ترکیہ کے بلدیاتی انتخابات
ترکیہ میں لوکل الیکشن منعقد ہوئے جس میں جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی یا اے کے پی اے کے پی جو حکمران جماعت ہے کو عبرت ناک شکست فاش ہوئی اور اپوزیشن کی پارٹی سی ایچ پی کی واضح فتح نظر آ رہی ہے ایسا پہلی بار 1977 کے بعد ہوا ہے۔ یہ انتخابات 31 مارچ بروز اتوار 81 صوبوں میں ہوئے۔ ماہرین کے مطابق یہ قومی سطح پہ قومی جذبات و افکار کا کھلے عام اظہار ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں ستائی ہوئی جنتا نے اپنے بپھرے جذبات کا اظہار بیلٹ باکس کے ذریعے کر دیا ہے۔
اس دوران سب سے بڑا معرکہ تو استنبول کے مئیر کا انتخاب تھا، استنبول کی آبادی اس وقت لگ بھگ ایک کروڑ ستاون لاکھ نفوس پہ مشتمل ہے، جس میں ایک سابق وفاقی وزیر مراد خرم کا بڑے حریف اکرم امام اوگلو سے تھا جو باؤن سالہ ایک مقبول عام سیاستدان ہیں اور مستقبل بین انہیں طیب اردگان کا اصل حریف سمجھتے ہیں۔ صدر مملکت بننے سے پہلے طیب اردگان بھی بذات خود استنبول کے مئیر رہے تھے جب وہ 1994 میں یہ انتخاب جیتے تھے اور 1997 تک اسی عہدۂ جلیلہ پہ فائز رہے تھے۔
یہ ملکی سیاست پہ ابھرنے کا سنہری موقع ہے۔ اس شہر کی ملکی معیشت میں بہت اہم کردار ہے اس کی سالانہ آمدن 16 ارب ڈالر ہے جو آبادی کا کل 18 فیصد حصہ ہے۔ متحدہ پارٹیوں نے مل کر پچھلا معرکہ جو 2019 میں ہوا تھا اس میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی جب انہوں نے استنبول اور انقرہ وغیرہ جیسے اہم ترین شہروں میں حکمراں جماعت کو شکست دی تھی جہاں وہ پچھلے پچیس سال سے حکمرانی کرتی آئی تھی۔ اب بھی اپوزیشن کی پارٹی سی ایچ پی کو 81 میں سے 36 صوبوں میں کامیابی ملی ہے۔
طیب اردگان نے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے اور کہا کہ یہ ہمارے عہد کا خاتمہ تو نہیں کہا جاسکتا مگر یہ ایک اہم ترین ایک موڑ ہے ان کا ایک آئینی اصلاحات کا پلان تھا کہ وہ 2028 کے بعد بھی حکمرانی کرسکیں مگر اس شکست کے بعد اس خواب کی تعبیر مشکل دکھائی دیتی ہے۔ اب لگتا ہے کہ اکرم امام اوگلو اگلے صدارتی انتخابات میں اردگان کو شکست دے کر اگلے صدر بن جائیں گے۔ منصور یاواش جو انقرہ کے مئیر تھے وہ بھی دوبارہ انتخاب جیت گئے ہیں وہ بھی سی ایچ پی کی نمائندگی کرتے ہیں۔
عوامی جذبات کا اس سے بہترین اظہار اور کیسے ہو سکتا ہے کہ انہوں نے حکومتی پالیسیوں کو رد کر دیا ہے۔ انہوں نے بڑھ چڑھ کر اس انتخابی عمل میں حصہ لیا اور 76 فیصد عوام نے حق رائے دہی کا استعمال کیا جب چھ کروڑ دس لاکھ عوام نے ووٹ دے کر آئندہ کا منظرنامہ واضح کر دیا۔ اس تاریخی حقیقت کے بعد طیب اردگان کی حکومتی پالیسیوں پہ گرفت خاصی کمزور ہو جائے گی کیونکہ اپوزیشن نے عوامی رائے کو ایک عملی شکل دے کر ان کے عہد کو ریزہ ریزہ کر دیا ہے۔
خیر یہ توقع کرنا کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑنے پہ رضامند ہو سکیں گے کہ نہیں یا جلد قومی اسمبلی کا قبل از وقت تحلیل پہ راضی ہوں گے خاصا قبل از وقت لگتا ہے۔ مگر اس کا جانا اب طے ہے جلد یا بدیر انہیں جانا ہی ہو گا۔ مہنگائی اس وقت ستر فیصد تک جا پہنچی ہے جو حکمرانوں کی شکست کا اہم ترین وجہ بنی ہے دوسری اہم ترین وجہ صدر اردگان کی خود پسندی بھی تھی کہ وہ اپنے آپ کو عقل کل سمجھ بیٹھے تھے مگر اب ایسا نہیں کرسکیں گے اور حکومتی گرفت جوں جوں ڈھیلی پڑتی جائے گی توں وہ اپنے افکار و عمل سے دور ہوتے دکھائی دیں گے اور یوں اگلے عام انتخابات میں ان کی شکست واضح ہوگی۔
صورتحال احوال میں بہتری صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہوگی کہ وہ منجی تھلے ڈانگ پھیریں یعنی خود احتسابی کا عمل اپنے گھر سے شروع کریں۔ انہیں اپنی پارٹی میں سے ناپسندیدہ عناصر کو نکال باہر کرنا ہو گا۔ آثار و قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر طیب اردگان کا یہ عہد آخری ثابت ہو گا اگرچہ وہ ہاتھ پاؤں تو خوب مار کر اپنے بچاؤ کی کاوش کریں گے مگر ان کے چونچلے اب اپنی مقبولیت کھو چکے ہیں۔ عوام باشعور اور عصری تقاضوں سے لیس ہیں وہ کسی طور حکومتی بیانیے کو پذیرائی بخشنے کو تیار نہیں۔ جب عوام کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو عقل و خرد کا تقاضا تو یہی ہے کہ ان کی آواز ہمدوش ہو کر وقت کی پکار کو سنا جائے اور سرکاری ہٹ دھرمی کو چھوڑ دیا جائے تاکہ ملک و ملت شاہراہ ترقی پہ بگٹٹ رواں دواں ہو سکے۔


