ڈاکٹر شاہد منیر وائس چانسلر یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے نام خط

سلام گرو جی مجھے اپنا مدعا لکھنے سے پہلے خاصا سوچنا پڑا۔ سوچ کا تردد اس لیے کرنا پڑا کہ خطوط کی روایت اب ختم ہو چکی ہے اور یہی سوچتا رہا کہ خط لکھ کر اپنا اظہار کروں یا اس کی کوئی دوسری صورت پیدا کی جائے۔ مراسلے کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں مکتوب نگار اگلے بندے سے باتیں کر سکتا ہے اور اس وقت مجھے آپ سے یہی کرنا ہے۔ اکیسویں صدی میں میرا

Read more

انصاف کی فراہمی سادہ معاملہ نہیں

انصاف ممکن ہی نہیں۔ سماجی انصاف دراصل وہ خباثت ہے جو ذہین و فطین لوگوں کے جوہر کو ضائع کر دیتی ہے۔ سماجی انصاف میں گدھے گھوڑے ایک بھاؤ بکتے ہیں، دراصل اس میں دوسروں کو ”محروم“ کر دیا جاتا۔ انسانی فعلیت پر سماجی انصاف دراصل انسان کی فعلیت کے دائرہ کار کو محدود کرنا ہے۔ خیال کی منطقی حرکت یعنی جوہر ”دوسری“ پوزیشن پر۔ سماجی انصاف درحقیقت کسی ”دوسرے“ پر تشدد کا نام ہے۔ سماجی انصاف میں ”معیار“ کو

Read more

تاریخی مغالطے اور حقاٸق

مادیت کا فلسفہ ہزاروں برس سے ہے اور مادیت اپنی سرشت میں الحاد ہی ہے۔ مادیت کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کسی کی تخلیق نہیں ہے، یہ اپنے ہی داخلی قوانین کی وجہ سے متحرک ہے اور ان قوانین کو عقلی طور پر جانا جا سکتا ہے۔ قدیم یونان میں فلسفی مادے کو اول مانتے تھے اور اس کی عقلی تقاضوں کے تحت تعبیر کرتے تھے۔ فلسفیوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو مذہبی خدا کو نہیں مانتا،

Read more

میرٹ، درجہ بندی اور ہائر ایجوکیشن کی ذمہ داری

ہم آئے روز بدعنوانی پر واویلا کرتے ہیں، کہ کرپشن سماج کے لیے ناسور ہے، جن معاشروں میں کرپشن ہوتی ہے وہ کبھی آگے نہیں بڑھ پاتے ہیں، وغیرہ۔ اس کے ساتھ ہی ہم دیانت داری کی باتیں بھی کچھ بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں، کہ اس کو سماج میں رواج دینے کی از حد ضرورت ہے اس کے بغیر معاشرے کا ارتقا حقیقی معنوں میں نہ ممکن ہے۔ سماج میں ہمیں میرٹ کی بحث بھی سننے کو ملتی رہتی

Read more

اعمال کی نقالی

نقّالی کا عمل آج تک جاری و ساری ہے اور یہ ہمیشہ اپنی کسی نہ کسی صورت میں موجود رہے گا۔ نقالی کا تعلق ہر فرد کی اپنی جبلی صلاحیت پر منحصر ہے جب لی صلاحیتیں سب میں ایک جیسی نہیں ہوتیں، میں نے کئی لوگوں کو بڑے قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔ میرے تجربے میں ایسے کئی امرا کے بچے آئے، جنہیں ہر طرح کی سہولیات میسر تھیں، نقالی کے تمام ذریعے و طریقے مختلف موضوعات کے ساتھ اُنہیں

Read more

پہلے اور دوسرے کی بحث – سیاسی و سماجی تناظر میں

آپ کی نظر میں یہ بیوقوفانہ بات ہو سکتی ہے، جذباتی بیان ہو سکتا ہے، جب کہ میں دیکھ رہا ہوں ایک عرصہ سے بلوچوں اور پشتونوں کے ساتھ جو ”دوسرے“ والا سلوک روا رکھا جا رہا ہے اس کے نتیجے میں جو بغاوت کی لہر اٹھی ہے وہ دراصل جبر و تشدد کے ردعمل کا نتیجہ ہے اور یہ بغاوت محض بغاوت نہیں بلکہ شعور سے بھرپور جبر و تشدد کی پالیسیوں کا انحراف ہے۔ بغاوت کی لہر اپنے

Read more

فلم ”لجا“ اور عورت کا شرم حیا کا تصور

عورت ذات کو روز اول سے ہر جگہ اور ہر رنگ میں زیربحث لایا گیا کبھی اس کے حق میں تو کبھی مخالفت میں۔ مذاہب بھی عورت کو مکمل حقوق دینے کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں وہیں اس مسابقت میں بعض اسے ناقص العقل بھی قرار دیتے ہیں۔ جدید دور میں عورت کے حق میں کئی آوازیں بلند ہوئیں اور کہا گیا اسے مرد کے برابر حقوق دیے جائیں چونکہ یہ مرد سے کسی صورت کم تر اور کمزور

Read more

بنا بنایا اداکار سنجیو کمار

بارے جب ان کا ذکر اٹھا تو کچھ نہ سوجھے ہے بھئی، کہ اٹھاوٴں کہاں سے اور اخیر کیا کی جاوے۔ عزیزو! وہ کوئی بے نوا تھا جو ایشور کی دھرتی ماتا پر آیا اور کیا ہی اپنی دھن میں بے مثال زندہ شبد چھوڑ گیا ارے واہ رے، کبھو تو لگتا ناکتخدا اپنی تلی ہوئی زبان بولتا ہے ولے ہر ویلے ہمرے دماغ میں یہ بھی آوے کہ وہ جو بول بولتا ہے شبد شاستر کہویں، پر نہیں یار

Read more

مولانا طارق جمیل سے استفسار و استدعا

مولانا طارق جمیل کا بیٹا عاصم جمیل شام سمے خود کشی کرتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد ان کا بڑا بیٹا مولانا محمد یوسف جمیل بیان دیتا ہے کہ میرا بھائی عاصم جمیل ایک عرصے سے ڈپریشن کا مریض تھا، اسے بجلی کے جھٹکے بھی لگوائے جا رہے تھے اور علاج ابھی تک جاری تھا۔ اس نے گارڈ سے بندوق چھین کر خود کو شوٹ کیا ہے اور ان کی موت واقع ہو چکی ہے۔ صبح ہوتی ہے مولانا کا چھوٹا

Read more

دریاٸی کلچر اور دھبی بلوچاں

دھبی بلوچاں کو یہ اختصاص حاصل ہے کہ اس کا کچھ علاقہ دو دریاوٴں (چج) کے وچہن (آغوش) میں بھی پایا جاتا ہے۔ یہ جھنگ کی تحصیل اٹھارہ ہزاری کے شمال کی جانب واقع ہے۔ وہاں دریا، بیٹ اور اپنوں میں گزرے چند لمحات جو کہ ان مختصر تاثرات کی صورت ملاحظہ کریں۔ دریا اپنے میکانزم میں (نفسیاتی حوالے سے ) خودرو ہوتا ہے۔ اس کا کوئی طے شدہ نظام نہیں ہوتا۔ یہ اپنے راستے خود بناتا چلا جاتا ہے۔

Read more

اکرام اللہ کا ناول ”گرگ شب“: نفسیاتی و فنی مطالعہ

سب سے پہلے ہم نفسیات و فن پر مختصر بات کریں گے، نفسیات انگریزی لفظ (Psycholgy) کا ترجمہ ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کی روح کے بارے میں علم، گو عام طور پر نفسیات کو جدید ترین علوم میں شمار کیا جاتا ہے مگر ایسا نہیں کیونکہ نفسیات، خود انسان جتنی ہی قدیم ہے۔ آج کی مانند قدیم زمانہ کا انسان بھی اعصابی الجھنوں، دماغی خلل اور شخصیت کے بحران کا شکار تھا۔ انسانی تاریخ کے ہر

Read more

حمیرا اشفاق کا افسانہ ”کتبوں کے درمیان“ ایک مسموم نوحہ

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ بعض طرائق و افعال میں انسان بے اختیار ہوتا ہے، اس کی شعوری طور پر جذباتی وابستگی اس حوالہ سے کہیں پیچھے رہ جاتی ہے، بلکہ یہاں ہم آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ تبھی وہ لاشعور کے زیر اثر اور مجبور محض ہوتا ہے، جو اسے بے اختیار اور بے بس کیے دیتا ہے، بعض دفعہ گزرا ہوا معروض جو کہیں اب انسان کے لاشعور کا حصہ بن چکا ہوتا ہے،

Read more

عام آدمی کا سماجی شعور اور غلام عباس

انہوں نے عام آدمی کی زندگی کو ایک فعال کردار کے طور پر پیش کیا اور اس کے فعال پن میں اس کردار کا اپنا معاصر سماجی شعور نظر آتا ہے، اسی ذیل میں دیکھیں تو تب وہ کردار محض عام آدمی کا کردار نہیں رہتا بلکہ وہ کردار اپنے معاصر تقاضوں سے شعوری طور پر متاثر دکھائی دیتا ہے۔ ہم یہاں ان کے ایک اور افسانے ”فینسی ہیئر کٹنگ سیلون“ کے بارے میں بات بھی اسی سماجی شعور کے حوالے سے کریں گے، اس افسانے کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے کہ چار مہاجر ایک حمام کی دکان کھولتے ہیں وہ تمام معاملات میں برابر ہوتے ہیں اور آمدنی بھی برابر بانٹنے لگتے ہیں، جب دکان چل نکلتی ہے تو انہیں اپنے ذاتی معاملات یاد آنے لگتے ہیں، بالآخر معاملہ گمبھیر صورت اختیار کر جاتا ہے۔

Read more

جدیدیت کیا ہے؟

جدیدیت بنیادی طور پر آرٹ سے متعلقہ شے کا نام ہے، آرٹ کو زیر بحث لانا ہی جدیدیت کا اصل مقصد ہے، ہم اس اعتبار سے جدیدیت کی متنوع جہات کو یہاں پیش کریں گے، جدیدیت جہاں معاصر شعوری تجربہ ہے وہاں یہ زمانی اعتبار سے اپنے معاصر تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کا نام بھی ہے۔ جہاں یہ قدیم سے انکار کرتی ہے وہیں یہ روایت کی بہتر تعبیر بھی کرتی ہے، یہ کہنا بھی صائب ہو گا کہ

Read more

اک بنیادی حقِ عرض جسے لکھنا ضروری تھا

یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ آپ ان وائس چانسلرز میں سے ایک ہیں جو طلبا و طالبات کے دلوں پر حکمرانی کرنا جانتے ہیں، اس بات کا واضح ثبوت جب آپ یونیورسٹی میں گھوم پھر کر طلبا کے مسائل و معاملات کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اور راہ چلتے ہر طالب علم کو جس عاجزی و انکساری سے مل رہے ہوتے ہیں، ایسے طرز عمل سے مجھ ایسوں کے لئے باعث حیرت و مسرت کا سامان پیدا کر رہے ہوتے ہیں اور آپ جس لمحے طلبا سے مل کر جا رہے ہوتے ہیں، آپ کے پیچھے ان طلبا کی خوشیوں سے بھرپور سرشاری کے عالم کو میں اچھی طرح محسوس کر رہا ہوتا ہوں، آپ جیسے قدر شناس انسان سے ہمیں بھی مکمل امید ہے کہ آپ ہماری گزارش کو پڑھیں گے، اس پر نظر ثانی بھی ضرور کریں گے اور بالآخر ہم ایسوں کے لئے یقیناً سرشاری کے دائمی لمحات بھی پیدا کریں گے۔

Read more

قاسم علی شاہ جیسے اسپیکرز اور ہمارے عوام

ہمارے سماج میں قاسم علی شاہ جیسے لوگ کیوں مقبول ہیں؟ اس کا تین چار لفظوں میں جواب تو یہی بنے گا ”مواقع کی عدم دستیابی“ ۔ ۔ ۔ قاسم علی شاہ کو کونسی کلاس کے لوگ زیادہ سنتے ہیں اگر غور کریں تو مڈل کلاس، لوئر مڈل کلاس اور لوئر کلاس سنتے نظر آتی ہیں، بالخصوص ثانی الذکر دو کلاس کے لوگ انہیں زیادہ سنتے ہیں۔ سوال تو یہاں یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہی دو تین

Read more

ورڈزورتھ بطور نقاد

ادب و شاعری ہو یا ریاست و معاشرت ہو، مذہب و اخلاق ہو یا فلسفہ و تنقید ہو، ہر شعبہ ہائے زندگی میں ایک ارتقا نظر آتا ہے، ہر زمانے میں ان علوم کی ماہیت کو نئے سے نئے زاویوں سے سمجھا گیا اور ان پر مباحث سے کئی ایک نئے راستے کھلے، تقریباً ہر دور میں مفکرین و فلاسفہ نے اپنی بساط کے مطابق ان علوم میں اضافے کیے، جس سے ایک فطری طور پر تغیر واقع ہوا اور

Read more

فرد اور روایت

روایت کو بنیاد و قائم افراد کرتے ہیں، آگے بڑھنے سے پہلے، روایت کیا ہے؟ کی وضاحت کر دی جائے، روایت میں اتھارٹی و تسلسل ہوتا ہے اور یہ افراد کے ہی ہاتھوں ممکن ہوتی ہے، اس کی ہر دور میں تشکیل و توسیع بھی ضرورت کے تحت سرانجام پاتی رہتی ہے، یہ تسلسل کے ساتھ سفر کرتی رہتی ہے۔ جدیدیت، فرد کی بات کرتی ہے اور اسی کو مرکز میں لا کھڑا کرتی ہے، رد و بدل کے ساتھ وجودیت کا بھی یہی میدان ہے، روایت، فرد کی انفرادیت سے انکار کرتی ہے، اس سے وہ اپنا وجود خطرے میں سمجھتی ہے کیونکہ فرد کی انفرادیت سے روایت کے مسلسل سفر کی اتھارٹی کو جھٹکا لگتا ہے، اب جب فرد کی انفرادیت کی بات آ گئی تو یہاں اتھارٹی ”فرد“ کی قائم ہوتی نظر آتی ہے۔ فرد کی اتھارٹی کو تسلسل حاصل نہیں کیونکہ اتھارٹی کا تسلسل صرف روایت کی پہچان ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس روایت کو فرد قائم کرتا ہے وہی روایت اپنے لئے فرد سے خائف کیوں ہے؟

Read more