غسلِ میّت


mohammad rafiq dad

دوست محمد عرف دوستین ایک سیدھا سادا شریف انسان تھا، وہ زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا لیکن مذہبی رجحانات رکھنے کے سبب اس کا زیادہ وقت مِحلے کی مسجد میں گزرتا جہاں مولوی صاحب سے اس نے نماز کا طریقہ اور دیگر مذہبی فرائض و واجبات سیکھنے کے ساتھ ساتھ قرآن شریف کی کچھ چھوٹی سورتیں بھی یاد کرلی تھیں۔ مولوی صاحب میتوں کو غسل دینے کے لیے مدد گار کے طور پر انھیں بھی اپنے ساتھ لے جایا کرتے تھے۔ دوست محمد میتوں کو غسل دینے میں ماہر ہو گئے تو مولوی صاحب نے انھیں ٹیم لیڈر بنا کر اپنے دوسرے شاگردوں کے ساتھ بھیجنا شروع کیا۔ ہوتے ہوتے وہ ایک غسّال کے طور پر پورے علاقے میں مشہور ہو گیا۔

دوستین کی شادی کو کافی عرصہ ہو گیا تھا لیکن وہ اولاد کی نعمت سے محروم تھا، ماں باپ پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہوچکے تھے اور بھائی بہن تھے ہی نہیں لہذا ان کا کنبہ کل دو افراد پر مشتمل تھا؛ ایک وہ خود دوسرا ان کی بیوی زبیدہ۔ اتفاق سے دونوں میاں بیوی قناعت پسند اور راضی بہ رضا انسان تھے، زندگی آسان تھی لہذا دوستین نے کوئی نوکری کرنے کے بجائے غسلِ میت کو ہی اپنا ذریعہِ معاش بنا لیا۔ گو کہ وہ اپنے کام کا معاوضہ طلب نہیں کرتا تھا لیکن میّت کے لواحقین خود اپنی طرف سے کچھ نہ کچھ ہدیہ انھیں ضرور دیتے۔ اس کے علاوہ سوم، دسواں، چالیسواں اور سالانہ برسی کے موقع پر بھی لوگ اپنی میتّوں کے ایصالِ ثواب کے لیے انھیں کپڑا، جوتا، رومال اور نقدی وغیرہ دیا کرتے تھے جس سے ان کی زندگی کی گاڑی (سست روی کے ساتھ ہی سہی مگر) خراماں خراماں چل رہی تھی۔

پھر وقت بدل گیا، دوستین جوانی کا سفر طے کر کے بڑھاپے کی منزل میں داخل ہو گئے، ساتھ ہی غسّالی کے پیشے میں اور بھی کئی لوگ آ گئے۔ اب ان کے پاس کم ہی لوگ اپنی میتوں کو غسل دینے کے لیے آنے لگے۔ مہینے میں کوئی ایک آدھ بھولا بھٹکا ان کے پاس آتا۔ ان حالات میں دوستین کے معاشی حالات بد سے بد تر ہونے لگے مگر بہرحال دونوں میاں بیوی کی سانس کی ڈوری چل رہی تھی۔ اس مرتبہ تو حد ہو گئی پورا مہینہ گزرا اُسے کوئی آرڈر نہیں ملا اور نوبت فاقوں تک پہنچ گئی تھی۔

”لگتا ہے کہ ملک الموت اس بستی کی راہ بھول گیا ہے یا پھر لوگوں نے بغیر غسل کے ہی میتوں کو دفنانا شروع کر دیا ہے“ وہ انہی خیالات میں گُم تھے کہ قریبی مسجد سے فوتگی کا اعلان ہونے لگا۔ اعلان کرنے والا شاید کوئی اناڑی تھا جس کی وجہ اعلان واضح نہیں تھا۔ بہرحال دوستین فوراً تیار ہو کر گھر سے نکلا اور پوچھتے پاچھتے فوتگی والے گھر پہنچ گیا۔ اُس نے دیکھا کہ گھر کے باہر کچھ مرد و خواتین جمع تھے جو آپس میں چہ مگوئِیاں کر رہے تھے۔

دوستین بھی جاکر ایک طرف بیٹھ گیا کہ شاید انھیں دیکھ کر میّت کے لواحقین انھیں میت کو غسل دینے کا کہیں۔ جب کافی دیر گزرنے کے بعد بھی کسی نے اس کی طرف توجہ نہ دی تو وہ تھوڑا اور قریب جاکر گھر کے دروازے کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ عورتیں گھر میں آ اور جا رہی تھیں، گھر سے رونے پیٹنے کی آوازیں بھی آ رہی تھیں۔ گھر میں داخل ہوتے ہوئے ایک منہ پھٹ عورت کی نظر دوستین پر پڑ گئی۔ ”ہاں بڑے میاں! یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ کوئی کام ہے تو بتا دو۔“ اُس نے دوستین کی طرف تیکھی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ”اس گھر میں فوتگی ہوئی ہے، میں دوستین غسّال ہوں، اسی کام کے لیے بیٹھا ہوں۔ آپ گھر والوں کو مطلع کریں کہ میت کو غسل دینے والا آیا ہوا ہے۔“ دوستین نے وضاحت کی۔ ”آج پہلی مرتبہ سن رہی ہوں کہ عورتوں کی میت کو بھی مرد غسل دینے لگے ہیں۔“ عورت نے طنز کرتے ہوئے کہا اور گھر میں داخل ہو گئی۔ بے چارہ دوستین اپنا سا منہ لے کَر اپنے گھر کو لوٹ گئے۔

Facebook Comments HS