پاکستان اور ماحولیاتی تبدیلیاں


کرہ ارض پر ماحولیاتی تبدیلیاں ایک تو قدرتی آفات اور دوسری انسانوں کی وجہ سے وقوع پذیر ہو رہی ہیں۔ یہ دونوں عوامل لازم و ملزوم ہیں۔ جو ماحول کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بنی نوع انسان ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے اور جس کی اسے اب قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ انسانوں کے زیر استعمال ٹرانسپورٹ کے زمینی، ہوائی اور سمندری تینوں ذرائع کے لئے پیٹرولیم کی مصنوعات درکار ہیں جن کے جلنے سی ماحولیاتی آلودگی بڑھتی ہے اسی طرح کارخانوں میں توانائی کا استعمال ماحول آلودہ کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

ماضی میں انسانوں کی کم آبادی، سادہ رہن سہن، کم ضروریات زندگی، توانائی کا کم استعمال اور اشیاء کا کم استعمال انسانی زندگی پر اتنا اثر انداز نہیں ہو رہی تھیں جتنی ان کی ڈیمانڈ بڑھنے سے ماحولیاتی تبدیلی پر ہوئی ہے۔ ماضی میں توانائی سادہ شکل میں زیر استعمال رہی لیکن اپنی توانائی کی بڑھتی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لئے مختلف دھاتوں کا استعمال انسان نے شروع کیا جن سے ماحول متاثر ہونا شروع ہوا۔ کاربن و میتھین گیسوں کا ماحول میں اخراج، پٹرول میں لیڈ کے جلنے سے اخراج کے علاوہ انسانوں کا دوسری دھاتوں کا دگنا استعمال مثلاً پارہ، زنک، کیڈمیم، آرسینک کا بھی ان ماحولیاتی تبدیلیوں میں اہم کردار ہے۔

دوسری جانب جنگلات کی کٹائی، زمینی کٹاؤ، زرخیز زمین کا مکانات کے لئے استعمال سے ضروری اشیاء کی کمی جیسے سنگین مسائل بنی نوع انسان کو در پیش ہیں۔ جس کی طرف توجہ کی اشد ضرورت ہے۔ ان لاتعداد عوامل کی وجہ سے کرہ ارض تبدیلیوں کا مرکز ہے جس میں سر فہرست ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، حیاتی تنوع (بائیو ڈائیورسٹی) میں کمی جو ہمارے ماحولیاتی نظام ( ایکو سسٹم) پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اسی کے ساتھ سمندری حیات میں کمی بھی ہمارے ماحول پر اپنا اثر ڈال رہی ہے۔

اس کے علاوہ پورے کرہ ارض کا ماحول گرم ہو رہا ہے اور ہر سال موسمیاتی تبدیلیاں، جن میں گلیشئروں کا پگھلنا بے موسمی بارشیں، قدرتی آفات، زلزلے و سیلاب شامل ہیں۔ اگر ان تمام تبدیلی کا بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے۔ یہ انسانی حیات پر اثر انداز ہو نے والے عوامل ہیں۔ پاکستان میں ماحول کی تبدیلی ایک سنگین مسئلہ ہے اور ملک اس تبدیلی کا شکار پچھلے چند دہائیوں سے ہو رہا ہے جس کی زد میں عوام اور ماحول دونوں ہیں۔

اس سے ہوا میں کثافت کا بڑھنا، ماحولیاتی شور، زمینی کٹاؤ، زمین کا تھور و سیم سے ناقابل کاشت ہو جانا، پانی کا گہرائی میں چلے جانا، قدرتی آفات، زلزلوں کا آنا، جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ جس سے اس کی جی ڈی پی پر بھی اثر پڑ رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق یہ اٹھارہ تا بیس فیصد 2050 ء تک کم ہو جائے گی۔ یہ اقتصادی ترقی و غربت ختم کرنے کے منصوبوں پر نہایت گہرا اثر چھوڑے گی۔ اس کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات کی زیادہ کھپت، آبادی میں اضافہ اور تجارت میں نئے طور طریقے ملکی ماحول کی آلودگی سے نمٹنے کے بڑے مسائل ہیں۔

یہ ماحولیاتی تبدیلی ملک پر گہرے اثرات ڈال رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس ماحولیاتی تبدیلی سے 365 بلین روپے پانی کی قلت دور کرنے اور سینیٹری صفائی کے لیے جبکہ 112 بلین روپے زراعتی زمین کو قابل کاشت لانے کے لئے درکار ہوں گے ۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہونے کے ناتے اپنے طور اس ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنے تئیں 2030 تک پچاس فیصد کمی لانے کی کوشش میں بین الاقوامی برادری کے سنگ مصروف کار ہے۔

اس کی 225 ملین کی آبادی آلودگی کے اقوام متحدہ کے مقرر کردہ معیار زندگی سے نیچے بسر کر رہے ہیں۔ ان میں اکثریت پاکستان کے اپنے آلودگی کے معیار زندگی سے بھی نیچے زندگی بسر ہو رہی ہے۔ موسمی تغیر و درجہ حرارت میں تبدیلی بھی اس ماحولیاتی تبدیلیوں کے عوامل میں شامل ہے۔ ماحولیاتی اثر سے گلیشئرز کا پگھلنا اور سمندری پانی کی سطح کا بلند ہونا اور آنے والے وقت میں شدت اختیار کرنا بھی ہو گا۔ ماحول میں گیسوں کے اخراج کی روک تھام دنیا کے تمام ملکوں کے لئے ایک چیلنج ہے جس سے سب نبرد آزما ہو رہے ہیں اور اقوام متحدہ اس میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اس کے زیر اہتمام ماحولیاتی تبدیلی کا معاہدہ پیرس میں طے پایا تھا جس میں تین اہم گیٹیگریوں میں سب سے پہلا عمل ماحول میں گیسوں کے اخراج کی روک تھام، دوسرے نمبر پر قدرتی ماحولیاتی نظام کے تحت اپنے آپ کو ہم آہنگ کرنا اور تیسرے نمبر پر ان تبدیلیوں کے لئے سرمایہ۔ ماحولیاتی تبدیلی کے لئے کثیر سرمایہ درکار ہے جو حکومتوں اور کاروبار و تجارت دونوں سے مطلوب ہو گا۔ پٹرولیم مصنوعات سے سولر توانائی یا ہوائی و پن چکی سے حاصل شدہ توانائی کا استعمال ماحول کو آلودہ ہونے سے بچا سکتا ہے۔

کیا اس سے عوام، گھر، تجارت، لوگوں کا رہن سہن، انفراسٹرکچر اور ماحول آلودگی سے بچ پائے گا۔ دوسری جانب ماحولیاتی آلودگی کا اثر ہمارے کرہ ارض پر پڑنا شروع ہو چکا ہے جس میں سمندری برف و گلیشئرز کا پگھلنا، ماحولیاتی گرمی میں شدت، موسمی تغیر اور سمندروں میں پانی کی سطح کا بلند ہونا چند مثالیں ہیں۔ ان کے علاوہ خشک سالی اور بے موسمی موسلا دار بارشوں کا امکان بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اگلے دس سالوں میں ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی قلت وغیرہ بنی نوع انسان کے لئے ایک بڑا گمبھیر مسئلہ بن کر کھڑا ہو رہا ہے جس سے نبرد آزما ہونا ایک چیلنج ہو گا۔

کسی بھی کامیاب پروگرام کے لئے دو عوامل اہم ہوتے ہیں ایک حکومتی سطح پر کام اور دوسرا اس میں عوام کی آگاہی و تعاون۔ آئیں اپنے پیارے ملک کو ماحول کی آلودگی سے بچائیں۔ ردی و دوسری اشیاء کو مکمل طور ایسی جگہ پھینکیں جو جگہ ان کے لئے مخصوص ہیں۔ ویسے بھی ہمارے مذہب میں صفائی نصف ایمان ہے۔ ہم اپنے آنے والی نسلوں کو کیسا کرہ ارض دے کر جائیں۔ اس بارے ضرور سوچیں۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments