بالٹی مور حادثہ؛ چند حقائق


امریکا کی ریاست میری لینڈ کے شہر بالٹی مور کی بندر گاہ سے منگل کی ابتدائی صبح 95000 ہزار ٹن وزنی اور ایفل ٹاور جتنے حجم والا ایک کنٹینر بحری جہاز ’ڈالی‘ بندرگاہ کی آبی راہ گزر پر واقع مشہور ’کی برج‘ کے نیچے سے گزر کر سری لنکا کے طویل سفر کے لیے روانہ ہوا۔ اسے 27 دن بعد 22 اپریل کو، کولمبو پہنچنا تھا۔ ابھی جہاز پل کے قریب پہنچنے ہی والا تھا کہ اس کی بجلی غائب ہو گئی۔ صرف 30 سیکنڈ بعد خودکار چھوٹے اسٹینڈ بائی جنریٹرز کے ذریعے بجلی جزوی طور بحال ہو گئی لیکن محدود استعداد کے باعث اتنے بڑے جہاز کے بہت بھاری اور طاقت ور انجن کو چلانے اور متعدد دیگر ضروریات پوری کرنے کے لیے یہ بجلی ناکافی تھی۔

بجلی بند ہوتے ہی جہاز کو چلانے والے اسٹیئرنگ گیئر نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا۔ اب جہاز مکمل طور پر بے قابو ہو کر موجوں کے رحم و کرم پر تھا، کپتان اور عملہ کے اختیار میں کچھ نہ تھا، چند منٹ کے اندر ایک بج کر تیس منٹ پر یہ دیو ہیکل جہاز پل کے ایک ستون سے جا ٹکرایا، زوردار دھماکا ہوا اور اس انتہائی اہم اور مصروف ترین پل کا بڑا حصہ ٹوٹ کر سمندر برد ہو گیا۔ جہاز کے عملے نے اس اعصاب شکن مرحلے پر حاضر دماغی کا مظاہرہ کیا اور بندرگاہ کے متعلقہ محکمے کو پل کے اوپر سڑک سے گزرنے والی ٹریفک اور نیچے موجود جہازوں اور کشتیوں کی حمل و نقل کو فوراً روکنے کو کہا اور مے ڈے کی کال کے ذریعے پیغام دیا کہ جہاز پر ان کا کنٹرول بالکل ختم ہو چکا ہے۔

اس قوی ہیکل کنٹینر شپ کا عملہ 22 ارکان پر مشتمل تھا جن کا تعلق ہندوستان سے تھا۔ حادثے میں عملے کے تمام لوگ محفوظ رہے، صرف ایک شخص معمولی زخمی ہوا جسے جہاز پر ہی طبی مدد فراہم کر دی گئی۔ پورا عملہ تقریباً دو ہفتے تک جہاز پر ہی رہے گا اور صورت حال پر نظر رکھے گا۔ جہاز میں کئی لاکھ گیلن ایندھن موجود ہے اور اس پر چار ہزار کنٹینر لدے ہوئے ہیں جن میں 15 کنٹینرز میں خطرناک مواد موجود ہے۔ خوش قسمتی سے جن 13 کنٹینرز کو نقصان پہنچا ہے اس میں خطرناک سامان نہیں تھا۔

بالٹی مور کا 1.6 میل طویل ’کی برج‘ 1977 میں تعمیر ہوا تھا جس پر روزانہ 30 ہزار سے زیادہ گاڑیاں گزرتی ہیں، بروقت وارننگ نہ ملنے کی صورت میں سیکڑوں چھوٹی بڑی گاڑیوں کا سمندر میں گرنا اور ہزاروں لوگوں کا موت کا شکار ہونا یقینی تھا۔ تاہم، پل کے اوپر سڑک مرمت کرنے والے آٹھ تارکین وطن کارکن پلک جھپکتے یخ بستہ پانی میں جا گرے ان میں سے دو کو بچا لیا گیا لیکن چھ بد نصیب دنیا سے رخصت ہو گئے۔

اس حادثے کے بعد بندرگاہ کو مکمل طور پر دوبارہ فعال ہونے میں کئی مہینے کا عرصہ درکار ہو گا جس سے مختلف اداروں اور کمپنیوں کو غیر معمولی مالی نقصانات اٹھانے پڑیں گے، صفائی اور بحالی کے ابتدائی کام کے لیے 60 ملین ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں جب کہ کل اخراجات کا تخمینہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ بالٹی مور بندرگاہ دنیا کی مصروف ترین بندرگاہوں میں شامل ہے۔ اس بندرگاہ سے ہر سال 5 کروڑ ٹن سامان لایا اور بھیجا جاتا ہے جس کی مالیت 80 ارب ہوتی ہے۔ بندر گاہ 15000 لوگوں کو براہ راست روزگار فراہم کرتی ہے جب کہ اس کے ذریعے بالٹی مور خطے میں بالواسطہ طور پر 140000 افراد کو روزگار حاصل ہوتا ہے۔ اس پل سے ہر روز 4900 ٹرک 28 ارب ڈالر مالیت کا سامان لے کر گزرتے ہیں۔

اس وقت سب سے بڑا مسئلہ چینل کے اندر بھاری مقدار میں پڑے، پل کے ملبے کو اٹھانے کا ہے جس کے لیے امریکا کی سب بڑی کرینیں اور مشینیں استعمال کی جا رہی ہیں۔ تمام ملبے کی مکمل صفائی کیے بغیر بندرگاہ کی سرگرمیاں بحال نہیں ہو سکتیں۔ اس مشکل اور پیچیدہ کام پر بے پناہ اخراجات ہوں گے اور اس کے مکمل ہو نے کافی وقت لگ سکتا ہے۔

امریکا بہ ظاہر تو ایک بڑی طاقت ہے لیکن کافی عرصے، بالخصوص کرونا کی عالمی وبا کے بعد سے وہ سنگین معاشی اور مالی مسائل کا شکار ہے۔ بندرگاہ کے حادثے سے نہ صرف میری لینڈ کی ریاست، بالٹی مور کے شہر بلکہ ملک کی معیشت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ امریکی ریاست اس وقت دنیا کی سب سے مقروض ریاست ہے۔ اپنی مالی ضروریات کے لیے اسے مسلسل قرض لینا پڑتا ہے، اب بالٹی مور بندرگاہ کی بحالی کے لیے بھی اسے قرض لینا پڑے گا۔

اس حادثے سے فوری طور پر کئی انشورنس کمپنیوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ اس حادثے کے باعث انشورنس شعبے کو اپنی تاریخ کا سب سے بڑا بحری انشورنس نقصان اٹھانا پڑے گا جو دو سے چار ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ جس کے نتیجے میں کئی کمپنیاں دیوالیہ بھی ہو سکتی ہیں۔ اس سے قبل بحری انشورنس کا سب سے بڑا نقصان 2012 میں اٹلی کے کونکورڈیا کروز شپ کے حادثے کی وجہ سے ہوا تھا جس میں انشورنس کمپنیوں کو 1.5 ارب ڈالر ادا کرنے پڑے تھے۔

بالٹی مور حادثے سے مستقبل قریب میں ہزاروں کارکنوں کو بے روزگاری اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے کسادبازاری اور تنزلی کی شکار امریکی معیشت مزید دباوٴ میں آ جائے گی لہٰذا اپنے اثرات و مضمرات کے تناظر میں اسے محض ایک عام بحری حادثہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments