ایس ایس ایز کی مستقلی التوا کا شکار


کسی بھی قوم کی ترقی و خوشحالی کا دار و مدار اساتذہ کی مالی استحکام پر منحصر کرتا ہے۔ ایک استاد مالی طور پر جس قدر مضبوط اور مستحکم ہو گا وہ اپنے فرائض سر انجام میں اس قدر ہی دلچسپی دکھائے گا۔ ترقی یافتہ ممالک میں اساتذہ کی معاشی حالت بہتر کرنے میں حکمران اچھی تنخواہیں دینے کے ساتھ ماہرین تعلیم کی مدد سے جامع پالیسی مرتب کرتے ہیں۔ پاکستان میں حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ہمارا تعلیمی نظام عالمی رینکنگ میں بہت زیادہ ہی نیچے ہے۔

ملک پاکستان میں فوج کے بعد اساتذہ کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب میں تقریباً پانچ لاکھ اساتذہ کی آسامیاں ہیں۔ جس میں سے تقریباً ایک لاکھ پچیس ہزار آسامیاں ختم کرنے کے باوجود بھی اتنی ہی آسامیاں خالی ہیں۔ 2002 سے اساتذہ کو ایجوکیٹرز کے نام پر عارضی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا۔ ایجوکیٹرز کی انتھک کوششوں کے بعد 2009 میں مستقل کیا گیا۔ 2009 کے بعد بھرتی ہونے ایجوکیٹرز کو تین یا چار سال بعد مستقل کیا جاتا تھا۔

2012 کے بعد 2014، 2015، 2017 اور 2018 میں بھرتی ہونے والے ایجوکیٹرز کو تاحال مستقل نہیں کیا گیا ہے۔ بھرتی کرتے وقت باقی ایجوکیٹرز کی طرح ان ایس ایس ایز کا این ٹی ایس ٹیسٹ لیا گیا، انٹرویو اور میرٹ کے تمام مراحل سے گزار کر تعیناتی کے آرڈر کیے گئے تھے۔ بھرتی کرنے کی تمام سرگرمیوں کے بعد جب مستقل کرنے کی باری آئی تو پنجاب حکومت نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ان ایس ایس ایز کو مستقل کا اعلان کیا کہ جو ایس ایس ای پنجاب پبلک سروس کمیشن کا ٹیسٹ پاس کرے گا صرف اس کو مستقل کیا جائے گا جو ان اساتذہ کے ساتھ ظلم و بربریت کی ایک انوکھی مثال ہے۔

پنجاب ٹیچرز یونین پنجاب نے اس معاملے کو احتجاج اور مذاکرات میں اپنے مطالبات میں شامل کرتے ہوئے ان اساتذہ کو بغیر پی پی ایس سی امتحان کے مستقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس مطالبے کے ساتھ ایس ایس ایز نے اپنی الگ تنظیم سیکنڈری سکول ایجوکیٹرز ریگولرائزیشن مومنٹ پنجاب کی بنیاد رکھی۔ اس کے ساتھ چوہدری کاشف علی نے ایس ایس ایز (کمپیوٹر) نے پیکٹ کے نام سے الگ تنظیم کا اعلان کیا۔ اسسٹنٹ ایجوکیشن افسران نے اسسٹنٹ ایجوکیشن افسران ایسوسی ایشن پنجاب کے پلیٹ فارم سے اپنے مطالبات پنجاب حکومت کے سامنے رکھ دیے۔

اس کے علاوہ پنجاب ٹیچرز یونین پنجاب کے تمام گروپ اور پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن پنجاب نے بھی اپنے مطالبات میں ایس ایس ایز کو مستقل کرنے کا مطالبہ شامل کیا۔ اس کے لیے ایس ایس ایز کی تینوں تنظیموں نے مل کر احتجاج اور دھرنے بھی دیے مگر بے سود۔ اس کے لیے 21 جنوری 2020 کو سول سیکٹریٹ لاہور میں احتجاج کیا گیا۔ جس کی قیادت محمد عمران، میاں شہزاد منور، چوہدری کاشف علی اور محمد نوریز طارق نے کی۔ اپنے مطالبات وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے جس پر وزیر تعلیم نے اس معاملے کو جلد از جلد حل کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

8 ماہ گزرنے کے باوجود معمول سی پیش رفت نہ ہو سکی۔ قیادت تقریباً ہر ماہ وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس اور وزیر قانون رانا بشارت علی سے مذاکرات کرتی ہوئی نظر آتی مگر نتیجہ بے سود۔ جس پر قائدین نے 19 اکتوبر 2020 کو پھر لاہور کی سڑکوں پر احتجاج ریکارڈ کروایا۔ جس پر وزیر اعلی عثمان بزدار صاحب نے اس معاملے کو جلد از جلد حل کروانے کی حامی بھری۔ جس پر وزیر تعلیم نے پالیسی تبدیل ہونے کے باوجود بھرتی کرنے کا مسلم لیگ نون پر الزامات لگاتے ہوئے ایس ایس ایز اساتذہ کو لال جھنڈی دکھا دی۔

جس کے دو ماہ بعد ہی قیادت نے اسلام آباد کا رخ کیا، 19 دسمبر کی سرد ترین موسم میں ہزاروں خواتین سمیت بنی گالا میں احتجاج کیا اور یہ احتجاج تین دن تک جاری رہا تو وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلی پنجاب اور وزیر تعلیم کو بلا کر اس معاملے پر رپورٹ طلب کرنے کے بعد اس معاملے کو پنجاب اسمبلی میں ایک بل کے ذرائع حل کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ اس سارے معاملے میں وزیر قانون رانا بشارت سنجیدہ نظر آئے اور اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد پنجاب اسمبلی میں بل پیش کر دیا۔

قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے معاملہ التوا کا شکار نظر آیا تو تمام قیادت نے وزیر اعلی ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کر دیا۔ 19 مارچ 2021 سے شروع ہونے والا احتجاجی دھرنا گیارہ دن جاری رہا، جس میں پنجاب بھر سے خواتین نے اپنے بچوں سمیت حصہ لیتے ہوئے اس دھرنے کو کامیاب کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیر اعلی ہاؤس کے سامنے گیارہ دن ان ایس ایس ایز اساتذہ کے احتجاج کے باوجود بھی وزیر اعلی پنجاب سمیت وزیر تعلیم اور وزیر قانون قانونی پیچیدگیوں کے سامنے بے بس نظر آئے۔

گیارہ دن جاری رہنے والے احتجاجی دھرنے کے بعد مذاکرات کے بعد وزیر اعلی تعلیم ڈاکٹر مراد راس بھی اس معاملے میں متحرک نظر آئے مگر تمام اختیارات کے باوجود بھی ان اساتذہ کی مستقلی کا معاملہ جوں کا توں ہی رہا۔ رانا نوریز طارق، چوہدری کاشف علی، محمد عمران اور میاں شہزاد منور نے باہمی مشاورت کے بعد 27 دسمبر 2022 کو ایک بار پھر عمران خان کے گھر کے سامنے زمان پارک میں احتجاج ریکارڈ کروایا۔ اس وقت کے وزیر اعلی چوہدری پرویز الٰہی کی دلی خواہش تھی کہ جاتے ہوئے ان معاملات کو حل کر دیا جائے۔

وزیر قانون رانا بشارت علی اور وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی لاکھ کوششوں کے باوجود بھی آخری دو کابینہ کی میٹنگز میں یہ ان ایس ایس ایز اساتذہ کی مستقلی کا بل پاس نہ کروا سکے۔ سیکرٹری قانون نے قانونی پیچیدگیوں کی آڑ میں ان اساتذہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔ نگران حکومت کے آتے ہی آئی ایم ایف کے مطالبے پر سرکاری ملازمین کی پینشن اور دیگر مراعات ختم کرنے کے نوٹیفکیشن سے سرکاری ملازمین میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور اس کے خلاف تمام سرکاری ملازمین سراپا احتجاج ہوئے۔

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار نگران حکومت میں احتجاجی دھرنے دیے گئے جس میں ایک احتجاجی دھرنے میں سرکاری ملازمین کے قائدین کو گرفتار کر کے پورے پنجاب کے سرکاری ملازمین کو اشتعال دلوایا تو تمام سکولز، کالجز اور سرکاری دفاتر میں تالا بندی کی گئی۔ بالآخر نگران حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے اور مریم نواز کی یقین دہانی پر تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اب پنجاب میں مریم نواز صاحبہ وزیر اعلی پنجاب اور رانا سکندر حیات وزیر تعلیم ہیں۔

اس کے باوجود بھی ایس ایس ایز کی مستقلی التوا کا شکار ہے۔ نئی بھرتی کرنے کی بجائے سکولز کو پرائیویٹائزیشن کیا جا رہا ہے۔ ریشنلائزیشن کے ذریعے آسامیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ 2014 کے ایس ایس ایز کو آج 10 سال ہو گئے۔ چند اضلاع میں افسران ان اساتذہ کی ایک سال کی مدت ملازمت میں توسیع کرنے سے انکاری ہیں، جبکہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق اکثر اضلاع میں 2014 کے ایس ایس ایز کی مدت ملازمت میں توسیع کی گئی ہے۔

سیالکوٹ میں 70 ایس ایس ایز کا مستقبل بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر اللہ داد ملک اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور ان اساتذہ کی توسیع کرنے سے انکاری ہے۔ پنجاب ٹیچرز یونین سیالکوٹ اور ایس ایس سی ایسوسی ایشن سیالکوٹ کے وفد کی کئی بار اس حوالے سے چیف ایگزیکٹو افسر سیالکوٹ جاوید اقبال بابر اور اللہ داد مالک سے میٹنگ ہوئی ہے مگر اس کا نتیجہ بے سود ہی ثابت ہوا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ اور وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کو اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے حل کروانا چاہیے یہ چودہ ہزار اساتذہ نہیں ہیں، بلکہ چودہ ہزار گھرانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ سیاسی لحاظ سے دیکھتے ہوئے بھی ان چودہ ہزار گھرانوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کا ایک اچھا موقع وزیر اعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments