وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف


مریم نواز پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ اعلٰی بن گئیں۔ پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب سے منتخب ہوئیں۔ شریف خاندان کی چوتھی شخصیت ہیں جو اس منصب پر فائز ہوئیں۔ مریم نواز کا وزیر اعلی بنے کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ شریف خاندان کے پھر سے سیاست میں قدم مضبوط ہونا۔ وہ شریف خاندان کی سیاسی میراث کی اصل وارث بن چکی ہیں۔

مریم نواز شریف نے پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں والد کی غیر موجودگی میں جلسے جلوس کر کے پارٹی کو مضبوط کرنے کی کوشش بہت کی۔ لیکن سیاسی دشمنی کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک بار پھر سے دوستی نے ان کی پارٹی کے امیج کو جو نقصان پہنچایا وہ زخم اب نہیں بھرنے والا۔ پی ڈی ایم کے دورِ حکومت میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان پر ظلم و جبر باہر تو پنجاب پولیس نے کیا لیکن سب کو پتہ تھا اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ نون کی ملی بھگت ہے۔

نواز شریف بظاہر تو خوش لگ رہے تھے جب یہ سب پی ٹی آئی کے ساتھ ہو رہا تھا لیکن اندر ہی اندر وہ یہ جانتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کسی کی سگی نہیں۔ کیونکہ جو غلطی عمران خان نے کہ ماضی میں یہ نواز شریف بھی کر چکے ہیں۔ زمین پہ بیٹھ پر آسمان پر سفر کرنے والوں کے خلاف منصوبہ کتنا مہنگا پڑا یہ شاید نواز شریف سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔ نواز شریف آئے تو وزیراعظم بننے تھے لیکن انہیں یہ پتہ تھا کہ ان کا چوتھی بار وزیراعظم بننا تو آسان ہے لیکن اپنی مدت پوری کرنے کے لیے ان انہیں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ہر آنے والے خاکی لفافے میں بند سفید صفحے پر بغیر کسی سوچ کے دستخط فرما دینے ہوں گے۔

پی ڈی ایم ٹو بننا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ اتحادی حکومتوں کی بھی مجبوری تھی۔ کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس بھی ایک ہی راستہ تھا پی ڈی ایم ٹو بنانے کا۔ اگر مسلم لیگ نون پیپلز پارٹی یہ متحد نہ ہوتے تو شاید ان کی سیاست کی ختم ہو جاتی۔ اپنا مستقبل بچانے کے سڑکوں پر گھسیٹنے والے ایک ساتھ ہو گئے۔ نواز شریف واپس لوٹ جائیں گے اپنے آبائی گھر لندن کچھ عرصہ یہ حکومت چلی گئی زرداری صاحب وقفے کے بعد آئیں گے اور ایک بار پھر سے مسلم لیگ نون کو ایسا تحفہ دیں گے ان کے لیے یہ تحفہ ناقابل برداشت ہو گا۔

اس سارے کھیل میں پیپلز پارٹی کو لگ رہا ہے کہ اسے فائدہ ہوا ہے بظاہر تو ضرور ہوا ہے۔ لیکن اب دونو بڑی پارٹیوں کے لیے مشکل وقت شروع ہوا جاتا ہے۔ اب آرمی چیف اور دیگر اعلی عہدوں پر فائز افسر کی مدت ملازمت میں توسیع کریں گے اگر توسیع نہیں کریں گے تو۔ انہیں یہ ڈر بھی کہ نئے لوگ آئیں گے تو پھر ان کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو جائیں گی اور یہ حقیقت ہے جو ایک دن ہونا ہے۔

جہاں تک بات مریم نواز کے وزیر اعلیٰ بننے کی ہے تو وہ مسلم لیگ نون کی ختم ہونے والی سیاست کی آخری نشانی ہے۔ لہذا فی الحال انہیں شوٹنگ کے بجائے جیلوں میں جو کی سالوں سے خواتین بند ہیں انہیں سب سے پہلے رہائی دیں۔ ان کے کیسز ختم کرے اور سب خواتین کو کاروبار ہنر مند اور اپنے پاؤں پے کھڑا ہونے کے لیے پروگرام شروع کرے۔ بطور خاتون وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا یہ اقدام ان کی شخصیت پے مثبت اثرات مرتب ہونے کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے منہ پے طمانچے کی طرح لگے گا۔ اور تاریخ قائم کر دی جائے گی۔ جیل میں وقت گزارنا شاید مریم سے بہتر کون جان سکتا ہے۔

دو برس پہلے تک وہ انتخابات میں بھی حصہ لینے کی اہل نہیں تھیں اور اب وہ وزارتِ اعلی کے عہدے پر فائز ہیں۔ اب دیکھنا یہ کہ کیا وہ بھی اپنے والد صاحب کی طرح سیاست کریں گی یا وہ ایمانداری سے ملک کی خدمت کریں گی۔

اسمبلی کی لمبی چوڑی تقریر میں انہوں نے دعوے تو کافی کیے ہیں پر ان پر عمل درآمد کب ہو گا یہ کوئی نہیں جانتا۔ مریم نواز کا کہنا ہے کہ صحت کارڈ کو پھر سے عوام کے لیے بحال کر دیا جائے گا۔ اب مریم نواز کو بھی بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا ہو گا کیونکہ اب تک وہ پارٹ ٹائم سیاست دان تھیں وہ اب تک وہی کرتی آئی ہیں جو ان کے والد کہتے تھے ان کی فل ٹائم سیاست کا آغاز اب ہو گا۔

سرپرائز وزٹس جیسا عمل پاکستان کے قیام کے بعد روایتی سیاست کا حصہ نہیں تھے اور اس کی ابتدا پاکستان پیپلز پارٹی کے پہلے دورِ حکومت میں ہوئی اور نواز شریف کی اسی کی دہائی میں پنجاب میں وزیرِ اعلیٰ بننے کے بعد تواتر سے ایسے دورے سامنے آتے رہے۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے بھی اپنے عہدے کا منصب سنبھالتے ہی صوبائی دارالحکومت لاہور میں مختلف مقامات کے دوروں کا آغاز کیا۔ وزارتِ اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے کچھ دیر بعد ہی وہ لاہور میں واقع ایک پولیس سٹیشن پہنچیں، دوسرے دن انھوں نے میو ہسپتال اور اس کے بعد سیف سٹی کے آفسز کا دورہ بھی کیا۔

ان دوروں کو لے کر جہاں ایک طرف حکمران پارٹی سے منسلک افراد نئی وزیراعلیٰ کی تعریفوں کے پُل باندھتے نظر آ رہے ہیں تو وہاں بہت سے لوگوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اس نوعیت کے دوروں سے رائج نظام پر یا عوام کو کیا فائدہ ہو گا؟ کیا اس نوعیت کے دوروں کو ’پی آر سٹنٹ‘ قرار دیا جائے یا واقعی ان دوروں کا مقصد عوام کو فائدہ پہچانا ہے۔ یہی وہ سوالات ہیں جن کے جواب شاید ہم اور آپ بھی جاننا چاہتے ہیں۔

ان سرپرائز وزٹس کے منفی اور مثبت دونوں پہلو ہیں۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ جو سسٹم نہیں چل پا رہا ہوتا وہ وقتی طور پر تھوڑا فعال ہو جاتا ہے اور کچھ وقت کے لیے لوگوں کو اس سے فائدہ بھی ہوتا ہے۔ مگر منفی پہلو یہ ہے کہ اس نوعیت کے دورے ظاہر کرتے ہیں کہ سسٹم خود سے چل نہیں پا رہا اور اس کے لیے صوبے کے سب سے بڑے عہدیدار کو دھکا لگانا پڑ رہا ہے جو سسٹم کی خرابی کی دلیل ہے۔

وزیر اعلیٰ کا اصل کام یہ نہیں کہ وہ اس نوعیت کے دوروں میں وقت گزارے بلکہ اسے چاہیے کہ وہ ایسی پالیسیاں بنائے جس سے انتظامی امور خود سے اور اچھے انداز میں چل سکیں اور سرکاری افسران اور ادارے خود سے کام کریں۔ اچھا حکمران وہ ہے جو عہدہ سنبھال کر انتظامی امور اچھے طریقے سے چلا سکے نہ کہ سیاسی محرکات کے پیچھے لگ کر سارا زور دورے کرنے پر رکھے۔

Facebook Comments HS