نو مئی اور پی ٹی آئی کی خوش خیالی


گزرے دن پہلے ایک بیٹھک میں چند احباب نے گھیر لیا اور پاکستان کی 99.99 فیصد زندہ (جسمانی طور پر) عوام کی طرح سب کے من پسند موضوع مطلب سیاست پر گفتگو شروع کر دی جبکہ احقر سمیت ایک اور دوست اس بات پر مصر تھے کے مدت بعد ہوئی ملاقات میں پیار محبت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی صفت کی جاوے لیکن ہک ہا کیا کریں ہماری قوم با شعور ہی اتنی ہے کے مردے کو دفناتے وقت مٹی بعد میں ڈالتے ہیں پہلے اسی مٹی پر کھڑے ایک دوسرے کے سیاسی لیڈران کی ماں بہن ایک کر رہے ہوتے ہیں۔

اس پر مزید یہ کہ ہر شخص اپنی ذات میں سب سے زیادہ معلومات رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی زیرک تجزیہ کار بھی ہے مطلب ایک کریلا دوسرا نیم چڑھا، خیر اس محفل میں ایک تجزیہ کار بھی شامل تھے جو کہ ایک سیاسی جماعت کے ترجمان کے طور پر مختلف ٹی وی چینلز کی اسکرینز پر ہفتہ میں کم و بیش 5 دن جلوہ افروز ہوتے ہیں مرکز نگاہ تھے اور ان کی ہی بدولت طالبعلم کو بھی اس محفل میں نا چاہتے ہوئے بھی مکمل شرکت کرنا پڑی کیونکہ بطور پروڈیوسر بہت سے پروگرامز میں بطور مہمان ان کو دعوت شرکت دیتا رہا ہوں اور ان سے ایک بے تکلفی کا تعلق بھی ہے۔

گفتگو بڑھی اور بات ان صاحب کی عمران خان سے ملاقات تک پہنچی جو کہ عمران خان کی گرفتاری سے چند یوم قبل ہوئی یا آپ کہہ لیں کے نیازی صاحب کی صحافیوں و تجزیہ نگاروں کے ساتھ آخری باضابطہ ملاقات تھی جس کا حال انہوں سے اس محفل میں بیان کیا تو احقر اور کرنٹ افئیرز پروگرامز کے میزبان نے گرہ لگائی کے جناب اب ان کو وہ پانچ باتیں بھی بتا دیں جو بقول آپ کے عمران نیازی نے بتائیں تھیں اور سچ ثابت ہو گئیں، خیر وہ باتیں بھی بتا دی گئیں جو میرے بھائی عابد نصیر اینکر ٹی وی ٹوڈے نے فوراً نوٹ کر لیں اور گزشتہ دنوں انہوں نے اپنے یو ٹیوب چینل کے لئے ایک ویلاگ میں ان پانچوں باتوں کا ذکر بھی کر دیا۔

اس گفتگو میں ایک بات اور بھی ہوئی جس کو تمام شرکا ء (ماسوائے میرے ) ، نے من و عن قبول بھی کر لیا کہ اب سپریم کورٹ سمیت تمامتر عدلیہ پی ٹی آئی کو ریلیف دے گی کیونکہ پی ڈی ایم پارٹ 2 حکومت میں اتنا تپڑ نہیں ہے کے وہ معاملات کو سنبھال سکیں اور اس وقت قوم اور تمامتر اسٹیبلشمنٹ کی توجہ کا مرکز اڈیالہ میں قید، قیدی نمبر 804 ہی ہے۔ دوسری جانب انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کے جس امریکن سازش پر نیازی کی حکومت توڑی گئی تھی اس کے مرکزی مہرے (ڈونلڈ لوو) نے جو بیان دیا ہے وہ عمران کے حق میں جاتا ہے اور امریکہ میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں جو بائیڈن کی پوزیشن بہت کمزور ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک واضح اکثریت سے امریکہ کا صدر منتخب ہونے جا رہا ہے جس کے فوراً بعد نیازی صاحب کے لئے وزیراعظم ہاؤس کی راہیں کھلتی چلی جائیں گئیں۔

اس دھواں دھار گفتگو کے دوران احقر نے لقمہ دیا کے جناب 9 مئی کے واقعات اور اس دن ہونے والے حملے کسی سیاسی جماعت پر نہیں بلکہ ڈائریکٹ اسٹیبلشمنٹ پر تھے تو آپ کیا سمجھتے ہیں کے بڑے بھائی جان اپنے اوپر ہوئے اس قسم کے حملوں پر عام معافی کا اعلان کر دیں گے جس کا جواب تھا کے پریشر بہت ہے بڑے بھائیوں پر، وہ اب سوچ رہے ہیں کے یہ سانپ نگلیں یا اگلیں دونوں صورتوں میں نقصان ان کا ہی ہے۔

یہ تو رہی اس ملاقات کی روداد لیکن اگر حقیقت میں دیکھا جائے تو پی ٹی آئی ایک ایسے سراب کے پیچھے دوڑتی نظر آ رہی ہے جو سراسر اس کے لئے گھاٹے کا سودا ہے لیکن سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی تمامتر لیڈران بشمول سپریم لیڈر اور ووٹرز و سپورٹرز کچھ سننے اور سمجھنے سے یکسر انکاری ہیں۔

جیسے ایک وقت میں کہا جاتا تھا کے عمران خان آئے گا 200 ارب ڈالر لائے گا 100 ارب آئی ایم ایف کے منہ پر مارے گا اور 100 ارب ملک میں لگائے گا۔

بالکل اسی طرح اب کہا جا رہا ہے کہ۔ ۔ ۔
ڈونلڈ ٹرمپ آئے گا۔ امریکہ کا صدر بنے گا۔ عمران کو جیل سے نکالے گا اور وزیر اعظم بنائے گا۔

یاددہانی کے لئے بتاتا چلوں کے امریکہ نے ہی سازش کر کے نیازی صاحب کو حکومت سے نکالا تھا اور اب امریکن کمپنیوں کی لابنگ سے ہی جو کہ پچیس ہزار ڈالر ماہانہ مشاہرہ فی کس پر نیازی صاحب اور پی ٹی آئی کی امیج بلڈنگ کر رہی ہیں۔ امریکی حکومت ان کو ایک بار پھر مسند وزیر اعظم تک پہنچائے گی وائے ہماری قسمت۔

دوسری جانب عدلیہ میں ایماندار اور عمراندار ججوں کا بہت تذکرہ ہوتا ہے کیونکہ عدلیہ نے 2014 سے لے کر آج کے دن تک واقعی میں پی ٹی آئی اور خصوص بالخصوص عمران نیازی صاحب کو ہر طرح کی سہولت مہیا کی چاہیے وہ لاہور ہائیکورٹ ہو اسلام آباد ہائیکورٹ یا پھر پشاور ہائیکورٹ کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ، ہاں البتہ بندیال صاحب کے جانے کے بعد سپریم کورٹ سے اس طرح کی ٹھنڈی ہوا آنی کم ہو گئی جو ایک وقت میں نیازی صاحب کو میانوالی کے گرم موسم میں بھی سوئزرلینڈ کی یاد تازہ کروا دیتی تھی لیکن تین ہائیکورٹس، لاہور پشاور اور اسلام آباد سے ابھی تک نیازی صاحب اور پی ٹی آئی کے لئے ویسا ہی موسم بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے اور کسی حد تک عدلیہ اس میں کامیاب بھی ہے جو کہ پی ٹی آئی کی خوش خیالی کو اور بڑھاوا دے رہی ہے کہ

”ہن ستے ای خیراں“ ۔

لیکن کسی بھی قسم کی پریشانیوں اور مشکلات سے پاک راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ فوجی عدالتوں کی آ چکی ہے جو کہ ایک وقت میں بانی پی ٹی آئی کے لئے بہت ہی راحت کا مقام تھا اور نیازی صاحب کے دور حکومت میں سویلینز کی ایک بڑی تعداد کا کیس ان عدالتوں میں سنا گیا اور ان کو سزا دی گئی لیکن اب کی بار نیازی صاحب کی جماعت اپنے آپ کو ان عدالتوں سے مبرا قرار دے رہی ہے اور بقول ان کے وکلاء کے کسی بھی سویلین کا ٹرائل ان فوجی عدالتوں میں ہونا خلاف قانون ہے۔

ان مقدمات میں پی ٹی آئی کو وہ سہولت نہیں مل سکتی جو کہ سویلین کورٹس میں عدلیہ کی جانب سے ان کو مہیا کی جا رہی ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تو اس وقت سرفہرست اسلام آباد ہائیکورٹ ہے جس نے پہلے مختلف مقدمات میں راحت کا سانس دلوایا، پنجاب حکومت کی جانب سے جیل ملاقات پر لگائی گئی پابندی کے خلاف جا کر نیازی صاحب کی ملاقاتیں کروائیں اور اب ان ہی ججز کے کہنے پر نیازی صاحب کو انتہائی ریلیف بھی دے دیا گیا ہے اور وہ ہے نیازی صاحب کی سہولت کی خاطر ان کی مرضی کے مطابق جیل میں ملاقاتیں کروانے کا معاہدہ، اگرچہ کے ان ہی ججز نے چند یوم قبل ایک ضخیم خط سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھا تھا کے عدلیہ پر دیگر ادارے اثر انداز ہو رہے ہیں لیکن خیر ہمیں اس سے کیا اس بابت ایک تفصیلی کالم سپرد قلم کر چکا ہوا ”عدلیہ پر سب خون مارنے کی کوشش“ کے عنوان سے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے 9 مئی کے واقعات میں گرفتار افراد کے مقدمے میں حکومت کو واضح حکم دیا کے فوجی عدالتوں میں جن کے کیسسز چل رہے ہیں ان کو رہا کیا جائے جس پر اٹارنی جرنل صاحب نے جواب دیا کے تقریباً 22 افراد کو رہا کیا جا سکتا ہے جو کہ کم سنگین جرائم میں گرفتار ہیں اور جج صاحب نے فوراً کہا کے ان کو عید سے پہلے پہلے رہا کر دیا جائے تاکہ یہ عید اپنے گھر والوں کے ساتھ منا سکیں۔

اور گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے اکاون ملزموں کو پانچ پانچ سال کی قید کی سزا سنا دی جو کہ ایک فوجی چیک پوسٹ پر حملہ میں ملوث تھے۔

یعنی ایک جانب تو پی ٹی آئی اس بات سے نہال ہوتی نظر آ رہی تھی کے عدلیہ ان کی حمایت میں فیصلے کر رہی ہے اور دیگر ادارے بھی ان کی سٹریٹ و میڈیا پاور کے سامنے گھٹنے ٹیکتے نظر آ رہے ہیں لیکن آج کے اس آنے والے فیصلے نے ان تمامتر خام خیالوں کو یکسر مسترد کر دیا، اور پی ٹی آئی کی پریمیئر لیڈر شپ کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کے اپنے ان ووٹرز و سپورٹرز کو کیسے اس بات پر قائل کرے گی کے عدلیہ ادارے اور امریکہ ان کے ساتھ ہیں۔ یہ خوش خیالی کیسے قائم رہ سکتی ہے؟

 

Facebook Comments HS