شکوہ نامہ، بنام معشوق


 

لکھے جو خط تجھے، وہ تیری یاد میں ہزاروں رنگ کے نظارے بن گئے
سویرا جب ہوا تو پھول بن گئے جو رات آئی تو ستارے بن گئے

آج کل کی صورتحال پر اچانک یہ گانا یاد آ گیا وجہ اس کی آپ بھی جانتے ہیں کیونکہ پاکستان میں آج خط و خط ہوئی پڑی ہے خط سے یاد آیا پہلے ایک زمانہ تھا جب عاشق اپنے حال دل کے لئے قلم و کاغذ کا سہارا لیتا تھا اور دنیا کی نظروں سے بچا کر وہ خط کسی نا کسی طرح سے اپنے معشوق تک پہنچایا کرتا تھا اور اس کے بعد وہ انتہائی پریشانی و مفلسی میں دیار یار کے چکر لگاتا تھا کے اس کے لکھے ہوئے نامہ کو قبولیت مل جاوے اور جواب میں کوئی نامہ اس کو موصول ہو تو اس کی دلی مراد پوری ہو، خیر یہ تو تھی اس زمانہ کی باتیں جب کسی بھی قسم کے ذرائع رسل فقط خط و کتابت ہی تھا۔

دور بدلا اور ہم آ گئے 2024 میں اب عاشق خط کا نہیں بلکہ سوشل میڈیا کا سہارا لیتا ہے اور معشوق نامہ بر کا سہارا نہیں بلکہ انسٹاگرام یا سنیپ چیٹ پر ریل چڑھا کر اپنے جواب و دلی جذبات کا اظہار کرتی ہے، لیکن سمجھ نہیں آ رہی کے آج کل کے اس جدید دور میں بھی ہم وہی قارون وسطی ٰ کے دور میں کیوں جی رہے ہیں۔

اب ایدھر ملک پاکستان کی انتہائی پڑھی لکھی کلاس کو ہی دیکھ لیں میرے کہنے کا مطلب وکلا ء اور ججز کا ہے، ابھی اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز نے ایک خط لکھا ٹھیک ہو گیا کوئی مسئلہ نہیں لیکن یہ خط اپنے چیف کے بجائے انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھ مارا مطلب واقعی میں وہ خط لکھنے کا طریقہ بھول چکے ہیں کیونکہ جانے انجانے میں وہ اپنی محبوبہ کو نہیں بلکہ اس کی سہیلی کو مخاطب ہو گئے اور سہیلی نے مطلوبہ کو طعنہ دے کر خط حوالے کر دیا اب جب محبوبہ کو غصہ آیا تو پھر وہی ہونا تھا جو شاعر نے کہا:

”جو مزاج یار میں آئے“

کچہری لگا لی اور یار کو بلوا بھیجا کے اُس نہیں بلکہ اس کوچے میں آؤ اور بات کرو، اسی دوران میں 300 کے قریب مشٹنڈے اکٹھے ہو گئے اور لگے بھانت بھانت کی گفتگو کرنے جس پر محبوبہ نے ان کو بھی بلوا لیا اور ساتھ ہی اپنی تمام سہیلیوں کو بھی اکٹھا کر لیا کے آؤ اور آ کر تماشا دیکھو، اسی دوران میں نا جانے کہاں سے رقیب رؤساء آ گئے اور انہوں نے ان محبوباؤں کو زہر بھرے خطوط بھجوانے شروع کر دیے۔

اب تھوڑی سی سنجیدہ گفتگو کر لیتے ہیں 6 ججز اور انکے ہمنوا 300 وکلاء کے خطوط بابت بات ہو چکی کیونکہ اب وہ معاملہ سب کے سامنے ہے کہ وہ دو خطوط کیوں اور کس مقصد سے لکھے گئے اور اب ان کا جواب لینے کے لئے ان ججز اور ان کے ہمنوا وکلاء کو یقیناً بہت سے سوالوں کے جوابات دینے ہوں گے لیکن پاکستان کی تاریخ کے تناظر میں دیکھیں تو فی الحال ایسا نظر آ رہا ہے کہ ان شنوائیوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

اسی دوران میں پشاور ہائیکورٹ کے ایک جج نے جب دیکھا کے اس کے سپریم کورٹ جانے کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں تو اس نے 51 سیکنڈ میں 51 ضمانتیں دے کر پاکستان میں ایک ایسا ورلڈ ریکارڈ بنا دیا جو کے آنے والے کسی بھی جج کے لئے ایک بینچ مارک ہو گا اور پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں سونے کے پانی سے لکھے اور سجاوٹ کے لئے 5 قراط کے ہیروں کی ضرورت پڑے گی۔

اب پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک خط چیف جسٹس کو لکھ مارا ہے مطلب گرم تندور دیکھ کر اپنے دو نان لگانے کی کوشش میں (بالکل اسی طرح جیسے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھ مارا تھا بالکل اسی طرح یہ خط سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھا جانا تھا چیف جسٹس کو نہیں کیونکہ ججز تعیناتی سپریم جوڈیشل کمیشن کرتا ہے اور چیف جسٹس اس کا صرف ایک ممبر ہے دیگر ممبران کی طرح) جس میں انہوں نے سپریم کورٹ میں تعیناتیوں پر کے پی کے کو نظر انداز کرنے اور خود جناب چیف جسٹس ابراہیم کو سپریم کورٹ میں تعینات نہ کرنے کو اس طرح پیش کیا ہے جیسے ان کے ساتھ بہت زیادتی ہو گئی ہے۔

لیکن پشاور ہائیکورٹ کے موجودہ چیف جسٹس یہ بھول گئے کے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹسز کے دور میں سپریم کورٹ میں سالہا سال سے خالی آسامیوں کو پُر نہ کرنے پر مسلسل بات ہوئی لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نا رینگی کیونکہ سابق چیف جسٹسز سپریم کورٹ میں توازن اپنے حق میں چاہتے تھے اسی لیے ساتویں نمبر سے خاتون کارڈ کھیل کر جج تعینات کی گئیں، پھر آرمی چیف سے سفارش کروا کر مزید دو جونیئر فیض یافتہ ججز کو سپریم کورٹ لایا گیا ورنہ سالہا سال آسامیاں خالی رہیں مگر ان ججز کو پی ٹی آئی چونکہ اپنا ہمدرد سمجھتی تھی اس لیے انہوں نے کبھی اس طریقہ کار پر اعتراض نہ کیا اور نہ کوئی ایسا مطالبہ کیا کہ ججز کی خالی آسامیوں کو الجہاد ٹرسٹ کیس میں درج مقررہ مدت میں پُر کیا جائے۔

الجہاد ٹرسٹ کیس میں یہ طے کر دیا گیا تھا کہ کسی جج کے ریٹائر ہونے کی صورت میں تیس دن اور مستعفی، برطرف یا انتقال کر جانے کی صورت میں نوے دن کے اندر اس خالی ہونے والی جگہ پر نئے جج کی تعیناتی کر دی جائے گی۔

اس وقت سپریم کورٹ میں جو تین آسامیاں خالی ہیں ان میں جنوری میں دو ججز مظاہر نقوی اور اعجاز الاحسن کے استعفٰی دینے اور ایک آسامی مارچ میں جسٹس سردار طارق کی ریٹائرمنٹ سے خالی ہوئی ہیں اور دونوں صورتوں میں ابھی الجہاد ٹرسٹ کیس کے مطابق ڈیڈ لائن بھی ابھی ختم نہیں ہوئی اور پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے شکوہ بھی سامنے آ گیا۔

دوسری بہت اہم حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ابراہیم صاحب دور دور تک سنیارٹی لسٹ میں کہیں موجود ہی نہیں اور موصولہ اطلاعات کے مطابق ان کا پاکستان بھر کی ہائی کورٹس کے ججز میں سنیارٹی نمبر 36 واں ہے۔

مگر اس کے باوجود انہیں بہت گلہ ہے اور انہوں نے اسے کے پی کے سے کوئی امتیازی سلوک بنا کے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

اب یہ فیصلہ آپ خود کر سکتے ہیں کہ یہ خط کسی ٹرینڈ کو بڑھاوا دینے کے لیے لکھا گیا ہے یا کسی امتیازی سلوک یا نظرانداز کرنے کی وجہ سے۔

Facebook Comments HS