رمضان اور گداگری کا سکوپ


پاکستان اس وقت بحرانوں کی زد میں ہے اور نوجوانوں کے لیے روزگار نہ ہونے کے برابر ہے۔ جہاں ہر شعبہ ہائے زندگی میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں، وہیں ایک ایسا شعبہ موجود ہے جس میں بہترین انکم ہے اور وہ روز بروز ترقی کر رہا ہے۔ جی بالکل درست سمجھے آپ لوگ میں گداگری کے بارے بات کر رہی ہوں۔

اس میں آپ کو اپلائی کرنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں یہاں تک کہ بچے بھی چھوٹی عمر میں برسر روزگار ہو جاتے ہیں۔

اب میں آپ لوگوں کو ایک چھوٹی سی مثال پیش کرتی ہوں۔

ہم لوگ جب کیمپس سے باہر قدم رکھتے ہیں تو سب سے پہلے ایک گداگر لڑکی نظر آتی ہے۔ وہ ہم لوگوں سے علاقائی زبان میں نہیں بلکہ اردو میں بھیک مانگتی ہے جب کہ انگلش میں بھیک مانگنے کے بعد اس کے بقول پچاس روپے دیے جائیں۔ کیمپس سے باہر آنے والے بچے بچیوں سے وہ انگلش سیکھنے کا کہتی ہے اور اس میں صرف بھیک مانگنا سیکھتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس کو حرف بہ حرف انگلش میں بھیک مانگنا یاد بھی رہتا ہے۔

آپ لوگوں کو اس سے بارہ تیرہ سال کی بچی کی ذہانت کا اندازہ ہو گیا ہو گا۔ وہ کس حد تک پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی حامل ہے اور صرف یہ بچی ہی نہیں بلکہ ان کا سارا خاندان ہی بھیک مانگتا ہے۔ روزی روٹی کماتا ہے اور اس کی ٹریننگ کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ وہ بچی لڑکوں کے پیچھے لگی ہوتی ہے۔ الٹی سیدھی حرکتیں کر کے ان کو تنگ کرتی ہے اور بھیک لیے بغیر جان نہیں چھوڑتی یہ تو صرف ایک چھوٹا سا منظر پیش کیا ہے۔

اب آتے ہیں۔ ہم رمضان المبارک میں اس کے سکوپ کی طرف۔ رمضان المبارک میں اس پیشے کو مزید چار چاند لگ جاتے ہیں۔ آپ کسی دکان سے کھانے پینے کی اشیا لینے جائیں واپسی پہ دس پندرہ کے قریب گداگر آپ کو یہ کہہ کے گھیر لیں گے کہ انہوں نے افطاری کرنی ہے۔ وہ بھوکے پیاسے ہیں۔ ان کے پاس کچھ نہیں اور آپ اپنا کھانا انہیں دے دیں اور وہ دس بیس روپے پہ ٹلنے والے نہیں ہوتے، دس بیس بھی دیں تو آپ کتنے گداگروں کو دیں گے جب آپ ایک گداگر کو کچھ دیں گے تو ادھر ادھر سے بیس تیس گداگر جو پھر رہے ہوں گے۔ مکھیوں کی طرح ایک ہی سمت کو لپکیں گے اور سانس لینا محال کر دیں گے۔

صرف یہ نہیں ان کا بس نہیں چل رہا ہوتا کہ پاس کھڑے بندے کو نوچ کھائیں یہ صورت حال دن بدن خطرناک ترین ہوتی جا رہی ہے۔

ابھی پچھلے دنوں ایک خبر میری نظروں سے گزری کہ متحدہ عرب امارات نے رمضان میں گداگری پہ سخت پابندی عائد کی ہے اور مقدس دنوں میں گداگری گری جیسی لعنت اپنانے پہ سخت سزا اور جرمانہ عائد کیا ہے۔

پاکستان میں رمضان المبارک کے مقدس ایام میں جہاں مہنگائی بڑھتی ہے وہیں گداگروں کی تعداد بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور عوام کے لیے مارکیٹ سے ضرورت کی اشیا لانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

پنجاب حکومت کو چاہیے پیشہ ورانہ گداگری کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام میں عزت سے روزی روٹی کمانے کا رجحان پیدا ہو نیز سخت سزا اور جرمانے عائد کیے جائیں۔

یہی لوگ جو ہاتھ پھیلا کر ہر ایک سے بھیک مانگ رہے ہیں، اگر یہی لوگ فیکٹریوں، ملوں میں کام کرنے لگیں ان کے پاس جو کچھ ہے۔ وہ انویسٹ کر کے صنعت کو فروغ دیں تو یہ ہمارے ملک کے لیے انتہائی فائدہ مند ہو گا۔ اگر یہ اس چیز کا تجربہ نہیں رکھتے تو کھیتی باڑی کی طرف آئیں اس سے ایک تو جرائم میں کافی حد تک کمی ہوگی دوسرا بے روزگاری بھی کچھ حد تک کنٹرول ہوگی اور یہ طبقہ جو بھیک مانگ کے زندگی گزار رہا ہے، عزت سے زندگی گزارے گا۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments