ایک خط اور دو سفوف


پاکستانی سیاست میں جس قدر خطوط کو اہمیت حاصل ہو گئی ہے اس قدر تو غالب کے خطوط کا بھی چرچا نہ ہوا ہو گا۔ جس چینل کو دیکھیں، جس ٹاک شو پر جائیں، جس اخبار کا مطالعہ کریں، یا جس سیاسی محفل میں بیٹھیں ہر طرف خطوط کا ہی تذکرہ ہے۔ ان خطوط میں سفوف ہے جسے اینتھراکس سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ اینتھراکس بے حد خطرناک ہے جو سانس کے ذریعے منتقل ہوتا ہے اور ہمارے دم توڑتے نظام عدل کے چودہ ججوں کو اس سے خطرہ لاحق ہے۔ اس سفوف اور اس کے مبینہ ٹارگٹ ججوں کے مقابل ایک اور سفوف بھی ہے جس کی زہر ناکی، حجم، اور ٹارگٹ افراد کی تعداد اس سفوف سے ہزار ہا گنا زیادہ ہے۔

یہ سفوف اینتھراکس سے بھی ہزاروں گنا زیادہ مہلک ہے اور بالکل ایسا ہی ہے جو ججز کے خطوط سے نکل رہا ہے۔ اس سفوف کا نام ہیروئن ہے۔ یہ سفوف اور اس سے منسلک نشہ جات پاکستان میں روزانہ کے حساب سے قریباً 700 جانیں نگل جاتا ہے جو ایک سال میں مجموعی طور پر اڑھائی لاکھ اموات بنتی ہیں۔ سینیٹر مشتاق کی تحقیق کے مطابق اس قوم کے چوبیس سے انتالیس سال کی عمر کے 90 لاکھ نوجوان اس کا شکار ہوچکے ہیں اور دن بدن یقینی موت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ شاید 90 لاکھ آپ کو ایک معمولی تعداد لگے مگر یہ تعداد اقوام متحدہ کے 62 ممالک کی مجموعی آبادی کے برابر بنتی ہے۔ یہ سب وہ نوجوان ہیں جنہیں اس ملک کا مستقبل بننا تھا۔

آج پاکستان کو ہائی وے آف نارکوٹکس کہا جاتا ہے اور اس نارکوٹکس کا تجارتی حجم پاکستان کے مجموعی ڈیفنس بجٹ کے اسی گنا کے برابر ہے۔ چند روز پہلے کی ایک اخبار میں شائع شدہ خبر کے مطابق صرف پنجاب پولیس کے 234 اہلکار اس دھندا میں ملوث ہیں جبکہ دیگر صوبوں کی پولیس اور بارڈر مینیج کرنے والے اور نارکوٹکس کو کنٹرول کرنے والے وفاقی ادارے اس کے علاوہ ہیں۔

اس نشے کا شکار نوجوان وہ چلتی پھرتی اور گرتی پڑتی لاشیں ہیں جنہیں ہم سب اپنے اردگرد روز دیکھتے ہیں اور اپنا منہ پھر کر گزر جاتے ہیں۔ پلوں کے نیچے، کھالوں، نالیوں اور بوسیدہ عمارات میں اپنی طرف بڑھتی موت کے شکار یہ نوجوان اس بے رحم موت کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں جس کے انجام پر میں نے والدین کو بھی شکر ادا کرتے سنا ہے۔

میرا یہ یقین ہے کہ یہ اموات محض اموات نہیں ہیں بلکہ ریاست کی طرف سے باقاعدہ قتل کی اجازت، یا قتل کی خاموش تائید سمجھی جانی چاہیے۔ ایسے حالات میں میرا دل دعا گو ہے کہ اللہ کرے ان خطوط سے نکلنے والا سفوف ہیروئن اور ججز کا اندھا خوف وہ دستک ثابت ہو جو میرزا ادیب کے ڈرامہ ”دستک“ میں ڈاکٹر زیدی کے ضمیر پر مسلسل ہوتی تھی۔ کاش ہمارا انصاف کا محکمہ اپنے در عدل پر اس دستک کو اپنی ذات سے ہٹا کر ان نوے لاکھ گرتی پڑتی لاشوں کی صدا سمجھ لے۔ کاش ایسے خطوط سب اہل اقتدار کو وصول ہوں جو نوجوانوں کے لئے امید کا استعارہ بن جائیں۔ کاش نامعلوم شاعر کا یہ شعر تھوڑی ترمیم کے ساتھ ہماری آواز بنے۔

خط ”ہو“ شاید کسی شرابی کا
خط کے اوپر لکھا ”ہو“ مے خانہ

Facebook Comments HS