ٹلہ جوگیاں کا جوگی


ایک خوبصورت پہاڑی راستہ، بل کھاتا، گھومتا گھماتا اوپر ہی اوپر چلتا جا رہا ہے، ہر طرف قدرت کے حسین نظارے سر چڑھ کر بول رہے ہیں، انواع و اقسام کے پرندوں کی آوازیں، جن میں موروں کی آواز سب پر حاوی کسی راگنی سے کم محسوس نہیں ہو رہی، پہاڑوں سے ٹکراتی ہلکی ہلکی ہوا کی سرسراہٹ میں لکڑی کے کھڑاؤں کی آواز میرے علاوہ وہاں موجود انسانوں کی موجودگی کا پتہ دے رہی ہے۔

چلتے ہوئے مختلف مقامات پر چھوٹے چھوٹے پانی کے پھوٹتے چشمے، جو جنگلی جانوروں، پرندوں اور اس راستے پر چلنے والے انسانوں کے لیے میٹھے پانی کا ذریعہ ہیں، بعض چشموں کے پاس چھوٹی چھوٹی ہرنوں کی ڈاریں گزرنے والوں سے بے پرواہ، پانی پینے یا گھاس چرنے میں مصروف ہیں، انہیں کسی سے کوئی خوف محسوس نہیں ہو رہا، شاید یہ راستہ اور اس کا گرد و نواح، دور وسیع و عریض جنگل میں بسنے والے درندوں سے کہیں زیادہ محفوظ ہے۔

اب یہ راستہ کافی بلندی تک پہنچ چکا ہے، تا حد نگاہ وادی میں سبزہ ہی سبزہ نظر آ رہا ہے، کہیں کہیں کوئی مکان اور ان سے پیچھے دور چند گھروں کا جھنڈ جہاں سے سفید دھواں دھیرے دھیرے آسمان کی طرف اٹھ رہا ہے، ہوا قدرے تیز ہو کر درختوں کی ٹہنیوں اور جھاڑی نما پودوں میں سے ہوتے ہوئے مختلف آوازیں نکال رہی ہے، اس آواز میں چوٹی پر سے مندروں کی گھنٹیوں کی آواز بھی شامل ہو چکی ہے، جو اس پورے علاقے میں وقفے وقفے سے مسلسل گونج رہی ہے، گھنٹیوں کی ان آوازوں نے ہوا کی آوازوں سے مل کر ایک عجیب سماں باندھ دیا ہے، ہر طرف سکون اور ٹھہراؤ محسوس ہو رہا ہے۔

کھڑاؤں کی آواز بھی بڑھ چکی ہیں، کیونکہ کھڑاویں پہننے والے، جو یہ راستہ شروع ہونے پر اکا دکا نظر آرہے تھے اس بلندی پر کافی تعداد میں موجود ہیں، گیروے رنگ کی چادروں میں ملبوس، گردنوں میں مالائیں، کچھ کے سروں پر اسی رنگ کی پگڑیاں، کان چھدے ہوئے اور ان میں گول لکڑی کے چھلے، ماتھے پر سفیدی ملے یہ لوگ چھوٹی چھوٹی منڈلیوں میں اپنے کاموں میں مصروف ہیں، کچھ نوجوان کسی بوڑھے کے سامنے ادب سے بیٹھے اس کی باتیں سن رہے ہیں، بعض آس پاس کے جنگلی علاقے میں جڑی بوٹیوں کی تلاش میں کمریں جھکائے کچھ ڈھونڈ رہے ہیں، کچھ خاص ملنے پر اپنے گروپ میں موجود بزرگ کو انہماک سے حاصل شدہ پودا دکھا رہے ہیں، کچھ تنہائی پسند، دور پہاڑی کے مختلف کونوں پر پتھر سے کٹے پلیٹ فارم پر بیٹھے یوگا کے کسی آسن میں دھیان لگائے ہوئے ہیں۔

یہ کون لوگ ہیں؟ اور یہ کیا مقام ہے؟ جواب آتا ہے کہ یہ گرو گورکھ ناتھ اور بال ناتھ کے جوگی ہیں، اور یہ ٹلہ جوگیاں ہے، جہاں سے ہزاروں سال میں ہزاروں جوگی فیض یاب ہو کر ہر طرف پھیلے اور خدمت خلق کی،

میں نے کہا اچھا، فقیر ہیں؟ جواب آتا ہے ہرگز نہیں، یہ حق کے متلاشی لوگ ہیں، یہ وہ مقام ہے جہاں بادشاہ بھی آئے اور عوام بھی، فاتح بھی اور مفتوح بھی، عقیدوں اور دھرموں کے بانی بھی حاضر ہوئے، اس وسیع کائنات میں چھپے رموز و اوقاف کو ڈھونڈنے والے اپنے سوال اٹھائے پہنچے، یہاں وقت گزارا اور بہت سے جواب سمیٹے واپس گئے، دکھ اور تکلیفوں کے مارے لوگ یہاں نروان کی تلاش میں پہنچے اور کامیاب ہوئے، وارث شاہ کا رانجھا بھی ہیر کے عشق میں کان پھڑوا کر جوگی بننے یہیں آیا، ”قادر یار“ کے پورن بھگت اور راجہ رسالو، ہر بڑی مہم سے پہلے یقیناً یہاں حاضریاں بھرتے رہے ہوں گے۔

اس مقام پر آج کی فزیکل سائنس کہلانے والے علم ”یوگا“ کے بہت سے آسن ایجاد ہوئے، اپنے زمانے کا جدید علاج ”ائر ویدک“ کا جنم صدیوں کی ریاضت، تجربات اور تلاش کے بعد انہی جوگیوں کے ہاتھوں ہوا، دنیا بھر سے اپنے زمانے کے ماہر فلکیات نے یہاں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بسیرا کیا، برسوں تحقیق کی، اور ان کے نتائج آج کے جدید علم کی بنیاد بنے، جی ہاں یہ ”ٹلہ جوگیاں“ ہے، جوگیوں کی درسگاہ، آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو یہ جگہ گھومنے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔

جوں جوں بلندی پر چڑھتے جاتے ہیں جوگیوں کی تعداد اور ان کی سرگرمیوں میں اضافہ نظر آتا ہے، کچھ عورتیں اپنے چھوٹے چھوٹے بچے گود میں لیے جوگیوں سے اشیر باد لے رہی ہیں، کچھ دیہاتی، لکڑیوں کی چارپائیوں اور پالکیوں میں اپنے مریضوں کو اتنی بلندی پر ماتھا ٹکوانے اور علاج کروانے کے لیے پہنچے ہیں، کچھ نواب اور رئیس زادے اپنی رعایا کے جمگھٹے میں ننگے پاؤں ہاتھ باندھے ادب سے چلتے ہوئے گزر رہے ہیں۔

اب میں چوٹی پر پہنچ جاتا ہوں، جہاں ایک بہت بڑا سرور (تالاب) ہے، جس کے چاروں کنارے سیڑھیوں کی مانند تالاب تک اتر رہے ہیں، بہت سے جوگی کناروں پر بیٹھے اشنان کے بعد اپنی چادریں درست کر رہے ہیں، کچھ دو دو تین تین کی ٹولیوں میں خوش گپیوں میں مصروف ہیں، شاید یہ جگہ ان کا بریک ایریا ہے جہاں وہ صرف ریلیکس کرتے ہیں۔

بتایا گیا کہ یہ تالاب پہلے موجود نہیں تھا، مغل شہنشاہ اکبر ننگے پاؤں یہاں حاضر ہوا، اپنی خدمات پیش کیں، اسے اس چوٹی کے مقام پر پانی کے مسئلے کا بتایا گیا تو اس نے یہ تالاب تعمیر کروایا، اس تالاب کے چاروں طرف بہت سے مندر اور سمادھیاں مختلف ادوار کی نشانیوں کے طور پر موجود ہیں، جہاں لوگ حاضریاں دے رہے ہیں، دور پہاڑی کے سب سے بلند مقام پر ایک سمادھی کے بارے میں بتایا گیا کہ سکھوں کے بانی بابا گرو نانک یہاں حاضر ہوئے اور 40 دن تک اس مقام پر چلہ کاٹا، پنجاب کے واحد پنجابی حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ نے یہاں حاضری دی اور اس مقام پر یہ سمادھی تعمیر کروائی، دور دراز سے آئے سکھ یاتری اس مقام پر ماتھا ٹیکتے نظر آرہے ہیں۔

تو کیا یہاں ہر مذہب اور عقیدے کے لوگ حاضر ہوتے ہیں؟

جواب آیا، جی ہاں، یہ وہ مقام ہے جہاں حاضری اور خدمت کے لیے رنگ، نسل دھرم اور عقیدے کی کوئی قید نہیں، اس جگہ کا ادر اور احترام سب کرتے ہیں، اس کا فیض کل عالم کے لیے کھلا ہے۔

اب میں اکیلا اس مقام کے ایک ایک کونے کو دیکھنا اور محسوس کرنا چاہ رہا ہوں، میں ہر طرف تیزی سے گھوم رہا ہوں، کبھی اس سمادھی پر تو کبھی اس مندر کے سامنے، کبھی تالاب کے کنارے تو کبھی کسی جوگیوں کی چھوٹی سی منڈلی کے پاس، ان کی باتیں سننے کی کوشش کر رہا ہوں، کوشش کے باوجود میں ان کی باتیں سننے سے قاصر ہوں، اچانک میری نظر اس چوٹی کے سب سے بلند مقام پر بیٹھے ایک جوگی پر پڑتی ہے، پتھر کا چبوترا جس کے پیچھے چھوٹی سی پتھروں کی دیوار جو ٹیک کے طور پر استعمال ہو رہی ہے، ایک جھاڑی نما درخت جس کا سایہ اس چبوترے پر پڑ رہا ہے، میں بے اختیاری میں اس طرف چل پڑتا ہوں، یہ ارادہ لیے کہ اس سے باتیں کروں گا، دل میں جتنے مزید سوال اٹھ رہے ہیں ان کا جواب شاید اس بزرگ کے پاس ہو، میں اس کے پیچھے پہنچ جاتا ہوں، اس جوگی کا منہ وادی کی طرف ہے، دور تا حد نگاہ وسیع و عریض زمین اس کے سامنے ہے، اس بلند ترین مقام پر میں جوگی کے بالکل پیچھے کھڑا اس حسین منظر کو دیکھ رہا ہوں، میں دھیرے سے آواز لگاتا ہوں

بابا جی،

جوگی کے جسم میں جنبش ہوتی ہے، وہ مڑ کر میری طرف دیکھنے کے لیے حرکت میں آتا ہے، ابھی میں اس کا چہرہ نہیں دیکھ پاتا کہ میری آنکھ کھل جاتی ہے، رات کا تیسرا پہر، میرا کمرہ اور میرا بیڈ، میں اٹھ کر بیٹھتا ہوں اور اس خواب کے ٹوٹنے پر شدید رنجیدگی محسوس کرتا ہوں۔

یہ وہ خواب تھے جو میں کئی دن تک دیکھتا رہا، جب میں مڈل سکول کا طالب علم تھا اور پاکستان ٹیلی ویژن پر پہلی بار خطہ پوٹھوہار میں جہلم کے پاس کوہ نمک میں موجود تاریخی ”ٹلہ جوگیاں“ کے کھنڈرات کے بارے میں ڈاکیومنٹری دیکھی تھی۔

مجھے اس ڈاکیومنٹری نے بہت ”ہانٹ“ کیا تھا، ہزاروں سال سے آباد یہ مقام صرف آدھی صدی قبل یوں اجڑا کہ جیسے یہاں صدیوں سے کوئی نہیں رہ رہا، ہزاروں سال میں اس جگہ نے کیسے کیسے نشیب و فراز دیکھے ہوں گے، خطرناک حملہ آوروں (جو ایک ہی جھٹکے میں شہروں کے شہر برباد کر دیتے تھے ) کے حملے جھیلے ہوں گے، لیکن وہ بھی اس بستی کو یوں برباد نہ کر سکے، کیا آج کا انسان آریاؤں اور یونانی سفاک حملہ آوروں سے بھی زیادہ خطرناک ہو چکا ہے؟

”رام تیرتھ“ ۔

مڈل سکول کے بعد ہائی سکول، پھر کالج اور یونیورسٹی سے ہوتا ہوا 2004 کی ایک دوپہر چند دوستوں کے ہمراہ گاڑی میں سوار بھارت کے شہر امرتسر سے نکلتے ہوئے کسی تاریخی مقام کی جانب سفر میں تھا، مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں، شملہ اور چندی گڑھ کے تھکا دینے والے سفر کے بعد ہم امرتسر میں ایک دن کے لیے صرف سستانے کو رکے تھے کہ اگلے دن لاہور کے لیے بارڈر کراس کرنا تھا، اس ایک دن میں اس تاریخی مقام کی سیر کا منصوبہ بنایا گیا، اس ہنگامی دورے کی محرک میری ڈائریکٹر اور استاد مدیحہ گوہر تھیں جنہیں تاریخی مقامات گھومنے کا جنون کی حد تک شوق تھا، ان کی کوشش ہوتی تھی کہ ہم سب بھی ان کی آنکھ سے ان تاریخی مقامات کو دیکھیں، محسوس کریں اور لطف لیں۔

میں نے پوچھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ وہ بولیں آج ہم ”رام تیرتھ“ گھومنے جا رہے ہیں جو امرتسر شہر سے صرف 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، ہزاروں سال کی تاریخ سمیٹے یہ مقام بھگوان والمیکی کا آشرم تھا، یہی وہ جگہ ہے جہاں ”سیتا“ نے بن باس کاٹا تھا، رام اور لکشمن کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جب ”راون“ ”سیتا“ کو اغوا کر کے سری لنکا لے گیا تو یہ رام کا مشکل ترین وقت تھا، رام کی مدد کو ”ہنومان“ پہنچا اور یوں رام نے راون سے ایک خطرناک یدھ کیا، راون کو مارنے کے بعد سیتا کو آزاد کروا کے واپس لایا۔

لیکن ایودھیا (جہاں رام کی حکمرانی تھی) کے لوگوں نے سیتا کے کردار پر انگلیاں اٹھائیں کہ یہ تو راون کے پاس رہ کے آئی ہے، اس کی پارسائی کا کیا ثبوت ہے؟ رام، سیتا کے کردار کو اچھی طرح جانتا تھا لیکن پھر بھی اس نے لوگوں کے الزامات سے بچنے کے لیے اپنے بھائی لکشمن سے سیتا کو جنگل میں چھوڑ آنے کو کہا، یوں سیتا بھگوان والمیکی کے آشرم پر پہنچی جہاں اس نے 12 سال گزارے، یہیں اس کے دو جڑواں بیٹے ”لو“ اور ”کش“ پیدا ہوئے، ”لو“ نے لاہور آباد کیا اور ”کش“ نے قصور، یہ دونوں شہر انہی کے نام سے منسوب ہیں، لاہور کا پرانا نام ”لوا پوری“ یا ”لوا کوٹ“ ہے جبکہ قصور کا نام ”کشاور“ ہے۔

جب ہم رام تیرتھ پہنچے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بہت بڑا سروور (تالاب) ہے، جس کے چاروں طرف کنارے سیڑھیوں کی صورت پانی تک اتر رہے ہیں، ان سیڑھیوں پر بہت سے لوگ پانی کو متبرک جان کر اپنے اور اپنے ساتھ موجود چھوٹے بچوں کے ماتھوں اور منہ پر مل رہے ہیں، مستطیل شکل کے اس بڑے وسیع تالاب کے چاروں طرف جگہ جگہ چھوٹے بڑے مندر نظر آ رہے ہیں، ان مندروں کی گھنٹیاں وقفے وقفے سے بج کر پورے علاقے میں گونج رہی ہیں۔

کیا میں پہلے اس جگہ آ چکا ہوں؟ مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ یہ جگہ میں پہلے بھی دیکھ چکا ہوں، میں خاموشی سے ادھر ادھر گھوم رہا تھا کہ تالاب کے ایک کونے پر گیروے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس پیروں میں کھڑاویں چڑھائے بہت سے جوگی نظر آئے، کچھ منڈلیوں کی شکل میں خوش گپیوں میں مصروف تھے جبکہ کچھ تنہائی پسند، تالاب کی سیڑھیوں پر بیٹھے کسی نہ کسی کام میں مصروف تھے، بہت سے لوگ ان جوگیوں کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر اشیر باد لے رہے تھے، کچھ مائیں اپنے چھوٹے بچوں کو ان کے اگے کر کے پراتھنائیں کروا رہی تھیں۔

اچانک میری نظر تالاب کے دوسرے کنارے پر بیٹھے ایک جوگی پر پڑی جو ایک پرانے برگد کے درخت کے نیچے خاموشی سے بیٹھا پورے تالاب کے نظارے میں مگن تھا، اتنے فاصلے سے مجھے اس کا چہرہ مہرہ نظر نہیں آ رہا تھا۔

میرے ساتھ میرا کیمرہ مین بھی تھا، میری ڈائریکٹر نے مجھے ذمہ داری دی کہ میں یہاں مختلف لوگوں کے انٹرویوز ریکارڈ کروں، میں نے انتظامیہ کے ایک بندے کو تعارف کروایا اور مختلف پجاریوں کے انٹرویوز ریکارڈ کرنے کی درخواست کی، وہ مجھے تالاب سے ملحقہ ایک بڑے سے خیمے میں لے گیا جہاں بہت سے جوگی زمین پر براجمان تھے، درمیان میں لکڑی کا ایک تخت بچھا تھا جس پر ایک جوگی لیٹا ہوا تھا، بقیہ سب اس کے احترام میں خاموشی سے بیٹھے تھے، اس نے ہمارے آنے کو نوٹس تو کیا لیکن کچھ خاص توجہ نہ دی،

اس بندے نے آواز لگائی
بابا جی پاکستانوں پرونے آئے نے، تہاڈے نال گل بات کرنا چاہندے نے،
(بابا جی: پاکستان سے مہمان آئے ہیں اور آپ سے بات چیت کرنا چاہ رہے ہیں)

وہ جوگی فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا، اس کی لمبی زلفیں تخت تک گر رہی تھیں، اس نے جلدی سے زلفیں سمیٹیں اور ایک گیروے رنگ کی چادر سے اپنا سر باندھنا شروع کر دیا، اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا اور چہرے پر ایک بڑی مسکراہٹ سجائے ہمیں خوش آمدید کہا۔

میں : بابا جی تہاڈا انٹرویو کرنا اے
( بابا جی آپ کا انٹرویو کرنا ہے )

پاکستان کی خیریت اور بہت سی نیک خواہشات کے بعد وہ بولا
جوگی: مینوں بہت خوشی ہو رہی اے کہ تسی ایتھے آئے، اے انٹرویو شینٹر ویو مینوں سمجھ نہیں آندے،
(مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ لوگ یہاں آئے، یہ انٹرویو شنٹر ویو مجھے سمجھ نہیں آتے )

اچانک اسے کچھ یاد آیا، اس نے اپنے ایک سیوک سے کہا، پرونے پاکستانوں آئے نے (کسی کا نام لیتے ہوئے ) تے ایناں نوں اوناں کو لے جا، (مہمان پاکستان سے آئے ہیں (کسی کا نام لیتے ہوئے ) ان کو ان کے پاس لے جاؤ) ۔

اس نے ہمیں رخصت کیا اور ہم خیمے سے نکل کر سیوک کے ہمراہ تالاب کی طرف چل پڑے، مجھے دور کنارے پر درخت کے نیچے پھر وہی جوگی نظر آیا، ہم آہستہ آہستہ اسی کی طرف بڑھ رہے تھے، سیوک نے بتایا کہ یہ بابا جی سن 47 میں پاکستان سے آئے تھے، اس وقت یہ نوجوان تھے۔

اب مجھے اس جوگی کا چہرہ نظر آنا شروع ہوا، تقریباً 80 سال کا بزرگ، گہری گندمی رنگت، سفید لمبی داڑھی، دو چادریں بدن پر، اسی رنگ کی بڑی سی پگڑی، پاؤں ننگے لیکن کھڑاویں ایک ترتیب سے ساتھ پڑی تھیں، ہم اس کے پاس جا کے رک گئے، بیٹھے بیٹھے اس نے سپاٹ چہرے کے ساتھ ہماری طرف دیکھا،

سیوک: بابا جی اے پاکستانی نے، تے تہانوں ملنا چاہندے نے،
( بابا جی یہ پاکستانی ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں )

پاکستان کا نام سنتے ہی اس کی آنکھوں میں ایک چمک نمودار ہوئی، اس کا چہرہ جیسے کھلکھلا اٹھا، اس نے اشارے سے مجھے اپنے پاس بیٹھنے کو کہا،

میں : بابا جی، آپ پاکستان سے آئے تھے؟
اس نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا،
میں : پاکستان میں کہاں سے؟
جوگی: ٹلہ جوگیاں سے،

ٹلہ جوگیاں کا سنتے ہی میں سکتے میں آ گیا، میرے بچپن کے تمام خواب ایک ریل کی صورت میری آنکھوں کے سامنے گھومنا شروع ہو گئے،

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد میں پھر بولا
بابا جی آپ کا نام کیا ہے؟
جوگی: مختار
میں : (حیرانی سے ) ، مختار؟
جوگی: (مسکراتے ہوئے ) مختار ناتھ۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments