اتحادی حکومت اور ملک کو درپیش مسائل


پاکستان میں گزشتہ ماہ کے آغاز میں پاکستان مسلم لیگ نواز کی سربراہی میں مخلوط حکومت قائم ہوئی۔ شہباز شریف اس وقت وزیر اعظم ہیں جنہیں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی حمایت حاصل ہے، جبکہ پنجاب میں مسلم لیگ نواز کی حکومت قائم ہے، پنجاب میں مریم نواز وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے موجود ہیں۔ پاکستان کے جو حالات ہیں اور جو ہمارا حکمرانی کا نظام ہے، اس میں ایک مضبوط حکومت ہی نہیں بلکہ مضبوط سیاسی نظام بھی درکار ہے۔ کیونکہ ان غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات یا سخت فیصلوں کی بنیاد پر ہی ہم حکمرانی کے نظام میں سیاسی طور پر سرخرو ہوسکتے ہیں۔

مخلوط حکومت کو سیاسی محاذ کے ساتھ معاشی میدان میں اس وقت مشکل حالات کا سامنا ہے جس میں خاص کر مہنگائی اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں جن کا بوجھ ابھی تک مقامی طور پر صارفین کو منتقل نہیں کیا گیا تاہم اس کے نتیجے میں ملک کا بجٹ خسارہ بڑھ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کو اقتدار منتقل ہوئے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے اور پہلے دن سے سب سے بڑا معاشی چیلینج تیل مصنوعات کی قیمتوں کا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد تیل کی قیمتوں کو تین الگ الگ مواقع پر تحریک انصاف کے دور میں طے شدہ سطح پر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم اس فیصلے کا نتیجہ سبسڈی کی مد میں اربوں روپے کی ادائیگی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مارچ میں 33 ارب روپے سے زائد سبسڈی فراہم کی گئی، اپریل میں 60 ارب روپے اور مئی میں 118 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا۔

ماہر معیشت ڈاکٹر عالیہ نے بتایا کہ سخت فیصلے تو کرنے ہوں گے لیکن لگتا ہے کہ یہ حکومت اس سلسلے میں غیر سنجیدہ ہے اور حالات کا سامنا کرنے سے کترا رہی ہے۔

انھوں نے کہا اگر آئی ایم ایف سے پیسے نہیں ملتے تو ملک کی معیشت نہیں چلے گی اسی طرح دوست ممالک سے بھی پاکستان کو مالی معاونت کرنے میں دلچسپی کا اظہار نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا حکومت کو عوام کو بتانا چاہیے کہ معاشی حقائق کیا ہیں ورنہ ملک اقتصادی طور پر ڈوب جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اعتماد میں لیا جائے جیسا کہ تیل و بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے۔

حکومت کی جانب سے اگر سخت فیصلے لیے جاتے ہیں تو اس کے لوگوں پر اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو مہنگائی کی شرح میں دو سے تین فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر حزیمہ نے کہا اصل مسئلہ پاکستان میں ادارہ جاتی اصلاحات کا ہے کہ جس کے بغیر معیشت نہیں سدھر سکتی۔ آمدن اور اخراجات میں جو عدم توازن ہے وہ حکومت کو آسانی سے حکومت نہیں کرنے دے گا اور نہ ہی حکومت مشکل اور کڑوے فیصلوں کا بوجھ عام آدمی کے مقابلے میں طاقت ور افراد کو منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی طرح صوبائی حکومتوں کی بری حکمرانی بھی وفاق پر نئے الزامات اور ان ہی کو بگاڑ کی ذمے دار قرار دے گی اور ایسے میں شہباز شریف حکومت تنہائی کا شکار ہو سکتی ہے۔

بحیثیت قوم ہمیں ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے ہمیں اپنی غلطیوں سے سیکھنا پڑے گا۔ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے نہیں ان کے ازالہ سے قومیں آگے بڑھتی ہیں۔ تمام سیاست دانوں کو اب مل بیٹھ کر ایسی پالیسیاں تشکیل دینی ہوگی جس میں عوام الناس کو فائدہ پہنچے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ملکی حالت مزید خراب ہوتی نظر آ رہی۔

 

Facebook Comments HS