ملک کو درپیش مسائل کے حل کی ممکنہ تجاویز


ملک کی موجودہ صورتحال پر دن رات ہر جگہ بات ہو رہی ہے جسے لایعنی خیال کرتے ہوئے حکومت کے ایوان میں بیٹھے افراد اپنی مرضی سے کام کر رہے ہیں تاہم یہ ضرور ہے کہ عوام کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے، اچھی بات کو سراہا جاتا ہے اور اختلافی آرا کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ حکومت میں آنے والی سیاسی جماعتوں میں جن افراد کو بطور سرکاری افسران کام کرنے کا موقع ملتا ہے، ان کی اکثریت ایماندار اور شریف النفس دیکھی گئی ہے۔

پاکستان کی یہ تاریخ رہی ہے کہ یہاں برے سے برا وقت بھی آیا اور اچھے سے اچھا وقت بھی آیا، دونوں طرح کی صورتحال میں ملک کی سالمیت کو ہمیشہ خطرہ رہا ہے۔ قرض کی دلدل میں 1948 سے یہ ملک پھنسا ہوا ہے اور آج تک اس سے نجات نہ مل سکی۔ ماہرین معاشیات اور تجزیہ کار کو تفصیل سے سُن کر یہ رائے قائم کی جا سکتی ہے کہ ملک پر قرض کا حالیہ بوجھ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ ہر ملک کسی نہ کسی دور میں قرض کا شکار رہا ہے، قرض لینا کوئی بُری بات نہیں البتہ قرض کو صحیح جگہ استعمال نہ کرنا اور وقت پر ادا نہ کرنا بُری بات ہے۔

پاکستان میں گزشتہ تیس برس سے صورتحال زیادہ خراب ہوئی، پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز شریف اور مسلم لیگ قائد اعظم تین جماعتوں نے چار دہائیوں تک حکومت کی ہے، اس عہد میں آمریت کا دور بھی شمار کر لیا جائے تو چھے دہائیوں کا یہ سفر پاکستان کے لیے موجودہ مشکلات کے بیج بونے کا وقت تھا۔ سیاسی جماعتوں نے اقتدار میں آ کر ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے سیکڑوں نئی پالیسیاں وضع کی اور ان پر ممکنہ حد تک عمل بھی کیا، اس کے باوجود خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوسکا۔

بطور شہری میری چند تجاویز ہیں جو یقینی طور پر حکومت میں رہ کر کام کرنے اور اس کا تجربہ رکھنے والے افراد کو معلوم ہوں گی لیکن کسی وجہ سے وہ یہ کام کر نہیں سکے یا انھیں کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ پہلی تجویز یہ کہ حکومت کو چاہیے کہ پاکستان بھر میں مرحلہ وار پبلک ٹرانسپورٹ کا اجرا کرے، پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں دفاتر، سکولز، کالجز، یونیورسٹیز اور دیگر اداروں میں جانے آنے کے لیے ملازمین اور طلبا کو فری ٹرانسپورٹ کی سہولت فوراً بہم پہنچائی جائے۔

اگر حکومت یہ کام کر لیتی ہے تو آئی ایم ایف کا آدھا بوجھ ختم ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے، دو سال میں یہ منصوبہ مکمل ہو سکتا ہے، اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ کوئی شخص موٹر بائیک اور کار خریدنے اور بلا ضرورت چلانے کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا۔ موٹر سائیکل لاکھ سے اوپر چلی گئی ہے جبکہ سستی سے سستی کار بیس لاکھ سے کم نہیں ملتی۔ پٹرول کا 80 فیصد خرچ شہروں میں ملازمت کے لیے آنے جانے والے ملازمین اور پڑھنے والے طلبا کے استعمال میں خرچ ہوتا ہے۔

اگر حکومت یہ کام کر لے تو پٹرول کی مد میں خرچ ہونے والی رقم کسی اور مفید کام میں استعمال کی جا سکتی ہے۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ طلبا کو ٹیکنیکل ایجوکیشن کی طرف لایا جائے، میٹرک آرٹس، ایف، اے، بی اے کو ختم کر دیا جائے، سادہ پڑھائی کا کوئی فائدہ نہیں رہا، باہر کے ممالک میں ایف اے، بی اے پڑھے بچے کسی کام کے لائق نہیں۔ پاکستان کے علاوہ دُنیا بھر کے ممالک سے مزدوری کرنے لوگ دُنیا بھر کے مختلف ممالک میں آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ہمارے بچے موٹر ٹھیک کرنے، بلب لگانے، پینٹ کرنے اور بجلی کی تار کو چھونے سے ڈرتے ہیں۔

دُنیا کا نظام تبدیل ہو چکا ہے، اب کمپیوٹر ایجوکیشن، ای کامرس، چیٹ جی پی ٹی اور اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت کا دور ہے۔ سرکاری سکولز اور کالجز میں بچوں کو وہ تعلیم دی جائے جس سے دُنیا کے ممالک میں ان کو مزدوری کرنے کا موقع مل سکے۔ پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں بچے میٹرک آرٹس کرنے کے بعد ایف اے اور بی اے کرتے ہیں، اس سادہ پڑھائی کا انھیں کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، ان میں ایک قلیل تعداد کہیں کلرک بھرتی ہو جاتی ہے اور بقیہ افراد مختلف فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کر کے گزارہ کرتے ہیں اور بقیہ چور ڈاکو اور لٹیرے بن کر کرپٹ نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔

تیسری تجویز یہ کہ کوئی بچہ سکول سے باہر نہ رہے، پاکستان میں کروڑوں کی تعداد میں بچے تعلیم سے محروم ہیں، یہ بچے بڑے ہو کر معاشرے کے لیے ناسور بنتے ہیں اور ایک طرح سے بوجھ میں اضافہ کرتے ہیں، ان بچوں کو ممکنہ حد تک کوشش کر کے سکولز میں لایا جائے اور ان کی بنیادی تعلیم کا بندوبست سرکاری سطح پر نجی سکولز اور این جی اوز کو فنڈنگ کر کے کیا جائے تاکہ ملک کے بوجھ کو کم کرنے میں یہ بچے اپنا حصہ ڈال سکیں۔ چوتھی تجویز یہ کہ پاکستان میں شرح آبادی اس حد تک بڑھ چکی کہ مزید دس سال اگر پاکستان میں بچے پیدا نہ ہوں تب بھی آبادی ملکی آمدن اور ذرائع پیداوار سے زیادہ ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ دو سے زیادہ بچوں کی پیدائش پر جز وقتی پابندی لگائے اور والدین کو اس بات پر قائل کیا کرے کہ آبادی میں اضافہ ملک کی تباہی اور بربادی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، دیہات کو بطور ِخاص ٹارگٹ کیا جائے کہ دیہات میں بچے پیدا کرنے کے علاوہ اور کوئی کام ہی نہیں ہے۔ پانچویں تجویز یہ کہ حکومت ِ وقت کو چاہیے کہ دوست ممالک میں فری ویزہ پالیسی کی راہ ہموار کی جائے اور زیادہ سے زیادہ مڈل کلاس اور متوسط گھرانوں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو بیرونِ ممالک روزگار دلوانے کی کوشش کی جائے۔

پاکستان میں ڈالر، یورو، پونڈ، ین اور درہم و دینار کی آمد سے ملکی روپے کی قدر میں استحکام آتا ہے، پاکستان کے زیادہ سے زیادہ افراد حکومت کے تعاون سے باہر کے ممالک میں ملازمت کریں گے تو اس سے ملک و قوم دونوں کا فائدہ ہو گا۔ چھٹی تجویز یہ کہ مزید دو سال کے لیے غیر ملکی گاڑیوں سمیت سامانِ آرائش پر ہر طرح کی پابندی لگائی جائے، انتہائی بنیادی ضرورت کی نوعیت کی اشیا اور جان بچانے والی ادویات کو درآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔

ساتویں تجویز یہ کہ دیہات میں مقیم افراد کو بلا سود قرضے دیے جائیں اور ان کی واپسی کو پانچ سال تک موخر رکھا جائے، انھیں حکومتی تحویل میں موجود سرکاری زمین رہن دی جائے، غیر آباد زمین کو آباد کرنے اور اس کی کاشت کرنے کی اجرت علاحدہ سے ماہانہ تنخواہ کی صورت ادا کی جائے اور حاصل شدہ کل آمدنی میں کاشت کاروں کا معقول حصہ بھی رکھا جائے، جاگیرداروں اور زمین داروں کی زمین کو تقسیم کر کے چھوٹے کاشت کاروں میں منقسم کرنے کا حوصلہ کسی حکومت میں نہیں ہے کہ حکومت ہی یہی لوگ چلاتے، بناتے اور ہٹاتے ہیں، اس لیے یہ تجویز میں نہیں دے رہا۔

آٹھویں تجویز یہ کہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک سے خوشگوار تعلقات ہموار کیے جائیں، بھارت سے خصوصی طور پر بات چیت کی جائے اور درآمد بر آمد کا سلسلہ فوری شروع کیا جائے، جنگ و جدال کے معرکوں نے ہمیں پچھاڑ کر رکھ دیا ہے، دیگر ملک کہیں کے کہیں نکل گئے ہیں اور ہم ابھی تک زندہ باد زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔ نویں تجویز یہ کہ پاکستان میں الیکشن کے طریقہ کار کو تبدیل کیا جائے، الیکشن کروانے کے لیے الیکٹرانک ڈیوائس استعمال کی جائیں، الیکشن مہم کی تشہیر اور ووٹ کی کاسٹنگ کا سارا عمل کمپیوٹر کے ذریعے کیا جائے تاکہ اربوں روپے کی بچت ہو سکے اور بلیک منی کے تصور اور اس کے منفی استعمال کا تدارک ہو سکے۔

دسویں اور آخری تجویز یہ کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کے قومی مسائل اور مفاد کے معاملے میں ایک پلیٹ فارم پر متحد و اکٹھا ہو نا پڑے گا۔ پاکستان کی سالمیت، قانون کی بالادستی، اداروں کی اندرونی مداخلت، بین الا اقوامی طاقتوں کے جبر اور ملک مخالف دُشمن طاقتوں کی ہرزہ سرائی کے خلاف ملک کی تمام سیاسی جماعتیں متحد و منظم اور یک جان ہوگی۔ ملک کے محافظین، واعظین، ناصحین اور منتظمین کو بھی چاہیے کہ ملک کو آگے لے جانے کے لیے ذاتی مفادات کو پس پُشت ڈالتے ہوئے قومی مفاد کو سامنے رکھیں تاکہ پون صدی سے قائم اس ملک کو درست راہ پر گامزن کرنے کی راہ ہموار ہو سکے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments