عدلیہ کا چھکا!


ماضی قریب سے شروع کر لیتے ہیں، حنیف عباسی کیس کی مثال لے لیجیے۔ تاریخ سماعت انتخابات سے قبل مقرر تھی لیکن اسے الیکشن سے تین روز آگے کر دیا گیا تاکہ وہ الیکشن نہ لڑ سکے۔ صبح فیصلہ سنایا جانا تھا اور بات رات گیارہ بجے تک چلی گئی کیونکہ درون خانہ کچھ ہو رہا تھا۔ اب ذرا فاسٹ فارورڈ کر کے زمانہ حال میں آ جائیں، خان صاحب کو الیکشن سے پہلے پہلے انتہائی عجلت میں 3 کیسز میں سزائیں سنائی گئیں۔ پلٹیں ماضی کر طرف، بقول شوکت عزیز صدیقی نواز شریف اور مریم نواز کی سزائیں قائم رہنی چائیں وگرنہ دو سالہ محنت ضائع ہو جائے گی۔

اس وقت اس اکیلے شخص کو مثال بنا دیا گیا کہ تم کیسے ہمارے محبان کی شان میں گستاخی کر سکتے ہو۔ جھٹ پٹ نا اہل کر کے گھر بھیج دیا اور ریویو پٹیشن بھی پانچ سال نہیں سنی۔ اس دوراں تین چیفس گزرے جو کہ اس وقت اور شاید آج بھی عدل و انصاف کے پیکر تھے۔ لیکن کسی نے بھی اس خطرناک پٹیشن کو نہیں لگنے دیا۔ یعنی کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت صرف ججز نہیں بلکہ چیفس بھی مینیج ہوا کرتے تھے۔ صرف اتنا نہیں ساتھی ججز کی طرف سے مکمل بائیکاٹ کیا گیا، بیٹی کی شادی دعوت دی تو کوئی بھی شامل نہ ہوا۔ کسی جج کو توفیق نہ ہوئی کہ فون کال ہی کر کے مبارک دے دیتا۔ اتنا خوف، اتنا ڈر، یہ حق اور سچ کی پکار اس وقت کیوں خاموش تھی؟ کیونکہ عبرتناک مثال سامنے تھی۔ کون ایسی جراتِ رندانہ کرے۔

چلیں اب اتنا تو ہوا کہ ان 6 کے خلاف فوری طور پر سپریم جوڈیشنل کونسل حرکت میں نہیں آئی۔ وجہ سب کو معلوم ہے۔ جو بڑی کرسی پر براجمان ہے اسے بھی فیض آباد دھرنے کیس میں مثال بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی، صرف اسے نہیں اس کی بیوی کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا گیا کہ کہیں سے تو کوئی ایسا نکتہ ملے، مگر صد افسوس کچھ نہ ملا اور اس شخص نے بھی تن تنہا مقابلہ کیا اور سرخرو ہوا۔ ویسے بھی ان 6 میں سے صرف ایک (کیانی صاحب) 2015 کی تقرری ہیں بقیہ پانچ 2020 اور 21 کی تقرریاں ہیں۔ ایک نکتہ یہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ جو تقرریاں انصافی دور میں ہوئیں وہ دبنگ جج ہیں انہوں نے ہی یہ دباؤ والا شوروغوغا ڈالا ہے، آئیں ان دبنگ کے رنگ میں بھنگ ڈالتے ہیں :

کیا ان 6 کا ضمیر شوکت عزیز صدیقی والے فیصلے کے کالعدم ہونے کے بعد ہی جاگا، جی نہیں!

ان ججز نے پہلے بندیال صاحب کو شکایت کی تھی، لیکن انہوں نے اس معاملے میں اپنے ساتھی ججز سے کوئی مشورہ نہیں کیا، اس وقت سنیارٹی کے لحاظ سے فائز عیسی اور طارق مسعود بالترتیب تھے اور ان کے بعد جسٹس اعجاز الاحسن۔ مشورہ کس سے کیا گیا اعجاز الاحسن سے۔ کیونکہ پتا تھا کہ ان دو مذکورہ ججز نے تو کسی کی نہیں سننی اور کہنا ہے کہ ایکشن لیں، اس لئے مینیج ایبل کام کیا گیا اور درخواست گزار ججز کو پیغام بھیجا گیا کہ ہماری فون پر بات ہو گئی ہے، آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔

کیا یہ جواب قانونی تھا؟ اس وقت ضمیر نے انگڑائی نہیں لی، وجہ؟ کیونکہ اس وقت صدیقی کیس والا فیصلہ نہیں آیا تھا اور وہ اس وقت راندہ درگاہ تھا۔ ان سب کو پتا تھا صدیقی حق پر ہے لیکن اس وقت کسی نے حق و صداقت کا ڈنکا نہیں بجایا، نہ ہی اس کی حمایت کی۔ سب کے سب اپنی اپنی جگہ پر خاموش بیٹھے تماشا دیکھتے رہے۔

صدیقی کو نون لیگی جج ہونے کا طعنہ دیا جاتا رہا اور اب اسی صدیقی کے کارنامے پر اپنا ڈھول پیٹا جا رہا ہے کہ جی یہ ہیں عدلیہ کے غازی اور مجاہد 6 پیکرِ عدل۔ ویسے صدیقی و عیسیٰ کا کندھا خوب استعمال کیا ہے ان چھکوں نے!

تصدق جیلانی کے خلاف جو مہم چلائی گئی وہ سمجھ سے باہر ہے کیونکہ یہ صاحب 2018 کے الیکشنز میں نگران وزیر اعظم والی لسٹ میں شامل تھے جو کہ خان صاحب نے دی تھی۔

بہرحال فل کورٹ بنے گی تبھی جان چھوٹے گی۔ اب اس کیس کا مزا اس وقت دوبالا بلکہ آتشیں ہو گا جب اس میں فائزعیسی والے، صدیقی والے اور ان 6 والے تمام آلہ کاروں کو سزا ملے۔ چاہے اس میں ججز ہوں، جنرلز ہوں یا ایجنسیوں کے اہلکار۔

جب تک عدلیہ اپنے گھر کی اصلاح نہیں کرے گی تب تک دوسرے ان کے کام میں مداخلت کرتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS