میرٹ، درجہ بندی اور ہائر ایجوکیشن کی ذمہ داری
ہم آئے روز بدعنوانی پر واویلا کرتے ہیں، کہ کرپشن سماج کے لیے ناسور ہے، جن معاشروں میں کرپشن ہوتی ہے وہ کبھی آگے نہیں بڑھ پاتے ہیں، وغیرہ۔ اس کے ساتھ ہی ہم دیانت داری کی باتیں بھی کچھ بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں، کہ اس کو سماج میں رواج دینے کی از حد ضرورت ہے اس کے بغیر معاشرے کا ارتقا حقیقی معنوں میں نہ ممکن ہے۔ سماج میں ہمیں میرٹ کی بحث بھی سننے کو ملتی رہتی ہے، کہ ہر جگہ میرٹ کا بول بالا ہونا چاہیے۔
میرٹ کیا ہوتا ہے؟ یہ سوال بظاہر تو بڑا سادہ معلوم ہوتا ہے مگر اتنا ہے نہیں۔ لوگ جب میرٹ کی بات کرتے ہیں تو ان سے اگر پوچھ لیا جائے کہ آپ کے نزدیک میرٹ کیا ہے؟ اس پر وہ کوئی تسلی بخش جواب دینے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ میرٹ بارے میری رائے ہمیشہ سے مختلف رہی ہے۔ جب بھی کوئی سلیکشن بورڈ بیٹھے تو اس کے مطمح نظر امیدوار کی محض رسمی تعلیمی استعداد یا مطلوبہ کوائف کی بجائے اس کی فکری اہلیت کی جانچ کرنا ہو کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔
اگر مطلوبہ قابلیت کے دو افراد ہوں اور ایک کا انتخاب کرنا ہو تو کس بنیاد پر کیا جائے۔ ؟ یہ سوال ایک الگ بحث کا موضوع ہے کہ کیا قابلیت کا تقاضا کیا بھی جاتا ہے یا نہیں؟ میری معلومات کے مطابق ہمارے ہاں رسمی تعلیم مطلوب کی جاتی ہے نہ کہ اہلیت و فکری خصائص، میرا کہنا یہ بھی نہیں کہ رسمی تعلیم سرے سے مطلوب نہ کی جائے بلکہ رسمی تعلیم کے ساتھ قابلیت کی شرط ایک ناگزیر تقاضے کے طور پر ہو، بہرحال اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اہل لوگ ان سے علمی و فکری مکالمہ کریں، یوں وہ ان کی اہلیت کی جانچ کرتے ہوئے حتمی نتیجے تک ضرور پہنچ جاتے ہیں۔
گریڈ اے پلس حاصل کرنے والے کئی فاتر العقل نما رٹو طوطے دیکھ چکا ہوں۔ کیا جس کے پاس اکیڈمک مارکس، تحقیقی مضامین اور کتب زیادہ ہوں گی وہ قابل ہے؟ ایسا ہرگز نہیں، اصل بات ان کے کام کی ورتھ ہے، یعنی معیار نہ کہ مقدار۔ تاریخ گواہ ہے بالعموم دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ سماج اور اداروں کو نئی سمت دینے والوں کی کوئی شاندار اکیڈمک پروفائل نہیں رہی، ان کے اندر جو اہلیت ہوتی ہے وہ اکیڈمک پروفائل پر بہت بھاری ہوتی ہے، واضح رہے کسی انسان کی اہلیت کا اس کی رسمی تعلیم سے کچھ خاص اور لازمی ناتا نہیں ہوتا۔
آج بھی عموماً یہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ سماج کو نئی سمت دینے والوں کی رسمی تعلیم کچھ خاص نہیں ہوتی، تو پھر کیا ہمیں ایسے طریق کار کو کنارے نہیں لگا دینا چاہیے یعنی اکیڈمک پروفائل یا عموماً جو کوائف کسی منصب کے لیے مطلوب کیے جاتے ہیں۔ یہاں محض دو تین مثالیں دوں گا، آصف علی زرداری کو دیکھ لیں ایک زیرک سیاست دان ہیں، سیاست کی پیچیدگیوں سے جس قدر یہ بندہ واقف ہے، اس وقت ہمارے سماج میں شاید ہی ان کے مدمقابل کوئی دوسرا ہو، جب کہ ان کی اکیڈمک پروفائل بھی کچھ خاص نہ ہے، اور ایسا بھی نہیں کہ سیاست کی آموزش کے لیے باقاعدہ طور پر وہ کسی سیاسی اکیڈمی سے وابستہ رہ چکے ہوں۔
دوسرا موسیقی کی دنیا میں جاوید بشیر کو دیکھ لیں، سینکڑوں لوگ میوزک اکیڈمی سے ایک بھاری بھرکم اکیڈمک پروفائل کے ساتھ فارغ التحصیل ہیں لیکن نتائج آپ کے سامنے ہیں، جب کہ جاوید بشیر اس کے سوا بہت کچھ ہیں۔ اسی طرح بل گیٹس کی مثال آپ سب کے سامنے ہے، مائیکروسافٹ کا بانی اور دنیا کا امیر ترین شخص ہے، اس کی رسمی تعلیم بھی مکمل نہ ہے، یعنی ہارورڈ یونیورسٹی سے ڈراپ آوٴٹ کر گیا۔ اہلیت تو درحقیقت انسان کے باطن میں مُضمر ہوتی ہے۔
سنیارٹی کی بنیاد پر ترقی بھی منطقی حوالہ سے درست نہ ہے، بظاہر تو یہی لگتا ہے جو سب سے سینیئر ہو اُسی کو ترقی دی جائے یا اہم منصب پر اُسی کو فائز کیا جائے تاہم یہ کسی بھی اعتبار سے میرٹ نہ ہے۔ بالفرض اگر ایک بندہ جو اپنی سروس کے حساب سے سینیئر ہو یا سماج میں ایک بندہ اپنی عمر کے حساب سے یا کوئی معاشی حوالہ سے بڑا ہو اور وہ اس قابل بھی نہ ہو کہ اسے کسی ادارے یا سماج کے کسی اہم منصب پر لگا دیا جائے تو لامحالہ وہ اس ادارے و منصب کو تاراج کر کے رکھ دے گا، چونکہ اسے اہلیت کی بنیاد پر منصب عطا نہیں کیا گیا ہوتا بلکہ سنیارٹی (عموماً جو سنیارٹی کے معانی مراد لیے جاتے ہیں ) کی بنیاد پر نافذ کیا گیا ہوتا ہے۔
اسی طرح اداروں کی درجہ بندی/رینکنگ بھی عقل سے بالاتر ہے، میں درجہ بندی قائم کرنے کے خلاف نہیں ہوں لیکن اس حوالے سے میرے کچھ تحفظات ہیں کہ جس بنیاد پر اس کی درجہ بندی قائم کی جاتی ہے وہ کسی بھی طرح سے ارتقا کا ضامن نہیں ہوتی، اگر تاریخ کے اوراق کو کریدا جائے تو ہم اس بات سے بخوبی آگاہ ہو جاتے ہیں کہ معیار تو اس کے سوا ہے، مثال کے طور پر آپ علمیات کی دنیا میں جھانک کر دیکھیں تو اس دنیا میں جن لوگوں نے اپنے ہونے کے کمالات دکھائے ہیں وہ درجہ بند دنیا سے مختلف ہیں، ایک مثال ملاحظہ کریں حاضرہ دور میں علم و تحقیق کے حوالہ سے جس طرح تعلیمی اداروں کی درجہ بندی کی جاتی ہے کیا اس سے اعلی تصورات و درست نتائج واقعتاً سامنے آ رہے ہیں؟
یا جو پیداوار یہ ادارے دے رہے ہیں کیا ان کے اثرات معاشروں پر حقیقی معنوں میں مرتب ہو رہے ہیں؟ اس سوال کا ایجاب اگرچہ موہوم سی نفی میں تو دیا جا سکتا ہے لیکن اس کے بجز تاریخ کے دھارے موڑنے والے تصورات اور تجرباتی حقائق اس درجہ بندی کے علاوہ بہت کچھ دکھائی دیتے ہیں۔ میرا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ جامعات میں تحقیق اعلی پائے کی نہیں ہو رہی۔
تفکر، نئے خیالات کو جنم دیتا ہے، بعد ازاں ان کو تجربات سے گزار کر سماج کو بدلا جا سکتا ہے، اور یہ سب ”تعقل پسندی“ کے بغیر ممکن نہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا بنیادی مقصد جامعات میں ”تعقل پسندی“ کو رواج و فروغ دینا ہو وگرنہ سماج میں غیر عقلیت ہی پھیلے گی۔ جامعات میں اذعانی رویوں کی موجودگی تحقیق پر سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔ تعقل پسندی کو رواج دیے بنا تحقیق ممکن ہی نہیں، اس کے بغیر نتائج من مانے برآمد ہوں گے منطقی نہیں یعنی خالص نتائج مفقود۔
اذعانی رویے کو بنیاد بنا کر جو تحقیق ہو گی وہ معاشرے میں دہشت گردی کو جواز بخشے گی، دہشت گردی، لبرل جمہوریت کے بطن سے پھوٹتی ہے اور لبرل جمہوریت کے وسط میں اذعانیت پوشیدہ ہوتی ہے، نشان خاطر رہے کہ اذعانیت، مرکزیت کو جنم دیتی ہے اور مرکزیت، مسائل کو جنم دیتی ہے۔ عقلیت پسندی کا جوہر خود اس کی منطقی حرکت ہوتی ہے، استدلال اس حرکت کا جوہر ہوتا ہے یعنی اُسی منطقی حرکت کا ہونا، کسی بات یا تصور کا استدلال اس کے باطن سے برآمد کیا جاتا ہے۔
کھوج یا تلاش کی جستجو تشکیک کے بغیر مکمل نہیں، اذعانیت کے اُلٹ تشکیک آتی ہے، یہی تشکیک اذعانی رویوں کو پاش پاش کرتے ہوئے تعقل پسندی کو بطور ہتھیار بنائے خالص نتائج تک پہنچ جاتی ہے۔ تعقل پسندی کے بغیر تحقیق جوہر سے خالی ہو گی۔ تحقیق، حقائق کو سامنے لاتی ہے، اس سے آپ پر یہ آشکار ہوتا ہے کہ حقائق ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے یعنی تغیر پذیر رہتے ہیں اور تغیر پذیری کے اُلٹ جمود ہے اور جمود، دہشت پسند رویوں کو جنم دیتا ہے۔
کچھ تصریح کے طور پر۔
میرٹ کا قتل نہ اہل کرتے ہیں، اس کی روک تھام کے لیے لازم ہے کہ تقرر کرنے والے عہدوں پر اور اس کے علاوہ اہم عہدوں پر اہل انسانوں کو فائز کیا جائے۔ اقربا پروری اور عصبیت کی بنیاد پر عہدوں کی نوازشات دراصل اداروں کی تباہی ہوتی ہے، دلیل کی بنیاد پر اختلاف رکھنے والے قابل ہوتے ہیں یہی لوگ درحقیقت اداروں کو آگے لے جاتے ہیں۔ قابل انسانوں کے تصورات ہی دنیا میں اپنی درجہ بندی خود کرتے ہیں نہ کہ کوئی اور۔
پی ایچ ای سی کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر شاہد منیر ایک متحرک انسان اور معاصر تقاضوں سے باخبر رہتے ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بدلتے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے خواہاں ہیں، امید ہے راقم کی سفارشات کو بھی وہ دیکھیں گے۔
استدعا: بہاولپور یونیورسٹی کے پروفیسر سعید احمد بُزدار علم کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں انہوں نے ”علم کی راہداریاں“ نام سے ایک کتاب لکھی ہے جو کہ پڑھنے کا تقاضا کرتی ہے، آپ کو علم و تحقیق کی دنیا میں کچھ کرنے پر ضرور اُکسائے گی۔

