زراعت سے ٹیکس ضرور لیں مگر
کوئی شک نہیں کہ ملک کی 40 فیصد آبادی براہ راست کاشتکاری سے منسلک ہے اور مجموعی قومی پیداوار میں زراعت کا حصہ 21 فیصد ہے لیکن اس شعبے سے حاصل ہونے والی ٹیکس کی رقم کل ملکی محصولات کا 1.2 فیصد ہے۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ٹیکس کی ادائیگی قومی فریضہ ہے اور تمام شعبہ جات کو اپنے حصے کا ٹیکس ضرور ادا کرنا چاہیے۔ تاہم زرعی شعبے سے ٹیکس کی وصولی کا عزم ظاہر کرنے سے قبل کاشتکاروں کی مالی حالت بھی مدنظر رکھنا لازم ہے۔
یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ کیا کاشتکار کو فی ایکڑ خرچ منہا کرنے کے بعد اتنا منافع بچتا ہے کہ وہ ٹیکس ادا کر سکے؟ راقم کا تعلق اس علاقے سے ہے جہاں معیشت کا دار و مدار زراعت سے حاصل ہوئی آمدن پر ہے۔ بتا نہیں سکتا کہ اس وقت چھوٹے اور متوسط کاشتکار طبقے کی کیا حالت ہے؟ ہمارے کاشتکار کے فی ایکڑ منافع کی شرح خطے کے دیگر ممالک سے کم ہونے کی بڑی ذمہ داری ناقص حکومتی پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے۔ مثلاً ہر سال گندم کی فصل جب کاشت ہوتی ہے تو یوریا کھاد کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔
یوریا پودوں کی غذائی ضرورت پوری کرنے کے لیے نہایت اہم کھاد ہے اور ہمارے ہاں پودوں کی نائٹروجن کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس کا استعمال لازمی تصور ہوتا ہے۔ نائٹروجن کی کمی سے پودوں کی نشو و نما اور پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ گندم کی فصل کو اگر یوریا مناسب مقدار میں نہ ملے تو اس کا لامحالہ اثر فی ایکڑ پیداوار پر ہوتا ہے۔ گندم کی فصل چونکہ سردی میں کاشت ہوتی اس لیے یوریا کی قلت کا سبب گیس کی کمی کو قرار دیا جاتا ہے۔
یہ بات ہر کسی کے علم میں ہے کہ گیس کی فراہمی کھاد مینوفیکچرنگ سیکٹر کا لازمی جز ہے اور اب تو ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ سردیوں میں گیس کی قلت ہوتی ہے۔ وزارت توانائی بر وقت اقدامات کر کے کسی حد تک گیس کی شارٹیج کم سے کم کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی کھاد کے مسئلے کا حل نکالنا راکٹ سائنس نہیں۔ کھاد پیدا کرنے والے کارخانوں کے مطابق ملک میں یوریا کی کھپت 6 ملین ٹن سالانہ ہے جبکہ اس سال ملک میں یوریا کی پیداوار 6.7 ملین سالانہ تھی لہذا کھاد کی قلت پیدا ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔
اس کے باوجود اگر اسمگلنگ کی وجہ سے کھاد کی قلت پیدا ہو گئی تھی تو تھوڑی سی محنت سے ملک میں گندم کے زیر کاشت رقبے کا اندازہ لگا کر اس کی ضرورت کے مطابق کھاد بر وقت امپورٹ بھی کی جا سکتی تھی۔ حکومت بہت سے سیکٹرز کو بجلی، گیس، ٹیکسز میں چھوٹ سمیت دیگر مراعات کی مد میں سبسڈی دے رہی ہے۔ بالفرض امپورٹ کی گئی کھاد ملک میں تیار ہونے والی کھاد سے مہنگی بھی پڑے تب بھی اس پر حکومت سبسڈی دے سکتی ہے۔ اس مد میں حکومت کی طرف سے خرچ کی گئی رقم احساس کیش پروگرام اور راشن کارڈ جیسے نمائشی اقدامات جو بے پناہ کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں، سے زیادہ ریلیف کا سبب بن سکتی ہے۔ لیکن یہ کام اس لیے نہیں کیے جاتے کیونکہ ذخیرہ اندوزوں، کھاد فیکٹریز کے مالکان، انتظامی افسروں، اسمگلنگ کی روک تھام پر تعینات لوگوں اور حکومتی وزراء کے کھانچے بند ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
گندم کی فصل اترنے کے بعد بھی کاشتکار کی آزمائش ختم نہیں ہوتی۔ اگرچہ اس بار گندم کا سرکاری ریٹ چار ہزار روپے فی من ہے، مگر مارکیٹ میں کاشتکار کی گندم پینتیس سو روپے فی من سے اوپر آڑھتی خریدنے کو تیار نہیں ہو رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک ستر فیصد گندم کی کٹائی مکمل نہیں ہوئی گندم کی سرکاری خریداری اور باردانے کی تقسیم دانستہ شروع نہیں کی گئی۔ ہمارے اکثر کاشتکار قرض لے کر فصل تیار کرتے ہیں۔ لہذا فصل اترنے کے بعد کاشتکار کو جلد از جلد نہ صرف پچھلی فصل کا قرض چکانا ہونا ہے بلکہ اگلی کاشت کے لیے زمین بھی خالی کرنا ہوتی ہے۔
لہذا اس مجبوری کا فائدہ اٹھا کر آڑھتی اور ذخیرہ اندوز کاشتکار کی محنت اونے پونے داموں خرید لیتے ہیں اور بعد ازاں یہی گندم چند دن بعد رشوت کے عوض سرکاری باردانہ حاصل کر کے فی من پانچ سے چھ سو روپے منافع اور مٹی اور کچرے کی ملاوٹ کے بعد وزن دوگنا کر کے سرکار کو فروخت کی جاتی ہے۔ سرکاری باردانے کا حصول بھاری رشوت کے سوا غریب کاشتکار کے لیے نا ممکنات میں شامل ہے اور کاشتکار اس کے آسرے پر اپنی گندم ذخیرہ کر کے نہیں رکھ سکتا۔
یہ عاجز خود گزشتہ ایک ہفتے سے مختلف سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے اور ملک کی اہم خفیہ ایجنسی میں ایک بڑی پوسٹ پر بیٹھے دوست افسر کی کاوش کے باوجود سرکاری باردانے کے حصول میں کامیاب نہیں ہو سکا تو اندازہ لگائیے غریب لوگوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہو گا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق وطن عزیز میں گندم کی فی ایکڑ اوسط پیداوار تیس سے بتیس من کے درمیان ہے، جبکہ گندم کی فصل پر فی ایکڑ اسی سے نوے ہزار روپے لاگت آتی ہے۔ یعنی کاشتکار کو بمشکل فی ایکڑ دس سے پندرہ ہزار تک منافع ملتا ہے۔ اس رقم سے گھر کا چھ ماہ کا خرچ نکالنے کے بعد کتنا ٹیکس ادا کیا جا سکتا ہے؟
گندم کے بعد کاشت کی جانے والی کپاس کی فصل کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ ایک طرف حکومتی سرپرستی میں ریسرچ کے فقدان اور بیج فروخت کرنے والی کمپنیوں پر چیک نہ ہونے کے سبب کاشتکار کو ہر سال ناقص بیج ملتا ہے۔ دوسرا جب بھی کپاس کی کاشت کا وقت شروع ہوتا ہے محکمہ آبپاشی کی جانب سے ہر سال نہروں میں پانی بند کر دیا جاتا ہے۔ پانی کی بندش کے مختلف ٹیکنیکل جواز بتائے ہیں مگر جونہی رشوت ادا کر دی جائے وہ تمام جواز ہوا ہو جاتے ہیں۔
اس تمام دورانیے میں اپریل کا پورا مہینہ گزر جاتا ہے۔ کپاس کی فصل سو سے ایک سو دس دن میں پیداوار دینا شروع کرتی ہے۔ سندھ میں اپریل کے بعد کاشت کردہ کپاس پر جب پھول لگنا شروع ہوتا ہے تو مون سون کا وقت آ جاتا ہے، جس کے بعد بارش کا بہانہ بنا کر کپاس کا ریٹ گرا دیا جاتا ہے۔ کپاس کی فی ایکڑ اوسط پیداوار بھی تیس من کے قریب ہے اور اس پر فی ایکڑ ایک لاکھ سے زائد خرچ ہوتا ہے۔ بارشوں کے بعد کپاس کا ریٹ چار ہزار روپے تک بمشکل ملتا ہے اس میں فصل کا خرچ نکال کر کتنی بچت ہو سکتی ہے؟ عرض کا مقصد یہ ہے کہ بلاشبہ اگر پاکستان نے آگے بڑھنا ہے تو ہر کسی کو اپنے حصے کا ٹیکس دینا ہو گا۔ لیکن زرعی شعبے سے ٹیکس حاصل کرنے کے لیے حکومت کو کسانوں کی مدد کرنی ہو گی کسانوں کے خرچے کم کرنا ہوں گے اور فی ایکڑ پیداوار بڑھانی ہو گی۔


