شاعر کی جادو نگاریاں


شاعری لطیف جذبات کے اظہار ہی کا نام نہیں بلکہ یہ اپنے اندر اتنا وسیع کینوس رکھتی ہے کہ زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی حقیقت اور کائنات کی بڑی سے بڑی سچائی کو نہایت عمدگی اور خوبصورتی کے ساتھ ایک شعر میں سمو لیتی ہے۔ شاعری ایک ایسی جادو نگری ہے جہاں نرم گرم احساسات، بہتی ندیوں، گرتے جھرنوں، رم جھم کرتی ساون کی پہلی بارش اور حد نگاہ سمندر کی وسعتوں کی تصاویر انتہائی دلکشی کے ساتھ کھینچی جاتی ہیں

”کشش کا راز کیا ہویدا زمانے پر
لگا کے آئینہ درو بیں میں نے ”

شاعری انسان کو اخلاقی درس بھی دیتی ہے اسے جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔
”برنگِ کوہ رہ خاموش حرفِ نا سزا سن کر
کہ تا بد ہو صدائے غیبی سے کھنچے پشیمانی ”

شاعری انسان کے خیالات کو پاکیزہ اور روح کو منور کرتی ہے۔ شاعری زندگی کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے بلکہ موت کے بعد کی زندگی کے کٹھن حقائق کو بڑی سہولت اور نرمی سے انسان کے سامنے رکھتی ہے۔

”فنا کا ہوش آنا زندگی کا درد سر جانا
اجل کیا ہے خمار بادہ ہستی اتر جانا ”

شاعری انسان میں دلیری اور بہادری کے جذبات بیدار کرتی ہے اور اسے زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ شاعری دکھ میں ڈھارس بندھاتی ہے اور سکھ میں بہترین رفیق بن جاتی ہے۔ شاعری انسان کو ان طلسم نگریوں کی سیر کرواتی ہے جہاں سے انسان کی روح سرشار ہو کر واپس آتی ہے۔

”رہی حقیقت عالم کی جستجو مجھ کو
دکھایا اوج خیال فلک نشین میں نے ”

شاعری انسان کی نظر کو وسعتوں سے ہم کنار کرتی ہے اور شاعر جس کی زبان سے ایسی روح پرور اور فکر آمیز پھلجھڑیاں برستی ہیں وہ اپنی ذات میں یقیناً سات سمندروں سے زیادہ وسعتوں کا حامل ہے جہاں رزم و بزم کی دلکش کشمکش سے ہر لمحہ تازگی اور سرشاری کا احساس ہوتا رہتا ہے اور اسی سرشاری کے نشے میں وہ زندگی میں حسن و شباب کے دیے روشن کرتا ہے۔ شاعر اپنے سوز دروں سے قوموں کو بیدار کرتا ہے اور اپنے زمزموں سے انقلاب برپا کر دیتا ہے۔

”اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخ امرا کے در و دیوار ہلا دو ”

شاعر اپنی ذات میں مگن اور مسرور رہتے ہوئے زندگی کی چمن بندی کرتا رہتا ہے۔ شاعر ہی اپنے ترانوں کے ذریعے تصوف کی وادیوں کی سیر کرواتا ہے اور بندوں کو خدا سے ملاتا ہے۔

”ہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تونے“

شاعر زندگی کے معمول کے واقعات کو اپنی روح کا گداز عطا کرتا ہے۔ اپنی ذات کو رومان کی بھٹی میں بھسم کرتا ہے اور اس خاکستر سے شاعری کشید کر کے زندگی کی بے رنگ تصویر میں رنگ بھرتا ہے۔

”باغ میں پتوں کو آ کر گدگداتی ہے صبا
خواب سے منہ بند کلیوں کو جگاتی ہے صبا ”
”دو تیتریاں ہوا میں اڑتی دیکھیں
اک آن میں سو طرف کو مڑتی دیکھیں ”

محبت کے لطیف اور نرم و گداز جذبے کو شاعر ہی لفظی پیکر عطا کرتا ہے اور عاشق کی حالت دل کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے۔

”محبت میں اک ایسا وقت بھی آتا ہے انسان پر
ستاروں کی چمک سے چوٹ لگتی ہے رگِ جان پر ”
”رلاتی ہے مجھے راتوں کو خاموشی ستاروں کی
نرالا عشق ہے میرا نرالے میرے نالے ہیں ”

شاعر زندگی کی تلخیوں اور محرومیوں کو نہایت خوبصورتی اور رعنائی سے پیش کرتا ہے کہ بڑی سے بڑی ناگواری انسان کو آب حیات کا جام لگتی ہے۔

”یہ غم جو اس رات نے دیا ہے
یہ غم سحر کا یقیں بنا ہے ”

غرض شاعر ہی ہے جو کائنات کو حسن لازوال اور حیات نو بخشتا آیا ہے، بخش رہا ہے اور بخشتا رہے گا اور ہمیشہ لامکانیوں کے آسمان پر مہر تاباں بن کر اپنی شاعری کی کرنوں سے زندگی کو منور اور سرشار کرتا رہے گا۔

”آج بھی قافلہ عشق رواں ہے کہ جو تھا
وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا ”


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments