ یہ اک کڑی در کڑی سلسلہ ہے۔ جو اک صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو بھی اس فطری احساس سے محروم کرتے جا رہے ہیں
مسکرایا کریں صدقہ جاریہ سمجھ کر۔

