ادویات کی قیمتیں اور غریب عوام


ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اس وقت لوگوں کو بہت زیادہ متاثر کر رہی ہیں۔

حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ ایک سر درد کی گولی کا پیکٹ لینے آپ مارکیٹ جائیں تو چالیس روپے میں آپ کو وہ ایک پیکٹ ملے گا جبکہ 5 سال پہلے یہی پیکٹ آپ کو دس روپے میں ملتا تھا۔

یہ کہانی شروع ہوتی ہے عالمی وبا کرونا سے ہوا کچھ یوں کہ 2019 میں اس وبا کا آغاز ہوا اور یہی سال اس کے عروج کا بھی سال رہا۔

اس وبا کے دوران اور اس کے بعد جو مرض سب سے زیادہ بڑھا وہ ڈپریشن کا مرض تھا۔ اگر ہم اعداد و شمار کی جانچ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ گزشتہ پانچ سال میں ڈپریشن کا مرض 65 سے 70 فیصد تک لوگوں میں بڑھا ہے اور اسی طرح اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کا استعمال بھی بڑھا ہے۔

امراضِ قلب سے متاثرہ لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے اور اس طرح ان ادویات کا استعمال بھی بڑھا ہے۔

اس وقت سب سے زیادہ مہنگی ادویات کی فہرست میں اس وقت پاکستان میں دماغی امراض امرض کی ادویات، امراض قلب کی ادویات، فالج کی ادویات اور کینسر کی ادویات سر فہرست ہیں۔

اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک غریب آدمی کیا وہ یہ سب ادویات خرید سکتا ہے؟

امراضِ قلب کی ادویات ایک عام آدمی کی پہنچ سے باہر کی بات ہے جو 500 یا 1000 روپے ایک دن کے کما رہا ہے اس کے 4، 5 چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اس نے گھر چلانا ہے اس گھر میں اس کے ماں باپ بھی ہیں وہ بیچارا ایک کمانے والا جس کے گھر کا ایک فرد دل کا مریض ہے وہ اس ایک مریض کا علاج کروائے یا باقی چھ افراد کو خوراک فراہم کرے۔

پاکستان کا ایک ادارہ جو کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان سے مشہور ہے جس کا کام ادویات کے معیار کو بہتر بنانا ہے اس عوام تک ان کی رسائی آسان بنانا ہے اس وقت ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کر رہا۔ گزشتہ 5 سال میں ضروری ادویات کی قیمتوں میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ضروری ادویات کے ریٹس کو کنٹرول میں رکھنے کا کام سر انجام دینے کے لیے قیام پذیر ہوا جبکہ اب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے ادویات کی قیمتیں کنٹرول کرنے کا اختیار کمپنی کو دے دیا ہے کہ جس کمپنی کی جو دوائی ہے وہ ہی اس کی قیمت طے کرے گی چاہے وہ عوام کی پہنچ میں ہو یا نہ ہو۔

سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی غریب عوام اب بیماری سے بلک بلک کر مرنے کے لیے رہ گئی ہے؟
کیا کوئی اس مافیا کو لگام ڈالنے کے لیے موجود نہیں ہے؟
حالات اس ڈگر پہ آ پہنچے ہیں آج کل آپ کو آن لائن فارمیسیز / ڈرگ سٹورز پر ادویات کی سیل لگی ملتی ہے۔

حکومت پاکستان کو چاہیے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو اس بات پہ خصوصی بریفنگ دی جائے کی ضروری ادویات کے ریٹس حد سے تجاوز نہ کرنے پائیں اور وہ عوام کی رسائی میں رہیں تاکہ معصوم لوگوں کی جان بچائی جا سکے۔

Facebook Comments HS