یونیورسٹیوں کا مالی اور انتظامی بحران اب انہیں نگل لے گا

پاکستان میں جامعات کے مالی، انتظامی اور تعلیمی بحرانوں پر بہت زیادہ لکھا جا چکا ہے۔ لیکن وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ ان بحرانوں میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں دیگر شعبہ جات کی حالت بھی تسلی بخش نہیں ہے۔ یہاں افراد مسلسل مالی طور پر مستحکم ہو رہے ہیں اور اخلاقی طور پر پستی میں گرتے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں جامعات کا ایک مکمل نظام موجود ہے۔ پاکستان کے علاوہ کسی بھی دوسرے ملک میں کسی یونیورسٹی کو ایسے مسائل درپیش نہیں ہیں۔
ان سائیڈ ہائر ایجوکیشن ایک ادارہ ہے جو دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کی خبریں روزانہ کے حساب سے شائع کرتا ہے۔ میں گزشتہ پندرہ برسوں سے اسے پڑھتا ہوں۔ دنیا بھر میں یونیورسٹیوں کو درپیش مسائل وہ نہیں ہیں جو پاکستان کی جامعات کو درپیش ہیں۔ دنیا کی کسی بھی یونیورسٹی میں سیاسی مداخلت نہیں ہوتی۔ دنیا کی کسی بھی یونیورسٹی کو بیوروکریسی کنٹرول یا تنگ نہیں کرتی۔ دنیا کی کوئی بھی یونیورسٹی کلاس فور ملازمین بھرتی کرنے کے لیے نہیں بنائی جاتی۔
دنیا بھر میں یونیورسٹیوں کا قیام ایک مکمل منصوبہ بندی اور سکول میپنگ کے پیچیدہ عمل کو مکمل کر کے عمل میں لایا جاتا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی یونیورسٹیاں بنی ہیں وہ اپنے مقرر کردہ ماڈل اور حدود سے تجاوز نہیں کرتیں۔ دنیا بھر کی یونیورسٹیاں سب سے پہلے اپنے ماہرین کو یونیورسٹی کی بہتری اور ترقی میں حصہ دار بناتی ہیں اور اس علم کا فائدہ یونیورسٹی کو پہلے اور معاشرے اور ملک کو بعد میں ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں یونیورسٹیاں کلی طور پر خود مختار ہوتی ہیں۔
دنیا میں کسی بھی سیاست دان کو یہ اجازت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے شہر اور گاؤں میں جاکر یونیورسٹی کا اعلان کردے اور پھر یہ دیکھے بغیر کے وہاں اس کی ضرورت ہے بھی یا نہیں وہاں یونیورسٹی بن جائے۔ پاکستان دنیا کا عجیب و غریب ملک ہے جہاں وہی تعلیم کالجوں میں بھی دی جا رہی جو یونیورسٹیوں میں دی جاتی ہے۔ یونیورسٹیوں میں یہ تعلیم لاکھوں میں اور کالجوں میں ہزاروں روپوں کے عوض دی جاتی ہے۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں یونیورسٹیوں میں پڑھانے کے لیے متعلقہ مضمون میں ڈگری درکار ہے۔
طریقہ تعلیم، اور اصول تدریس کی تعلیم ضروری ہی نہیں ہے۔ یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ کسی بھی مضمون میں ڈگری کا ہونا اور تدریس کی تربیت ان دنوں میں سے ایک بھی نہ ہو تو کوئی بندہ نہیں پڑھا سکتا۔ دنیا میں یونیورسٹیوں کا کام جدید و قدیم علوم کی ترویج اور ارتقا کا مسلسل پالن کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان میں جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے یا دوسرے معنوں میں رٹایا جا رہا ہے وہ دنیا کب کی رد کرچکی ہے۔ پاکستان بھر میں کمپیوٹر سائنس میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ دس برس پہلے متروک ہو چکا ہے اب کمپیوٹر سائنس کی ہزار نئی جہتیں آ گئی ہیں۔
پاکستان میں بائیو ٹیکنالوجی کی ڈگری سالانہ اسی ہزار طلبا کو دی جاتی ہے مگر کمال دیکھیں پورے پاکستان میں ایک بھی ایسی لیب نہیں ہے جہاں یہ عملاً جاکر اپنے علم کو عمل میں لائیں اور اسے لوگوں تک پہنچائیں۔ یہ سب اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ پاکستان میں فیصلے کرنے والے اور اقتدار میں رہنے والے پڑھے لکھے نہیں ہیں اور انہیں اعلیٰ تعلیم کی اہمیت اور ضرورت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ اگر یہ صاحبان اقتدار و اختیار باہر کے چند ملکوں کا دورہ کر کے ان کے نظام تعلیم اور یونیورسٹیوں کو دیکھ آئیں تو انہیں اندازہ ہو گا کہ یونیورسٹیاں کیوں ضروری ہیں۔
ویتنام اور بنگلہ دیش نے گزشتہ دس برسوں میں اپنی یونیورسٹیوں پر توجہ دی ہے۔ ان کی جی ڈی پی میں نمایاں فرق آیا ہے۔ جنوبی کوریا کی ترقی کے پیچھے اس کی انجینئرنگ یونیورسٹیاں ہیں۔ جنوبی کوریا میں سرکاری اور مشنریوں کی بنائی ہوئی یونیورسٹیاں ہیں۔ ان یونیورسٹیوں نے ٹیکنالوجی کو ٹارگٹ کیا اور آج دنیا میں ان یونیورسٹیوں کی بدولت جو ترقی ممکن ہوئی ہم اس کا تصور تک نہیں کر سکتے۔
دو ہزار بارہ سے سولہ تک ہم نے جنوبی کوریا کے ساتھ ایک مشترکہ پراجیکٹ کیا جس کا نام کو پاک رکھا گیا تھا۔ جس میں کورین یونیورسٹیاں، انڈسٹری اور جامعہ پشاور شامل تھیں۔ پشاور یونیورسٹی میں کورین زبان کے کورس ہوتے تھے اور جو طالب علم زبان کا کورس مکمل کرتے تھے انہیں کوریا کی یونیورسٹیوں میں ایک سمیسٹر یا دو سمیسٹر تک تعلیم کی اسی مضمون میں سہولت دی جاتی تھی۔ جب پہلا گروپ جنوبی کوریا گیا تو دو ماہ بعد میں ان سے ملنے گیا۔ وہ سارے سٹوڈنٹس پیانٹیک یونیورسٹی کے ایک کیفے ٹیریا میں جمع ہوئے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا فرق ہے پاکستان اور کوریا کی تعلیم اور نظام میں۔
ان بچوں نے یک زبان ہو کر کہا کہ پاکستان میں تو تعلیم ہے ہی نہیں۔ ہمیں یہاں آ کر پتہ چلا کہ تعلیم کسے کہتے ہیں، پڑھاتے کیسے ہیں، پڑھتے کیسے ہیں، ٹائم منیجمنٹ کیا ہوتی ہے۔ ان سب کا کہنا تھا کہ ان دو ماہ میں ہم نے جتنا سیکھا ہے اور جتنے ڈسپلن ہوئے ہیں وہ اپنی یونیورسٹی میں گزشتہ چھ سمیسٹر میں نہیں ہوئے۔ ان سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ یہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ انسانیت سکھائی جاتی ہے ہر طالب علم روزانہ دو گھنٹے لازمی سوشل سروس دیتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں اس کا تصور تک نہیں ہے۔
ان پانچ برسوں میں جن سینکڑوں بچوں نے جنوبی کوریا جاکر پڑھا وہ سب اب کامیاب لوگ ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو اعلیٰ تعلیم کے کوریا میں سکالرشپس ملے اور انہوں نے وہاں سے ایم ایس اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں اور ان میں بیشتر بچے کوریا ہی میں بڑی بڑی کمپنیوں میں جاب حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس لیے یونیورسٹیوں کی افادیت میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے۔ مگر ہمارے ملک کے ارباب اختیار و اقتدار کو کون سمجھائے کہ ہمارے پاس ترقی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
جو بنگلہ دیش، انڈیا، ویتنام اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتیں کر رہی ہیں ہمیں بھی ان کی تقلید کرنی چاہیے۔ مگر ہم گاڑیاں خریدنے، ہیلی کاپٹر خریدنے، بیوروکریٹس کے لیے اربوں اور کھربوں کے گھر بنانے، مخصوص سرکاری ملازمین اور سیاست دانوں کو تاحیات مراعات دینے اور سہولیات دینے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ اس وقت ملک میں اعلیٰ تعلیم کا شعبہ شدید ترین بحرانوں کا شکار ہے۔ حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے دو سو کے قریب یونیورسٹیاں تو بن گئی ہیں لیکن ان کے لیے مالی استحکام کا کوئی ماڈل سامنے نہیں رکھا گیا۔
دنیا بھر میں یونیورسٹیوں میں ایک استاد اور اس کے ساتھ ایک اشاریہ پانچ دیگر عملہ ہوتا ہے یعنی اگر دو استاد ہیں تو باقی عملہ تین تک ہونا چاہیے۔ پاکستان میں یہ شرح ایک دس سے بھی زیادہ ہے۔ یہ اضافی افراد مالی طور ایک مسلسل بوجھ ہیں جن کی وجہ سے یونیورسٹیاں مالی مسائل کا شکار ہو رہی ہیں۔
پھر یونیورسٹیوں میں اقربا پروری کی انتہا کردی گئی ہے۔ ایک ایک شخص نے اپنے خاندان کے درجنوں افراد بھرتی کیے ہیں۔ اس مقصد کے لیے یونیورسٹی میں سکولز بنائے گئے ہیں، کالجز بنائے گئے ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں کام یونیورسٹیوں کے نہیں ہیں۔ ان اسکولوں اور کالجوں میں اپنی بیگمات، بہنوں، بھائیوں، بچوں، رشتہ داروں کو چن چن کر بھرتی کیا گیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ان سکولوں اور کالجوں میں انہی یونیورسٹیوں کے اساتذہ اپنے بچوں کو نہیں پڑھاتے بلکہ وہ سب اپنے بچوں کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھا رہے ہیں۔ ان سکولوں اور کالجوں میں یہ اقربا مسلسل تنخواہیں اور مراعات لیتے رہتے ہیں اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن بھی لیتے ہیں۔
اس وقت پاکستان کی بڑی یونیورسٹیوں کی پینشن ان کی موجودہ تنخواہوں کے برابر ہو گئی ہے۔ اور پینشن کی مد میں کسی بھی یونیورسٹی نے کوئی منصوبہ بندی یا سرمایہ کاری نہیں کی ہے۔ ہر بڑی یونیورسٹی کو سالانہ ریٹائرڈ ہونے والوں کو کروڑوں روپے بھی دینے ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پینشن بھی جبکہ یونیورسٹیوں کو گزشتہ پندرہ برس سے جو گرانٹس ملتی ہیں ان میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ اور یونیورسٹیوں کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان جو سالانہ اربوں روپے خرچ کرتا ہے وہ ان دو دہائیوں میں یونیورسٹیوں کو سمارٹ سسٹم پر منتقل نہ کر سکی جس سے افرادی قوت میں اسی فیصد کمی ہونی تھی۔ یہ کام باہر کے ملکوں میں دہائیوں پہلے سے ہو چکا ہے۔ اگر یہ سسٹم ملک کی یونیورسٹیوں میں ہوتا تو آمدن اور اخراجات میں مطابقت لائی جا سکتی تھی۔
اس وقت کسی بھی یونیورسٹی کا بجٹ اٹھا کر دیکھیں آپ حیران رہ جائیں گے کہ یہ کسی یونیورسٹی کا بنایا ہوا بجٹ ہے۔ اس میں یونیورسٹی میں بیٹھا ہوا ایک بابو صرف اتنا کرتا ہے کہ گزشتہ سال کے بجٹ بک میں دس فیصد کا اضافہ کر کے کتاب بنا کر بھیج دیتا ہے۔ کوئی فنانشل اسیسمنٹ نہیں کی جاتی۔ اس لیے کہ سب کچھ مینول ہو رہا ہے۔ اگر یہی سب کچھ سافٹ وئیر کے ذریعہ یعنی کیمپس مینجمنٹ سسٹم جسے عرف عام میں سی ایم ایس کہا جاتا ہے ہوتا تو کوئی مالی بحران جنم ہی نہ لیتا۔ مگر ایچ ای سی کو اس سے کیا وہ اپنے مزے کر رہے ہیں۔ یونیورسٹیوں میں سیاسی مداخلت کا عمل اتنا ترقی یافتہ ہے کہ اب کسی بھی یونیورسٹی میں وائس چانسلر میرٹ پر نہیں کسی نہ کسی سیاسی شخصیات کی پشت پناہی اور آشیر باد سے لگتا ہے۔
ایسے میں وہ لوگ جو اس منصب کے قابل تھے وہ سب پیچھے رہ گئے اور موقع پرست اور نا اہل لوگ یونیورسٹیوں کا انتظام سنبھالتے رہے۔ اور ان لوگوں نے یونیورسٹیوں میں اقربا پروری کی انتہا کردی۔ ان کی نا اہلی کی وجہ سے یونیورسٹیاں بحرانوں کا شکار ہوتی چلی گئیں۔ اور آج صورتحال یہ ہے کہ کسی بھی یونیورسٹی کے پاس تنخواہیں دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ یونیورسٹی میں طلبا سے اتنی زیادہ فیس وصول کی جاتی ہے کہ وہ نوے فیصد والدین کے مالی استطاعت سے باہر ہے۔
یونیورسٹیاں عملی طور پر پاکستان سٹیل مل بن رہی ہیں۔ یونیورسٹیوں میں بہت ہی قابل اساتذہ موجود ہیں جنہوں نے دنیا کے مشہور ترین یونیورسٹیوں سے اعلیٰ ترین ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ وہ اگر اوپن مارکیٹ میں جاب کرنے جاتے تو ان کو دس گنا زیادہ تنخواہ اور مراعات ملتیں مگر وہ یونیورسٹیوں میں خوش تھے اب وہ ایک ایک کر کے یونیورسٹیاں چھوڑ رہے ہیں۔ یہ برین ڈرین اس ملک کو بانجھ کردے گا۔ اس لیے کہ یہ افراد برسوں کی محنت اور کثیر سرمایہ خرچ کر کے تیار ہوئے ہیں۔
ان کو کھونا بہت بڑا سانحہ ہو گا۔ اس وقت ملک میں ہزاروں ایسے پروفیسر موجود ہیں کہ اگر ان کو ماحول دیا جائے اور سرپرستی کی جائے تو وہ ملک میں کثیر زرمبادلہ لا سکتے ہیں۔ مگر ان کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہ اس سے بددل ہو کر یہ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں قابل ترین لوگ گزشتہ دو برسوں میں متحدہ عرب امارت اور دیگر ملکوں میں یونیورسٹیوں کی ملازمت چھوڑ کر جا چکے ہیں اور جو باقی بچے ہیں وہ بھی حالات سے تنگ آ کر یہ اقدام اٹھا لیں گے۔
جنوبی کوریا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے جن جن جگہوں پر یونیورسٹیاں بنائی ہیں وہاں انہوں نے پہلے سے کوئی صنعتی بستی اور پیداواری یونٹس لگائے ہیں جن کو ان یونیورسٹیوں سے جوڑا گیا ہے یوں تحقیق کو پیداواری صنعت سے جوڑ کر انہوں نے ترقی کی ہے۔ ہمارے ملک میں ہم نے چند شہروں کو ہی صنعتوں اور پیداواری مرکز بنا کر باقی پاکستان کو جہادیوں، سمگلروں اور سیاسی کارکنوں کی پیدائش اور پرورش کا سینٹر بنا دیا ہے۔ زراعت اور انجینئرنگ کی یونیورسٹیاں تو بنا دی ہیں لیکن ان سے کسی نے نہیں پوچھا کہ ان کا مقصد کیا ہے اور ان کی ملک اور اپنے علاقے کے لیے افادیت کیا ہے۔
اس وقت ملک میں لاکھوں کی تعداد میں انجینئرنگ کی ڈگریاں لے کر بچے بے روزگار پھر رہے ہیں۔ اس لیے کہ ملک میں صنعتیں نہیں لگ رہی، کارخانے ختم ہو رہے ہیں، اور انجینئرنگ کا نظام تعلیم بھی تھیوریٹکل ہے دنیا کی طرح عملی انجینئرنگ کا کوئی سلسلہ اس ملک میں نہیں ہے۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود یہاں اجناس خورد نوش کی قلت ہے بیشتر اجناس ہم دوسرے ممالک سے منگوا رہے ہیں۔ یونیورسٹیوں کا ہونا ضروری ہے۔ اس ملک میں بی اے پاس بیوروکریٹس اور اس سے بھی کم تعلیم یافتہ سیاست دان اور دیگر اداروں کے لوگ اس قابل نہیں ہیں کہ وہ دنیا کی ترقی کے ماڈل دیکھ کر اپنے ملک کو ان کے مطابق ڈھال سکیں یا خود سے کوئی قابل عمل ماڈل بنا سکیں۔
یہ کام یونیورسٹیوں کا ہے مگر یونیورسٹیوں کو انتظامی اور مالی بحرانوں کا شکار کر کے اس واحد حل کو بھی اس ملک میں ختم کیا جا رہا ہے۔ اس ملک کو یہ جاہل سیاست دان اور بیوروکریٹس بھکاری بنانے کی ہزار جتن کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ امداد دیتے ہوئے یہ اس میں اپنا حصہ باآسانی نکال سکتے ہیں۔ ملک جس میں فیصلہ سازوں کی سوچ اتنی چھوٹی ہو وہاں یونیورسٹیوں کی جگہ آستانے، ڈھابے، کفالت خانے ہی بڑھتے جائیں گے۔ کسی کو رزاق کے حصول کے طریقے نہیں سکھائے جائیں گے۔
اس لیے اس ملک میں دو فیصد کھرب پتی اور چالیس فیصد بھکاری بن جاتے ہیں۔ اگر یہی صورتحال رہی تو اگلے برس پچاس فیصد بھکاری بن جائیں گے اور پھر ایک وقت آئے گا کہ یہ بھکاری ایک دوسرے کو نوچ کھائیں گے۔ یونیورسٹیوں کی بحرانوں کو ختم کرنا کا ٹاسک سیاست دانوں کو نہیں بلکہ اس شعبہ کے ماہرین کو سونپا جائے تو یہ مسائل ختم ہوسکتے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے سے بیوروکریسی کی چودھراہٹ ختم ہوجاتی ہے اور سیاسی لوگ اپنے بندے بھرتی کرنے سے رہ جاتے ہیں۔
اس لیے جب تک یونیورسٹیوں کی خودمختاری بحال نہیں کی جاتی اور یونیورسٹیوں کو دنیا کی دیگر یونیورسٹیوں کی ماڈل پر نہیں چلایا جاتا یہ بحران بڑھتے رہیں گے۔ اور اگر یہ بحران ختم نہ ہوئے تو ایک دو برسوں میں یہ سب سٹیل مل کی طرح بند ہوجائیں گی اور ان کی قیمتی زمینوں پر گالف کورس، شادی ہال اور ہاؤسنگ سوسائٹیز بن جائیں گی۔

