ملک کے ’6 بہادر جج‘ اور تین سو وکیلوں کی اپیل


پاکستان میں بداعتمادی کی فضا اس حد تک سنگین اور پریشان کن ہے کہ کوئی بھی فرد یا گروہ مسائل حل کرنے کے لیے متوازن، موثر، دیرپا اور عقلی جواز پر استوار کوئی راستہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس کی بجائے اپنی محدود سوچ کے مطابق کسی بھی مسئلہ کا حل تلاش کرنے پر اصرار کیا جاتا ہے۔ کسی مخصوص رائے یا حل کے برعکس آنے والی ہر تجویز کو بددیانتی اور غیر منصفانہ قرار دے کر مسترد کیا جاتا ہے۔ یہی صورت حال اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھے ججوں کے خط کے حوالے سے دیکھنے میں سامنے آئی ہے۔

اس معاملہ کو چند روز گزرنے کے بعد سپریم کورٹ اور حکومت کے اتفاق رائے قائم ہونے والے ایک رکنی انکوائری کمیشن نے ابھی کام شروع نہیں کیا لیکن ابھی سے اس کمیشن کی کمزوری، ناکامی یا اس کے ممکنہ فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے اندیشوں کی بنیاد پر ایسا بیانیہ استوار کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جس سے قوم مسلسل انتشار و بحران کا شکار رہے، حکومت پر دباؤ بنا رہے اور سپریم کورٹ کی نیک نیتی، انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت اور نظام درست کرنے میں ناکامی کا تاثر قوی ہو۔ اس طرز عمل کو سیاسی ایجنڈے کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا لیکن اسے ’عوام کی مایوسی‘ کے نعرے میں لپیٹ کر ایک حقیقی مسئلہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

پاکستانی عوام ضرور مایوسی اور پریشانی کا شکار ہیں لیکن اس مایوسی کو پیدا کرنے میں کسی ایک واقعہ نے کردار ادا نہیں کیا اور نہ ہی اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں کا ایک پراسرار خط اچانک اس مایوسی کی وجہ بنا ہے۔ قومی سطح پر پائی جانے والی مایوسی کی دو بڑی وجوہات ہیں :

ایک: یہ کہ ملک کے شہریوں کی آمدنی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجات پورے کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ خاص طور سے بجلی و گیس کے بڑھتے ہوئے بلوں کی وجہ سے عام گھرانوں کو جس شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے، اس کا فوری حل کسی کے پاس موجود نہیں ہے۔ البتہ اس صورت حال کو حل کرنے کے لیے کوئی قومی لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی۔ حکومت اگر یہ کام کرنا چاہتی ہے یا ایسا کرنے کا دعویٰ کرتی ہے تو بداعتمادی اور الزام تراشی کے شدید ماحول میں پہلے سے ہی اس کے عزائم، صلاحیت یا ارادوں کے بارے میں رائے عامہ تشکیل دینے کا کام شروع کر دیا جاتا ہے۔ ایسا پروپیگنڈا کرتے ہوئے یہ سمجھنے یا دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی کہ پاکستان کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیے وسیع تر افہام و تفہیم بے حد ضروری ہے۔

دوئم: معاشی دباؤ اور عوام کی مجبوری و محرومی کو سیاسی ہتھکنڈا بنانے والے عناصر مسلسل سوشل میڈیا اور مواصلت کے دیگر ذرائع کے ذریعے یہ تاثر استوار کرنا چاہتے ہیں کہ عوام بہت پریشان ہیں اور حکومت ناکام ہو چکی ہے۔ اس کی ایک وجہ پہلے انتخابی دھاندلی کو قرار دیا جاتا رہا ہے اور اب حکومت کو ’ناجائز‘ بتا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ناکامی ہی موجودہ حکومت کا مقدر ہے کیوں کہ عوام اسے قبول نہیں کرتے اور یہ مسلط کردہ حکومت ہے۔

انتخابی دھاندلی، سول معاملات میں عسکری قیادت کی مداخلت اور عدلیہ کی بے بسی کا منتر دہائیوں پر محیط تجربات، غلط فہمیوں، حرص اور اختیارات سے تجاوز کے درجنوں چھوٹے بڑے واقعات کی بنیاد پر استوار ایک ایسا تاثر ہے جو اس وقت قومی مزاج کا حصہ بن چکا ہے۔ پاکستانی سماج و نظام کے حوالے سے آفاقی حقیقت تو یہ ہے کہ نہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے، نہ قانون پر عمل کرنا چاہتا ہے، نہ اپنے حصے کا ٹیکس دینے پر تیار ہے اور نہ ہی چوری کا موقع ملنے پر کوئی اس ’ترغیب‘ سے دامن بچانا ضروری سمجھتا ہے لیکن جب بھی قومی مسائل یا معاشی پریشانیوں کا ذکر ہو گا، تو یہ سب ہی عناصر مل کر بلند آواز سے ایک ان دیکھی اسٹبلشمنٹ کے طرز عمل کو ملکی مسائل کی جڑ قرار دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔ حالانکہ قومی آمدنی میں اضافہ کے لیے اسٹبلشمنٹ کا ہاتھ روکنے کی بجائے اس ملک کے ہر شہری کو اپنے حصے کا کام کرنے، ٹیکس ادا کرنے اور سرکاری وسائل میں اضافہ کی کوشش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں تو یہ نوبت ہے کہ پی آئی اے کے چند ہزار ملازمین سال ہا سال سے قومی خزانے میں سیند لگائے ہوئے ہیں لیکن اپنی نوکریوں کی ’حفاظت‘ کے نام پر قومی خزانے کو مسلسل زیر بار کرنے کے لیے سیاسی دباؤ میں اضافہ کیا جاتا ہے۔

ملکی معاملات میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت اور عدلیہ کی بالواسطہ اعانت کے ذریعے من مانی کرنے کے رویوں نے ملکی نظام کو کمزور کیا ہے۔ اس طریقے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ اب ملک کا کوئی بھی سیاست دان یا سیاسی پارٹی خالص جمہوریت یا عوامی تائید پر یقین نہیں رکھتی۔ وہ سیاسی مہم جوئی بھی کرتے ہیں، خود کو عوام کی مرضی کا تابع بھی قرار دیتے ہیں لیکن ان سب سیاسی گروہوں کا اولین مقصد کسی بھی طرح عسکری قیادت کے ساتھ ’پاور شیئرنگ‘ کے کسی فارمولے کے تحت اقتدار کا حصول ہوتا ہے۔ جمہوریت پر اس بے یقینی نے باقی ماندہ دیگر مسائل کو جنم دیا ہے لیکن یہ صورت حال تبدیل کرنے کے لیے باہمی تعاون کی کوئی فضا تیار نہیں ہو پاتی کیوں کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنیوں میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔ پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں مسائل حل کرنے کے لیے منصوبہ بندی، معاشی انتظام اور سیاسی استحکام کی بات کرنے کی بجائے ایک لیڈر کا نام لے کر دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اگر معاملات کو اس کے سپرد کر دیا جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ ایک علیحدہ معاملہ ہے کہ متعلقہ لیڈر کو جب بھی موقع ملے گا تو وہ عوامی تائید پر بھروسا کر کے عوام کی خدمت گزاری کا عزم نہیں کرے گا بلکہ طاقت کے نام نہاد مراکز کے ساتھ ’افہام و تفہیم‘ کو ہی محفوظ اور مناسب راستہ سمجھے گا۔

اس وقت انتخابات کا ڈھونگ رچا کر شہباز شریف کو اقتدار میں لانے کا سارا الزام اسٹبلشمنٹ پر لادا جاتا ہے۔ یہ الزام لگانے والے یا اس الزام کی بنیاد پر بے بنیاد پروپیگنڈا عام کرنے والے، کسی بھی مسلمہ فورم پر اپنا موقف ثابت کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ سیاسی معاملات میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت پاکستانی سیاسی منظر نامہ میں کوئی انہونی بات نہیں ہے لیکن اس بات کا ثبوت بہر صورت موجود نہیں یا کم از کم اسے کسی عدالتی فورم پر کسی بھی جماعت یا شخص نے ثابت نہیں کیا ہے کہ 8 فروری کو منعقد ہونے والے انتخابات میں اسٹبلشمنٹ نے مرضی کی حکومت لانے کے لیے انتخابی نتائج کو بڑے پیمانے پر تبدیل کیا تھا۔ اگر ایسا ہوا ہے اور تحریک انصاف یا مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام (ف) کے پاس اس کے ٹھوس شواہد اور ثبوت موجود ہیں تو وہ اس الزام کی بنیاد پر سیاسی انارکی پیدا کرنے کی بجائے، عدالتوں سے ریلیف لینے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟ اس کی وجہ بہت واضح ہے کہ ایسے ثبوت موجود نہیں ہیں۔ اور اصل شکایت دھاندلی کی نہیں بلکہ حقیقی افسوس حصول اقتدار میں ناکامی پر ہے۔ جس ملک کے سارے سیاستدان اور سیاسی پارٹیاں محض اقتدار کی سیاست کرتے ہوں اور اپوزیشن پارٹی کے طور پر کردار ادا کرنے پر یقین نہ رکھتے ہوں، وہاں اصلاح احول کے لیے کیسے جمہوری طریقے کارآمد ہوسکتے ہیں؟

پریشان خیالی کے اس پس منظر میں اگر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کی شکایت اور اس پر اٹھنے والے طوفان کو دیکھا جائے تو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے کہ نہ تو عدلیہ کی آزادی اصل مسئلہ ہے اور نہ ہی کسی کو اس بات سے پریشانی ہے کہ کچھ عدالتی فیصلے کہیں سے خفیہ اشارے موصول ہونے کے بعد کیے جاتے ہیں۔ اصل پریشانی یہ ہے کہ یہ ’اشارے‘ ہمارے حق میں کیوں نہیں کیے جاتے۔ اب ملک کے تین سو سے زائد وکیلوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ ’6 بہادر ججوں‘ کی پریشانی حل کرنے کے لیے آئینی شق 184 ( 3 ) کے تحت براہ راست نوٹس لے کر انصاف فراہم کیا جائے۔ اس صورت حال کو مضحکہ خیزی کے سوا کیا نام دیا جاسکتا ہے کہ شکایت کنندہ 6 جج ایک ایسے سابق جج کے الزامات کو بنیاد بنا کر اپنا مقدمہ مضبوط کر رہے ہیں جسے عہدے سے برطرف کروانے کے عمل میں کسی ایک جج کو بھی یہ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی کہ کسی جج کو ایک تقریر کی بنیاد پر برطرف کرنے سے عدلیہ کی اتھارٹی کمپرومائز ہو جائے گی۔ اور اس مقدمہ میں آگے بڑھ کر نا انصافی اور عدلیہ کی خودمختاری کی دہائی دینے والے وہی عناصر ہیں جن کے دور حکومت میں ایک جج کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال باہر کیا گیا لیکن نہ انصاف کے چہرے پر داغ لگا اور نہ کسی عدالت کی کوئی توہین ہوئی۔

ملک کے تین سو وکیل اب سپریم کورٹ سے ایک ایسے اختیار کو بروئے کار لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جس کی آئینی حیثیت و ضرورت کے بارے میں خود ملک کے وکیل اور ان کی تنظیمیں سوال اٹھاتی رہی ہیں اور جسے بروئے کار لاتے ہوئے ماضی میں متعدد چیف جسٹس نا انصافی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی لاتعداد مثالیں قائم کرچکے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ اب ایک سادہ معاملہ میں اعلیٰ سطحی تحقیقات ’نا انصافی‘ لگتی ہیں اور انہیں ناقابل قبول قرار دیا جا رہا ہے۔ 70 سال میں پہلی بار ایک چیف جسٹس کی سربراہی میں یکے بعد دیگرے ایسے فیصلے سامنے آئے ہیں جن کے بارے میں عام طور سے قیاس کیا جاتا رہا ہے کہ کوئی عدالت ایسا حکم دینے کا حوصلہ نہیں کر سکتی کیوں کہ اس سے عسکری قیادت کا اختیار چیلنج ہو گا۔ ان میں پرویز مشرف کیس، ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس اور شوکت صدیقی کیس شامل ہیں۔ ان تینوں معاملات میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی قیادت میں انصاف کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں فوج نے انہیں خوش دلی سے قبول کیا ہے اور ان فیصلوں پر کسی ناگواری کا اظہار نہیں کیا۔ اس کے باوجود ملک میں عدالت بھی خطرے میں ہے اور اسٹبلشمنٹ ’عوام کے حقوق‘ بھی غصب کر رہی ہے۔

یہ قوم اور اس کے پرجوش نمائندے اگر تھوڑی دیر کے لیے جذباتی کیفیت سے باہر نکل کر عقل کے ناخن لیں اور اس سچائی کو تسلیم کرسکیں کہ ملکی عدلیہ اور فوج نے جمہوری نظام مستحکم کرنے کے لیے درست راستے پر قدم اٹھانے شروع تو کیے ہیں۔ اب اگر 70 سال کا فاصلہ سات دنوں یا ہفتوں میں طے کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا تو اس سے شاید مسئلہ حل ہونے کی بجائے خرابیوں کا ایک نیا سفر شروع ہو جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2764 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments