پتنگ بازی اور قلا بازی
آج کل مملکت خداداد میں پتنگ، پتنگ بازی اور رقم طرازی کے خلاف تیز مہم جاری ہے۔ ڈرامہ بازی اور قلا بازی کا شوق پہلے جیسے ہی فرمایا جا رہا ہے۔
روزانہ قریباً دس بارہ اموات ہیلمٹ نہ ہونے کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ مگر 70 سال میں ہم ”ہیلمٹ بازی“ نافذ نہ کر پائے۔ ٹریفک اشارے یوں سرعام توڑے جاتے ہیں گویا پاکستانی ڈراموں میں دی جانے والی دھماکے دار طلاق ہو۔ مگر اصل مرض پتنگ بازی کا ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔
1۔ پتنگ بازی بچے اور نوجوان کرتے ہیں۔ اور بچوں پر رعب جمانا ہمارا ”قومی کھیل“ ہے۔ بچوں کا باجماعت نماز میں داخلہ بھی اسی لئے ناپسند کیا جاتا ہے۔
2۔ پتنگ بازی کی صنعت سے منسلک کوئی سیاستدان، طاقتور آدمی یا مافیا نہیں ہے جو قانون کو اپنے حق میں موڑ یا توڑ سکے۔
3۔ پتنگ بازوں پر کریک ڈاؤن، پولیس کے احکام کے لیے بھی باعث تفریح اور کار شغل ہے۔ مصروفیت بھی اور ناتواں، کھیل کود کے شوقین مجرموں سے مقابلے بازی کا فخر بھی۔
حضرات قومیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک ”خود خوش“ اور دوسری ”خودکش“ ۔ خود خوش اقوام میں طرہ امتیاز سوئٹزرلینڈ کو حاصل ہے۔ دو عالمگیر جنگیں ہوئی، مگر سوئٹزرلینڈ معجزاتی طور پر ان دونوں میں محفوظ رہا۔ جنگوں سے دور اپنے پہاڑوں میں مگن، اپنے شہروں میں خوش ہیں۔ پوری دنیا گھومنے کو سوئٹزرلینڈ جاتی ہے مگر سوئس کہیں نہیں جاتے، اپنے ہاں ہی خوش رہتے ہیں۔
دوسری قسم کی اقوام میں سرفہرست مملکت خداداد ہے۔ شدید خودکش فطرت۔ ہمیں ویلنٹائن ڈے پر بھی اعتراض ہے اور سالگرہ منانے پر بھی۔ ہولی وغیرہ تو بہرحال حرام ہی سمجھیے۔ ہم صرف خون سے ہولی کھیلنے کو قابل ستائش کھیل سمجھتے ہیں۔ جب غصہ اور نفرت بہت بڑھ جائے، تو جلدی سے خون سے ہولی کھیلی اور پھر مطمئن، خوش و خرم اپنی زندگیوں کو لوٹ گئے۔
ایسی خود کش قوم کے لیے لاہور کی بسنت زہر ہلاہل تھی۔ پوری دنیا سے پاکستانی بسنت منانے لاہور آنے لگ گئے تھے۔ کیا بے ہودگی ہے؟ بھائی تمہیں ملک عزیز سے بھگایا ہی اس لیے کہ تم واپس نہ آؤ۔ پھر غضب ہوا کہ غیر ملکی بھی بسنت سے لطف اندوز ہونے کو لاہور آنا شروع ہو گئے۔ لوجی، بیرونی مداخلت۔ پھر یہ ہوا مشرقی روایات تاراج ہونا شروع ہو گئیں۔ لڑکے لڑکیاں مل کے پتنگ بازی کرتے اور چھتوں پہ موسیقی کا انتظام ہوتا۔ مخلوط پتنگ بازی ہماری نظریاتی بنیادیں ہلا رہی تھی۔ ایسے میں چند دوربین منتظمین نے بسنت پہ پابندی لگا کر پاکستان کو تباہی سے بچا لیا۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ہم مسئلے کا حل نہیں نکالتے۔ ہم مسئلے پر ہی پابندی لگا دیتے ہیں۔ کہیں سے بدبو آ رہی ہو تو بدبو پر پابندی لگا دو، صفائی نہ کرو۔ کہیں سے گٹر ابل پڑیں، تو نظام نکاسی پر توجہ نہ دیں بلکہ لوگوں کے بیت الخلا جانے پر بھی پابندی لگا دیں، کہ نہ تم گند کرو نہ گٹر ابلیں۔
یہ بھی ممکن تھا کہ مخصوص ڈور پر پابندی کا اہتمام ہوتا۔ یا جی یہ کہ موٹر سائیکل پر ڈور سے حفاظتی سامان نصب کرانے پر غور کیا جاتا۔ بہر حال اہم مسئلہ یہ ہے کہ کھیل کے میدانوں کو ایسے شکار کیا گیا جیسے تلیر ہوں اور بسنت، ہولی وغیرہ غیر مشرقی ہیں۔ تو مطلب قوم کے نوجوان یا تو ”خود کش“ بنیں یا پھر سنی لیونی کی فلموں پر گزارا کریں۔ گزارا تو شاید ہو جائے مگر جب بھی سنی کا ذکر حکیم بدایونی سے کیا جائے تو وہ ایک ہی ارشاد فرماتے ہیں، ”جوانی کی غلطیاں، مستقبل میں پریشانی اور شرمندگی کا باعث بنتی ہیں“
یہ کہہ کر حکیم صاحب جب اٹھتے ہیں تو دو کڑاکے کمر سے اور چار گھٹنوں سے برآمد ہوتے ہیں۔
پتنگ باز اور پتنگ باز سجناں، دونوں سے گزارش ہے باز آ جائیں


