لائیو اسٹریمنگ سے سماجی خدمت کا انوکھا انداز


دنیا میں اب اے آئی کی باتیں ہو رہی ہیں اور ٹیکنالوجی کہیں سے کہیں جا رہی ہے۔ ایسے میں زندگی گزارنے کے رنگ ڈھنگ بھی تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ سامان کی خریدو فروخت میں آن لائن کلچر بھی فروغ پا رہا ہے اس لئے اب دکاندار بھی اپنی اشیاء آن لائن بیچنا پسند کرتے ہیں۔ ایسے میں اب دنیا بھر میں لائیو اسٹریمنگ کے بعد اے آئی میزبانوں کا بھی کلچر عام ہو رہا ہے۔ آپ انہیں میزبان بھی کہ سکتے ہیں اور دکاندار بھی۔ لیکن کبھی کبھی کسی ٹیکنالوجی اور ذریعہ کا وہ استعمال نہیں لیا جاتا جس کے لئے وہ مشہور ہو۔

بلکہ ایک نیا انداز اور نئی سوچ اپنی انفرادیت کی بنا پر عام استعمال پر سبقت لے جاتی ہے۔ پاکستان میں ابھی آن لائن خرید و فروخت میں لائیو اسٹریمنگ کا استعمال زیادہ نہیں ہے۔ کئی ایسی ویب سائٹس تو کام کر رہی ہیں جن پر اب صارفین کا اعتماد ہے لیکن لائیو اسٹریمنگ آنے والے دنوں میں ایک اور تبدیلی لا سکتی ہے۔

دنیا بھر میں لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے اپنی مصنوعات اور خدمات کا فروغ ایک عام رجحان ہے لیکن چین کے جنوب میں گوانگسی چوانگ خود اختیار علاقے کے شہر کنژو کی داسی ٹاؤن شپ میں ایک گاؤں کی کمیٹی کے دفتر میں 1990 کی دہائی میں پیدا ہونے والے گاؤں کی ایک اہلکار ہوانگ چیان نے لائیو اسٹریم کو سماجی خدمات کے لئے بہت پر اثر انداز میں استعمال کیا ہے۔ خود کو دوسرے لائیو اسٹریمرز سے الگ رکھتے ہوئے، ہوانگ نہ تو مصنوعات بیچتی ہیں اور نہ ہی کوئی شو کرتی ہیں، بلکہ گاؤں والوں کو دیہی پالیسیوں کے بارے میں بتاتی ہیں۔ اپنے لائیو اسٹریمز کے دوران، ہوانگ صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر سوال کا خلوص نیت سے جواب دیتی ہیں۔ دیہی پالیسیوں کے بارے میں ان سوالات کی ہر سیشن میں اوسطاً تعداد 100 سے زیادہ ہوتی ہے۔

2017 میں ہوانگ نے داسی ٹاؤن شپ میں ولیج کمیٹی میں کام کرنا شروع کیا۔ دیہات میں اپنی پرورش کے کی وجہ سے وہ دیہی امور سے وابستہ پیچیدگیوں اور مشکلات کی گہری تفہیم رکھتی ہیں۔ جب گاؤں والوں کو گھر کی تعمیر، گھریلو رجسٹریشن، سماجی تحفظ اور دیگر عملی معاملات کے بارے میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو انہیں دیہی پالیسیوں کی واضح تفہیم کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسے وقت میں یہ آسان ہوتا ہے کہ وہ آن لائن اپنے سوالات پوچھ کر اپنے فیصلے کریں اور کسی بھی قسم کی ممکنہ غلطی سے بچیں۔ ہوانگ اس بات کا پختہ یقین رکھتی ہیں کہ دیہی پالیسیوں کا فروغ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ اس سے گاؤں والوں کی کسی بھی غلط فہمی کو ختم کیا جاسکتا ہے اور انہیں ان پالیسیوں کو موثر طریقے سے استعمال کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کے لئے با اختیار بنایا جاسکتا ہے۔

جون 2023 میں، ہوانگ نے دیہی پالیسیوں کے بارے میں سوالات کے جوابات دینے کے لئے روزانہ دوپہر کے کھانے کے وقت لائیو اسٹریم شروع کی۔ اپنے انوکھے نقطہ نظر کے ساتھ، ہوانگ نے 20000 سے زیادہ فالوورز کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ خدشات اور شکوک و شبہات کو دور کر کے، انہوں نے دیہی پالیسی کے فروغ کا ایک نیا ماڈل پیش کیا ہے جس سے گاؤں والوں کی ایک بڑی تعداد کو ان پالیسیوں سے سیکھنے، سمجھنے اور فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے۔ ہوانگ اور ان جیسے کئی نوجوان ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے سماجی خدمات کے شعبے کو ایک نئی شکل دے رہے ہیں۔

مجھے ہوانگ کے بارے میں پتا چلا تو ایک لمحے کو میں نے سوچا کہ پاکستان میں بھی اس طرز عمل کو اپناتے ہوئے کئی انداز میں سماجی خدمت کی جا سکتی ہے۔ عام طور پر لوگوں کو اپنے بنیادی قانونی حقوق، گاڑیوں، گھروں اور کاروباری معاملات میں رجسٹریشن اور آئے دن ہونے والی قانونی ترامیم کے بارے میں معلومات نہیں ہوتیں اور اداروں سے وقت لینے اور اپنی باری آنے پر معلوم ہوتا ہے کہ کاغذات اور تیاری میں کس کمی کا سامنا ہے۔

ایسے میں ذہنی کوفت بھی ہوتی ہے اور وقت کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہر شعبے کے ماہرین اپنے دن ہفتے کا مہینے کا کچھ حصہ عام افراد کے لئے وقف کرتے ہوئے انہیں مختلف سماجی اور دیگر قوانین کے بارے میں ضروری آگاہی اور تفہیم فراہم کریں۔ ایسا کرنے سے یقیناً سماجی خدمات کے شعبے میں ایک انقلاب پیدا ہو سکتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments