غزہ میں سیز فائر عمل درآمد کون کرائے گا


گزشتہ کئی ماہ سے غزہ میں شہریوں کے خلاف اسرائیل کے تباہ کن فضائی حملے رکوانے کی ناکام کوششوں کے بعد بالآخر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو فوری جنگ بندی کی قرارداد منظور کر کے مہذب دنیا کی بے حسی کو معقول لباس فراہم کر دیا تاہم امریکہ، جو فلسطینوں کی نسل کشی روکنے کی راہ میں واحد رکاوٹ تھا، کی طرف سے خلاف معمول قرارداد کو ویٹو نہ کرنا بھی اسرائیل کو ریسکیو کرنے کی غیر مرئی کوششوں کا حصہ دکھائی دیتا ہے، اگرچہ دنیا ششدر ہے کہ امریکی نے پہلی بار اسرائیل کے خلاف عالمی برادری کے اقدام کو ویٹو کرنے سے اجتناب کیوں کیا؟

تاہم اسرائیلی حکام نے قرارداد کی منظوری کی باوجود غزہ میں فائر بندی سے انکار کر دیا کیونکہ اسرائیل کے پاس سیز فائر کے بعد کا کوئی پلان موجود نہیں کہ جنگ بندی کے بعد غزہ میں حماس حکومت اور فلسطینیوں کی نئی نسل اسرائیلی مظالم کے خلاف جس قسم کا رویہ اپنائے گی، اسے مینیج کیسے کیا جائے؟ یہیں سے نتن یاہو کے بے سمت ردعمل اور وار پالسی کی ناکامی کی نقاب کشائی ہو گی۔ 7 اکتوبر کو حماس کی طرف سے فلسطینی علاقوں میں غیرقانونی آبادی کاری کرنے والے فوجیوں کو نشانہ بنانے کے ردّعمل میں اسرائیل فورسز نے غزہ میں حماس کے نیٹ ورک کو توڑنے کی کوشش میں شہری آبادیوں پہ بمباری کر کے 32,000 سے زیادہ افراد کو شہید کر دیا جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں، بمباری سے منہدم عمارتوں کے ملبے تلے دبے انسانوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو گی، تاہم چھ ماہ پہ محیط اس قدر بربریت کے باوجود اسرائیلی فورسز آج بھی حماس کا نیٹ ورک توڑنے کے متعین ہدف کے حصول سے بہت دور کھڑی ہیں، اسرائیلی جارحیت کے خلاف مزاحمت کارروائیوں میں حماس کے جنگجووں نے 1200 اسرائیلیوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ 250 کو یرغمال بنا لیا تھا، کوشش بسیار کے باوجود اسرائیلی فوج یرغمالیوں کی بازیابی میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

مشرق وسطی اسٹریٹجک امور سے واقفیت رکھنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ اسرائیلی فوج کو چند حقیقی تاریخی مماثلتوں کے ساتھ انتہائی چیلنجنگ آپریٹنگ ماحول کا سامنا ہے تاہم اس سب کے باوجود عالمی برادری اسرائیل کو جنگی مقصد کے لئے غیر معمولی وحشیانہ ہتھکنڈے اپنانے کے جرم سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔ حماس کے حملوں کے جواب میں اسرائیلی رہنماؤں کے انتخاب کردہ وحشیانہ اقدامات سراسر غلط تھے اور یہی عوامل جنگ کے خاتمے کی منصوبہ بندی کو ناکام بنانے کا سبب بن رہے ہیں، گویا اب جنگ سے پیچھا چھڑانا اسرائیل کے بس میں نہیں رہا۔

7 اکتوبر کو حماس نے جس جارحیت کی ابتداء کی تھی، اسرائیلی ردعمل نے اسے پس منظر میں دھکیل دیا اب دنیا بھر میں اسرائیل کو غیر معقول اداکار کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔ اس لحاظ سے حماس کی حکمت عملی واقعی کامیاب ہو گئی۔ طویل عرصہ میں پہلی بار اسرائیل کو بُری شکل دے کر حماس نے دو بڑے اسٹریٹجک اہداف حاصل کر لئے۔ پہلا یہ کہ غزہ کی جنگ نے ایک بار پھر مسئلہ فلسطین کو عرب اور بین الاقوامی سیاسی ایجنڈے میں سرفہرست جگہ پر لا کھڑا کیا۔

دوسرا، یہ تنازعہ فلسطینیوں سمیت تمام مسلمانوں کو اس بات پر قائل کر گیا کہ اسرائیل کا مقابلہ ہتھیاروں سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سیاسی میدان میں اسرائیلیوں نے 7 اکتوبر کے بعد فوری طور پر حماس کو تباہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جو اس دن کی ہولناکی کا قابل فہم ردعمل تھا لیکن اسرائیلی مقتدرہ جنگ کے بعد کی صورت حال بارے کوئی پائیدار منصوبہ بندی کرنے میں ناکام رہی۔ جنگ کے بعد غزہ کو حماس کے سپرد رکھنے سے کہیں زیادہ دشوار اسے فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنا ہو گا کیونکہ غزہ کی اس بے مثال مزاحمتی ثقافت نے عالمی طاقتوں سمیت اسرائیل کے دفاعی شکوہ کو ریزہ ریزہ کر دیا۔

خود اسرائیل کے اندر کیے گئے عوامی سروے سے پتہ چلتا ہے کہ غزہ میں جنگ کے بعد کی سیاسی ترتیب کیسی ہونی چاہیے؟ شہری اس پر گہری تقسیم کا شکار ہیں، غزہ جنگ بارے کوئی ایک آپشن بھی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں کر سکا، یعنی سیاسی قیادت کے علاوہ پوری آبادی اس معاملہ میں کنفیوز اور صدمے کا شکار ہے، اسرائیلی عوام بتدریج پیچھے ہٹ رہے ہیں، وہ صرف جنگ سے پہلے کی حالت میں واپس جانا چاہتے ہیں لیکن جنگ سے پہلے کی حالت میں واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔

ایک ایسا لمحہ جب لوگ خوفزدہ اور غیر یقینی کا شکار ہوں، جہاں پرانا سیکورٹی پیراڈائم ٹوٹتا نظر آتا ہو اور اس کی جگہ لینے کے لیے کوئی نیا سکیورٹی آرڈر بھی ابھر نہ سکا ہو، بالکل یہ وہی حالت ہے جس میں بلند عزم قیادت کو بہتر مستقبل کی طرف عوام کی رہنمائی کرنا ہوتی ہے لیکن اس کے برعکس اسرائیلی قیادت بدترین داخلی تضادات سے دوچار ہے۔ اسرائیلی لیڈر شپ تاحال سلامتی کونسل کی جنگ بندی کی قرارداد کی تفہیم اور اپنی سوچ کو غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے امکان سے مربوط نہیں کر سکی۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ تازہ ترین قرارداد غیر پابند ہے مگر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ تنازعہ کی کلید دستاویز کی زبان میں مضمر ہے۔ اگرچہ جنگ بندی کی قرارداد بظاہر غزہ کے انسانی المیہ کی تلافی کی کوشش دکھائی دیتی ہے لیکن دراصل یہ اسرائیل کی فوجی اور سیاسی ناکامیوں کا نقاب ابہام بننے والی ہے لیکن اسرائیلی قیادت اسے سنہری موقعہ کی بجائے پاداش سمجھ بیٹھی ہے۔ اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر گیلاد اردن اور وزیر خارجہ کاٹز کی طرف سے قرارداد کے مطابق فائر بندی نہ کرنے اور حماس کو تباہ اور آخری یرغمالی کی واپسی تک لڑتے رہنے کا اعلان بھی دراصل جنگ کے بعد کی تاریکیوں کا سامنے کرنے سے گریز کی کیفیت کی عکاسی ہے۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کی سابق سفیر پروفیسر گیبریلا شیلیو نے کہا، میرے خیال میں ابھی جنگی عوامل پہ اس قرار داد کا کوئی فوری اثر نہیں پڑے گا تاہم اس کا اخلاقی اور عمومی اثر یقینی ہے، شاید اسی لئے امریکہ یہ دلیل اپنا کر کہ قرار داد غیر پابند ہے، اسرائیل پر تنقید اور حمایت کے درمیان ایک عمدہ لکیر پر چلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ نے حساب لگایا ہے کہ وہ بہت زیادہ اسرائیلی ردعمل کا سامنا کیے بغیر ویٹو نہ کر کے عوامی بیان دیتا رہے۔

یہاں تک کہ اگر قانونی ماہرین یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ قرار داد پابند ہے، تب بھی ایک سوال باقی ہے کہ اسے کیسے اور کون نافذ کرے گا؟ کیا یہ قرارداد اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہا کر سکتی ہے؟ ماضی میں تو اسرائیل کے مغربی اتحادیوں، خاص طور پر امریکہ، نے طویل عرصے تک اسے اقوام متحدہ میں مذمت سے بچایا، کیا اب صورتِ حالات بدل چکی ہے؟ لاریب، امریکہ سمیت مغرب کی جو حمایت 7 اکتوبر کو حماس کے حملہ کے فوراً بعد ظاہر ہوئی، جب بہت سے ممالک سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیل کے ساتھ کھڑے تھے لیکن جیسے ہی غزہ میں جنگ طویل ہوئی اور وہاں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ اور انسانی المیوں نے جنم لیا، اس حمایت میں کمی آنا شروع ہو گئی، گزشتہ چند مہینوں سے امریکہ کو اقوام متحدہ میں اس کا واحد حامی بنا کر چھوڑ دیا گیا۔

اسرائیل کو مکمل طور پر الگ تھلگ ہوتا دیکھتے ہوئے امریکہ نے ایک درمیانی راستہ اختیار کیا یعنی ایک ایسا طریقہ جو ظاہر کرتا ہے کہ وائٹ ہاؤس فکر مند ہے اور بائیڈن انتظامیہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ اگر غزہ میں انسانی بحران مزید بگڑتا ہے یا طویل عرصے تک برقرار رہتا ہے تو اسرائیل کے بین الاقوامی اچھوت بننے کا خطرہ ہے۔ بلاشبہ اس وقت اسرائیل کو عالمی سطح پر شدید ملامت کا سامنا ہے، امریکی سیاست دانوں اور یورپی حکام کی جانب سے غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کی بے پناہ تعداد کے پیش نظر اس کو مزید ہتھیاروں کی فروخت بھی ممکن نہیں رہی۔

نتن یاہو کے بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ تعلقات تنزلی کی طرف جا رہے ہیں کیونکہ اسرائیل نے رفح پر ممکنہ حملے جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا، جہاں 1.4 ملین فلسطینی پناہ گزین ہیں، امریکہ نے اس طرح کے اقدام کی مخالفت کی، نائب صدر کملا ہیرس نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں کہا تھا کہ رفع پہ حملہ ”غلطی“ ہو گی اور اسرائیل کے آگے جانے کی صورت میں دنیا کے لئے اس کے نتائج کو نظرانداز کرنا ناممکن ہو گا۔ میکلبرگ نے کہا، ”نتن یاہو واشنگٹن کے ساتھ لڑائی کا انتخاب کر رہے ہیں، اس بدترین وقت میں جب کوئی بھی اسرائیلی وزیراعظم واشنگٹن کے ساتھ لڑائی کا نہ سوچتا۔

دوسری طرف وزیراعظم کی طرف سے منع کرنے کے باوجود، اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ منگل کے روز واشنگٹن پہنچ گئے تاکہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کو اُن ہتھیاروں اور آلات کی فہرست پیش کرسکیں جو اسرائیل خریدنا چاہتا ہے۔ شالیف نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات انتہائی نچلے مقام ”پہنچ چکے ہیں، ماضی میں، امریکہ ایسی قراردادوں پر ووٹنگ کی نوبت تک نہیں آنے دیتا تھا۔ اس بار امریکہ غزہ میں زمین پر اسرائیل کے اقدامات کے انسانی ہمدردی کے پہلوؤں کے ساتھ تمام یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کی دنیا والوں سے تصدیق چاہتا تھا۔

اس کا مطلب ہے کہ دو چیزوں میں سے ایک ہونا ہے، نیتن یاہو کو انتخابات کرانے کے لیے مجبور کیا جائے گا یا پالیسی کو تبدیل کرنے کے لیے کسی طرح دباؤ ڈالنا پڑے گا، علیٰ ہذا القیاس دباؤ کا کچھ حصہ لامحالہ اندرونی طور پر آئے گا، حکومت کی طرف سے جنگ سے نمٹنے کے لیے اسرائیلیوں کی مایوسی، خاص طور پر یرغمالیوں کو گھر واپس لانے میں ناکامی، بڑھ رہی ہے۔ لوگ اپنوں کی نشانیاں پکڑے بیٹھے ہیں ”مائیں روتی ہیں جنگ بند کرو انہیں گھر لے آؤ“ اور ”یہ جنگ مزید کتنی زندگیاں لے گی“ ۔ دباؤ کی دوسری شکلیں بیرونی ہیں جو اندرونی سے کہیں تلخ ہیں۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments